
عثمان خان
صحت انسان کی زندگی کا بنیادی حق ہے کیونکہ جب انسان صحت مند ہوتا ہے تو وہ دوسرے کاموں میں پھر دلچسپی رکھتی ہے اور اپنے روزمرہ زندگی میں خوش بھی ہوتے ہیں یعنی صحت ایک ایسا حالت ہے جب انسان جسمانی، ذہنی اور روحانی طور پر مکمل طور پر صحت مند ہوتا ہے۔ یہ صرف بیماری نہ ہونے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا حالت ہے جب انسان اپنے زندگی کو مکمل طور پر جی سکتا ہے۔
صحت وہ آئینہ ہے جو ہمیں اپنی زندگی کی حقیقت دکھاتا ہے۔ صحت کے بغیر زندگی ناممکن ہے، کیونکہ یہ ہمیں اپنے مقاصد کو حاصل کرنے اور اپنی زندگی کو مکمل طور پر جینے کی طاقت دیتی لیکن پاکستان میں انسانی صحت ہر وقت مفلوج ہوتا ہے ہر وقت کوئی نہ کوئی مسئلہ ضرور ہوتا ہے جس کی وجہ سے انسان اپنا ذہنی اور اور جسمانی صحت سے محروم ہوتے ہیں اور جب بھی پاکستان میں صحت کی بات کی جاتی ہے تو حکومتی دعویٰ بجٹ کے اعداد و شمار اور منصوبوں تک محدود ہوتی ہے یعنی بڑے بڑے فہرستیں تیار کی جاتی ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتے ہے۔
سرکاری اسپتالوں میں لگی لمبی قطاریں اور ایک بیڈ پر دو مریض اور اگر سرکاری ہسپتال میں ادوایات کی جائے وہ بھی نہ ہونے کی برابر ہے اس سے معلوم ہوتی ہے آج بھی پاکستانی عوام کو صحت کے شدید مشکلات درپیش ہے۔
اسکی وجہ صرف پاکستان میں ہسپتالوں کی کمی نہیں بلکہ حکومت کی ترجیحات اور غلط پالیسی ہے پاکستان اپنی مجموعی پیداوار میں تقریبا ایک فیصد صحت پر خرچ کرتا ہے جو کہ ایک غریب ملک کے مقابلے میں بھی کم ہیں اور اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب ایک ملک کا صحت جیسے شعبوں کے لئے بجٹ ہی نہ ہونے کے برابر ہو یا اتنا کم مقدار میں جس پر جدید مشنری نہیں لا یا جاسکے اور تو اور عوام کو کہاں سے اتنا سہولیات دے گا جس کی عوام کو ضرورت ہوں یعنی ہسپتالوں میں جہاں ڈاکٹر موجود ہو تو وہاں دوائی ، ٹیسٹ اور ایکسرے جیسے سہولیات کی فقدان ہوتی ہے ۔
جس ملک لوگ صوبے کی حکومت سے کیا گیلہ کریں جہاں کی وفاقی حکومت صوبوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہیں کررہا جہاں انصاف نہ ہو تو وہاں عوام حکمرانوں کو بیڑ بکریوں کی طرح نظر اتے ہیں جہاں حکمران اپنے بینک بیلنس میں اضافے کے لئے لگے ہو وہاں غریب کے بہبود کے لئے کوئی بھی نہیں سوچتا۔
اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں ایک طرف آبادی بہت تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے جو کہ صحت کے شعبوں پر بڑا بوج بن رہا ہے ۔ ہر سال نئے مریض جس کی تعداد اگر لاکھوں میں بتایا جائے تو غلط نہ ہوگا اور ہمارے حکومت اسی پرانے ہسپتالوں پر گزارا کا ہی کہہ رہی ہے نہ ان کے لئے کوئی نئے مراکز بنا رہا ہے اور نہ ہی ڈاکٹر اور نرس تیار کی جاتی ہے تاکہ لوگوں کو کچھ نہ کچھ سہولیات تو میسر ہوجائے۔
ایک طرف اگر دیکھا جائے جو کہ شہر وں میں جو پرانے بڑے ہسپتال موجود تھے اب ان پر مریضوں کا رش بہت زیادہ ہوا ہے اور دیہات میں تو صحت کے مراکز نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ اگر دیہاتوں میں دیکھا جائے جہاں ہاسپٹل موجود ہو وہاں ڈاکٹر بھی موجود نہیں ہوتا اور لوگ اپنے مریضوں کو یہی ہسپتالوں کو پہنچاتے ہے جہاں پر پہلے سے لوگوں کو ایک بیڈ پر دو مریض لٹانا پڑتا ہے اور جو بھی مراکز یہاں پر موجود ہوتے ہے وہ اکثر ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے بند پڑے ہوتے ہیں۔ اور جس میں اگر موجود ہو تو وہ بھی سیاسی تعلق کی بنیاد پر بھرتی کیا ہوگا جو صحت کے حوالے نہ کوئی تجربہ ہواور نہ ان کو یہ پتہ ہوتا ہے کہ ہاسپٹل میں ایمرجنسی بنیادوں کے لئے کس چیز کی ضرورت ہوتی ہے اگر میں یہ کہوں کہ یہاں پر صرف خانہ پوری کردی گئی ہے جس کی وجہ سے یہ ہے ۔
کیونکہ جب کوئی ایمرجنسی صورتحال ہو تو مریض کو ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹر ہسپتال منتقل کردیتے ہے اکیلا ڈاکٹر کی تجربے بات نہیں لیکن دوائی نہ ہونے کی بڑی وجہ بھی ہوتی ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتی ہے کہ پاکستان میں کسی کو اپنا حق نہیں ملتا جس کی وجہ سے تجربہ کار ڈاکٹر اور نرس باہر ملکوں میں جاب تلاش کرکے باہر چلے جاتے ہیں اور سرکاری اسپتال نا تجربہ کار یا محدود عملے کے سہارے چل رہے ہیں۔
پاکستانی حکومت سے فلاحی ادارےغریب کے علاج میں اہم کردار ادا کررہے ہے جس میں جماعت اسلامی کے الخدمت تنظیم اور دوسرے شہروں اور دیہاتوں میں جو لوگوں نے اپنے مدد آپ تنظیم بناکر اور لوگوں کی بیماریوں کے علاج کا اخراجات پورا کرتے ہیں۔
گزشتہ روز ایک ڈکٹر جو کہ ایک تنظیم چلا رہے ہے اس نے فیس بک پر ایک غریب عورت کی علاج کے لئے پوسٹ کیا تھا جس کی شوہر کیساتھ علاج کے لئے پیسے نہیں ہوتے۔مزے کی بات یہ ہے کہ یہی حکومت جو سہولیات تو دے نہیں سکتے لیکن غریب لوگوں سے وہ بھی چھیننا چاہتے ہے جس پر وہ گھر کے اخراجات چلا رہے ہے – جس سے وہ اپنے بچوں کی سکول فیس گھر کا کرایہ بجلی کی بل اور اپنی بیوی کی علاج بھی کروارہی تھی۔ وہ ایک رکشے والا تھا جس سے پولیس نے شناختی کارڈ لیا تھا اور رکشہ بھی تھانے میں بند کردیا ہے اور غریب بندہ الٹا لوگوں سے دس ہزار قرض لے کر بیوی پر لگا رہے تے جو کم پڑھ گئے تھے۔
حکومتی سطح پر سب سے بڑا نقصان پالیسیوں کے عدم تسلسل سے ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی بات کی جائے جس نے صحت کارڈ جیسا پروگرام شروع کرتی ہے تو دوسری اسے ختم یا محدود کر دیتی ہے۔ کیا یہاں جو بھی اتا ہے وہ دوسرے سے اپنے آپ کو ماہر سمجھتا ہے کوئی غریب کا نہیں صرف اپنے سیاست کا سوچتا ہے اوراس سیاسی من مانی کا خمیازہ ہمیشہ عام مریض بھگتتا ہے، جس کے پاس نہ متبادل راستہ ہوتا ہے اور نہ آواز ہوتی ہے ہمیشہ غریب لوگوں پر تجربے کرکے اپنا سیاست چمکاتا ہے۔
اسکے علاوہ پاکستان میں سب سے بڑی وجہ صحت کی بحران کا یہ بھی ہے کہ یہاں حکومت بیماریوں کی روک تھام پر عدم توجہ ہوتا ہے اگر ایک مرض جتنا بھی پھیل جائے یا بڑھ جائے تو حکومت یہی نہیں سوچتی کہ ان کو کس طرح ختم کیا جائے بس صرف عارضی علاج یا دوسرے ملکوں کی دوائی یا ویکسین کے انحصار پر انتظار میں ہوتے ہے اور یہ لوگ صرف ایمپورٹ کرکے بڑے پیمانے پر ان میں کرپشن کیا جائے۔یعنی جب روک تھام پر سرمایہ کاری نہ ہو تو اسپتال خود بخود مریضوں سے بھر جاتا ہے۔
یہ بات بھی تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں سرکاری ہسپتالوں میں اگر علاج نہیں تو نجی اسپتالوں میں علاج بھی غریب آدمی کی پہنچ سے بہت دور ہوتی ہے یعنی سرکاری نظام کمزور اور نجی نظام مہنگا ہو تو غریب کے لئے یہ بیماری صرف تکلیف نہیں بلکہ سزا بھی بن جاتی ہے۔ نجی اسپتالوں میں ڈاکٹر مسیحا کی جگہ فرعون بن کے صرف غریب عوام کو فیسوں یا مہنگا دوائیوں پر اتنا لوٹ رہے ہیں پیسے نہ ہونے کی وجہ سے یا تو علاج چھوڑ جاتے ہیں یا خودکشی کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ صحت کو محض سیاسی نعرہ بازی نہیں بلکہ قوم کی ترجیح بنایا جائےاور صحت کے بجٹ میں سنجیدہ اضافہ، بنیادی صحت مراکز کی بحالی، ڈاکٹروں کے لیے بہتر سہولیات، اور پالیسیوں کا تسلسل ہی اس بحران سے نکلنے کا واحد راستہ ہے اگر حقیقت یہی ہے کہ صحت مند قوم کے بغیر ترقی یافتہ پاکستان کا خواب محض ایک فریب رہے گا جو پاکستان میں ہورہے ہیں۔



