
حسین خان آفریدی
ضلع خیبر کے بلند و بالا پہاڑوں کے دامن میں واقع وادی تیراہ کبھی اپنی زرخیزی، خوبصورتی اور قبائلی روایات کے لیے مشہور تھی،مگر اب یہ وادی ایک بار پھر بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔ گولیوں کی سنسناہٹ نے یہاں کے باسیوں کو خوف کے سائے میں دھکیل دیا ہے۔ جہاں کاروبارِ زندگی ٹھپ ہوا ہے وہیں سب سے زیادہ ضرب تعلیم کو لگی ہے۔محکمہ تعلیم ضلع خیبر کے اعداد و شمار کے مطابق وادی تیراہ میں 15 سرکاری تعلیمی ادارے موجود ہیں، جن میں 12 پرائمری، 2 مڈل اور ایک ہائی سکول شامل ہیں۔ ان میں کل 3772 بچے زیرِ تعلیم ہیں جنہیں صرف 35 اساتذہ پڑھا رہے ہیں۔وادی تیراہ میں لڑکیوں کا ایک مڈل اسکول زنجیر کلے (لرباغ) میں تقریباً 250 طالبات پڑھتی ہیں، مگر بدامنی نے یہاں بھی حاضری نہ ہونے کے برابر کر دی ہے۔
سب ڈویژن ایجوکیشن آفیسر ڈاکٹر شیر زمان آفریدی کے مطابق سرکاری سکول کھلے ہیں لیکن بچوں کی حاضری میں نمایاں کمی آئی ہے۔ زیادہ تر بچے اپنے والدین کے ساتھ علاقہ چھوڑ کر باڑہ یا پشاور منتقل ہو چکے ہیں۔
وادی تیراہ میں 21 نجی تعلیمی ادارے بھی کام کر رہے ہیں، جن میں تقریباً 10 ہزار سے زائد بچے پڑھتے ہیں۔ لیکن فائرنگ اور دھماکوں کے خوف نے بچوں کو سکول جانے سے روک دیا ہے۔ نجی سکول مالکان کے مطابق 67 فیصد سے زائد طلباء سکول نہیں جا رہے۔نور محمد آفریدی، ایک پرائیویٹ سکول کے مالک بتاتے ہیں کہ ہمارا ایک سکول بدامنی کی وجہ سے بند ہو گیا ہے، باقی کھلے ہیں مگر بچوں کی غیر حاضری شرح خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ اگر حالات مزید خراب ہوئے تو ہمیں بھی سکول بند کرنا پڑیں گے۔
بچوں کے والدین خوف اور مجبوری کے بیچ کچلے جا رہے ہیں۔ ایک والد بتاتے ہیں کہ میرا بیٹا ہر دھماکے کے بعد کانپ اٹھتا ہے، اب سکول جانے سے بھی ڈرتا ہے۔یک 13 سالہ طالبہ، جو ڈاکٹر بننے کا خواب رکھتی ہے، نم آنکھوں سے کہتی ہے۔اگر سکول بند ہوا تو میرا خواب بھی دفن ہو جائے گا۔
پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن باڑہ کے صدر گل ولی آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ اگر تیراہ میں حالات مزید خراب ہوئے تو باڑہ کے 95 پرائیویٹ سکولز ان طلباء کو مفت تعلیم فراہم کریں گے۔ "ہم نے پہلے بھی تیراہ آپریشن کے وقت بچوں کو میٹرک اور انٹر تک مفت پڑھایا تھا، اب بھی ایسا کریں گے۔ ہمارے لیے بچوں کی تعلیم سب سے اہم ہے”۔
یہ اقدام وقتی ریلیف ضرور ہے، مگر سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ آخر کب تک وادی تیراہ کے بچے دربدر ہوتے رہیں گے؟آل قبائلی اضلاع گورنمنٹ ایمپلائز ایسوسی ایشن کے صدر نصیر شاہ آفریدی نے اساتذہ اور طلباء کے تحفظ کے لیے تحریری درخواست دی ہے، مگر محکمہ تعلیم کے مطابق یہ درخواست متعلقہ اداروں کو بھیج دی گئی ہے اور کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ضلعی انتظامیہ کی صورتحال اس سے بھی زیادہ مایوس کن ہے۔ ڈپٹی کمشنر خیبر نہ صرف وادی تیراہ سے باہر ہیں بلکہ پشاور میں سخت سیکورٹی کے حصار میں بیٹھے ہیں۔ وہ طلباء کو درپیش خطرات سے بخوبی آگاہ ہیں مگر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم (UNESCO) کے مطابق دنیا بھر میں تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ افغانستان، شام، یمن، عراق اور نائجیریا کی طرح خیبر کے قبائلی علاقے بھی اسی المیے کی گرفت میں ہیں۔دہشت گردی کے خلاف پہلے فوجی اپریشن خیبر ون میں ستمبر 2009 میں کالعدم تنظیم لشکر اسلام کے خلاف تحصیل باڑہ میں کے دوران سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچا تھا۔
آپریشن کے خاتمے کے بعد 2015 میں دیگر اداروں کے ساتھ محکمہ تعلیم نے ضلعی انتظامیہ اور سکیورٹی فورسز کے تعاون سے سروے کا آعاز کیا جس میں معلوم ہوا کہ علاقے میں کل 158 سکولوں کو بارودی مواد سے نقصان پہنچایا گیا جن میں 63 کو جزوی نقصان جبکہ 95 سکول مکمل طور پر تباہ ہوگئے تھے۔مزید چھ سکول جو مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں لیکن سروے ٹیم کی رسائی سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ممکن نہیں ہوئی۔
عالمی رپورٹس کے مطابق تنازعات میں سب سے پہلے لڑکیوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے، اور طویل مدتی اثر یہ ہوتا ہے کہ پورا معاشرہ ناخواندگی اور غربت کے دائرے میں پھنس جاتا ہے۔
پاکستان اور چین کے درمیان نو اگست 2018 کو معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت 50 سکولوں کی تعمیر نو کے لیے مالی معاونت کا وعدہ کیا گیا تھا چین کی حکومت کی طرف بروقت فنڈز کی فراہمی کی گئی لیکن اس وقت کی مسلم لیگ ن کی مرکزی حکومت فنڈز کو صوبائی حکومت کے حوالے کرنے کے لیے تیار نہیں جس کی وجہ سے زیر تعلیم سکولوں کا تاخیر کا شکار ہوچکا ہے۔ مزکورہ منصوبے تحت کئی سکولوں کے نہ صرف تعمیر مکمل کرلی گئی بلکہ اُن میں تعلیمی سرگرمیاں بھی شروع ہوچکی ہے۔
وادی تیراہ میدان کے تعلیمی ادارے ایک ایسے وقت میں غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہیں جب پہلے ہی یہ خطہ دہشت گردی سے متاثرہ، سہولتوں کے فقدان اور غربت کی لپیٹ میں ہے۔
وادی تیراہ کے لوگ ایک بار پھر تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں یا تو ان کے بچے ہتھیاروں اور خوف کے کلچر میں کھو جائیں گے یا ریاست اور ضلعی انتظامیہ فوری اقدامات کر کے ان کے تعلیمی مستقبل کو بچا لیں گے۔
ریاست اور حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے کہ کہ امن قائم کرکے تباہ شدہ سکولوں کی تعمیر فوراً مکمل کی جائے، اساتذہ اور طلباء کو تحفظ فراہم کیا جائے، اور بچوں کو تعلیم کے بنیادی حق سے محروم نہ ہونے دیا جائے۔



