محمد یونس

صبح کی ہلکی دھند جب پہاڑوں سے اترتی ہے تو تیراہ ایک پُرسکون تصویر کی طرح سامنے آتا ہے۔ سبز ڈھلوانیں اور خاموش فضا بظاہر مکمل سکون کا احساس دلاتی ہیں، لیکن اس منظر کے پیچھے بچھڑنے اور محرومی کی ایک ایسی کہانی موجود ہے جو قریب جا کر محسوس ہوتی ہے۔

باڑہ کے علاقے قمبر خیل میں، 67 سالہ غلام حیدر اپنے بھتیجے کے گھر کے باہر خاموشی سے بیٹھے ہیں۔ یہ ان کا مستقل گھر نہیں بلکہ ایک عارضی ٹھکانہ ہے جہاں وہ اس وقت رہ رہے ہیں۔ ان کی نظریں اکثر یہاں سے ہٹ کر تیراہ کی طرف چلی جاتی ہیں، جہاں ان کی زمین، درخت اور ایک پوری زندگی آج بھی ان کی واپسی کی منتظر ہے۔

وہ کہتے ہیں، “میری آنکھوں کے سامنے اب بھی وہ باغ آتا ہے۔ خوبانی، سیب اور اخروٹ کے درخت۔ بہار میں جب پھول آتے تھے تو پورا پہاڑ خوشبو سے بھر جاتا تھا۔”

کچھ دیر خاموش رہ کر وہ آہستہ سے اضافہ کرتے ہیں،
“اب نہ وہ باغ میرے پاس ہے، نہ وہ سایہ۔ بس یاد رہ گئی ہے۔”

غلام حیدر ان ہزاروں لوگوں میں سے ایک ہیں جو پچھلے برسوں میں بار بار بے گھر ہوئے۔ مختلف سکیورٹی آپریشنز کے دوران تیراہ کے کئی علاقے خالی ہوئے اور خاندانوں کو محفوظ مقامات کی طرف جانا پڑا۔ بین الاقوامی اداروں کے مطابق قبائلی اضلاع سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں رہی ہے۔ جنوری 2026 میں ایک بار پھر بڑی تعداد میں خاندانوں کا انخلا ہوا اور ہزاروں خاندانوں کا اندراج کیا گیا۔

یہ اعداد اپنے اندر ایک گہری انسانی کہانی رکھتے ہیں۔

جب ایک خاندان اپنی زمین چھوڑتا ہے تو وہ صرف گھر نہیں چھوڑتا۔ وہ اپنی معیشت، اپنی پہچان اور اپنی یادوں کا ایک حصہ پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ تیراہ میں یہ چھوڑا ہوا حصہ زیادہ تر زمین اور درخت ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق جب آبادی علاقے سے نکلتی ہے تو جنگلات بے نگرانی ہو جاتے ہیں۔ وہ درخت جو کبھی اجتماعی ذمہ داری سمجھے جاتے تھے، آہستہ آہستہ کٹنے لگتے ہیں۔ ایک مقامی استاد، جو کئی سال بعد واپس لوٹے، کہتے ہیں، “جب لوگ نہیں ہوتے تو درختوں کا کوئی محافظ نہیں رہتا۔”

یہ نقصان فوری نظر نہیں آتا، مگر اس کے اثرات دیر تک رہتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق جنگلات کی حفاظت صرف سرکاری قوانین سے نہیں ہوتی، بلکہ مقامی کمیونٹی کا کردار اس میں بنیادی ہوتا ہے۔ جب وہی کمیونٹی بکھر جائے تو قدرتی نظام بھی کمزور ہو جاتا ہے۔

خیبر پختونخوا میں شجرکاری کے بڑے منصوبے ضرور شروع کیے گئے اور بعض علاقوں میں اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے۔ تاہم تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ کئی علاقوں میں گزشتہ دہائیوں کے دوران جنگلات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ خاص طور پر ضم شدہ اضلاع میں درختوں کی کٹائی ایک سنجیدہ مسئلہ بنتی جا رہی ہے، جس پر مستقل نگرانی کی ضرورت ہے۔

تیراہ کے لیے مخصوص اعداد و شمار محدود ہیں، جس کی وجہ سے اصل صورتحال کو مکمل طور پر سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ادھر ترقیاتی کاموں نے وادی تک رسائی آسان بنائی ہے۔ نئی سڑکیں بنیں، آمدورفت بہتر ہوئی، اور لوگوں کو سہولت ملی۔ مگر ان منصوبوں کے ساتھ درختوں کی کٹائی بھی ہوئی، جسے مقامی لوگ محسوس کرتے ہیں۔

باڑہ میں رہنے والا ایک نوجوان کہتا ہے، “سڑک نے راستہ تو آسان کیا، مگر اس کے لیے جو درخت کٹے، وہ ہمارے اپنے تھے۔”

پہاڑی علاقوں میں ایسے منصوبوں کے لیے ماحولیاتی جائزہ ضروری ہوتا ہے، مگر اس عمل کی تفصیلات عوام کے سامنے کم ہی آتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر اس پہلو کو نظر انداز کیا جائے تو زمین کی ساخت متاثر ہوتی ہے اور قدرتی توازن بگڑ سکتا ہے۔

موسم بھی اب پہلے جیسا نہیں رہا۔ مقامی اساتذہ اور کسانوں کے مطابق بارشوں کا نظام بدل چکا ہے۔ کبھی طویل خشک سالی، کبھی اچانک شدید بارشیں،تیز سیلابی ریلے اس تبدیلی نے زراعت کو غیر یقینی بنا دیا ہے اور پھلدار درختوں کی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔

عالمی رپورٹس بھی پاکستان کو موسمیاتی خطرات سے متاثرہ ممالک میں شمار کرتی ہیں، اور تیراہ جیسے علاقے اس تبدیلی کا اثر براہ راست محسوس کرتے ہیں۔

گل سعید کہتے ہیں، "گھر تو ہم کسی نہ کسی طرح دوبارہ کھڑا کر لیں گے، لیکن زمین کو سنبھلنے میں وقت لگے گا۔ درخت دوبارہ لگانا ممکن ہے، مگر انہیں دوبارہ پھل دینے کے قابل ہونے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔”

وہ مزید کہتے ہیں، "ہمیں تیراہ وادی چھوڑے تقریباً دو ماہ ہو چکے ہیں۔ ہم اپنا گھر، زمین، جنگل اور پھلدار درخت سب کچھ پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ واپسی آسان نہیں ہوتی، کیونکہ جو کچھ ہم نے کھویا ہے، اسے دوبارہ حاصل کرنے کے لیے وقت کے ساتھ حوصلہ بھی درکار ہوتا ہے۔”

غلام حیدر کے لیے واپسی اب بھی ایک خواب جیسی ہے۔ وہ کہتے ہیں، “اگر میں واپس بھی جاؤں تو وہ اخروٹ کے درخت کہاں سے لاؤں جو میرے باپ نے لگائے تھے۔”

حکومت کی جانب سے امدادی پیکجز، شجرکاری مہمات اور بنیادی سہولیات کی بحالی جیسے اقدامات کیے گئے ہیں۔ یہ اہم پیش رفت ہے، مگر ماہرین کے مطابق پائیدار بحالی کے لیے مقامی لوگوں کو اس عمل کا حصہ بنانا ضروری ہے۔

تیراہ کی کہانی کسی ایک مسئلے کی نہیں۔ یہاں بے دخلی، جنگلات کی کمی، ترقیاتی دباؤ اور موسمیاتی تبدیلی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس بحران کو سمجھنے کے لیے اسے ایک مکمل تصویر کے طور پر دیکھنا ہوگا۔

یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی۔ یہ وقت کے ساتھ، فیصلوں کے ساتھ اور حالات کے ساتھ آہستہ آہستہ یہاں تک پہنچی ہے۔

باڑہ میں بیٹھے غلام حیدر آخر میں خاموشی سے کہتے ہیں،
“زمین اب بھی وہی ہے، مگر اس کا دل بدل گیا ہے۔”

محمد یونس
صحافی اور ترقیاتی شعبے سے وابستہ پیشہ ور ہیں۔ وہ پندرہ برس سے زیادہ عرصے سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں صحافت، انسانی مسائل اور سماجی تبدیلی سے متعلق موضوعات پر لکھتے اور کام کرتے رہے ہیں۔

ٹائم لائن اردو ٹیم
ٹائم لائن اردو کے رپورٹرز، صحافی، اور مصنفین پر مشتمل ٹیم

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں