پشاور میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدہ صورتحال کو کم کرنے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے خیبرپختونخوا کے سیاسی، سماجی، علماء اور مکتبہ فکر کے لوگوں کا پشاور یونیورسٹی کے ایریا اسٹڈی سنٹر میں جرگہ  منعقد ہوا جس کا اہتمام غیر سرکاری تنظیم اسپائر (ASPIRE KP)  اور قومی اصلاحی تحریک کی جانب سے کیا گیا۔

جرگے کی میزبانی سابق چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ارباب شہزاد نے کی، جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان، سماجی شخصیات، قبائلی عمائدین، دینی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

جرگے کے شرکاء نے پاک افغان تعلقات میں بڑھتے ہوئے تناؤ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرہ قرار دیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے دبرمیان کشیدگی میں اضافہ خطے میں عدم استحکام کو ہوا دے رہا ہے، اس لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو تمام مسائل کا حل مذاکرات اور بامعنی بات چیت کے ذریعے تلاش کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ اور تصادم کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

جرگے کے شرکاء نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہر قسم کی کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ انہوں نے دونوں حکومتوں پر زور دیا کہ حالات کو معمول پر لانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں تاکہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے عوام کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔

شرکاء نے پاک افغان بارڈر کو فوری طور پر تجارت اور آمد و رفت کیلئے کھولنے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بارڈر کی بندش کے باعث کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں، جس سے ہزاروں افراد کا روزگار خطرے میں پڑ چکا ہے اور معاشی بحران میں اضافہ ہو رہا ہے۔

جرگے کے دوران اس امر پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ پاکستان اور افغانستان برادر ہمسایہ ممالک ہیں اور سرحد کے دونوں اطراف بسنے والے عوام مشترکہ دینی، ثقافتی اور سماجی اقدار کے حامل ہیں۔ مقررین کے مطابق یہ رشتے نہ صرف مضبوط بلکہ تاریخی اور اٹل ہیں، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی فطری طور پر عوام کیلئے باعثِ تشویش ہے۔

جرگے کے منتظمین کے مطابق اس نشست کا مقصد خیبر پختونخوا کے سیاسی قائدین، دینی رہنماؤں، قبائلی زعماء، سماجی عمائدین اور اہلِ دانش کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا جہاں وہ باہمی مشاورت اور اجتماعی دانش کے ذریعے کشیدگی میں کمی اور قیامِ امن کیلئے قابلِ عمل تجاویز پیش کر سکیں۔

جرگے کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی احترام کے فروغ کیلئے اس نوعیت کے مکالموں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دیرپا اور مثبت تعلقات کو فروغ دیا جا سکے۔

شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چاہے حالات جنگ کے ہوں یا امن کے، دونوں ممالک کو باہمی تجارت کو فروغ دینا چاہیے کیونکہ یہی خطے کی خوشحالی اور عوامی فلاح کا ضامن ہے۔

ریحان محمد
ٹائم لائن اردو سے وابسطہ نوجوان صحافی ریحان محمد خیبرپختونخوا سے ملکی میڈیا کے لئے کام کرتا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں