تحریر: محمد یونس

تیراہ سے نکلنے والی سڑکوں پر اس وقت سب سے زیادہ سنائی دینے والی آواز بحث یا بیانیے کی نہیں، بلکہ خاموش انتظار کی ہے۔ گاڑیوں میں سمٹے ہوئے خاندان، سردی سے ٹھٹھرتے بچے، اور بزرگ جو خالی نظروں سے آگے دیکھ رہے ہیں۔ ان کے لیے یہ بحران کسی سیاسی یا میڈیا بحث کا حصہ نہیں، بلکہ روزمرہ بقا کا سوال ہے۔

وادی تیراہ سے متاثرین کے انخلاء  اب دسویں دن میں داخل ہو چکا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق اب تک 6 ہزار 500 خاندانوں کی نادرا کے ذریعے بائیومیٹرک تصدیق مکمل کی جا چکی ہے، جبکہ 27 ہزار سے زائد خاندانوں کو ابتدائی ٹوکن جاری کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے وہ کرایہ اور دیگر ابتدائی امداد حاصل کر سکتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ مشکلات برقرار ہیں، تاہم نظام میں بہتری کے آثار نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔

سڑکوں پر گزرتی زندگیاں 

ہزاروں خاندان اب بھی سڑکوں پر دن اور رات گزارنے پر مجبور ہیں۔ شدید سردی میں خواتین اپنے بچوں کو سینے سے لگائے بیٹھی ہیں، بزرگ کمبلوں میں لپٹے خاموشی سے وقت کاٹ رہے ہیں، جبکہ بچے گاڑیوں کے درمیان پانی اور خوراک کی تلاش میں بھٹکتے دکھائی دیتے ہیں۔

“ہم کئی دنوں سے یہاں ہیں،”پائندہ چینہ کے قریب انتظار کرنے والے ایک متاثرہ شخص نے بتایا۔“ٹی وی پر بہت باتیں ہو رہی ہیں، لیکن یہاں زندگی رک سی گئی ہے۔”

مقامی لوگوں کو خدشہ ہے کہ اگر بروقت اور منظم اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال کسی بڑے انسانی سانحے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

رجسٹریشن کا دباؤ اور مسائل

ضلعی انتظامیہ کے مطابق رجسٹریشن کا عمل شدید دباؤ میں جاری ہے۔ مراکز رات گئے تک کھلے رکھے جا رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ خاندانوں کو بروقت رجسٹر کیا جا سکے۔ پہلے مرحلے میں خواتین اور بچوں کی رجسٹریشن کی جا رہی ہے، جس کے بعد مرد حضرات کا اندراج کیا جاتا ہے۔وادی تیراہ سے آنے والے متاثرین کو پائندہ چینہ کیمپ میں عارضی رہائش، خوراک، پانی اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، تاہم کیمپ کی گنجائش محدود ہے اور متاثرین کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

اس دوران استحصال کے واقعات بھی سامنے آئے

گزشتہ روز متاثرہ خاندانوں نے شکایت کی کہ بعض عناصر ٹوکن یا شناختی کارڈ کے اندراج کے نام پر ایک سے دو ہزار روپے غیر قانونی طور پر وصول کر رہے ہیں۔ ان شکایات پر ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر امان اللہ نے ایس ایچ او بازار زخہ خیل کے ہمراہ پائندہ چینہ اسکول کے اطراف کارروائی کی، جس کے دوران آٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان کے قبضے سے جعلی ٹوکن، شناختی کارڈز اور وصول کی گئی رقم برآمد ہوئی، جبکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن کے تمام مراحل کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ کسی قسم کی بدعنوانی کو روکا جا سکے۔

میڈیا میں بیانیوں کی جنگ

جبکہ متاثرین سڑکوں پر مشکلات جھیل رہے ہیں، دوسری جانب سوشل اور مین اسٹریم میڈیا پر ایک اور جنگ جاری ہے۔ الزامات، جوابی بیانات اور مختلف بیانیے اس بحران کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

خیبر ضلع سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی اسلام گل کا کہنا ہے کہ “ہر فریق یہ ثابت کرنے میں مصروف ہے کہ وہ درست ہے، لیکن اس شور میں اصل انسان گم ہو جاتا ہے۔ متاثرین کی تکلیف محض اعداد و شمار یا سیاسی جملوں تک محدود کر دی جاتی ہے۔”

ان کے مطابق غلط معلومات اور جذباتی رپورٹنگ نے عوامی فہم کو مزید الجھا دیا ہے۔ “کچھ بیانیے حقیقت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، کچھ اسے مکمل طور پر رد کر دیتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں نقصان متاثرین کا ہوتا ہے۔”

سماجی تجزیہ کار اور صحافی حق نواز خان سمجھتے ہیں کہ الزام تراشی نے عدم اعتماد کو گہرا کر دیا ہے۔ “سوشل میڈیا غصے کو بڑھاتا ہے، جبکہ مین اسٹریم میڈیا پیچیدہ بحران کو سادہ بنا کر پیش کرتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وضاحت کے بجائے شور پیدا ہوتا ہے،”ان کا کہنا تھا کہ اخلاقی صحافت کا تقاضا ہے کہ بحران کے دوران زبان، معلومات اور انداز میں احتیاط برتی جائے۔

انتظار میں سمٹی زندگیاں

متاثرین کے لیے یہ بحران کوئی پہلی آزمائش نہیں۔ کئی خاندان وہ ہیں جو برسوں پہلے بے گھر ہوئے، پھر واپس آ کر اپنے تباہ شدہ گھروں کو دوبارہ تعمیر کیا، کھیت آباد کیے اور زندگی کو معمول پر لانے کی کوشش کی۔ اب ایک بار پھر وہ سب کچھ ادھورا چھوڑنے پر مجبور ہیں۔

“میں نے اپنے ہاتھوں سے گھر دوبارہ بنایا تھا،”تیراہ ایک رہائشی نے بتایا۔“اب وہ ادھورا ہی رہ گیا۔ تالہ لگا کر نکل آیا ہوں، یہ نہیں معلوم کب واپس لوٹ سکوں گا۔”

ماہرین کے مطابق بار بار کی بے گھری بچوں پر گہرے نفسیاتی اثرات چھوڑتی ہے۔ تعلیم کا تعطل، عدم تحفظ اور مستقل خوف ایسے زخم ہیں جو اکثر ایمرجنسی ختم ہونے کے بعد نظر انداز ہو جاتے ہیں۔

الزام سے آگے دیکھنے کی ضرورت

شام ڈھلتے ہی پائندہ چینہ کے اطراف سڑکوں پر آگ جلائی جاتی ہے۔ خاندان اس کے گرد بیٹھ کر چائے اور خشک روٹی بانٹتے ہیں۔ بچے سامان کے تھیلوں پر سو جاتے ہیں، بزرگ خاموش دعاؤں میں مصروف رہتے ہیں۔“جب بیانیے ٹکراتے ہیں تو قیمت عام خاندان ادا کرتے ہیں،”اسلام گل کہتے ہیں۔حق نواز خان کے مطابق،“اگر واقعی استحکام اور امن مقصود ہے تو مرکز انسان ہونا چاہیے، موقف نہیں۔”

وادی تیراہ میں جاری یہ بحران اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ امداد شفاف ہو، معلومات درست ہوں، اور متاثرین کو عزت و وقار کے ساتھ سہارا دیا جائے۔ کیونکہ اس خطے میں غیر یقینی اب ایک معمول بنتی جا رہی ہے، اور ہر نئی بے گھری پچھلی بحالی کو مٹا دیتی ہے۔

ٹائم لائن اردو ٹیم
ٹائم لائن اردو کے رپورٹرز، صحافی، اور مصنفین پر مشتمل ٹیم

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں