
قبائلی ضلع باجوڑ کے تحصیل ناواگئی کےعظمیٰ ناموس خان بنیادی طورپرخصوصی افراد میں سے ہے کیونکہ اُنکی قوت سماعت کمزور ہے لیکن اس کے باوجود اُنہوں نے اپنی ہمت اور والدین کے مدد سے پشاوریونیورسٹی سے زوالوجی میں ایم ایس سی کی ڈگری فرسٹ ڈویژن میں حاصل کرنے کے ساتھ بی ایڈ اوردیگر پیشہ وارنہ ڈگریاں بھی مکمل کرچکی ہیں۔ان سب تعلیمی اسناد کے ساتھ اُنہوں نے بہتر مستقبل کےلئے سال 2021 میں محکمہ تعلیم باجوڑ میں خصوصی افراد کے لیے مخصوص کوٹے پر سی ٹی ٹیچر کے خالی پوسٹ کے لئے اپلائی کیا۔ایٹا کے تحت ٹیسٹ کا انعقاد ہوا تو اس میں پوسٹ کے لئے مطلوبہ چالیس نمبرز کے بجائے اس نے ترییالیس نمبرز حاصل کئے اور میرٹ لسٹ میں جگہ بنائی لیکن باقی عمل میں اُن کواس عہدے محروم کردیا گیا ۔
عظمیٰ کے مطابق” دس میں سے نو خالی پوسٹوں پر تعیناتی کی گئی لیکن ایک پوسٹ کو خالی چھوڑا گیا جو تاحال خالی پڑا ہے جس پر نہ کسی اور کے تعیناتی کی جاتی ہے اور نہ مجھے ۔”جب میں نے اپنی ساتھ یہ ناانصافی دیکھی تو میں نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ( ڈی۔ ای۔ او) باجوڑ کو تحریر طور پر آگاہ کیا اُنہوں نے کہا کہ آپ ڈائریکٹر ایجوکیشن ضم اضلاع سے اجازت نامہ لے آؤ تاکہ ہم آپ کی تعیناتی کے آرڈر جاری کریں ۔ جب میں ڈائریکٹر کے پاس گئی تو انہوں نے زبانی طور پر کہا کہ یہ تو ڈی ای او کا اختیار ہے اور وہ آپ کا آرڈر کریگا "۔
ایک سال تک ڈی ای او اور ڈائریکٹر کے دفتر کے چکر کاٹے رہے لیکن آخر کار سیکریٹری ایجوکیشنل خیبرپختونخوا کو درخواست دی اور اپنی کیس وہاں پر لے گئی لیکن وہاں پر بھی حالت مختلف نہ تھی اورتاریخ پر تاریخ دےگئی ۔پچھلے چار سالوں میں ذہنی کوفت کے سیوا کچھ نہیں ملا۔
پروفیسر ناموس خان عظمٰی کی والد ہے جو دس سال پہلے گورنمنٹ کالج پشاور سے بطور پروفیسر اپنی نوکری سے ریٹائرڈ ہوچکے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ قبایلی اضلاع میں ایک بچی اور پھروہ بھی خصوصی بچی کو یونیورسٹی تک تعلیم دلانا انتہای مشکل کام ہے۔ لیکن تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب میری بیٹی کو میرٹ کےباوجود جس انداز میں اپنے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اس کی مثال نہیں ملتی ۔ چار سالوں سے اس کے لئے انصاف کے حصول کے لئے ہر سرکاری دفتر کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن ہاتھ کچھ نہیں آیا۔ ان کے بقول پروفیسرہونے کےناطے میری بیٹی کو ان کے اتنے کوششوں کے باوجود اپناحق نہیں ملا تو باقی خصوصی افراد کا کیاحال ہوگا۔
عظمیٰ ناموس خان کے کیس کے حوالے سے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فیمیل)باجوڑ میڈم حسن آرا نے اس کیس سے لا علمی کا اظہار کیا کیونکہ اس نے موقف اختیار کیا کے ابھی تک اس کے سامنے اس کا فائل نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ باجوڑ میں میل اور فیمیل سیکشن کو تین سال پہلے الگ کئے ہیں جبکہ پہلے میل اور فیمیل کے تمام امور ڈی ای او میل چلاتے تھے جس وجہ سے ان کے آفس کا کچھ پرانا ریکارڈ اب بھی ڈی ای او میل آفس میں پڑا ہے جو ابھی تک منتقل نہیں کیا گیا۔ جیسے ہی یہ ریکارڈ منتقل ہوگی تو اس کیس کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جاے گا۔ اس کے بعد ہم حتمی فیصلہ کرینگے۔
عظمیٰ نے کہا "کہ اگر خصوصی افراد کے لئے سرکاری ملازمتوں میں مخصوص کوٹے پر ملازمتین فراہم نہیں کیاجاتاہے توپھر اس کو مختص کرنے کا فائدہ کیا ہے۔” میں خیبر پختون خوا کے وزیر اعلٰی ، گورنراور تمام منتخب نمائندوں سے پرزور اپیل کرتی ہوں کہ سرکاری محکموں میں جتنی بھی خصوصی افراد کے لیے مخصوص سیٹیں خالی پڑی ہیں اس کو فی الفور پرُ کیا جائے اور خصوصی افراد کو مزید اذیت سے بچائیں”۔
یہ صرف ایک عظمی کا مسئلہ نہیں بلکہ باجوڑ تحصیل خار کے گاؤں صاحب آباد کے چونتیس سالہ شوکت اللہ جس کا پیدائشی طور پر جسمانی غضلات کے کمزوری کے وجہ سے آدھا جسم مفلوج ہو چکا ہے ۔ انہوں نے ایم اے اسلامیات اور شہادۃ العلمیہ کی ڈگریاں حاصل کی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے وہ بھی مطلوبہ قابلیت اور خصوصی افراد کے لئے مخصوص کوٹے کے باوجود سرکاری نوکری سے چار سال تک محروم تھے اور چار سال طویل جدجہد کے بعد ان کو ایک ہفتہ پہلے بطور ٹیچر ملازمت ملی ہے۔
شوکت نے سرکاری نوکری سے چار سال تک محروم رکھنے کے حوالے سے بتایا "کہ اپریل 2021 میں ٹیچر آف تھیالوجی (ٹی ٹی ) اور عربک ٹیچر ( اے ٹی ) کے لئے اپلائی کیا تھا اور بعد میں ہماری ٹیسٹ و انٹرویوز ہوئے تھے جس میں ٹی ٹی میں دو سو ایکہتر خالی سیٹیں تھے جس میں پانچ سیٹیں ہمارے بنتے تھے جبکہ اے ٹی میں سینتیں سیٹیں تھے جس میں ایک سیٹ خصوصی افرا کے لئے تھا۔
اس کے علاوہ پچھلے دور سے بھی شارٹ فال چلا آرہا تھا تو اس میں بھی کئی مخصوص افراد کے سیٹیں خالی پڑی تھیں ۔ تو اس بنیاد پر مخصوص کوٹے کے تحت محکمہ تعلیم باجوڑ نے ہم سے وعدہ بھی کیا تھا کہ آپ کو ہم یہ سیٹیں دینگے ۔ تاہم پھر مختلف طریقوں اور ٹال مٹول سے مجھے ورغلانے کی کوشش کی تاکہ مجھے اپنے حق سے محروم رکھا جائے”۔
شوکت نے محکمہ تعلیم کے اس اقدام کے خلاف سوات دارلقضاء اور پھر پشاور ہائی کورٹ میں 2021 میں کیس جمع کیا چونکہ یہ اُن کا قانونی حق تھاتو اس لئے چار سال طویل جدوجہد کے بعد فروری 2025 کو پشاورہائی کورٹ نے اُن کے حق میں فیصلہ دیا ،لیکن پھر بھی محکمہ تعلیم باجوڑ نے اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا ۔
” محکمہ تعلیم باجوڑ نے میرا کیس لاء ڈپارٹمینٹ کو بھیجا پھر انہوں نے انکوائری مقرر کیا جس نے بھی میرے حق میں فیصلہ کیا۔ اسکے بعد میں محکمہ تعلیم باجوڑ نے میری تقرری نہیں کی گئی جس پر میں نے محکمہ تعلیم کے خلاف توہین عدالت کا کیس کرنے کی کو کہا جس کے ڈر سے پھر محکمہ تعلیم باجوڑ نے مجھے کہا کہ ہم جلد آپ کے تقرر کرینگے ۔ تو بہت اذیت اور میرا وقت ضائع کرنے کےبعد اب انہوں نے میرے تقرری کی”۔
شوکت نے کہا کہ ایک تو وہ بچپن سے معذوری کا شکار ہے اور تعلیم بہت سے مشکلات کے بعد حاصل کی کیونکہ وہ دو تین بندوں کے سہارے کے بغیر چل نہیں سکتے تو اس حالت میں تعلیم حاصل کرنا کوئی معجزے سے کم نہیں ۔لیکن اس میں میرے گھر والوں نے مجھے بھر پور سپورٹ کیا اور اس مقام پر پہنچایا تاکہ میں بھی معاشرے میں ایک باعزت زندگی گزار سکوں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں خصوصی افراد کے حقوق کے لئے قوانین تو موجود ہے لیکن اس پر عمل نہیں ہوپارہا۔
خصوصی افراد کے لئے مخصوص کوٹے پر عملدرآمد میں مشکلات صرف محکمہ تعلیم میں نہیں بلکہ دوسرے محکمہ جات کے ساتھ ساتھ محکمہ صحت باجوڑ میں بھی یہ سلسلہ جاری ہے ۔
باجوڑ کے دورافتادہ تحصیل برنگ سے تعلق رکھنے والا ہدایت اللّٰہ جو پولیو کے وجہ سے ایک ٹانگ پر معذور ہے نے مالی مشکلات کی باوجود دو سالہ ہیلتھ ٹیکنالوجی ڈپلومہ مکمل کیا ہے ان کو امید تھی کہ ان کو سرکاری نوکری ملی گی اور ان کے زندگی آسانی سے گزر جائیگی۔ اس لئے انہوں نے مارچ 2025 میں محکمہ صحت باجوڑ میں مشتہر کی گئیں میڈیکل ٹیکنیشن کے خالی آسامیوں کے لیے مخصوصی کوٹے پر اپلائی کیا تھا۔ لیکن تاحال اپنے حق سے محروم ہے۔
ہدایت نے بتایا کہ "اس نے مشتہر کی گئی ترییالیس خالی آسامیوں کے لیے اپلائی کیا تھا اور اس وقت کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر( ڈی ایچ او) نے انہیں بتایا تھا کہ اس میں دو سیٹیں ہم خصوصی افراد کو دینگے ۔ اس بنیاد پر دو سیٹیں ہمارا حق بنتاتھا۔میں نے ٹیسٹ انٹرویو بھی پاس کیا تھا لیکن انہوں خصوصی افراد کے لیے مخصوص کوٹے پر عملدرآمد نہیں کیا اور ہمیں ایک سیٹ بھی نہیں دیا”۔
ہدایت کے مطابق اس کے بعد انہوں نے ڈی ایچ او کو اس حوالے سے درخواست دی تو اس نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ پھر میں نے ڈائریکٹر ہیلتھ ضم اضلاع کو درخواست دی کہ مجھے اپنا حق دیا جائے لیکن بدقسمتی سے وہاں سےبھی کوئی جواب مجھے نہیں ملا۔ پھر میں نے تنظیم بحالی مغذوران باجوڑ کے چیئرمین حضرت ولی شاہ کے تعاون سے رائٹ ٹو انفارمیشن کے تحت ڈپٹی کمشنر باجوڑ کو درخواست دی کہ محکمہ صحت باجوڑ میں 2025 سے خصوصی افراد کے کوٹے پر جتناشارٹ فال ہے اس سب کی تفصیل مجھے فراہم کیا جائے لیکن اس پر بھی کوئی جواب نہیں ملا۔
محکمہ صحت باجوڑ کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کا چند ماہ پہلے تبادلہ ہوچکا ہے جبکہ اس کی جگہ دوسرے ڈی ایچ او کی ابھی تک تعیناتی نہیں کی گئی ہے تاہم اضافی چارج ایم ایس ہیڈکوارٹر ہسپتال خار باجوڑ کو دیا گیا ہے۔ خصوصی افراد کے کوٹے پر بھرتی کے حوالے سے ڈی ایچ او آفس باجوڑکے ایک زمہ دار اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کے شرط پر بتایا کہ خصوصی افراد کے حوالے سے حکومتی پالیسی کے مطابق دو فیصد کوٹہ دیا جاتا ہے۔ جہاں تک ہداہت اللّٰہ کے کیس کا تعلق ہے تو اس بارے میں تمام قانونی تقاضے پورے کئے گئے ہیں ۔ اس نے اس تاثر کو رد کردیا کہ اس کی حق تلفی ہوئی ہے۔
پاکستان کے ادارہ شماریات ( بیورو آف سٹیٹسٹک (پی بی ایس) نے 2023 کے مردم شماری کے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق قبائلی ضلع باجوڑ کی کل آبادی بارہ لاکھ ستاسی ہزار نو سو افراد پر مشتمل ہے ۔ جس میں خصوصی افراد کے تعداد ایک لاکھ باون ہزار سات سو تہتر ظاہر کی گئی ہیں جس میں مختلف نوعیت کی معذوری کے حامل مرد و خواتین شامل ہیں ۔
جبکہ ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفیئر ، زکواۃ وعشر ضم اضلاع کے اعداد د شمار کے مطابق ان کے ساتھ تمام ضم اضلاع میں چھیالیس ہزار سات سو ایک خصوصی افراد رجسٹرڈ ہے ۔ تاہم باجوڑ کے محکمہ سوشل ویلفیئر کے فراہم کردہ معلومات کے مطابق ان کے ساتھ باجوڑ میں دس ہزار چھ سو خصوصی افراد رجسٹرڈ ہے جن کے مختلف نوعیت کی معذوری ہے۔ ان میں چار ہزار چار سو افراد کا ریکارڈ ڈیجیٹلائز کیا گیا ہے جبکہ باقی پر کام جاری ہے۔ ان خصوصی افراد میں ہر عمر کے مرد و خواتین شامل ہے لیکن اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔
جب باجوڑ کے محکمہ سوشل ویلفیئر کے آفس ایڈ مینسٹریٹر حیات اللہ سے خصوصی افراد کے اعدادوشمار میں اتنے بڑی فرق کے حوالے سے معلوم کیا کہ اتنا برا فرق کیوں ہے آیا خصوصی افراد کو آپ کے محکمے کے ساتھ رجسٹریشن میں مشکلات کا سامنا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ ہمارا رجسٹریشن کا نظام انتہائی سادہ اور آسان ہے اس میں خصوصی افراد کو کوئی مشکل ابھی تک پیش نہیں آئی ۔
لیکن جہاں تک پی بی ایس کے دیٹا کی بات ہے تو وہ ڈیتا مستند نہیں ہے اور نہ اس کا دوبارہ کوئی ویریفیکیشن ہوا ہے کہ یہ درست ہے کہ نہیں۔ کیونکہ” مردم شماری کے دوران جب ٹیم کسی گھرانے میں جاتی تھی تو وہاں پر اکثر اوقات گھروں میں بڑے لوگ موقع پر موجود نہیں ہوتے تھے اور بچوں سے گھرانے کے افراد کے بارے میں پوچھتے تھے۔
اور اس سے یہ معلوم کرتے تھے کہ گھر میں کوئی معذور تو نہیں تو اکثر اوقات گھرانے کے بارے میں بچے یا غیر تعلیم یافتہ لوگ ان کو لالچ کے بنیاد پر بتاتے تھے کہ میری والدین کی نظر کمزور ہے یا میرا ایک بچہ توڑا کمزور ہے تاکہ ان کو حکومت کی طرف سے کوئی مالی تعاون مل سکیں تو اس کو مردم شماری کے ٹیم نے بھی خصوصی افراد کے کیٹیگری میں شامل کئے گئے ہیں حالا نکہ یہ معذوری میں شامل نہیں ہوتے، تو اس وجہ سے اس کے ڈیٹا بہت زیادہ ظاہر ہوا ہے”۔
حیات کے بقول جب ہم کسی کے رجسٹریشن کرتے ہیں تو اس کا باقاعدہ جسمانی طور پر ہمارے آفس آنا ہوتا ہے اگر وہ خود نہیں آسکتا تو ان کے خاندان کے افراد اس کو لاتے ہیں ۔یہاں پر فارم پُر کرنا ہوتا ہے پھر اس کا ہسپتال میں مقررہ ڈاکٹر سے تصدیق کرواتا ہے پھر ہم اس کو خصوصی افراد کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتا ہے ۔اور پھر وہ نادرا بھیجتے ہیں وہاں پر اس کا خصوصی افراد کا کارڈ بنتا ہے۔تو نادرا اور ہمارا ڈیٹا تقریبا یکساں ہوتا ہے ۔
تو ہم اس کے پوری طرح چھان بین کرتے ہے۔ لیکن یہ طریقہ نہایت آسان ہے اور ابھی تک اس میں کسی کو کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ ہم تمام خصوصی افراد کے ساتھ بھر پور تعاون کرتے ہیں ۔
باجوڑ کے خصوصی افراد کے فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والے تنظیم بحالی معذران باجوڑ (TBMB) کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق ان کے ساتھ موجودہ وقت میں” ساڑھے بارہ ہزار خصوصی افراد رجسٹرڈ ہے ۔ ان کے مطابق یہ تعداد اس سے زیادہ یعنی سولہ ہزار تک ہوسکتی ہے کیونکہ باجوڑ کے دور دراز علاقوں میں ایسے خصوصی افراد موجود ہے جن کے رسائی ہمیں ابھی تک نہیں ہوئی جن میں اکثریت خواتین کی ہے "۔
تنظیم بحالی مغذوران باجوڑ کے چیئرمین حضرت ولی شاہ نے بتایا کہ 2008 میں انہوں نے اپنی تنظیم بحالی مغذران باجوڑ کا بنیاد اس مقصد کے لیے رکھا کہ باجوڑ کے خصوصی افراد کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرینگے اور اس کے ساتھ ناانصافی کو روکیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم باجوڑ میں خصوصی افراد کے رجسٹریشن کے عمل سے پوری طرح مطمئین ہے ۔ اور خصوصی افراد کو کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ انہوں نے بھی پی بی ایس کے ڈیٹا سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ پورے سوبے خیبر پختون خوا میں دو لاکھ خصوصی افراد ہے کیونکہ صوبے کے جتنے خصوصی افراد کے تنظیمیں ہیں ہم ایک دوسرے کے ساتھ اپنا ڈیتا شئیر کرتے ہیں۔
ولی شاہ نے کہا "کہ جہاں تک ہدایت ،شوکت اور عظمیٰ ناموس خان کے کیسسز کا تعلق ہے تو ان سب میں ہم نے مدد کی ہے اور نہ صرف ان کے ساتھ متعلقہ محکموں کے افسران سے بات کی اور ان پر زور دیا کہ خصوصی افراد کے دو فیصد مختص کوٹے پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے بلکہ میں شوکت کے ساتھ عدالت بھی گیا تھا اور ان کے کیس میں بھر پور مدد فراہم کی”۔
صوبہ خیبر پختون خوا کے ضم اضلاع میں نادار اور خصوصی افراد کے فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے والی محکمہ سوشل ویلفیئر کے ڈپٹی ڈائریکتر عبید خان سے ضم اضلاع میں خصوصی افراد کے لئے مخصوص دو فیصد کوٹے پر پوری طرح عملدرآمد نہ کرنے کے بارے میں معلوم کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے اور اس کے حل کے لئے ان کا صوبے کے مختلف محکموں کے ساتھ وقتافوقتا میٹنگز ہوتی ہے لیکن ابھی تک ان کو اسی طرح کامیابی نہیں ملی جس طرح ہونا چاہئے ۔ اب بھی اس حوالے سے مشکلات موجود ہیں لیکن اس کو انشاء اللہ حل کرینگے۔
ولی شاہ نے بتایا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں قوانین تو بنتے ہیں لیکن اس پر ہر جگہ عملدرآمد کا فقدان ہے ۔ لیکن ہم خصوصی افراد کے تمام کیسز کو فالو کرتے ہیں اور ان کو ان کے حق دلانے کے لئے ہر فورم پر آواز اٹھاتے ہیں ۔ ہم نے خصوصی افراد کا کوٹہ دو فیصد سے پانچ فیصد تک بڑھانے کے لیے بھی کوششیں جاری رکھیں ہے کیونکہ پورے صوبے اور خاص طور پر باجوڑ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور موسمیاتی تبدیلی کے وجہ سے قدرتی آفات میں اضافے کے وجہ سےخصوصی افراد کے تعداد میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔
عبید کے مطابق ان کے محکمے میں تمام ضم اضلاع میں ایک سو افراد پر مشتمل سٹاف موجود ہیں جس میں تین خصوصی افراد ہیں ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ محکمہ صحت اور ایجوکیشن میں زیادہ ملازمتوں کے مواقع دستیاب ہوتے ہیں اس لئے وہ ان محکموں کے حکام بالا سے اپیل کرتے ہیں کہ ان محکموں میں خصوصی افراد کو مخصوص کوٹے کے مطابق ملازمتیں دی جائے۔



