قبائلی ضلع باجوڑکے اسی سالہ محمد گل ایک ایسی پشتون روایت کے حوالے سے بتارہے ہیں۔ جس کے زریعے انہوں نےاپنےعلاقے کے دوسرے مشران کے ساتھ ملکرایک درینہ دوشمنی کودوستی میں بدل دیا تھا اورمقتول کے خاندان نے قاتل کواللہ کے رضا کے لئےمعاف کردیا تھا۔ اس پشتون روایت کو ننواتے کہا جاتا ہے۔

گل نے اس واقعہ کی تفصیل کچھ یوں بیان کیا کہ ان کےعلاقہ غنڈو باجوڑمیں ایک شخص کے ہاتھوں سے ایک قتل خطا ہوا تھا جس کی وجہ سے اس کا پورا خاندان گھر میں محصورہو کررہ گیا تھا۔ کیونکہ قبائلی رسم و رواج کے مطابق دوشمنی میں پھر پورا خاندان غیرمحفوظ ہوجاتا ہے۔

جس بندے کے ہاتھ سے قتل خطا ہوا تھا نہ صرف وہ بلکہ اس کا پورا خاندان بہت بڑی اذیت اور خوف کی سائے میں زندگی بسرکررہے تھے۔ اگرچہ قاتل نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے ہر قسم سزا کے لئے تیارتھا۔

گل کے مطابق جب مجھے اس واقعہ کے بارے میں بتایا گیا توانہوں نے اپنے آس پاس کے گاؤں کے دیگرمشران اورایک عالم دین کے ساتھ ملکرمقتول کے گھرگئے اورقاتل کی طرف سے اس پورے خاندان پرننواتے کی کہ قاتل اپنے کئے پرسخت خفہ اورپریشان ہے اوروہ ہرسزا کے لئے تیارہیں لیکن اگراپ اس کواللہ کے رضا کے لئے معاف کردیں تو اللہ تعالی آپکو بہت اجردیگا۔

قاتل کی طرف سے ہمارے ننواتے کو مقتول کے خاندان نے قبول کرلیا اورقاتل کواللہ تعالی کے رضا کے لئے مغاف کردیا۔ مقتول کے خاندان نے ننواتے کرنے والے جرگے کی عزت افزائی کی جس پرہم سب بہت خوش ہوئے ۔ ہم سب نے مقتول کے خاندان کے لئے خصوصی دعائیں کیں۔

ننواتے کن مواقوں پر کیا جاتا ہے

نناواتے کا اہتمام پشتون معاشرے میں اس وقت ہوتا ہے کہ جب  کسی بندے سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے خوا وہ چھوٹی غلطی ہو یا کسی کا قتل ہو تو پھراس معاملے کو حل کرنے کے لئے نناواتے کا اہتمام کیاجا تاہے ۔ نناواتی میں جو بندہ غلطی کرے تو وہ اس واقع کے کچھ دنوں بعد نناواتے کا بندوبست کرتا ہے۔

صوبہ خیبرپختون خواہ کے ممتازمحقق، تاریخ دان،آدیب اورمعاشرتی امورکے ماہر ڈاکٹرانورنگارنے نناواتے کے حوالے سے بتایا کہ ننواتے پشتون ثقافت کا ایک ایسا قدر/ روایت ہے جس پربجا طورپرفخرکیا جاسکتا ہے ۔ کیونکہ نناواتے ہی پشتون ثقافت کا واحد قدرہے جس کے زریعے دشمنیاں،بدامنی اورمعاشرتی بگاڑکا قلیل مدت میں جڑسے خاتمہ ہوتا ہے۔

جب کسی بندے سے کوئی جرم / قتل سہوآ یا قصدآ سرزد ہوجائے توپھرمجرم کے طرف دوسرے فریق جس کا مالی یاجانی نقصان ہوا ہوں پر ننواتے کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پشتون معاشرے میں اب بھی ننواتے کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔

ڈاکٹرانور کے بقول پشتون اکثریتی علاقوں میں ننواتے جرم  کے نوعیت کے مطابق مختلف شکلوں میں کیا جاتا ہے جس میں مجرم کی طرف سے دنبہ، بیل اوربھینس بطوردیت پیش کیا جاتا ہے۔

نناواتے ایک ایسا پشتون روایت ہے جو پشتونوں کے معاشرے میں صدیوں سے چلا آرہاہے۔ شاید نناواتے کا اہتمام دوسرے معاشروں میں بھی ہوتا ہے لیکن پشتونوں کے معاشرے میں اس کا خاص اہتمام ہوتا ہے۔

اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے اقدار کمزورہوچکے ہیں لیکن نناواتے ایک ایسا قدرہے جوآج بھی اسی طرح قائم ودائم ہے اوراس کا اہتمام اسی طرح ہورہا ہے جس طرح صدیوں پہلے ہوتا تھا۔

ننواتے کرنے کا طریقہ کار

نناواتی کا طریقہ کاریہ ہے کہ اگرکوئی بندہ غلطی کرے خواہ وہ قتل کیوں نہ ہو یعنی اس سے غلطی سے کسی کا قتل ہو جائے یا دانستہ طور پر ہوجائے تو وہ پھراپنے غلطی کو تسلیم کرکے اپنے علاقے کے کچھ مغززلوگ، علماء اوربزرگ سفید ریش لوگوں کو جمع کرتا ہے اس میں تعداد کی کوئی پابندی نہیں ہوتی لیکن عموما آٹھ سے پندرہ تک لوگ اس میں ہوتے ہیں اوراس سے زیادہ بھی ہوسکتے ہیں۔ کبھی کھبارمجرم خود، خاندان کے خواتین اوربچوں کو بھی ساتھ ننواتے میں شامل کیا جاتا ہے اورمقتول یا مظلوم جس کا نقصان ہوا ہوں کے گھرجاتے ہیں اوراس سے مغافی کی التجاء کرتا ہے۔

ننواتے میں شامل لوگ یا جرگہ مظلوم فریق کے گھر کے سربراہ کے بارے میں معلومات کرتے ہیں کہ وہ گھر پرموجود ہے۔ تو پھر ان کے گھر اچانک جاتے ہیں تاکہ اس کی ننواتے کو قبول کیا جائے ۔

دوسری بات یہ ہے کہ اچانک اس لئے جاتے ہیں کہ وہ بندہ جس کے گھر وہ جانا چاہتے ہیں وہ کوئی بہانہ نہ کرے اورگھر سے کسی دوسرے جگہ نہ جائے تواس لئے وہ اس کے گھر اچانک جاتے ہیں تاکہ اس کو اچانک گھرپرپاسکیں ۔

جب ننواتے کا جرگہ اس کے گھر جاتا ہے تو اس بندے کے ساتھ ملتا ہے اوراس کو بتاتے ہیں کہ وہ اپنے خاندان کے دیگر افراد کو بھی بلائے تاکہ جرگہ جوبات کرنا چاہتا ہے کہ وہ سب کے موجودگی میں ہو تاکہ سب اس سے باخبرہوں۔ اگرگھر والا اپنے خاندان/ برادری  کےدیگرافراد کو بلانا چاہتا ہے تو بھی ٹھیک ہے اوراگر نہیں تو بھی یہ اس کی مرضی ہوتی ہے۔

ننوااتی کے جرگہ یا وفد میں جو عالم یا بزرگ بندہ ہوتا ہے وہ بات شروع کرتا ہے کہ ہم فلاں بندے کے ساتھ ننواتے میں آئے ہیں اگر مجرم خود ننواتے میں شامل ہو اور اگر وہ خود شامل نہ ہوتوپھروہ کہتے ہیں۔ کہ ہم کوتوفلاں بندے نے آپ کے پاس بھیجے ہیں کہ اس نے جوغلطی یا اس نے جو خطا کیا ہے وہ اس پر پشیماں ہے اوروہ ہرقسم سزا اورازالے کے لئے تیار ہے۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ ایساناخوشگوارواقعہ رونما ہوجائے لیکن بس ایسا ہوا ہے جس کے لئے میں اپنے آپ کو مجرم سمجھتا ہواورمعافی کا طلب گارہو۔

جرگہ والا اس کو کہتا ہے کہ ہم علاقے کے بزرگ آپ کے پاس آئے ہیں اس لئے ہمارا لاج رکھ اورہم کو خالی ہاتھ واپس مت کرو بلکہ اس بندے کو معاف کرواورہمیں عزت بخشو اللہ تعالی آپ کو اجر عظیم دیگا۔ اسی طرح سارا ننواتے کا جرگہ اس بزرگ کے بات کی تائید کرتا ہے اورگھروالے سے یعنی اس فریق سے خوشخبری سننے کی امید کرتا ہے۔

اس پروہ فریق یعنی بندہ کہتا ہے کہ میرے ساتھ ظلم ہوا ہے لیکن پھر بھی آپ ہم سب کے بزرگ ہے اورآپ نے اتنی عزت ہمیں بخشی ہے کہ میرے گھرآئے ہوں تومیں آپ کا قدر کرتا ہوں اورمیں اللہ تعالی کے رضا کے لئے اس کو معاف کرتا ہوں۔

تاہم کچھ مواقعوں پر دوسرا فریق کہتا ہے کہ میں ننواتے کے جرگہ کو قدرکی نگاہ سے دیکھتا ہوں لیکن مجھے کچھ سوچنے کا موقع دیں تاکہ مین کوئی اچھا فیصلہ کرسکو۔ میں خود اپ کو بتاؤنگا اپ پھرآنے کی زحمت نہ کریں ۔ اس طرح اس بندے کو جرگہ متفقہ طورپرکچھ دنوں کا وقت دیتا ہے اورپھراس کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھتا ہے۔

اور کچھ دنوں بعد وہ اس کو دوبارہ جواب دیتا ہے۔ پھرجرگہ ہوتا ہے اورآخری فیصلہ کرتا ہے۔ فریق اول کو فریق دوم کے گھر لے جاتا ہے اور وہاں پر بڑے دعوت طغام  کا اہتمام کیا جاتا ہے جس کا خرچہ فریق اول جس سے علطی ہوئی ہے بخوشی ادا کرتا ہے۔

اس دعوت میں پورے علاقے کے لوگوں کے ساتھ ساتھ علاقے کے عمائدین اورحکومت کے اہلکاروں کوشرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔ یہ سب پروگرام  ننواتے کرنے والے جرگہ کے نگرانی میں ہوتی ہے۔ جرگہ والے سب لوگوں کے موجودگی میں دونوں فریقین کوبغلگیرکراتے ہیں۔

دونوں فریقین عہد کرتے ہیں کہ وہ آئندہ بھائیوں کے طرح رہینگے اورایک دوسرے کو دل میں کوئی کدورت نہیں رکھیں گے۔ اور ننواتے میں شامل جرگہ کے فیصلہ کا احترام کرینگے۔ تواسی طرح دوشمنی دوستی میں بدل جاتی ہے تو یہ سب نناواتی کے زریعے ہو جاتا ہے۔ اس سب عمل کو نناواتی کہتے ہیں۔

ضلع باجوڑمیں ننواتے کے بہت سے مثالین موجود ہے جس سے خونی دشمنیاں دوستی میں تبدیل ہوچکے ہیں۔

حاجی شیراغظم نے ننواتی کے حوالے سے بتایا کہ ویسے تو ننواتے کے کئی مثالین ہیں لیکن میں یہاں پرایک کا ذکر کرونگا کہ پچلے مہینے ہمارے گاؤں میں ایک تنازعہ تھا جو نناواتے کے زریعے حل ہوا واقع کچھ یوں تھا کہ دو بندوں کا کئی سالوں سے زمین پر تنازعہ چل رہا تھا اوردونوں اس پرملکیت کا دعویٰ کررہا تھا۔

زمیں ایک بندے کی قبضے میں تھی اوروہ اس کو کاشت کررہا تھا کئی سالوں سے لیکن دوسرے بندے نےاس پھر دعوی کیا کہ یہ میرے اباؤاجداد کی ہے ۔ ایک دن فریق اول اس میں ٹریکٹر چلا رہا تھا کہ دوسرے فریق نے اس پر فائرنگ کی اور فریق اول اس سے جاں بحق ہوا ۔

