تحریر رابیہ عماد

قانون کسی بھی ملک کا ایک اہم ستون ہوتا ہے جو فرد، معاشرے اور ریاست کے درمیان تعلق کو منظم کرتا ہے۔ پاکستان میں قانون کا نظام برطانوی نوآبادیاتی دور کے قانونی ڈھانچے سے ماخوذ ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس میں کئی ترامیم اور تبدیلیاں کی گئی ہیں تاکہ یہ ملک کے اسلامی اور جمہوری تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکے۔ آئینِ پاکستان 1973 اس ملک کا بنیادی قانون ہے، جو تمام دیگر قوانین پر فوقیت رکھتا ہے اور ریاست کے ڈھانچے، اختیارات، شہریوں کے حقوق اور حکومتی اداروں کے فرائض کو واضح کرتا ہے۔

پاکستان میں قانون کا دائرہ بہت وسیع ہے جس میں فوجداری قانون، دیوانی قانون، تجارتی قانون، محنتی قانون، خاندانی قانون، اور آئینی قانون شامل ہیں۔ فوجداری قانون ان جرائم سے متعلق ہوتا ہے جن سے معاشرہ براہِ راست متاثر ہوتا ہے جیسے قتل، چوری، بدعنوانی، اور دہشت گردی۔ دیوانی قانون ان معاملات کو دیکھتا ہے جو افراد یا اداروں کے درمیان تنازعات پر مبنی ہوں، جیسے زمین، جائیداد، یا معاہدوں کی خلاف ورزی۔ اسی طرح خاندانی قانون نکاح، طلاق، وراثت اور نان نفقہ جیسے معاملات کو کنٹرول کرتا ہے۔

پاکستان کا عدالتی نظام تین سطحوں پر مشتمل ہے: ضلعی عدالتیں، ہائی کورٹس، اور سپریم کورٹ۔ ضلعی عدالتیں مقدمات کی ابتدائی سماعت کرتی ہیں، ہائی کورٹس صوبائی سطح پر اپیلوں اور آئینی درخواستوں کی سماعت کرتی ہیں، جبکہ سپریم کورٹ ملک کی سب سے اعلیٰ عدالت ہے جو آئینی تشریحات، اہم اپیلوں اور قومی نوعیت کے مقدمات پر فیصلہ سناتی ہے۔ ان عدالتوں کے علاوہ خصوصی عدالتیں بھی قائم ہیں، جیسے انسدادِ دہشت گردی عدالتیں، احتساب عدالتیں، اور فیملی کورٹس۔

اسلامی قانون (شریعت) بھی پاکستان کے قانونی نظام کا ایک اہم جزو ہے۔ آئینِ پاکستان میں یہ شق شامل ہے کہ کوئی بھی قانون اسلام کے احکامات کے خلاف نہیں ہو سکتا۔ اس مقصد کے لیے وفاقی شرعی عدالت قائم کی گئی ہے جو یہ جانچتی ہے کہ آیا کوئی قانون اسلامی اصولوں سے متصادم تو نہیں۔ اس کے علاوہ علماء اور مذہبی اسکالرز پر مشتمل کونسل بھی قوانین کے اسلامی پہلو کا جائزہ لینے کے لیے حکومت کو مشورے دیتی ہے۔

اگرچہ پاکستان میں قانونی ڈھانچہ موجود ہے، لیکن عملی سطح پر کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ عدالتی نظام میں تاخیر، مقدمات کا بوجھ، وکلا کی ہڑتالیں، اور بعض اوقات کرپشن جیسے مسائل انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ غریب اور کمزور طبقہ قانونی چارہ جوئی کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا، جس سے مساوی انصاف کا خواب ادھورا رہ جاتا ہے۔ قانونی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ عدالتیں زیادہ مؤثر، تیز اور عوام دوست بن سکیں۔

قانون صرف کتابوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا اطلاق ہر فرد پر یکساں ہونا ضروری ہے۔ ایک منصفانہ معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں قانون کی حکمرانی قائم ہو، ہر فرد کو انصاف ملے، اور ریاست اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرے۔ پاکستان میں قانون کی بہتری، تعلیم، شعور، اور مضبوط اداروں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ قانون کا احترام کرے اور اپنے حقوق اور ذمہ داریوں سے آگاہ ہو۔

ٹائم لائن اردو ٹیم
ٹائم لائن اردو کے رپورٹرز، صحافی، اور مصنفین پر مشتمل ٹیم

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں