
تحریر : محمد یونس
"ہمارے بچے ابھی تک اُن گھروں کی طرف نہیں دیکھتے جنہیں ماضی کے آپریشن میں کھو دیا تھا… اور اب ہمیں پھر وہی اندیشہ لاحق ہے؟” یہ الفاظ ہیں حاجی عبدالسلام کے، جو باڑہ کے رہائشی اور ایک سابق بے گھر قبائلی خاندان کے سربراہ ہیں۔ وہ ان ہزاروں افراد میں شامل تھے جو باڑہ بازار میں منعقد ہونے والے ایک بڑے عوامی جلسے میں شریک ہوئے — ایک ایسا اجتماع جو ممکنہ آپریشن، جبری نقل مکانی اور مسلسل بدامنی کے خلاف لوگوں کے اندر پلتے درد کی اجتماعی صدا تھا۔
یہ جلسہ "باڑہ سیاسی اتحاد” کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا، جس میں نہ صرف باڑہ بلکہ وادی تیراہ اور آس پاس کے علاقوں سے لوگ جوق در جوق شریک ہوئے۔ ان میں قبائلی مشران، سابق و موجودہ ارکان اسمبلی، علمائے کرام، سیاسی کارکنان اور سماجی شخصیات شامل تھیں۔ جلسے کا مرکزی پیغام ایک ہی تھا:
*قبائلی عوام مزید کسی آزمائش یا جبری ہجرت کے لیے تیار نہیں۔*
باڑہ سیاسی اتحاد کے صدر ہاشم آفریدی نے جلسے کے دوران جاری اعلامیے میں واضح کیا کہ "امن کا قیام ریاست کی ذمہ داری ہے، مگر پچھلے تجربات نے ہماری زندگیاں مفلوج کر دیں۔ اب نہ صرف ہمارے گھر، بلکہ اعتماد بھی ٹوٹ چکا ہے۔”
اعلامیے میں کہا گیا کہ ماضی کے آپریشنز نے قبائلیوں کو معاشی، سماجی اور ذہنی طور پر شدید نقصان پہنچایا۔ "جن گھروں کو مسمار کیا گیا، اُن کے لیے وعدہ شدہ چیکس آج بھی ریلیز نہیں ہوئے۔ پھر سے اگر ایسا ہی منظر دہرایا گیا تو ہم برداشت نہیں کریں گے۔”
جلسے کے دوران پُرامن احتجاج کرنے والے لوگوں نے شکوہ کیا کہ قبائلی عوام کے ساتھ سلوک اجنبیوں جیسا کیا جا رہا ہے۔ "جہاں پُرامن احتجاج کی گنجائش نہ ہو، وہاں بےچینی خود پیدا ہوتی ہے۔ ہمیں بار بار دیوار سے نہ لگایا جائے۔”
باڑہ بازار مکمل بند رہا، اور گرمی و دھوپ کے باوجود لوگوں نے نہ صرف جلسے میں شرکت کی بلکہ جمعے کی نماز بھی تیراہ روڈ پر ادا کی، جس نے اس احتجاج کو ایک روحانی اور اجتماعی رنگ دے دیا۔
جلسے میں منظور کردہ قراردادوں میں مطالبہ کیا گیا کہ:
* ملک نصیر آفریدی، علی وزیر اور صمد خان کو فوری رہا کیا جائے
* قبیلہ کمرخیل کے بےدخل متاثرین کو عزت و احترام کے ساتھ اپنے گھروں میں واپس لایا جائے
* فاٹا پر لگائے گئے نئے ٹیکسز کو فوری طور پر واپس لیا جائے، کیونکہ موجودہ معاشی حالات میں نواسی فیصد صنعتیں پہلے ہی بند ہو چکی ہیں، اور ہزاروں مزدور بےروزگار ہو چکے ہیں
وادی تیراہ سے آئے سماجی کارکنوں نے بتایا کہ تعلیمی ادارے بند ہیں، رات کو ایمرجنسی مریضوں کو اسپتال لے جانا خطرناک ہے، اور عورتیں و بچے گولہ باری کا نشانہ بن رہے ہیں۔ نور حلیم، جو تیراہ کے ایک کارکن ہیں، نے کہا: "ہم پہلے بھی امن کی خاطر گھر بار چھوڑ چکے ہیں۔ اس بار لوگ کہتے ہیں کہ چاہے کچھ بھی ہو، دوبارہ بے گھر نہیں ہوں گے۔”
باڑہ کے جلسے میں شریک عوامی نمائندوں نے بھی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی۔ صوبائی اسمبلی کے رکن عبدالغنی آفریدی نے کہا کہ "ہم بدامنی کی لہر پر دو بار اسمبلی میں قرارداد لا چکے ہیں۔ مگر اب خاموشی خطرناک ہو چکی ہے۔”
باڑہ سیاسی اتحاد نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر ان مطالبات پر توجہ نہ دی گئی، تو اگلا مرحلہ تیراہ، پشاور اور اسلام آباد میں پُرامن احتجاج کا ہوگا۔
جلسے کے اختتام پر شرکاء نے اجتماعی عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے گھروں، زمین، عزت اور حق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قانونی، جمہوری اور سیاسی طریقے سے آواز بلند کرتے رہیں گے۔ ایک بزرگ نے جاتے ہوئے صرف ایک جملہ کہا — جو شاید پوری قوم کا درد سمیٹے ہوئے تھا:
"ہم نے امن کے لیے سب کچھ کھو دیا، اب ہم صرف انصاف مانگتے ہیں — بس اتنا ہی۔”



