محمد یونس

صوبہ خیبر پختونخوا میں رجسٹرڈ مرد اور خواتین ووٹرز کے درمیان فرق میں گزشتہ دو برسوں کے دوران معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، تاہم مجموعی طور پر صنفی فرق اب بھی قابلِ توجہ حد تک موجود ہے۔

یہ بات الیکشن کمیشن آف پاکستان کی تازہ ووٹر رجسٹریشن فہرستوں اور انتخابی عمل پر نظر رکھنے والی تنظیم فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کے تجزیے سے سامنے آئی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق فروری 2026 تک خیبر پختونخوا میں رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد تقریباً دو کروڑ بتیس لاکھ چالیس ہزار (23.24 ملین) ہو چکی ہے۔ ان میں ایک کروڑ پچیس لاکھ نوے ہزار (12.59 ملین) مرد جبکہ ایک کروڑ چھ لاکھ پچاس ہزار (10.65 ملین) خواتین ووٹرز شامل ہیں۔

یوں مرد اور خواتین ووٹرز کے درمیان فرق اب تقریباً انیس لاکھ چالیس ہزار رہ گیا ہے۔

2024 کے انتخابات کے مقابلے میں تبدیلی

اگر ان اعداد و شمار کا موازنہ پاکستان کے عام انتخابات 2024 کے وقت کی ووٹر فہرستوں سے کیا جائے تو فرق میں معمولی کمی واضح ہوتی ہے۔

فروری 2024 میں صوبے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد تقریباً دو کروڑ انیس لاکھ بیس ہزار (21.92 ملین) تھی۔ ان میں ایک کروڑ انیس لاکھ چالیس ہزار (11.94 ملین) مرد اور ننانوے لاکھ اسی ہزار (9.98 ملین) خواتین ووٹرز شامل تھیں۔

اس وقت مرد اور خواتین ووٹرز کے درمیان فرق انیس لاکھ ساٹھ ہزار سے زیادہ تھا۔

فافن کے مطابق حالیہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن کی رفتار مردوں کے مقابلے میں قدرے زیادہ رہی ہے، جس کے نتیجے میں صنفی فرق میں محدود مگر قابلِ ذکر کمی آئی ہے۔

صنفی فرق اب بھی چیلنج

اعداد و شمار کے مطابق فروری 2024 میں ووٹر رجسٹریشن میں صنفی فرق تقریباً 8.9 فیصد تھا، جو فروری 2026 تک کم ہو کر تقریباً 8.4 فیصد رہ گیا ہے۔

انتخابی مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت مثبت ضرور ہے، تاہم فرق کی موجودہ سطح اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خواتین کی انتخابی عمل میں شمولیت بڑھانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

ماہرین کے مطابق دیہی علاقوں میں سماجی پابندیاں، قومی شناختی کارڈ کے حصول میں مشکلات اور رجسٹریشن مراکز تک محدود رسائی جیسے عوامل اب بھی خواتین کی ووٹر رجسٹریشن کو متاثر کرتے ہیں۔

قانون کیا کہتا ہے؟

الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 47 کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان پابند ہے کہ وہ ہر سال ہر حلقے میں مرد اور خواتین ووٹرز کے الگ الگ اعداد و شمار جاری کرے اور ان کے درمیان فرق کو نمایاں کرے۔

اسی قانون کی ذیلی دفعہ کے مطابق اگر کسی حلقے میں مرد اور خواتین ووٹرز کے درمیان فرق 10 فیصد سے زیادہ ہو تو الیکشن کمیشن کو خصوصی اقدامات کرنا ہوتے ہیں، جن میں متعلقہ علاقوں میں خواتین کے لیے قومی شناختی کارڈ کے اجرا کے عمل کو تیز کرنا بھی شامل ہے۔

جمہوری عمل میں خواتین کی شمولیت

انتخابی ماہرین کے مطابق ووٹر فہرستوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت جمہوری عمل کے لیے حوصلہ افزا علامت ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ حقیقی پیش رفت اس وقت ممکن ہوگی جب خواتین نہ صرف ووٹر فہرستوں میں شامل ہوں بلکہ پولنگ کے دن ووٹ ڈالنے کے عمل میں بھی بھرپور حصہ لیں۔

ان کے مطابق آگاہی مہمات، شناختی دستاویزات تک آسان رسائی اور محفوظ پولنگ ماحول جیسے اقدامات صنفی فرق کو مزید کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں

ٹائم لائن اردو ٹیم
ٹائم لائن اردو کے رپورٹرز، صحافی، اور مصنفین پر مشتمل ٹیم

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں