آٹھویں جماعت کے حمزہ خان کے گرمیوں کے چھٹیاں ختم ہوکر آج سکول میں اُن کا میں پہلا دن ہے تاہم اُن کا سکول، کورس، ہم جماعت ساتھی اور اساتذہ سب نئے ہیں۔ اُنہوں نے رواں سال جنوری کے اوئل میں اپنے آبائی علاقے وادی تیراہ میں ممکنہ فوجی آپریشن کے وجہ سے اپنے خاندان کے ساتھ نقل مکانی کرنے کے بعد باڑہ کھجوری کے علاقے میں رہائش پذیر ہوئیں اور گورنمٹ ہائی سکول کوھی شیرحیدر میں داخلہ لیا ہے۔ وہ خود ایک نجی سکول میں پڑھ رہا تھا لیکن نقل مکانی کے بعد معاشی مسائل بڑھنے سے اُن کے والدین کے لئے ممکن نہیں تھا کہ اُن کو نجی سکول داخل کراسکے۔

"میں تیراہ میں ایک نجی سکول میں پڑھ رہا تھا۔ وہاں پر پڑھائی بہتر تھی۔ ہم آٹھویں جماعت کا کورس ختم کرچکے تھے اور جماعت نہم کا کورس پڑھایاجارہاتھا۔ مالی مسائل کے بناء پر نجی سکول میں پڑھائی جاری رکھنا ممکن نہیں تھااوریہاں پر دوبار آٹھویں جماعت کا کورس پڑھایا جارہاہے”۔

ضلع خیبر کے دورافتادہ وادی تیراہ میں ممکنہ فوجی آپریشن کے سبب پچھلے سال نومبر میں مقامی آبادی کے نقل مکانی کا عمل شروع ہوا جبکہ بے گھر خاندانوں کے باقاعدہ رجسٹریشن کاعمل چھ جنوری سے شروع ہوئی۔

محکمہ تعلیم خیبر کے مطابق وادی تیراہ کے اُن علاقوں میں جہاں پر ممکنہ فوجی آپریشن کی وجہ سے نقل مکانی ہوئی وہاں پر سولہ لڑکوں کے سرکاری سکول تھے جن میں تین ہزار تین سو بچے زیر تعلیم تھے۔ لڑکیوں کے پانچ سکولوں میں چارسو بچیاں زیر تعلیم تھے۔ دس نجی ہائی سکولز میں پانچ ہزارطلبا ء اور طالبات پڑھ رہے تھے۔ سات نجی مڈل سکولوں میں تین ہزار طلباء اور چھ سو طالبات تھے۔ دونجی پرائمری سکولوں میں چھ سو طلباء اور تین سو طالبات تھے۔

اکتیس مارچ سے شروع ہونے والے جماعت نہم او دہم کے امتخانات میں پانچ سو طلباء اور ساٹھ طالبات حصہ لینگے۔مذکورہ اعدادوشمار کے مطابق تیرہ ہزار سے زیادہ طلباء وطالبات زیر تعلیم تھے۔ ادارے کے مطابق ابتک سولہ سوطلباء وطالبات باڑہ کے مختلف سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھائی کے لئے آچکے ہیں جبکہ اس تعداد میں اضافے کے لئے آگاہی مہم چلائی جارہی ہے۔

محمد عثمان وادی تیراہ کے علاقے ورسک کے سرکاری ہائی سکول میں جماعت نہم کا طالب علم تھا تاہم وہ اپنے دیگر آٹھ دوستوں کے ساتھ اُس وقت ڈرون حملے کا نشانہ بنے جب وہ رشتہ داروں کے ہاں شادی کے تقریب میں شریک تھے۔ واقعے میں اُن کا بائیں پاؤں ضائع ہوچکاہے۔ حال ہی میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ نقل مکانی کرچکے ہیں تاہم اکتیس مارچ سے اُن کے امتحانات شروع ہونگے تاہم اُن کو ابتک رول نمبر اور امتخانی ہال کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔اُنہوں نے بتایاکہ پچھلے ایک سال میں بدامنی کے سبب علاقے میں پڑھائی کا عمل بری طرح متاثر ہوا تھا۔
"علاقے میں مسلسل فائرنگ کے واقعات کے سبب خوف کی وجہ سے سکول میں طلباء کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہوتاتھا۔ کئی بار سکول کے صحن میں ماٹر گولے گرنے سے سکول کے کمروں کے کھڑیاں اور شیشے ٹوٹ گئے تھے۔اساتذہ بھی سکول نہیں آتے تھے۔ ہم نے بالکل بھی پڑھائی نہیں کی ہے اور اب امتخانات شروع ہونے والے ہیں "۔
محمد عثمان جیسے سینکڑوں طلباء وطالبات کے لے بڑی پریشانی اس بات کی ہے کہ بورڈ کے زیر اہتمام لی جانے والے پیپرز ان طلباء وطالبات کے معیار کے مطابق ہونگے جہاں پر طلباء وطالبات نے سال بھر بہتر طریقے سے پڑھائی کی گی ہوں۔

بدامنی اور نقل مکانی کے شکار وادی تیرا ہ کے جماعت نہم اور دہم کے طلباء وطالبات کے سہولت کے لئے بورڈ آف ایلمنٹری اینڈ سکینڈری ایجوکشن نے کیا اقدمات کی ہے؟ اس حوالے سے حکام نے بتایاکہ متاثرہ طلباء وطالبات کے لئے کوئی خاص انتظام موجود نہیں اور دیگر علاقوں میں زیر تعلیم طلباء کی طرح اُن کے امتخانات لی جائینگے۔ حکام نے بتایاکہ 2009میں سوات آپریشن اور کرونا وباء کے وقت صوبائی حکومت نے باقاعدہ طورپر اسمبلی یا کابینہ کے منظوری سے فیصلے کرکے اُن پر بورڈز نے عمل درآمد کردیا تھا جبکہ تیراہ کے حوالے سے ابتک کوئی اقدام نہیں اُٹھایا گیا ہے۔

سعید خان نے حال ہی میں وادی تیراہ سے نقل مکانی کرکے باڑہ میں کرایہ کہ گھر میں رہائش پذیر ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ تیراہ میں اُن کے چار بچے ایک نجی سکول میں زیر تعلیم تھے تاہم یہاں پر اُن کے لئے ممکن نہیں کہ اپنے بچوں کو کسی نجی سکول میں پڑھائی کے لئے بھیج دیں۔ اُنہوں نے کہاکہ ایک بڑا بیٹا جماعت نہم میں پڑھ رہا تھا جبکہ ابھی اُن کے امتخانات شروع ہونے والے ہیں لیکن اُن کے امتخانی ہال اور رولنمبرکے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔

” بیٹے نے رولنمبر سلپ کے حصول کے لئے سکول کے انتظامیہ سے رابطہ کیا تو اُن کے طرف سے جواب ملا کہ آپ کے ذمہ بیس ہزار روپے فیس بقایا ہے اور جب تک آپ فیس ادا نہیں کرتے تب تک آپ کو رولنمبر سلپ نہیں ملے گا۔ سلپ کے حصول کےلئے ہم نے دس ہزار روپے قرض لی لیکن سکول انتظامیہ نے پوری پیسے ادا کرنے کے لئے کہا۔ ایک طرف نقل مکانی اور دوسرے طرف بچوں کے پڑھائی کچھ سمجھ نہیں آرہاہے کی کیا کریں "۔

پچھلے سال بدامنی کی وجہ سے تیراہ کے چار سو سے زیادہ طلباء وطالبات کے امتحانی ہال باڑہ منتقل کردیئے گئے تھے تاہم کافی زیادہ مسائل کے ساتھ طلباء وطالبات نے امتحانات میں حصہ لیا تھا۔

اسلام گل
بانی و مدیر اعلٰی ٹائم لائن اردو، اسلام گل افریدی مختلف قومی و بین الاقوامی میڈیا اداروں کےساتھ کام کرنے والے سینئر صحافی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں