
ضلع کرم میں بدامنی کی وجہ سے لوگوں کی زندگی اجیرن بن گئی ہے۔ حال ہی میں شعیہ سنی فسادات کی وجہ سے چار سو سے زیادہ افراد کی ہلاکت اور اربوں روپے کے نقصان کے بعد کوہاٹ امن معاہدہ، مقامی سطح پر گاؤں کے درمیان امن معاہدوں کے ساتھ ضلع پھر سے اسلحہ جمع کرنے سمیت جنگ زدہ علاقوں میں مورچوں کی مسماری اور ٹل پاڑہ چنار روڈ پر نئی چیک پوسٹوں کی قیام سے امن کی امید کی کرن اُبھر آئی تھی۔ ان کے سب کچھ کے باوجود ایک مرتبہ پھر مختلف جگہوں میں گھروں اور کھیلوں کے میدانوں پر بارودی گولیاں گرنے سے بچوں کی موت کی وجہ سے خوف و ہراس کا سماں بن گیا ہے۔
ان حملوں میں اب تک نو مقامی افراد جان کی بازی ہار گئے اور کئی لوگ زخمی ہوئے۔
مقامی لوگوں کے مطابق حالیہ واقعے میں سنٹرل کرم کے تور غر کے علاقے میں پچھلے ماہ 22 جون کو گولہ باری کے نتیجے میں چار بچے جاں بحق ہو گئے تھے اس کے بعد سنٹرل کرم ووٹ نامی گاؤں میں رحیم نامی شخص کے گھر پر گولہ گرنے سے ایک بچہ جاں بحق اور چار زخمی ہوگئے تھے۔
اس حوالے سے مقامی سماجی کارکن عبدالخالق پٹھان کا کہنا تھا کہ ان کے جسم اتنے بُری طرح برباد ہو گئے تھے کہ وہ بمشکل پہچانے جا رہے تھے، عبدالخالق پٹھان کے مطابق، کم از کم دس گولے فائر کیے گئے۔ ان میں سے ایک نے براہ راست بچوں کو نشانہ بنایا۔ان کا کہنا تھا کہ ایک اور گولا ایک مسجد میں گرا لیکن خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ باقی گولے کھلی جگہوں پر گرے۔
ان حملوں سے ضلع بھرکے عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑی جس کے بعد غمزدہ خاندانوں اور قبائلی بزرگوں نے بچوں کی باقیات کو ضلع کے صدر مقام پاڑہ چنار لے جا کر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور انصاف کا مطالبہ کیا۔ اس احتجاجی مظاہرے کی قیادت عبدالخالق پٹھان کر رہے تھے۔
احتجاج کرنے والوں نے غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ عبدالخالق پٹھان کا کہنا تھا کہ ان کا جرم کیا تھا؟ ہمیں بتائیں تاکہ ہم اپنے باقی بچوں کی حفاظت کر سکیں۔”

اس کے بعد 9 جولائی کو سنٹرل کرم ووٹ گاؤں میں گھر پر بارودی گولہ گرنے سے ایک بچہ جاں بحق اور چار افراد زخمی ہوگئے تھے۔ جس کے خلاف بھی مقامی لوگوں نے سنٹرل کرم سمیت لوئر کرم میں بھی احتجاجی مظاہرے کرائے اور حکومت سے امن کی بحالی کا مطالبہ کیا۔
ان واقعات سے چند ہفتے پہلے اسی تحصیل میں گوازہ ٹاپو کلے میں نامعلوم سمت سے گولہ باری کے نتیجے میں ایک خاتون جان سے گئی تھی۔
یہ حملے کوہاٹ معاہدے کی شرائط کے باوجود ہوئے، جس میں 30 مئی تک غیر قانونی ہتھیاروں کی حوالگی کا مطالبہ کیا گیا تھا تاکہ طویل مدتی امن کو یقینی بنایا جا سکے۔
کوہاٹ معاہدے کے مطابق ضلع کرم میں شعیہ سنی فسادات میں جنگ زدہ علاقوں میں موجود مورچوں کو مسمار کرنے کے ساتھ مرحلہ وار اسلحہ جمع کیا گیا۔ مورچیں مسمار کمیٹی کے ممبر شاہد خان کا کہنا ہے کہ ضلع کرم میں چھوٹے بڑے تقریبا 320 بینکرز مسمار کئی گئی ہے۔ اس کے علاہ جن گاؤں کے درمیان جنگ لڑی گئی تھی حکومت نے ان سے اسلحہ بھی جمع کرایا ہے۔
ضلع کرم کے تحصیل اپر کرم کے ایک شیعہ اکثریتی سرحدی گاؤں پیوڑ شرمکھیل میں لکڑیاں جمع کرنے والے چار افراد بارودی سرنگوں کے دھماکے میں ہلاک ہوگئے جبکہ چار دیگر زخمی ہوئے۔ ابتدائی طور پر پاراچنار کے ایک ہسپتال میں علاج کے بعد زخمیوں کو بعد میں پشاور کے ایک طبی مرکز منتقل کر دیا گیا۔
قبائلی بزرگوں نے ان حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے فوری تحقیقات اور ذمہ داروں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
کوہاٹ میں کرم امن معاہدے کے بعد مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے نے ایک بیان میں کہا تھا کہ علاقے میں امن و امان کی بحالی کیلئے 400 اہلکاروں کی بھرتی اور نئی چیک پوسٹیں سمیت دو ایف سی پلاٹون تعینات ہوگی۔ جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے ٹل پاڑہ چنار روڈ پر نئی چیک پوسٹ بھی قائم کی گئی ہے اور پولیس کے ساتھ ایف سی اہلکار بھی تعینات کئے گئے ہیں۔ ان اقدامات کے بعد ٹل پاڑہ چنار شاہراہ ہر قسم کے کیلئے آمدورفت سمیت افغانستان کے ساتھ تجارت کیلئے خرلاچی بارڈر بھی کھول دیا گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود علاقے میں مکمل امن کی بحالی کی کوئی یقین نہیں کرسکتا۔
علاقے میں بدامنی کے خلاف دیگر قبائلی اضلاع کے طرح ضلع کرم میں بھی امن مارچ کا اہتمام کیا گیا جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی اور علاقے میں امن کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ اس دوران مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں امن کی بحالی کا کام ریاست کی ہے اور ریاست ان کے علاقوں میں فوری طور پر سنجیدگی کے ساتھ امن کی کوششوں کو تیز کرے۔
ضلع کرم سمیت کوہاٹ ڈویژن میں امن و امان کی کوششوں کو مضبوط کرنے کے لیے، خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے پچھلے ماہ کو کوہاٹ پولیس کلب میں ایک بڑے ڈویژنل امن جرگے سے خطاب کرتے ہوئے ایمانداری، اتحاد اور محنت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تمام بااثر افراد سے کہا کہ وہ جامع مکالمے میں شامل ہوں اور اعتماد قائم کریں۔
یہ جرگہ محرم کی تیاری کے لیے منعقد کیا گیا تھا، جس میں مختلف اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کیا گیا، جن میں صوبائی قانون کے وزیر آفتاب عالم، ایم این ایز شہریار آفریدی، حمید حسین اور یوسف خان، ایم پی ایز شفیع جان، اورنگزیب اورکزئی اور علی ہادی، انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید اور کوہاٹ، کرم، اورکزئی اور ہنگو کے سینئر سول اور فوجی اہلکار شامل تھے۔ معروف مذہبی رہنما بھی اس جرگے میں شریک ہوئے۔
منتخب نمائندوں اور کمیونٹی کے رہنماؤں کی جانب سے دکھائی گئی اتحاد کی تعریف کرتے ہوئے، چیف سیکرٹری نے نوجوان نسل میں حب الوطنی کے اقدار کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب مسلمان اور بھائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان تقسیم کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
ان تمام اقدامات کے باوجود سوشل میڈیا سمیت مختلف مقامات پر ضلع کرم کے عوام امن کی ابتر صورتحال کے بارے میں اظہار رائے پیش کر رہے ہیں۔ سنٹرل کرم سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن امجد خان کا کہنا ہے پچھلے ایک سال سے ضلع کرم کے مختلف مقامات پر ناخوشگوار واقعات رونما ہوتے ہیں جس کی وجہ سے مقامی لوگ ذہنی بیمار بن چکے ہیں۔ جبکہ امن کے خیر حوا بھی محفوظ نہیں ہے۔ گزشتہ جمعہ کے روز صدہ بازار میں امن مارچ کرنے والے منتظم اور سماجی کارکن خواجہ ناہید کو مقامی پولیس نے گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق خواجہ ناہید کو مختلف مقدمات اور ریاست مخالف تقریر کرنے کے جرم میں گرفتار کیا ہے۔
سماجی کارکنان اور امن پاسون کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ایک طرف علاقے میں بدامنی سے لوگوں بے چین ہیں جبکہ دوسری جانب امن کے نعرے لگانے کے بدلے پولیس گرفتاری کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ پچھلے ایک سال میں مختلف مقامات پر سیکورٹی فورسز پر حملے ہوچکے ہیں جس میں متعدد افراد جان سے گئے ہیں۔
شہاب علی شاہ کا کہنا تھا کہ ضلع میں امن بتدریج واپس آ رہا ہے اور امید ظاہر کی کہ علاقے کی اہم شاہراہ جلد ہی دوبارہ کھل جائے گی۔ انہوں نے رہائشیوں سے کہا کہ وہ غیر قانونی ہتھیار خود بخود حوالے کریں، بصورت دیگر ریاست ضروری کارروائی کرے گی۔



