
دریائے ماندل اور دریائے ماموند کے وسط میں خشکی میں تاریخی کوہ مور پہاڑی کے دامن میں واقع صدیوں پرانا آباد فصیلی شہر خار باجوڑ جس کے صحیح تاریخ کے بارے میں کسی کو پتہ نہیں ہے اب فصیلی یعنی دیواروں کا شہر نہیں رہا ۔ اب یہ دیواروں سے نکل کر وسیع اراضی پر پھیلا ہوا شہر ہے۔ ضلع باجوڑ میں تین دنوں کے گہرے بادل اور بارش کے بعد آسمان صاف ہے اور دھوپ نکل کر اپنے کرنیں شہر کے چاروں طرف بکھیر رہا ہے۔ باجوڑ کے کونے کونے سے لوگ خار بازار کے طرف آرہے ہیں جس میں ہر عمر کے لوگ شامل ہیں۔ شہداء چوک سے چار سڑکیں منڈا۔ نواگئی۔سول کالونی اور پرانا بازار کو جاتی ہے ۔
سردیوں کا موسم ہے دسمبر کا مہینہ اور دوپہرکا وقت ہے ۔ لوگوں گرم چادروں اور کوٹ میں ملبوس اپنے اپنے ضرورت کے اشیاء خریدنے میں مصروف ہے جسمین ہر عمر کے لوگ شامل ہیں ۔ خار بازار میں ہر طرح کا کاروبار ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلی آئی ہے۔ایک تنگ گلی سے میں شنگس مارکیٹ کو داخل ہو رہا تھا تو وہاں پر بہت رش دیکھنے کو ملا اس تنگ گلی میں دونوں طرف کاسمیٹیک اور ہوزری کے دوکانیں ہیں اور باجوڑ کے مشہور حاجی شامت نسوار جو نہ صرف باجوڑ میں مشہورہے بلکہ خلیجی ممالک اور حتی ٰ کہ یورپ کو بھی برآمد کئے جاتے ہیں۔ حاجی شامت کے دوکان میں تین بندے نسوار تیار کرنے میں مصروف ہے۔
اس سے ہوتے ہوئے میں مارکیٹ میں داخل ہوا تو میرے نظر خچروں کے زیبائش و آرائش اور ثقافتی اشیاء کے دو دوکانوں پر پڑی جس کا اب وہ پرانی رونق نہیں ہے۔ کیونکہ وہاں پر پہلے درجن سے زیادہ دوکانیں تھے لیکن اب صرف دو باقی رہ گئے ہیں ۔ اس مارکیٹ میں پہلے اس کاروبار کے زیادہ دوکانوں اور کاروبار کے وجہ سے یہ مارکیٹ خچروں کا مارکیٹ کہا جاتا تھا (ہاہاہاہا) یہاں سے گدھوں اور خچروں پر مال بھی دوسروں علاقوں کومنتقل کیا جاتاتھا لیکن اب اس مارکیٹ کا نام تبدیل ہوچکا ہے اور اس کو شینگس مارکیٹ کہا جاتاہے جو باجوڑ میں ا یک پہاڑ کا نام ہے اور وہاں پر نواب آف خار اور دیر نواب کے درمیان ایک تاریخی جنگ ہوئی تھی۔ اس مارکیٹ میں اب یہ دونوں دوکاندار اپنے کاروبار کے بقا کے جنگ لڑ رہے ہیں۔
پرانے شہر کے فصیل کے ساتھ ہی خلجی خاندان کے خلجی حجرہ ہوٹل ہے جس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں زیادتر بزرگ لوگ چارپائی پرموجود ہے جو گرم گرم چائے کے ساتھ گروپ چٹ (گپ شپ ) میں مصروف ہیں ۔ اس جدید دور میں یہ خار بازار میں واحد اور سستی تفریح ہے بزرگ لوگوں کے لئے ۔ یہ ہوٹل صبح سے لیکر رات گئے تک کھلا رہتا ہے اور اس میں یہ عمل جاری رہتا ہے۔
خار بازار میں خواتین نظر نہیں آرہی اس کی ایک وجہ قبائلی روایت ہے لیکن ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ خواتین کے ضرورت کے چیزیں اب خواتین کے ہی دوکانوں میں دستیاب ہو تے ہیں جو خواتین نے اپنے گھروں میں بنائے ہے۔ جس میں کاسمیٹک کپڑوں کے نت نئے ڈیزائین و آرائش کے سامان شامل ہیں اور اس کا کاروبار خوب چل رہا ہے۔ جس کی حوصلہ اٖفزائی اس کے مرد بھی کر رہے ہیں۔
خار بازار کے متصل سکولوں سے بچے چھٹی ہو گئے ہیں لیکن کچھ سڑک کے کنارے گھروں کو جاتے ہوئے نظر آرہے ہیں انہوں نے اپنے منہ کو کپڑے سے بنے ہومختلف رنگوں کے ماسک لگا ئے ہیں جو وہ آلودگی سے بچنے کے لئے کم اور فیشن کے لئے زیادہ استعمال کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ زیاد ترہ بچے اس کے فروخت کے کاروبار سے بھی وابستہ ہو گئے ہے۔ خار بازار میں نہ صرف باجوڑ کے مقامی لوگو کاروبار کررہے ہیں بلکہ ملک دوسرے علاقوں کے لوگ بھی یہاں پر مختلف کاروباروں سے وابستہ ہیں۔
خار بازار ضلع باجوڑ کا مرکزی شہر ہونے کی وجہ سے یہاں پر تمام بنکوں نے اپنے برانچ قائم کئے ہیں جس میں زیادہ تر نے اے ٹی ایم مشینیں بھی نصب کئے ہیں لیکن کبھی کبھی وہ اکھٹے خراب ہوتے ہیں جس سے لوگوں کو کیش نکالنے میں مشکلات درپیش ہوتی ہے۔ اگر چہ باجوڑ کے لوگ بہت مہمان نواز ہے اور مہمانوں کے لئے ان کے حجروں کے دروازے ہر وقت کھلے رہتے ہیں ۔ تاہم خار باجوڑ میںبا ہر کے مہمانوں کے ٹھہرنے کے لئے اچھے ہوٹل موجود ہیں جو سستی ریٹ پر تمام سہولیات فراہم کررہی ہے۔ اس لئے باہر کے مہمانوں کے اس ھوالے سے تشویش کی ضرورت نہیں ہے
بازار میں رکشہ اور ہر طرح کے گاڑیوں کے ہر طرف بھر مار ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک جام کا مستقل مسئلہ رہتا ہے۔ خار بازار میں نئے نئے مارکیٹس بنے ہیں لیکن کار پارکینگ کے لئے کوئی بندوبست نہیں ہے۔
خاربازار میں گاڑیوں کے چھوٹے بڑے بارگین ہیں ۔ نان کسٹم پید گاڑیوں کے کئی ماڈلز ہیں جسمیں غواگئی موٹرکاربہت مشہور ہوا ہے جو لوکل سواریوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ غواگئی موٹر کار کے نام کے پیچھے ایک الگ کہانی ہے کہ اس کو کیوں غواگئی موٹر کہا جاتا ہے لیکن اب شام ڈھل چکی ہے اسلئے غواگئی کا قصہ پھر کبھی اب میں اسی غواگئی میں بیٹھ کر گھر کے طرف روانہ ہوتاہوں ۔