پھراس مسئلے میں علاقے کےعمائدین نے مقتول کے خاندان پر فریق دوم کی طرف سے  نناواتی کی۔ فریق دوم نے اپنی غلطی تسلیم کرلی اورجس زمیں پروہ ملکیت کا دعوی کررہاتھا وہ اس سے بھی دستبردار ہوا اوردس لاکھ روپے بھی فریق اول کو بطور معاوضہ ادا کیا جو نناواتی کے زریعے جرگہ نے اس کے ذمے رکھا تھا۔

ملک آزاد بخت نے نے بھی ننواتے کے حوالے سے اپنے علاقے ارنگ اتمانخیل  کے ایک پرانے واقعہ کے بارے میں بیاتا کہ ان کے علاقے میں دوفریقین کے درمیان زمین کے تنازعے میں فریق آول نے فریق دوم کے دوافراد کو قتل کئے تھے۔ پھران میں کئی سال دوشمنی چلی لیکن پھر آخر کاراس کا حل ننواتے کے زریعے نکل آیا ۔

آول فریق نے اپنے پورے خاندان او قوم کے بچوں، خواتین ۔ مردوں اورعلاقے کےعمررسیدہ مشران کو ساتھ لیکر فریق دوم کے گھر کے سامنے بیٹھ گئے تھے اور تقریبا دس دن تک وہاں پر موجود تھے ۔ فریق آول اس کو کھانا بھی دیتے تھے اوراخر کاراس کو اس بات پرمجبورکیا کہ اس نے ننواتے قبول کیا اورفریق آول یعنی مجرم کو مغاف کردیا۔

تو ننواتے مین اس طرح بھی کبھی کبھی ہوتا ہے کہ اگر کوئی فریق ننواتے نہیں مانتے تو اس کے لئے یہ طریقہ بھی اختیار کیا جاتا ہے۔

گل نے بتایا کہ نہ صرف قتل کے واقعات میں انہوں نے ننواتے میں حصہ لیا ہےبلکہ انہوں نے گھریلوں معاملات، اراضی کی تقسیم میں ہاتھ پائی، معمولی تکرار اور پیسوں کے معاملات کو بھی ننواتی کے زریعے  چند ہفتوں میں حل کرائیں ہیں اور آج فریقین جو پہلے ایک دوسرے سے سخت ناراض تھے اب دوستوں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔

گل نےمزید کہا کہ ننواتت کے قدر/ روایت کو مزید مضبوط کرنا چاہئے اور کسی بھی رنجش کو اس سے حل کرنا چاہئے تاکہ معاشرے سے برائیاں ختم ہوسکیں۔

ڈاکٹر انورکے مطابق نناواتے ایک ایسا پختون قدر/ روایت ہے جو دوسرے معاشروں  کے مقابلے میں ہمارے پشتون معاشرے میں بہت مظبوط ہے ۔ اس وجہ سے یہ ہمارا معاشرہ دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔اگراس کو مزید مظبوطی سےاپنایا جائے تو بہت سے مسائل حال ہو جائینگے ۔ کیونکہ نناواتے میں دونوں فریقین لچک کا مظاہر کرتی ہے۔

شاہ خالد شاہ جی
شاہ خالد شاہ جی کا تعلق قبائلی ضلع باجوڑ سے ہے۔ اور پچھلے 15 سالوں سے صحافت سے وابستہ ہے۔ وہ ایک ایوارڈ ہافتہ تحقیقاتی جرنلسٹ ہے اور مختلف نیوز ویب سائٹس، اخبارات، جرائد اور ریڈیوز کے لئے رپورٹینگ کا تجربہ رکھتا ہے۔ شاہ جی زراعت، تعلیم، کاروبار۔ ثقافت سمیت سماجی مسائل پر رپورٹنگ کررہا ہے لیکن اس کا موسمیاتی تبدیلی ( کلائیمیٹ چینج ) رپورٹنگ میں وسیع تجربہ ہے۔ جس کے زریعے وہ لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی کوششوں میں مصرف ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں