سات جنوری کو وادی تیراہ میں صبح گھر کا سارا سامان چھوٹے ٹرک میں ڈال کر پنتیس سالہ محمد شاہ نے اپنے بھائی انس خان، دو بیٹوں پندرہ سالہ قاری عنایت اللہ اور تیراہ سالہ اسرافیل کے ساتھ سفر کا آغاز کیا۔ گھر کے خواتین اور بچوں کو محفوظ اور آرم دہ سفر کے لئے چھوٹے گاڑی میں لینے کےلئے واپس آنے کی اُمید چھوڑ دی تاہم اُنہوں نے خود اور اپنے دو بیٹوں عنایت اور اسرفیل نے جاری سفر کو ادھورہ چھوڑ دیا لیکن زندگی کا سفر مکمل کرکے واپس اپنے آبائی علاقے لوٹ گئے ۔

محمد شاہ وادی تیراہ کے علاقے پیرمیلہ کا رہائشی تھا اور علاقے کے دیگر لوگوں کی طرح اُنہوں نے بھی نقل مکانی کے سلسلے میں گھر کا سامان اور بعد میں لوگوں کے منتقلی کا فیصلہ کرلیا تھا تاہم یہ سب کچھ تب ادھورہ رہ گیا جب سات جنوری کے صبح اُنہوں نے گھر سے سفر شروع کیا اور رات دس بجے تیراہ باڑہ کے مرکزی شاہراہ پر نری بابا کے قریب تیز رفتار گاڑی کے بریک فیل ہونے کی وجہ سے گاڑی مٹی کے ڈھیلے کے ساتھ ٹاکرا گیا۔محمد شاہ اور اُن کے دو بیٹے جان بحق جبکہ چھوٹا بھائی انس خان شدید زخمی ہوا۔

محمد شاہ کے چچا لعل شاہ نے رات دس بجے انس کو کال کیا تاکہ سفر کے احوال کے بارے میں جان سکے۔ کال ریسو کرتے ہی لعل شاہ نے انس کوکلمہ بڑھتے ہوئے سنا جبکہ تیز آواز کے ساتھ کال بند ہو گیا۔ اس پوری صورتحال کے بعد وہ فوری طور پر گھر سے نکل کر اُس مقام کے طرف روانہ ہوئے۔
”ہم دو بجے رات کو وہاں پر پہنچ گئے تو دیکھا کہ اُن کی گھر کے سامان سے لدھی گاڑی سڑک کے کنارے مٹی کے بڑے ڈھیلے سے ٹاکرا گیا تھا۔ محمد شاہ اور اُن کے دو بیٹوں عنایت اللہ اور اسرفیل کے لاشیں پائیندہ چینہ چیک پوسٹ منتقل کردیئے جبکہ انس کو شدید زخمی حالت میں فورسز نے علاج کے لئے حیات آباد میڈیکل کمپلکس منتقل کردیا ہے۔ یہاں سے تینوں لاشوں کو منتقل کرنے کے لئے سیکورٹی حکام نے دو ایمبولینسیں اور گاڑی کا کرایہ دیا "۔
صبح تینوں کی تدفین پیر میلہ علاقے میں اپنے آبائی قبرستان میں ہوئی۔ محمد شاہ شروع سے یہی بات کرتا تھا کہ دوبارہ کسی صورت نقل مکانی نہیں کرینگے۔ شاید اُنہوں نے اپنے بات پر عمل کرکے اپنے آبائی گاؤں میں اپنے دو بیٹوں کے ساتھ ہمیشہ رہنے کو عملی شکل دیکر آبائی قبرستان میں اُن کی تدفین ہوئی۔

محمد شاہ گھر کا واحد کفیل تھا۔ ایک طرف علاقے سے جاری نقل مکانی کے عمل میں کافی دشواریاں اور دوسرے گھر میں بچوں و خواتین کے سر کے سائے سے محروم ہونا بڑی تکلیف دہ زندگی ہے۔ واقعے کے بعد باقی ماندہ خاندان شاید لاشیں بن چکے ہیں کیونکہ گھر میں خاموشی ہے اور پہلے کی طرح گھر کے لوگوں کاآکٹھے بیٹھ کر کھانا کھانے کی روایات ختم ہوئی ہے۔

پچھلے کئی سالوں سے وادی تیراہ میں بدامنی کے لہر جاری رہی اور مقامی آبادی کے دوسری بارنقل مکانی سے انکار کرنے کا فیصلہ مقامی لوگوں نے ایک بھاری قیمت جن میں جان مال کے نقصان پر ایسے وقت میں قبول کرلیا کہ وادی میں شدید سردی، غیر منظم طریقہ کار، راستوں میں دو دن گاڑی میں بچوں، خواتین اور بوڑھے افراد کے ساتھ رجسٹریشن کے لئے انتظار کرنا پڑتاہے۔

موسم کہ شدت نے وادی برقمبر خیل تیراہ بھوٹان شریف کے چالیس سالہ قیوم خان سے نقل مکانی کے دوان اُن کے چار ماہ کی بیٹی مرواہ کی زندگی چھین لی ہے۔
آٹھ جنوری دوپہر کو قیوم خان نے گاڑی میں گھر کا سامان لاد کر اپنے خاندان کے ساتھ ایک مشکل سفر کا آغاز کیا۔ دوتوئی کے مقام جہاں پر بے گھر خاندان کو رجسٹریشن کے ٹوکن ملتاہے تک کا سفر اُن کے گھر سے پچاس منٹ کا ہے تاہم یہ مختصر فاصلہ اُنہوں نے آٹھ گھنٹے میں ایسے صورت میں طے کیا کہ اُن کی بیٹی کی طبیعت شدید ناساز ہوئی تھی۔ اُنہوں نے صورتحال کو جانچتے ہوئے رجسٹریشن کو چھوڑ کر باڑہ کے طرف سفر شروع کیا ور رات ڈیڑھ بجے رشتہ داروں کے ہاں پہنچ گیا۔
"شدید سردی سے بچی کی طبیعت اس قدر بگڑ گئی کہ اُن کے سانسیں روک رہی تھی۔ ہم کچھ سمجھ نہیں آرہاتھا کہ کیا کریں کیونکہ ایک طرف رجسٹریشن کی پیچیدہ عمل اور دوسرے طرف گاڑیوں کی لمبے قطاریں۔

جب میں بچی کی تکلیف کو یاد کرتاہوں میرا بولنا بند ہوجاتاہے کیونکہ وہ شدید تکلیف سے گزررہی تھی۔ گھر سے نکلتے وقت وہ بالکل ٹھیک تھی لیکن راستے میں شدید سردی نے  اُن کو بتایا بیمار کردی”۔

صبح سویرے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کو مرواہ اس اُمید کے ساتھ لے کر گئی کہ اُن کی زندگی کو بچایا جاسکے لیکن ڈاکٹر نے معائنہ اور چند ابتدائی ٹیسٹ کے بعد قیوم خان کو بتایاکہ بچی کو نمونیا ہوا تھا اور اُس نے زندگی ہاری ہے۔ بچی کی تدفین علاقے کے ایک قبرستان میں کرائی گئی۔

” راستے میں طبی مدد کی کوئی سہولت موجود نہیں تھی۔صرف میں نہیں بلکہ پوری وادی کے بے گھر لوگ تکلیف میں مبتلا تھے۔میرے خاندان کو ایک طرف اپنا کاروبار، گھر بار چھوڑنا اور دوسری طرف بچی کی یہ تکلیف دہ واقع وہ درد ہے جو میں نے زندگی میں پہلی بار دیکھا۔ مرواہ کے قبر کے علاوہ میرے پاس اُن کی یاد کرنے کی کوئی نشانی باقی نہیں”۔

قیوم باڑہ میں شنکو کے علاقے میں رشتہ داروں کے ہاں ایک پرانے کمرے اور برآمدے میں چار بچوں اور بیوی کے ساتھ قیام پذیر ہے۔ اس شدید سردی میں بڑے بچے برآمدے اور وہ خود بیوی اور چھوٹے بچے کمرے میں سوتے ہیں۔ کمرہ اتنا پرانہ ہے کہ رہنے کی قابل نہیں لیکن مجبوری کے تحت یہ سب کچھ برادشت کررہے ہیں۔

پچیس سالہ ضابت خان وادی تیراہ کے رہائشی خاندان کو اپنے پک اپ گاڑی میں کرائے کے بدلے دوسرے علاقے کو منتقل کرنے کے دوران نہ صرف اپنے کمائی کا واحد ذریعہ گاڑی کھوئی ہے بلکہ اُن کی جسم بھی بری طرح جھلس چکا ہے۔ گزشتہ روز تیراہ جاتے ہوئے گاڑی جب دوتوئی کے مقام پر پہنچا تو گاڑی میں اچانک آگ بھڑک اُٹھا۔

"آگ اتنا شدید تھا کہ مجھے سیٹ سے باہر جانا ممکن نہیں تھا۔ مقامی لوگوں نے میرے بڑی مدد کی اور مجھے ایک نئی زندگی مل گئی لیکن گھر کی کمائی کا واحد ذریعہ معاش کھو دیا اور میرا علاج بھی جلد ممکن نہیں۔ میرے ہاتھ بری طرح جھلس چکے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل میرے بڑے بھائی کے گردے فیل ہوئے اور چھوٹے بھائی نے گردہ عطیہ کردیا۔ اپنے والدین اور دونوں بھائیوں کے خاندان کی کفالت کی ذمہ داری ان کی کندھوں پر ہے "۔

نقل مکانی کے جاری عمل کے دوران ایک طرف رجسٹریشن کے عمل میں درپیش مسائل اور دوسرے طرف لوگوں کے بڑی تعداد کو بنیادی سہولیات کی فقدان نے ان بے گھر خاندانوں کے مسائل میں کئی گنا اضافہ کردیا ہے۔ علاقے کے ممبر صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی نے نقل مکانی کے عمل میں حادثات کے شکار افراد کے خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

اسلام گل
بانی و مدیر اعلٰی ٹائم لائن اردو، اسلام گل افریدی مختلف قومی و بین الاقوامی میڈیا اداروں کےساتھ کام کرنے والے سینئر صحافی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں