
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے 16 جولائی 2025 کو ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ زیارات مقدسہ کے لیے عراق، شام اور ایران جانے والے تقریباً 40 ہزار پاکستانی زائرین یا تو وہاں رک گئے یا لاپتہ ہو گئے جن کا کوئی ریکارڈ حکومتی اداروں کے پاس موجود نہیں تھا۔
اس سنگین صورتحال کے پیش نظر حکومت نے روایتی "سالار سسٹم” کو ختم کر دیا ہے اور اب صرف رجسٹرڈ اور اہل کمپنیوں کو زیارت گروپ آرگنائزرز (ZGOs) کا سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔
سردار یوسف کے مطابق، زائرین کی محفوظ اور منظم روانگی کے لیے ایک نیا کمپیوٹرائزڈ نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے تحت تمام کمپنیوں سے سیکیورٹی رقم، سفری انتظامات، اور دیگر شرائط پر عمل درآمد ضروری ہوگا۔
جب صحافی نے سوال کیا کہ کم آمدنی رکھنے والے سالار یا چھوٹی کمپنیاں بھاری سیکیورٹی رقم (10 لاکھ روپے) کیسے جمع کروائیں گی، تو وزیر نے وضاحت کی کہ تمام پرانی اور نئی کمپنیوں کو درخواست دینے کی اجازت ہے، لیکن اجازت صرف انہیں دی جائے گی جو معیار پر پورا اتریں گے تاکہ زائرین کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
حج کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اس سال نجی اسکیم کے 63 ہزار عازمین مکمل ادائیگیاں نہ ہونے کی وجہ سے حج پر روانہ نہ ہو سکے، لیکن آئندہ کسی بھی شخص نے اگر وقت پر رقم جمع کروائی ہو تو وہ ضرور حجاز مقدس روانہ ہوگا، چاہے وہ سرکاری اسکیم سے ہو یا نجی سے۔
سردار یوسف نے مزید بتایا کہ 2026 کے لیے حج کی 4 لاکھ 56 ہزار درخواستیں جمع ہو چکی ہیں جبکہ پاکستان کا سرکاری کوٹہ صرف 1 لاکھ 79 ہزار 210 ہے، جس کی تقسیم وفاقی حکومت میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر کرے گی۔
وزارت مذہبی امور نے زیارت کمپنیوں سے تمام دستاویزات طلب کر لی ہیں اور زائرین کی سیکیورٹی، رہائش اور سفری سہولیات کے حوالے سے نئے اصول و ضوابط مرتب کیے جا رہے ہیں تاکہ ماضی کی کوتاہیوں سے بچا جا سکے۔



