پچھلے دوعشروں سے کوئی سال بھی ایسا نہیں گزرا جس میں موسمیاتی تبدیلی نے اپنے منفی اثرات نہ دکھائی ہوں۔ اگرہم پچھلے سال کا مطالعہ کریں تواس میں بھی کئی تباہ کن منفی تبدیلیاں رونماء ہوئے تھے جس نے نہ صرف انسانی زندگی پربلکہ دوسرے جانداروں پربھی اپنے گہرے اثرات مرتب کئے تھے۔ اسی طرح سال  2025بھی موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کئی تباہ کن آفات کا شاہدرہا ۔

تاہم اس کے ساتھ ساتھ اس کے روک تھام کے لئے کچھ اہم پیش رفت بھی ہوئے جس کی وجہ سے یہ امید کی جاتی ہے کہ آئندہ سال میں موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کم کرنے کے لئے موثر اقدامات اٹھائے جائینگے۔

صوبہ خیبرپختونخواہ اورخاص طور پرمالاکنڈ ڈویژن میں سال  2025میں رونماء ہونے والے چند اہم و قابل ذکرواقعات میں چند تباہ کن اور کچھ حوصلہ افزاء تھے جس میں تباہ کن سیلاب،جنگلوں میں آگ کا لگنا، زرعی پیداوار میں کمی،پانی کا سطح مزید نیچے جانا، جنگلات کی کٹائی، بارشوں کےاوقات میں نمایاں تبدیلی، جبکہ اس کےساتھ حکومتی سطح پرکوپ 30 سربراہی کانفرانس میں اپنے موقف کو موثر انداز میں پیش کرنا  شامل ہیں۔پاکستان میں سیلابوں سے اور گلگت بلتستان میں گلیشئر پھٹنے سے سینکڑوں افراد جابحق ہوئے تھے اور بہت سے املاک تباہ ہوئے تھے۔

خیبر پختون خوا میں چند پیش انے والے اہم وقعات کی تفصیل درجہ ذیل ہیں۔

خیبر پختون خوا میں کلاؤڈ برست سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات: پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے 24 اگست  2025 کو صوبہ خیبرپختونخوا میں کلاؤڈ برسٹ    وسیلاب کے وجہ سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کے حوالے سے اپنے ویب سائٹ پر اعدادوشمار جاری کئے ہیں جس کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا میں کل 406 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جس میں 305 مرد ،55 خواتین اور 46بچے شامل ہیں ۔ سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں ضلع بونیر اور  قبائلی  باجوڑ سرفہرست تھے جہاں پر اموات کی تعدد سب سے زیادہ تھیں۔

جبکہ 247 افراد زخمی ہوئے جس میں 179مرد 38 خواتین اور 30 بچے شامل ہیں۔

پورے صوبے میں 5727 مویشی ہلاک ہوئے ہیں۔

کل 577 مکانات تباہ ہوئے ہیں اور 2946  مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔کلاؤڈ برست سے پورے صوبے میں 50 اسکولز مکمل تباہ ہوئے ہیں جبکہ 239 کو جزوی نقصان پہنچا ہے ۔ اسی طرح دیگر املاک میں ایک مکمل تباہ ہوا ہے جبکہ 35 کو جزوی نقصان پہنچا ہے ۔

دریاؤں کے کنارے واقع تجاوزات کو ہٹانے کے لئے  اقدامات :  سوات میں  دریائے سوات کے سیلاب ریلے  میں 17 افراد کے جابحق ہونے کی بعد صوبائی  حکومت نے دریائے سوات سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں دریاؤں اور ندی نالوں کے کنار ے موجود تجاوزات کو ہتانے کا کام شروع کیا تھا اور کئے بلڈنگز کو گرایا تھا تاکہ سیلابی پانی بلا روک ٹوک  گزر سکیں لینک اس اپریشن کو چند بعد بند کر دیا گیا۔

موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات سے بچنے کے لئے  حکومت کے ساتھ ساتھ فلاحی و غیر سرکاری ارگنائزیشن کو لوگوں کے اگاہی کے لئے موثر مہم چلانے کی ضرورت ہے تاکہ اس طرح کے  کلاؤڈ برسٹ اور سیلابوں میں زیادہ نقصانات سے لوگ بچ سکیں۔

جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات: سال 2025 میں صوبہ خیبر پختونخوا (KP) کے جنگلات میں آتشزدگی کے واقعات نے ماحولیات اور معیشت کو شدید نقصان پہنچایا۔ مئی 2025 تک کی سرکاری رپورٹس اور سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق اس سال کے نقصانات کی تفصیل درج ذیل ہے:
​آگ کے واقعات اور مقامات
​2025 کے پہلے پانچ مہینوں میں (26 مئی تک) خیبر پختونخوا میں جنگلات میں آگ لگنے کے 107 بڑے واقعات رپورٹ ہوئے۔ یہ واقعات زیادہ تر خشک سالی اور شدید گرمی کی لہر (Heat wave) کے دوران پیش آئے۔
​سب سے زیادہ متاثرہ علاقے: ​بونیر: یہاں سب سے زیادہ تباہی ہوئی، جہاں صرف 8 بڑے واقعات میں سینکڑوں ہیکٹر رقبہ جل گیا۔
​سوات اور شانگلہ: ان اضلاع کے پہاڑی سلسلوں میں کئی مقامات پر آگ لگی، جس سے مقامی بستیوں کو بھی خطرہ لاحق ہوا۔
​لوئر دیر (ادینزئی): یہاں اوساکئی، اسبند اور کوٹیگرام کے مقامات پر آگ لگی جو کئی روز تک جاری رہی۔
​دیگر علاقے: ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، خیبر، باجوڑ اور جنوبی وزیرستان میں بھی آتشزدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
​رقبے کا نقصان (Ecological Damage)
​سال 2025 کے ابتدائی نصف حصے میں تقریباً 2,448 ہیکٹر (تقریباً 6,000 ایکڑ) پر محیط جنگلات اور جھاڑیاں خاکستر ہوئیں۔
​اکیلا ضلع بونیر اس نقصان کا بڑا مرکز رہا جہاں تقریباً 700 ہیکٹر رقبہ متاثر ہوا۔
​زیادہ تر مقامات پر "گراؤنڈ فائر” (زمین پر پھیلی آگ) اور "سرفیس فائر” (سطحی آگ) کے واقعات ہوئے، جنہوں نے نئے اگنے والے پودوں اور جنگلی حیات کے مسکن کو تباہ کیا۔
​جانی و مالی نقصان
​جانی نقصان: مئی 2025 میں شانگلہ کے علاقے مارٹنگ میں جنگل کی آگ کی لپیٹ میں آ کر ایک ہی خاندان کے 2 افراد (میاں بیوی) جاں بحق ہوئے، جبکہ کئی دیگر واقعات میں ریسکیو اہلکار اور مقامی افراد زخمی بھی ہوئے۔
​مالی و معاشی نقصان:  قیمتی لکڑی کے درخت (چیڑ، دیودار وغیرہ) جلنے سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔
​زیتون کے باغات (خصوصاً جنوبی وزیرستان میں) اور مقامی لوگوں کے مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔
​جنگلی حیات (پرندے اور چھوٹے جانور) کی بڑی تعداد ہلاک ہوئی، جس کا ماحولیاتی تخمینہ لگانا مشکل ہے۔
​سال 2025 کے سرکاری اعداد و شمار اور جاری کردہ رپورٹس کے مطابق، صوبہ خیبر پختونخوا میں جنگلات کی صورتحال اور شجرکاری کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

​شجرکاری کے اہداف اور کارکردگی:

​مجموعی پودے: سال 2025 میں خیبر پختونخوا حکومت نے ‘پلانٹ فار پاکستان’ اور ‘گرین پاکستان پروگرام’ کے تحت کروڑوں پودے لگانے کا ہدف رکھا۔ اگست 2025 تک کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ چند برسوں کے دوران صوبے میں مجموعی طور پر تقریباً 71 کروڑ 32 لاکھ سے زائد پودے لگائے جا چکے ہیں۔

حالیہ مہمات: صرف فروری 2025 کی موسم بہار کی مہم میں 26 لاکھ پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، جبکہ اگست 2025 کی مون سون مہم میں مزید 10 لاکھ کے قریب پودے لگائے گئے۔

رقبہ اور فیصد:

​کل رقبہ: سرکاری دستاویزات کے مطابق، مسلسل شجرکاری مہمات کے نتیجے میں صوبے کا کل جنگلاتی رقبہ 26.5 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

​ہیکٹر میں رقبہ: سابقہ فاٹا (ضم شدہ اضلاع) سمیت صوبے کا کل جنگلاتی رقبہ اب تقریباً 26 لاکھ 98 ہزار ہیکٹر (2.69 million hectares) کے قریب ہے۔

​تحفظ اور بحالی: سال 2025 کے دوران نہ صرف نئے پودے لگائے گئے بلکہ ہزاروں ہیکٹر پر مشتمل ‘انکلوژرز’ (Enclosures) کے ذریعے قدرتی جنگلات کی بحالی پر بھی کام کیا گیا۔

​اہم اضلاع: شجرکاری کی ان سرگرمیوں میں ملاکنڈ، ہزارہ اور جنوبی اضلاع (ڈی آئی خان، بنوں) سرفہرست رہے۔ خاص طور پر ضم شدہ اضلاع میں وسیع بنجر زمینوں کو جنگلات میں تبدیل کرنے کے لیے 47 فیصد تک بجٹ مختص کیا گیا۔

زرغی زمینوں پر تعمیرات میں تیزی دیکھی گئی  جبکہ تدارک کے لئے عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر تھے

صوبہ خیبر پختون خوا کے دارلحکومت پشاور سمیت صوبے کے تمام اضلاع بشومل ضم شدہ اضلاع میں زرعی زمینوں پر تعمیرات  میں تیزی دیکھی گئی جس کی وجہ سے صوبہ ایک اہم زرعی قطعہ اراضی سے محروم رہا اور اس میں  یہ رجھان کئی سالوں سے جاری ہے۔ زرعی زمینوں پر تعمیرات کی بھرمار کی وجہ سے ماہرین کے مطابق نہ صرف اس صوبے میں خوراک کی کمی کا خدشہ ہے بلکہ اس سے کئی ماحولیاتی چیلنجز درپش ہورہے ہیں۔

ماہرین ماحولیات نے  خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر بروقت قابو نہیں پایا گیا تو  پر اس پر قابو پانا حکومت سمیت کسی کی بس کی بات نہیں ہوگی۔ اس سلئے اس اہم اور سنگین مسئلے کی طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت پے۔

کانفرنس آف پارٹیز(کوپ(COP-30 انعقاد  اور پاکستان  کا اپنا کیس موثر انداز میں پیش کرنا: سال 2025 میں بھی  کانفرنس  آف پارٹیز  (کوپ  30) کا انعقاد نومبر کے مہینے میں برازیل  کے شمالی علاقے میں واقع بیلم  میں منعقد ہوا جہاں پر ایمزون دریا اٹلانٹک سمندر کے ساتھ ملتا ہے۔بیلم  میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے حوالے سے کانفرنس آف پارٹیز  کوپ  30 کا سربراہی کانفرنس منعقد ہوا جو 11نومبر سے21 نومبر تک جاری رہا۔

کوپ 30 میں دنیا کے 200ممالک کے سربراہان یا حکومتی  نمائندہ  وفود ، قومی اورعالمی غیرسرکاری تنظیموں ،صنعتی اداروں کے نمائندوں ، ماحولیات کے ماہرین، کلائمیٹ چینج  ایکٹیوسٹس اور اینوائرمینٹل صحافیوں سمیت  پچاس ہزار افراد  نے شرکت کی۔ کانفرنس میں پاکستانی وفد کی سربراہی پنجاب کی وزیر اعلی مریم نواز  نے کی اورکانفرنس سے خطاب کیا۔  انہوں نے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والے نقصانات کے حوالے سے موثر انداز میں کانفرانس کے شرکاء کو اگاہ کیا۔

