
قبائلی ضلع باجوڑ کے تحصیل خار کے گاؤں ڈیلے باجوڑ کے پیچاسی سالہ ملک ہارون خان نے اپنے جوانی کے دور کے کچھ واقعات بیان کرتے ہوئے کہا کہ باجوڑ میں پہلے قدرتی جنگلات، صحرائی علاقے اور کھائیاں بہت زیادہ تھے ۔ جس کی وجہ سے یہاں پر ہرقسم کے جنگلی حیات جن میں چیتے،بھیڑیاں،گیڈر،ریچھ، ساہی ( شکونڑ)، بندر، خرگوش اور مختلف قسم کے پرندے وغیرہ بکثرت موجود ہوتے تھے۔
ہارون خان بتاتے ہیں کہ اس کے گاؤں میں بالو بہت زیادہ ہوتے تھے اور ہم اکیلے کھیتوں ، پہاڑوں اور دوسرے آبادی سے دورجگہوں پر نہیں جاسکتے تھے۔کیونکہ ہمیں ان جانوروں کے حملے کا خوف رہتا تھا۔ ایک دن ہمارے گاؤں میں بالو نے ایک بچے پر حملہ کردیا تھا اور اس کو شدید زخمی کیاتھا ۔اس کے بعد اس کے گاؤں والوں نے ایک بالو کو مارا بھی تھا۔ اسی طرح اس نے اپنے ایک دوست کا واقعہ بھی سنایا کہ اس کا وادی ارنگ باجوڑ میں ایک چیتے کے ساتھ راستے میں آمنا سامنا ہوا تھا وہ اس چیتے سے ڈر گیا تھا لیکن پھر اس نے اس چیتے کو اللہ تعالی کا واسطے دیا تھا جس پر چیتا راستے سے ہٹ گیا تھا اور اس کو راستہ دیا تھا۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہاں پر چیتے بھی زیادہ تعداد میں موجود تھے۔
ماہرین جنگلی حیات کے مطابق جنگلی حیات سے مراد جنگل کی زندگی یعنی جنگلات میں رہنے والی زندہ مخلوق ہے جس کو گھر میں نہیں پالا جاتا ۔لیکن موجودہ وقت میں یہ اصطلاح صرف جنگل میں رہنے والے زندہ مخلوق کے لئے استعمال نہیں ہوتی بلکہ اس میں صحرائی علاقوں میں رہنے والے انسانوں کے علاوہ زندہ مخلوق بھی شامل ہیں۔ جس طرح عمارت یا ایک علاقہ اپنے مکینوں یعنی انسانوں کے وجہ سے خوبصورت ہوتی ہے اور اس کے بغیر ویران لگتی ہے اسی طرح جنگل اور صحرا بھی اپنے مکینوں کے وجہ سے خوبصورت ہوتی ہے۔
جنگلی حیات کسی ملک کے سیاحت اور خوبصورتی میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ جس ملک میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے اقدامات ہوتی ہے تو وہاں پر یہ شعبہ ترقی کی جانب گامزن ہوتاہے۔ اور اس سے حاصل ہونی والی آمدن ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو افریقہ میں کینیا، تنزانیہ،مڈعاسکر،یوگینڈا ، ایشیاء میں تھائی لینڈ،سرلنکا،ویت نام،کمبوڈیا کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک جنگلی حیات کے شعبہ سے خطیر زرمبادلہ کماتا ہے۔
پچھلےدوعشروں سے اگر ایک طرف عیر قانونی شکار نے جنگلی حیات کی زندگی اجیرن بنائی ہے۔ تو دوسری طرف جس طرح موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات نے ہر شعبہ کو متاثر کیا ہے اسی طرح اس سے جنگلی حیات بھی محفوظ نہیں ہیں۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ دنیا کے دس ممالک میں ساتویں نمبر پر ہیں جو ایک تشویشناک بات ہے۔
خیبر پختون خوا میں پائے جانے والے مختلف پرندوں کے حوالے سے محکمہ جنگلی حیات خیبر پختون خواہ کے ماہر جنگلی حیات محمد صفدر کے مطابق پاکستان کو جنگلی حیات کے تحفظ کے لحاظ سے نو حصوں میں تقسیم کیا گیاہیں۔ جس میں ساڑھے چار سو کے قریب پرندوں کے مختلف اقسام موجود ہیں۔ اس کے مطابق ضم شدہ اضلاع میں جنگلی پرندوں کے جو اقسام دستیاب ہیں اس میں، چکور،بٹیر،مرعابی،تنزرے،تارو،سیسئی اور دوسرے موسمی پرندوں کے علاوہ فالتوں پرندے جس میں کبوتروعیرہ شامل ہے۔ اسی طرح خیبر پختون خواہ کے جنوبی علاقے ڈیرہ اسماعیل خان میں جو پرندے ملتے ہیں اس میں تیتر، سیسئی، تارو، بٹیر، تلور اور مرعابی شامل ہیں۔
اسی طرح شمالی حصے میں چار قسم کے پرندے ملتے ہیں جس میں منال کے ساتھ ساتھ جنگلی مرغ تین رنگوں میں ملتے ہیں۔لیکن عیر قانونی شکار کے وجہ سے ان میں سے جنگلی مرغ کی ایک قسم بلکل ناپید ہوا ہے۔ اور جو موجود ہیں تو اس میں وقت کے ساتھ ساتھ کمی آئی ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے قبائلی اور خیبر پختون خواہ کے علاقوں میں مختلف ممالک یعنی وسطی ایشیائی ریاستوں سے جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، کرم کے سپین غر خیبر کے تیراہ اور مہمند اور باجوڑ کو کنڑ سے قبائلی علاقوں کے راستے سردیوں کے موسم میں لاکھوں کی تعدا دمیں پرندے اور مرغابیاں ہمارے ملک میں آتے تھے لیکن اب اس میں شکاریوں کے طرف سے شکار کے لئے نت نئے طریقوں کا استعمال اور موسمیاتی تبدیلی کے وجہ سے بھی نمایا ں کمی آئی ہے اور وہ چند ہزار تک محدود ہو گئی ہے۔
ضلع باجوڑ کے گاؤں خزانہ کے اٹھاون سالہ عبدالروف خان عر ف ملتانے بابا نے بتایا کہ وہ آڑتھالیس سالوں سے بٹیربازی کا شوق کر رہے ہے کیونکہ وہ دس سال کا تھا کہ اس کے بزرگ بٹیر بازی کا شوق کرتے تھے اور خار باجوڑ میں ایک بڑا میلہ بٹیروں کا لگتا تھا جس میں بٹیروں کا جنگ ہوا کرتا تھا اور ا سی سے اس کو بٹیر بازی کا شوق پیدا ہوا۔ وہ کہتے ہے کہ پچھلے دس پندرہ سالو ں سے بٹیروں کی آبادی میں بہت زیادہ کمی آئی ہے کیونکہ دس سال پہلے وہ ہر سیزیعنی بہار کے موسم میں شکار کے دوران تین سو تک بٹیروں کو پکڑتے تھے اور اسی طرح ہر شکاری پکڑتے تھے لیکن پچھلے سال اس نے صرف دو بٹیروں کوپکڑلیاتھا جس سے صاف ظاہر ہے کہ باجوڑ اب بٹیروں کا مسکن نہیں رہا۔
ملتانے بابا نے کہا کہ اب شکاری بھی نت نئے طریقے شکار کے لئے استعمال کرتے ہیں جس سے بٹیروں کی نسل کشی ہورہی ہے پہلے وہ سادہ جال سے شکار کرتے تھے لیکن اب اس کے شکار کے لئے ایک خاص جال کی پٹی استعمال ہو تی ہے اور ساتھ میں ٹیپ ریکارڈر میں اس کے آوازں والی کیسٹ لگائی جاتی ہے جس سے وہ اس کے طرف آتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کے آبادی میں اضافہ اور صحرائی رقبے کی کمی جسے عوامل کے وجہ سے بھی اس کے افزائش اوررہن سہن میں مشکلات آرہی ہے جس کے وجہ سے بٹیروں نے دوسرے علاقوں کا رخ کیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے شوق کے تکمیل کے لئے اب بازار میں بٹیر خرید تے ہیں اور ایک اچھی بٹیر کی قیمت بانچ ہزار سے لیکر لاکھوں روپے تک ہیں جو ایک عام آدمی کی بس کی بات نہیں اس لئے اب اس کے شوقین بھی دن بدن کم ہو تے جارہے ہیں اور گنتی کے رہ گئے ہیں۔
جنگلی حیات کے حوالے سے پچتر سالہ محم مظفر خان المغروف پاچہ لالا نے سن سترعشرے کے اپنے ساتھ پیش آنے والے ایک واقع کو ہمارے ساتھ شریک کرتے ہوئے کہا کہ وہ باجوڑ کے وادی چارمنگ جو ایک پہاڑی علاقہ ہے میں وہ اپنے رشتہ داروں کے ہاں گیا تھا تو وہاں پر بڑے بڑے باز (گدھ )تھے جس کو مقامی لوگ قجیر باز کہتے تھے جس کوکچھ لوگ گدھ کہتے ہیں تو اسکو پکڑنے کے لئے میں ایک کھیت کے کنارے گھاس میں چھپ گیا جب وہ میرے پاس بیٹھ گیا تو میں نے اس کو دونوں پاؤں سے پکڑلیا ۔لیکن وہ گدھ اتنا طاقتور تھا کہ اس نے مجھ کو اپنے ساتھ دوسرے کھیت تک لے گیا اور میں اس کو قابو کرنے میں ناکام ہوا اگر چہ وہ اس وقت نوجوان اور طاقتور تھا ۔ لیکن پھر بھی اس نے مجھ سے اپنے اپ کو آزاد کیا۔ اس نے کہا کہ اس واقعہ بیان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس زمانے میں بڑے بڑے گدھ اور بازہوتے تھے لیکن اب آبادی میں اضافے اور موسمو ں میں تبدیلی کی وجہ سے وہ بلکل ناپید ہو گئے ہیں۔
جنگلی حیات کے آبادی یعنی تعداد معلوم کرنے کے لئے محکمہ جنگلات باجوڑ نے ایک سروے 2016ء کوضلع باجوڑ کے جنوب مشرق میں وادی ارنگ میں کیا تھا جسمیں جو اعداد و شمار سامنے آیا تھا اس کو مندرجہ زیل ٹیبلوں میں ظاہر کیا گیا ہے۔
ٹیبل نمبر 1: وادی ارنگ میں چکور کی تعداد
| جنگلی حیات کا نام | جگہ کا نام | ریکارڈ شدہ تعداد |
| چکور | زولم | 30 |
| چکور | میر خان | 5 |
| چکور | میروس | 7 |
| چکور | تنگی | 3 |
| چکور | چورے | 15 |
| چکور | کوچک | 12 |
| چکور | باع سر | 10 |
| چکور | باڈو سر | 15 |
| کل تعداد (Total) | 97 |
ٹیبل نمبر 2: وادی ارنگ میں سیاہ تیتر (Black Partridge) کی تعداد
| جنگلی حیات کا نام | جگہ کا نام | ریکارڈ شدہ تعداد |
| سیاہ تیتر | زولم | 8 |
| سیاہ تیتر | میر خان | 4 |
| سیاہ تیتر | تنگی | 3 |
| کل تعداد (Total) | 15 |
ٹیبل نمبر 4: وادی ارنگ میں جنگلی مرغوں کی تعداد
| جنگلی حیات کا نام | جگہ کا نام | ریکارڈ شدہ تعداد |
| خلیجی مرغ (Khalij Pheasant) | سیری سر | 3 |
| کل تعداد (Total) | 3 |
ٹیبل نمبر 5: باجوڑ کے تالابوں، آب گاہوں،نشیبی علاقوں میں مرغابیاں و دیگر پرندے
| جنگلی حیات کا نام | جگہ کا نام | ریکارڈ شدہ تعداد |
| بطخ (Ducks) | زولم ارنگے | 7 |
| بگلا (Egret) | زولم ارنگے | 3 |
| مرغابی (Coot) | زولم ارنگے | 2 |
| فاختہ (Dove) | زولم ارنگے | 9 |
| کل تعداد (Total) | 21 |
ٹیبل نمبر 6: وادی ارنگ میں بندروں کی تعداد
| جنگلی حیات کا نام | جگہ کا نام | ریکارڈ شدہ تعداد |
| بندر (Monkey) | سیری سیر | 20 |
| بندر (Monkey) | سرکئی سیر | 5 |
| بندر (Monkey) | کنڈاؤ | 2 |
| بندر (Monkey) | نختر | 7 |
| بندر (Monkey) | گورن | 4 |
| کل تعداد (Total) | 38 |
ٹیبل نمبر 7: وادی ارنگ میں ہرن کی تعداد
| جنگلی حیات کا نام | جگہ کا نام | ریکارڈ شدہ تعداد |
| ہرن (Deer) | کوچک | 2 |
| کل تعداد (Total) | 2 |
ٹیبلوں میں ظاہر شدہ جنگلی حیات کے علاوہ وادی ارنگ میں مقامی بزرگ لوگوں کے مطابق سن ساٹھ اور ستر کے دہائیوں میں یہاں پر مارخور اور برفانی بھیڑیا زیادہ تعداد میں موجود تھے اور بھیڑیوں کے وجہ سے لوگ اپنے مویشیوں کو پہاڑوں میں چھرانے سے کتراتے تھے ۔ لیکن پھر کچھ لوگ اس کومارتے تھے تاکہ اپنے مویشیوں کو محفوظ کر سکیں۔ اس کے ساتھ آبادی میں اضافے کے وجہ سے جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور موسمی شدت سے وہ آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو گئے جو اب بالکل ناپید ہے۔
وادی ارنگ کے گاؤں باغ کے رہائشیوں نے بتایا کہ سیری سر کے جنگل میں انہوں نےسن 1998ء میں خود برفانی چیتا دیکھا تھا جو پہاڑ سے نیچے میدانی علاقہ تک آیا تھاکیونکہ اسی سال زیادہ برف باری ہوئی تھی جس سے یہ بات ظاہر ہو رہی ہے کہ وادی ارنگ جنگلی حیات کا مستقل مسکن رہا تھا۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ اب نہ وہاں پر اسی طرح جنگلات باقی ہے اور نہ پہلے کی طرح برف باری ہوتی ہے۔
ملک ہارون نے مزید یہ بھی بتایا کہ اس کے ایک دوست نے باجوڑ کے بلند ترین اور مشہور تاریخی پہاڑ کیمور میں ایک باز پکڑا تھا جس کو پھر 1300روپے پر اس وقت فروخت کیا تھا جو ایک بڑی رقم تھی۔لیکن آبادی میں اضافہ کے وجہ سے اور ندیوں کے خشک ہونے سے اب یہ جانور ختم ہو گئے ہیں۔
جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے محکمہ وائلڈ لائف باجوڑ نے مختلف پرگراموں پر کام شروع کیا ہے۔ وائلڈ لائف باجوڑ کے سوشل ارگنائزر محمد طیب کے بقول عام لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کے لئے انہوں نے باجوڑ میں لوکل کمیونٹی کے تین کمیٹیاں تحصیل ماموند، تحصیل ارنگ اور تحصیل سلارزئی میں بنائیں ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ سکولوں کے طلباء،اساتذہ اور علاقے کے عمائدین کوجنگلی حیات کے تحفظ کے بارے میں تربیت دی ہے، ان تمام اقدامات کا مقصد جنگلی حیات کا تحفظ کرنا اور اس شعبہ کو ترقی دینا ہے۔
کیونکہ یہ نہ صرف ملک کے خوبصورتی ہے بلکہ اس سے معقول زرمبادلہ بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تما م امور پر انہوں نے مقامی لوگوں کو آگاہی دی ہے اور اس کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور وہ لوگ اس کو اپنے علاقے کے بارے میں وقتافوقتا اگاہ کرتے ہیں۔ تین مہینے پہلے باجوڑ میں کیمور کے پہاڑ میں ایک گرے ہرن مقامی آبادی میں آیا تھا جس کو لوگوں نے پکرا تھا ، ہمیں اظلاؑ ملی تو ہم نے ان کو ریسکیو کیا ۔ جس سے یہ بات طاہر ہوتی ہے کہ مقامی لوگوں میں اب یہ شعور پیدا ہوا ہے کہ جنگلی حیات کا تحفظ ان کے علاقے کے خوبصورتی کے لئے کتنا ضروری ہے۔
محکمہ جنگلات فاٹا ( موجودہ ضم شدہ اضلاع ) نے 2012میں میں ایک پرگرام شروع کیا تھا جس کے تحت فاٹا میں جنگلی حیات کے ترقی کے لئے کچھ اقدامات کئے گئے ہیں جس کے تحت باجوڑ،مہمند اور کرم اضلاع میں فیزنٹریزیعنی پرندوں کے افزائش کے مراکز بنائے تھے۔
چار سال پہلے باجوڑ کے فیزنٹری سے تمام اقسام کے پرندوں کو دوسری جگہ منقل کئے تھے جس پر باجوڑ کے عوام نے مایوسی کا اظہار کیا تھا اور اس کو دوبارہ باجوڑ فیزنٹری لانے کا مطالبہ کیا تھا ۔ جس کے بعد پچھلے سال چند پرندوں کو واپس لایا گیا ہے لیکن اب بھی فیزنٹری کو مکمل طور پر بحال نہیں کیا گیا ہے۔
باجوڑ سے تعلق رکھنے والے نوجوان زوالوجسٹ امداد خان کے مطابق باجوڑ میں جنگلی حیات کی مقامی نسلوں میں زیادہ تر معدوم یعنی ختم ہوچکے ہیں ۔ ان معدوم ہونے والے جنگلی حیات میں جانوروں کے نسلوں میں جنگلی بلی، ریت خرگوش ، ریسس منکی، کالی ریچھ، کامن لیپرڈ مکمل ناپید ہوچکے ہیں ۔ اسی طرح پرندوں میں گدھ کی نسل ختم ہوچکی ہے ۔
باجوڑ میں خطرے سے دو چار خطرے سے دوچار جانور میں سسی، لومڑی، گیدڑ، بندر، جنگلی خرگوش، ،چیتا شامل ہیں جبکہ پرندوں میں بٹیر ، ہدہد، جنگلی مرغ ، چڑیا سمیت دیگر کئی پرندے شامل ہیں۔ اس جنگلی حیات کے بچانے کے لئے نہ صرف حکومتی سطح پر بلکہ عوامی سطح پر ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا چاہیں کیونکہ اگر اس کو اب بھی محفوظ نہیں کیا تو اس سے بائیو ڈایورسٹی کو بہت نقصان پہنچ جائے گا جس کا ازالہ پھر کسی بھی صورت ممکن نہیں ہوگا۔
طیب نے مزید کہا کہ باجوڑ کے وادی برنگ، وادی ماموند اور سلارزئی میں میں کئی مقامات کی نشاندہی کی ہے جو جنگلی حیات کے افزائش کے لئے موزوں ہے اور وہاں پر ہر قسم کے شکار کو ممنوع قرار دیا ہے۔ تاکہ جنگلی حیات کو ایک محفوظ جگہ کے ساتھ ایک معتدل ماحول بھی فراہم ہو تاکہ انہیں اپنے نسل بڑھانے میں آسانی ہو۔



