
شمالی وزیرستان تحصیل شیواہ قابل خیل قوم کے مشترکہ جرگے نے شیواہ میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور لوگوں کے انخلاء کے بعد علاقے میں امن کے فوری قیام، نقل مکانی کی روک تھام اور دیگر مسائل کے حل کیلئے خصوصی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔
پشاور باغ ناران میں شمالی وزیرستان تحصیل شیواہ کابل خیل قوم کے مختلف شعبوں تعلق رکھنے والے شخصیات کا اہم جرگہ منعقد ہوا جس میں تحصیل شیواہ میں امن وامان کی خراب صورتحال اور اس کے نتیجے میں لوگوں کے اچانک انخلاء سے پیدا شدہ حالات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
خصوصی جرگہ میں تحریک انصاف، جمعیت علمائے اسلام ف، پی ٹی ایم، این ڈی ایم، دیگر سیاسی و سماجی شخصیات اور مختلف، شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
جرگہ سے خطاب میں چیف آف کابل خیل ملک غفار وزیر، تحریک انصاف کے سینیئر رہنما جمیل وزیر، جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما اسد اللہ وزیر، شیر علی خان، جاوید وزیر، اقبال وزیر، ڈاکٹر کرامت، سکندر، امان وزیر، سہراب، ملک لقمان شاہ، مولانا محمد دین اور دیگر مقررین نے شیواہ کے موجودہ ابتر حالات اور نقل مکانی بارے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تحصیل شیواہ کی صورتحال کا اچانک بگڑ جانا قابل افسوس امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیواہ کے لوگ ہمیشہ سے پرامن رہے ہیں اور مثبث سرگرمیوں کو فروغ میں پیش پیش رہے ہیں۔
مقررین کا مزید کہنا تھا کہ شیواہ کی صورتحال پر متعلقہ حکام کی خاموشی مجرمانہ فعل ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ جرگہ نے متفقہ طور پر ایک کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا جس کو جاری صورتحال پر وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطوں سمیت مستقبل کے لائحہ عمل کا اختیار حاصل ہوگا۔
پی ٹی آئی کے جمیل وزیر نے جرگہ کو یقین دہانی کرائی کہ کابل خیل قوم کے موجودہ حالات سے وزیر اعلیٰ دیگر پارٹی قائدین کو آگاہ کرنے اور مسائل کے حل کیلئے مکمل تعاون فراہم کریں گے۔
جرگہ نے واضح کیا کہ ہم پُرامن طریقے سے مسائل کے حل کو ترجیح دیتے ہیں تاہم پریس کانفرنس، احتجاج اور دیگر تمام آپشنز استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔
جرگہ ممبران نے خصوصی کمیٹی کو امن وامان کے فوری قیام اور نقل مکانی کا سلسلہ روکنے کیلئے ابھی سے مؤثر اقدامات اٹھانے کا ٹاسک دے دیا۔
جرگہ ممبران نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ، عسکری حکام اور دیگر متعلقہ حکام تحصیل شیواہ کی صورتحال کا فوری نوٹس لیکر امن کے قیام اور بحران پر قابو پانے کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں۔