کانفرنس کے شرکاء اورماہرین موسمیاتی تبدیلی نے اپنےخیالات شریک کئے کہ کس طرح انسانی زندگی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے متاثر ہو رہی ہےاور اس کو کس طرح کم کیا جاسکتا ہے۔

کوپ 30  برازیل بیلم کے اعلامیے کے چند اہم نکات

غریب ملکوں کی مدد: ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی سے بچاؤ کی تیاری کے لیے جو پیسے دیے جاتے ہیں، انہیں تین گنا کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ اسے ‘Adaptation Finance’ کہتے ہیں۔

جنگلات کا تحفظ: دنیا کے اہم جنگلات، جیسے کہ ایمیزون (Amazon) کو بچانے کے لیے ایک بڑا نیا پروگرام شروع کیا گیا جسے ‘Tropical Forest Forever Facility’ کہتے ہیں۔

لوگوں کو آواز: مقامی قبائل (Indigenous Peoples) اور عام کمیونٹیز کو موسمیاتی تبدیلی کے فیصلوں میں زیادہ اہمیت دی گئی اور ان کے زمین کے حقوق کے لیے بھی وعدے کیے گئے۔

تیل، گیس، اور کوئلے کا مسئلہ: سب سے بڑا مسئلہ فوسل فیولز (Fossil Fuels) یعنی تیل، گیس اور کوئلے کا استعمال ختم کرنا ہے۔ یہی چیزیں زمین کو گرم کرنے والی سب سے زیادہ آلودگی پھیلا رہی ہیں۔ 80 سے زیادہ ممالک نے مطالبہ کیا کہ ان کو مرحلہ وار ختم کرنے کا ایک واضح منصوبہ بنایا جائے، مگر تیل پیدا کرنے والے چند طاقتور ممالک کی لابنگ کی وجہ سے اس پر باضابطہ معاہدہ نہیں ہو سکا۔

صرف باتیں: کانفرنس میں یہ طے نہیں ہو سکا کہ فوسل فیولز سے چھٹکارا پانے اور جنگلات کی کٹائی روکنے کا واضح اور باضابطہ منصوبہ (Roadmap) کیا ہوگا؟

کوپ 30 میں جنگلات اور غریب ممالک کی مالی مدد کے لیے بڑی پیش رفت ہوئی ہے، جو خوش آئند ہے۔ لیکن سب سے اہم چیز، یعنی فوسل فیولز سے چھٹکارا پانے کا واضح راستہ، کانفرنس کے رسمی مذاکرات میں طے نہیں ہو سکا۔ یہی وہ چیز ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ لیڈر موسمیاتی تبدیلی کے خطرے پر کتنی زوردار تقاریر کرتے ہیں، لیکن جب اصل میں نقصان پہنچانے والی صنعتوں کے خلاف کھڑے ہونے کی باری آتی ہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

گویا کانفرنس کے صدر (برازیل) نے اپنے طور پر ان منصوبوں کا اعلان تو کیا ہے، مگر یہ کوئی عالمی معاہدہ نہیں ہے جس پر تمام ممالک کو عمل کرنا لازم ہو۔ اب گیند برازیل کی کورٹ میں ہے کہ وہ ان وعدوں کو کتنا عملی جامہ پہناتا ہے۔

 

 

 

 

شاہ خالد شاہ جی
شاہ خالد شاہ جی کا تعلق قبائلی ضلع باجوڑ سے ہے۔ اور پچھلے 15 سالوں سے صحافت سے وابستہ ہے۔ وہ ایک ایوارڈ ہافتہ تحقیقاتی جرنلسٹ ہے اور مختلف نیوز ویب سائٹس، اخبارات، جرائد اور ریڈیوز کے لئے رپورٹینگ کا تجربہ رکھتا ہے۔ شاہ جی زراعت، تعلیم، کاروبار۔ ثقافت سمیت سماجی مسائل پر رپورٹنگ کررہا ہے لیکن اس کا موسمیاتی تبدیلی ( کلائیمیٹ چینج ) رپورٹنگ میں وسیع تجربہ ہے۔ جس کے زریعے وہ لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی کوششوں میں مصرف ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں