محراب شاہ آفریدی

پاکستان اس وقت ایک خاموش مگر نہایت سنگین بحران سے گزر رہا ہے، اور وہ ہے تیز رفتار آبادی میں اضافہ۔ یہ مسئلہ محض مردم شماری کے اعداد و شمار یا پالیسی دستاویزات تک محدود نہیں بلکہ براہِ راست عام انسان کی روزمرہ زندگی سے جڑا ہوا ہے۔

بڑھتی آبادی نے صحت، تعلیم، روزگار، خواتین کے حقوق، ماحولیاتی توازن اور ریاستی وسائل پر ایسا دباؤ ڈال دیا ہے جو آہستہ آہستہ ایک بڑے انسانی بحران کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ پاکستان میں ہر نیا پیدا ہونے والا بچہ ایک ایسے نظام میں شامل ہو رہا ہے جو پہلے ہی اپنی گنجائش سے زیادہ بوجھ اٹھا رہا ہے۔

قیامِ پاکستان کے وقت ملک کی آبادی تقریباً تین کروڑ تھی، جو آج بڑھ کر چوبیس کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ بلند شرحِ پیدائش، خاندانی منصوبہ بندی تک محدود رسائی، خواتین کی کم تعلیمی سطح، کم عمری کی شادیاں، غربت اور سماجی و ثقافتی غلط فہمیاں آبادی میں تیزی سے اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔ اگرچہ وقتاً فوقتاً آبادی کنٹرول سے متعلق پالیسیاں بنائی گئیں، مگر عملی سطح پر ان پر مؤثر عملدرآمد نہ ہو سکا۔

تیز رفتار آبادی میں اضافے کا سب سے گہرا اور خطرناک اثر ماں اور بچے کی صحت پر پڑ رہا ہے۔ بار بار کے حمل، بچوں کے درمیان کم وقفہ اور خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات کی کمی کے باعث لاکھوں خواتین جسمانی کمزوری، غذائی قلت اور خون کی کمی جیسے مسائل کا شکار ہو جاتی ہیں۔ دیہی اور قبائلی علاقوں میں آج بھی ایک عورت کا پانچ یا چھ بچوں کی ماں ہونا معمول سمجھا جاتا ہے، جبکہ مناسب طبی سہولیات میسر نہیں ہوتیں۔

بنیادی صحت مراکز کی کمی، لیڈی ہیلتھ ورکرز کی عدم دستیابی اور دور دراز علاقوں میں ہسپتالوں تک رسائی نہ ہونے کے باعث زچگی کے دوران پیچیدگیاں اور نوزائیدہ بچوں کی اموات عام ہیں۔ یہ صورتحال محض صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ ہے جہاں ماں کی زندگی مسلسل خطرے میں رہتی ہے۔

تعلیم کا شعبہ بھی آبادی کے دباؤ سے شدید متاثر ہو رہا ہے۔ بڑھتی آبادی کے باعث اسکولوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ بچے داخل ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ایک ہی کلاس روم میں ساٹھ سے ستر طلبہ نظر آتے ہیں۔ اساتذہ کی کمی، بنیادی سہولیات کا فقدان اور کمزور تعلیمی معیار مستقبل کی افرادی قوت کو متاثر کر رہا ہے۔ خاص طور پر دیہی اور قبائلی علاقوں میں غربت اور خاندانی دباؤ کے باعث لڑکیوں کی تعلیم سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے، جہاں کم عمری کی شادیاں عام ہیں اور تعلیم کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔

آبادی میں اضافے کے ساتھ روزگار کے مسائل بھی شدت اختیار کر رہے ہیں۔ ہر سال لاکھوں نوجوان ملازمت کی تلاش میں مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں مگر روزگار کے مواقع محدود ہیں۔ نتیجتاً بے روزگاری، کم اجرت، غیر رسمی ملازمتیں اور معاشی عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔

بہت سے نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں اندرونی یا بیرونی ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں، جبکہ کچھ جرائم، منشیات یا دیگر منفی سرگرمیوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ شہری کچی آبادیاں اس مسئلے کی واضح مثال ہیں جہاں ایک کمرے میں کئی خاندان رہنے پر مجبور ہیں۔

خواتین اس مسئلے کا مرکز بھی ہیں اور حل کی کنجی بھی۔ عالمی اور مقامی تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ جہاں خواتین تعلیم یافتہ، بااختیار اور فیصلہ سازی میں شامل ہوں وہاں آبادی میں اضافے کی شرح کم ہو جاتی ہے۔ مگر پاکستان میں تولیدی صحت پر بات کرنا آج بھی ایک سماجی taboo سمجھا جاتا ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کو اکثر عورت کی ذمہ داری قرار دے دیا جاتا ہے، جبکہ فیصلہ سازی میں مردوں کا غلبہ ہوتا ہے۔ اس عدم توازن کے باعث مسئلہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

تیز رفتار آبادی میں اضافہ ماحولیاتی بحران کو بھی جنم دے رہا ہے۔ بڑھتی آبادی کے ساتھ پانی کی قلت، زرعی زمین میں کمی، جنگلات کی کٹائی، آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ تمام مسائل براہِ راست انسانی صحت اور معیارِ زندگی کو متاثر کرتے ہیں، خاص طور پر غریب طبقہ ان اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔

اگرچہ ریاستی سطح پر آبادی کنٹرول سے متعلق پالیسیاں اور پروگرام موجود ہیں، مگر ان پر عملدرآمد کمزور ہے۔ سیاسی ترجیحات میں آبادی کے مسئلے کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کا یہ متقاضی ہے۔ اس صورتحال میں میڈیا، سول سوسائٹی اور مذہبی و سماجی رہنماؤں کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ آبادی کے مسئلے کو محض اعداد و شمار کے بجائے انسانی کہانیوں کے ذریعے پیش کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

نتیجتاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ تیز رفتار آبادی میں اضافہ پاکستان کے لیے محض ایک سماجی یا معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت انسانی بحران ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے خواتین کی تعلیم اور بااختیاری، خاندانی منصوبہ بندی کی مؤثر سہولیات، صحت و تعلیم پر سرمایہ کاری، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع اور میڈیا کے ذریعے آگاہی ناگزیر ہے۔ اگر آج سنجیدہ اور عملی اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلوں کو اس بحران کی کہیں زیادہ بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

ٹائم لائن اردو ٹیم
ٹائم لائن اردو کے رپورٹرز، صحافی، اور مصنفین پر مشتمل ٹیم

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں