
آسٹریلوی ہائی کمیشن نے کنیرڈ کالج فار ویمن اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ مل کر ساتواں اے ایچ سی–کنیرڈ گرلز کرکٹ کپ منعقد کیا۔ اس ٹورنامنٹ کا مقصد کھیل کے ذریعے پاکستانی لڑکیوں کو مواقع دینا، ٹیم ورک کو فروغ دینا اور آگے بڑھنے کے راستے بنانا تھا۔
اس ٹورنامنٹ میں مختلف سماجی اور معاشی پس منظر سے تعلق رکھنے والی طالبات نے حصہ لیا۔ کرکٹ کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا گیا جس سے لڑکیوں میں خوداعتمادی بڑھی، قیادت کی صلاحیتیں نکھریں اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کا جذبہ مضبوط ہوا۔ اس موقع نے آسٹریلیا اور پاکستان کے عوام کے درمیان مضبوط تعلقات کو بھی اجاگر کیا۔
پاکستان میں آسٹریلیا کے ہائی کمشنر، ٹموتھی کین، نے کھلاڑیوں کی ہمت اور حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ لڑکیاں کھیل کے ذریعے خواتین اور لڑکیوں کے لیے موجود رکاوٹوں کو چیلنج کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا “کھیل ایک طاقتور ذریعہ ہے جس کے ذریعے لڑکیاں اور خواتین معاشرتی سوچ کو بدل سکتی ہیں اور برابری کی اہمیت کو اجاگر کر سکتی ہیں۔ پاکستان میں گرلز کرکٹ کی حمایت ہمارے کھیل سے مشترکہ لگاؤ اور برابری و شمولیت کے فروغ کے عزم کی عکاس ہے — نہ صرف آج بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی۔”
ہائی کمشنر نے مزید کہا “جہاں ہماری مردوں کی قومی ٹیمیں 2026 کے ٹی20 ورلڈ کپ سے پہلے لاہور میں کھیل رہی ہیں، آج کا دن پاکستان کی مستقبل کی خواتین چیمپئنز پر توجہ دینے کا ہے — تاکہ لڑکیاں بڑے خواب دیکھ سکیں اور اپنی برادری اور ملک کی نمائندگی کا راستہ بنا سکیں۔”
ٹورنامنٹ سے پہلے کھلاڑیوں کے لیے تین روزہ کوچنگ کلینک رکھا گیا، جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی معاونت حاصل تھی۔ اس کلینک کی قیادت پاکستان کی قومی خواتین ٹیم اور انڈر 19 ٹیم کی کھلاڑیوں نے کی، جنہوں نے لڑکیوں کی رہنمائی کی اور انہیں حوصلہ دیا۔
2016 سے اب تک، پاکستان کرکٹ بورڈ اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے آسٹریلیا کی گرلز کرکٹ کے لیے حمایت اسلام آباد سے آگے بڑھ کر لاہور اور کراچی تک پھیل چکی ہے۔ اس دوران کئی باصلاحیت کھلاڑی سامنے آئیں، جن میں سے کچھ نے بعد میں پاکستان کی انڈر 19 قومی ٹیم کی نمائندگی بھی کی۔
پاکستان ویمنز کرکٹ کی سربراہ رافعہ حیدر نے ٹورنامنٹ کے اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا “اس طرح کے پلیٹ فارم ٹیلنٹ تلاش کرنے اور لڑکیوں میں اعتماد پیدا کرنے کے لیے بہت ضروری ہیں۔ مسلسل حمایت کے ساتھ یہ لڑکیاں پاکستان ویمنز کرکٹ کا مستقبل بن سکتی ہیں۔”
کنیرڈ کالج فار ویمن کی پرنسپل ڈاکٹر ارم انجم نے کہا “جب لڑکیاں کھیلتی ہیں تو وہ خوداعتماد بنتی ہیں، قیادت سیکھتی ہیں اور ایک مضبوط وابستگی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم آسٹریلیا کے ساتھ مل کر ایسے مواقع پیدا کر رہے ہیں جہاں نوجوان لڑکیاں آگے بڑھ سکیں۔”
اس ٹورنامنٹ میں گورنمنٹ شہداءِ اے پی ایس میموریل گرلز ہائی اسکول، گورنمنٹ سنٹرل ماڈل اسکول، گورنمنٹ تہذیب البنات ماڈل گرلز اسکول، گورنمنٹ یاسمین اسلامیہ گرلز ہائی اسکول، مغلپورہ، اور کنیرڈ کرکٹ اکیڈمی کو کھلنے کیلئے شراکت دے گئی ہیں۔



