
محمد یونس
پاکستان اپنی تاریخ کی سب سے بڑی اور اہم عوامی صحت کی مہم شروع کرنے جا رہا ہے۔ ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) ویکسین، جو سروائیکل کینسر سے بچاؤ کے لیے دنیا بھر میں مؤثر ثابت ہوئی ہے، اب پاکستان میں بھی 9 سے 14 سال کی عمر کی لڑکیوں کو فراہم کی جائے گی۔ یہ مہم نہ صرف ایک طبی قدم ہے بلکہ خواتین کی صحت اور ملک کے مستقبل میں ایک دیرپا سرمایہ کاری کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
مہم کی تفصیلات
وزارتِ صحت اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، 15 سے 27 ستمبر کے درمیان پنجاب، سندھ، اسلام آباد اور آزاد جموں و کشمیر میں تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ لڑکیوں کو یہ ویکسین فراہم کی جائے گی۔ اس بڑے اقدام کے لیے گیوی، دی ویکسین الائنس نے مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کی ہے، جبکہ 49 ہزار سے زائد ہیلتھ ورکرز، ویکسینیٹرز، ڈاکٹرز، کمیونٹی موبلائزرز اور ڈیٹا آپریٹرز کو خصوصی تربیت دی جا چکی ہے۔
ایک خاموش قاتل: سروائیکل کینسر
پاکستان میں سروائیکل کینسر کو ایک "خاموش قاتل” قرار دیا جاتا ہے۔ یہ خواتین میں پایا جانے والا تیسرا عام ترین کینسر ہے، جو ہر سال 5 ہزار سے زائد نئے کیسز اور تقریباً 3 ہزار 200 اموات کا باعث بنتا ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ پاکستان میں اس بیماری کی شرح جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
ڈاکٹر صوفیہ یونس، ڈائریکٹر جنرل وفاقی ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن، کہتی ہیں:
"یہ ویکسین نہ صرف بیماری کو روکتی ہے بلکہ ہزاروں خاندانوں کو اس تباہ کن کینسر کے مالی اور جذباتی بوجھ سے بچا سکتی ہے۔ یہ ہمارے اجتماعی مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔”
انسانی زاویہ
شاہدہ بی بی، پنجاب کے ایک دیہی گاؤں سے تعلق رکھنے والی ایک ماں ہیں۔ مہینوں تک علاج اور درست تشخیص نہ ملنے کے بعد انہیں آخرکار پتہ چلا کہ وہ سروائیکل کینسر کا شکار ہیں۔ علاج کے اخراجات اور شہروں کے سفر نے ان کے خاندان کو تقریباً توڑ کر رکھ دیا۔ حکومتی ہیلتھ کارڈ نے ان کے علاج میں مدد کی، مگر ان کی کہانی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ بروقت بچاؤ کے اقدامات کس طرح خاندانوں کو ایسی اذیت سے بچا سکتے ہیں۔
صوبوں میں مرحلہ وار آغاز
یہ مہم پاکستان میں ایچ پی وی ویکسین کے قومی پروگرام کا پہلا مرحلہ ہے۔ 2026 میں خیبر پختونخوا اور 2027 میں بلوچستان اور گلگت بلتستان میں اس کا آغاز متوقع ہے۔ منصوبہ یہ ہے کہ اسے پاکستان کے معمول کے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام میں شامل کر کے آنے والی نسلوں کے لیے ایک مستقل سہولت بنایا جائے۔
اعتماد اور آگاہی: ایک بڑا چیلنج
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا چیلنج صرف ویکسین کی دستیابی نہیں بلکہ عوامی اعتماد ہے۔ ایسے معاشرے میں جہاں تولیدی صحت کے معاملات پر کھل کر گفتگو نہیں کی جاتی، افواہیں اور غلط فہمیاں مہم کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اس کے لیے کمیونٹی کی شمولیت ناگزیر ہے۔
ڈاکٹر مسلمہ اعجاز، آغا خان یونیورسٹی سے وابستہ پبلک ہیلتھ ماہر، کہتی ہیں:
"ماؤں اور مقامی رہنماؤں کو اس عمل کا حصہ بنانا ہوگا۔ وہی اصل میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گی کہ لڑکیوں کو یہ ویکسین لگے یا نہیں۔”
عالمی تناظر
دنیا کے کئی ممالک میں ایچ پی وی ویکسین نے سروائیکل کینسر کی شرح میں ڈرامائی کمی کی ہے۔ برطانیہ میں تحقیق سے پتہ چلا کہ جن خواتین کو کم عمری میں ویکسین لگائی گئی، ان میں کینسر کے کیسز میں 87 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔ ڈبلیو ایچ او نے 2030 تک یہ ہدف مقرر کیا ہے کہ دنیا بھر کی 90 فیصد لڑکیوں کو 15 سال کی عمر سے پہلے یہ ویکسین ملے۔
پاکستان کے لیے ایک فیصلہ کن لمحہ
ڈبلیو ایچ او کے نمائندہ ڈاکٹر ڈیپنگ لو نے اس مہم کو پاکستان کے لیے "ایک انقلابی صحت عامہ کا لمحہ” قرار دیا ہے۔ لیکن اس انقلابی لمحے کو کامیاب بنانے کے لیے صرف ویکسین کی فراہمی نہیں بلکہ ہمدردی، شمولیت اور مستقل مزاجی کی بھی ضرورت ہوگی۔
پاکستان میں ایچ پی وی ویکسین مہم محض ایک طبی اقدام نہیں بلکہ ایک سماجی معاہدہ ہے— ایک وعدہ کہ آئندہ نسلوں کی لڑکیاں اس قابلِ روک تھام مرض سے محفوظ رہیں گی۔ اصل کامیابی صرف ویکسین شدہ لڑکیوں کی تعداد میں نہیں بلکہ ان خاندانوں کے سکون، ان ماؤں کے اعتماد اور ان کمیونٹیز کے مضبوط مستقبل میں چھپی ہوگی جو آج سے کئی سال بعد اس فیصلے کے ثمرات دیکھیں گی۔



