
ضلع خیبر کے سیاسی اور سماجی تنظیموں نے مشترکہ طور پر تیراہ متاثرین کو مکمل معاوضہ دینے، امن امان کی بحالی، متاثرین کی جلد واپسی، تیراہ میں روزگار کی بحالی کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس میں اعلامیہ جاری کردیا۔
ضلع خیبر میں امن و امان کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال، وادی تیراہ متاثرین کی جبری نقل مکانی، رجسٹریشن اور اداروں کی عمل میں بے ضابطگیوں اور عوام کو درپیش سنگین مسائل کے پیش نظر پشاور میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں شریک تمام سیاسی، سماجی اور قبائلی قائدین نے متفقہ طور پر اعلامیہ جاری کردیا۔
کانفرنس اس امر پر متفق ہے کہ ضلع خیبر کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، تیراہ متاثرین کی جبری بے دخلی اور ان کو درپیش مسائل کی ذمہ داری وفاقی حکومت، صوبائی حکومت اور ریاستی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ تاہم جبری انخلاء کے بعد اب بنیادی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ہر صورت اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرے۔
کانفرنس میں مسائل کی نشاندہی کی گئی۔ اور ان مسائل کی حل کیلئے تجاویز پیش کردی۔
مقررین نے کانفرنس میں بتایا کہ وادی تیراہ تیراہ میں دو سالوں سے مقامی لوگ بدامنی کی بگڑتی صورتحال کی نشاندہی کرتے رہے مختلف مقامات پر احتجاج کرتے رہے لیکن اس کے باوجود حکومتیں خاموش تھیں یا ان احتجاج کرنے والوں کو تنگ کرتے رہے اور آخر کار وہاں سے لوگوں کو زبردستی سے بے دخل کردئے گئے۔
تیراہ میں جاری آپریشن لانچ کرنے سے حکومتیں انکار کر رہے ہیں لیکن آپریشن جاری ہے۔
وزیر اعلی خیبرپختونخوا کا تعلق ضلع خیبر سے ہے لیکن اس کے باوجود سب سے زیادہ مسائل ضلع خیبر میں ہے۔
تمام متاثرین کو دو لاکھ پچاس ہزار ریلیف پیکج دینے اور دس اپریل تک ان کی باعزت واپسی کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن اس میں ابھی تک زیادہ تر متاثرین کو ریلیف پیکج نہیں ملا ہے او نہ ہی ان کی واپسی کا کوئی بندوبست کیا گیا جارہا ہے۔
وہ دہشتگرد جو تیراہ میں سرگرمیاں کر رہے تھے اب لوئر علاقے باڑہ میں شروع کردی گئی ہے جس کی وجہ سے باڑہ کے مضافات حالات خراب ہورہے ہیں
متاثرین کو چار ارب روپے منظور ہوگئے تھے لیکن اس میں کرپشن ہورہا ہے جس کی روک تھام کیلئے کوئی لائحہ عمل موجود نہیں ہے۔
صوبائی حکومت ہر قسم کے مالی معاونت کیلئے بینک آف خیبر استعمال کیا جارہا ہے لیکن صوبائی حکومت نے تیراہ متاثرین کی پیکج کو بینک آف پنجاب کے ذریعے دی۔
متاثرین کے ساتھ یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ تیراہ میں تمام مکانات اور جنگلات کا ذمہ دار حکومت ہوگا لیکن اب تیراہ سے جنگلات کی کٹائی اور گھروں کو لوٹنے کے خبریں آرہے ہیں۔
اعلامیہ میں تجاویز
آل پارٹیز کانفرنس کی جاری کردہ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے ضلع خیبر کی 24 رکنی کمیٹی کے ساتھ تیراہ میں ممکنہ آپریشن اور نقل مکانی کے کے حوالے سے جرگوں میں جو فیصلے کئے گئے اور جو معاہدہ کیا گیا ہے وہ عوام کے سامنے لایا جائے۔ ریلیف پیکج کے بارے میں 24 رکنی کمیٹی وضاحت کرے کہ معاہدے کے تحت ان کو کس طرح اور کب تک ملی گی۔
متاثرین کی واپسی کیلئے جلد باعزت طریقے سے لائحہ عمل طے کیا جائے۔
رجسٹریشن پوائنٹوں میں کام تیز کیا جائے اور پندرہ دن کے اندر رجسٹریشن مکمل کیا جائے۔
پی ڈی ایم اے اور این ڈی ایم اے نے ابھی تک کوئی کردار ادا نہیں کیا گیا ہے وہ متاثرین کی مدد میں اپنا کردار ادا کرے۔
اعلامیہ میں بتایا گیا کہ وادی تیراہ میں ترقیاتی کاموں کا مکمل لائحہ پیش کیا جائے اور اننپر کام شروع کیا جائے۔
جن افراد کو ریلیف پیکج دیا گیا یا کرائے کے مد میں پیسے دئے گئے ان کو پبلک کیا جائے تاکہ معلوم ہوسکے کہ کیا واقعی یہ پیسے مستحقین کو ملے ہے یا نہیں۔
متاثرینوں کیلئے مختص فنڈ میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کی جائے اور ملوث افراد کو سزا دی جائے۔
کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ باڑہ میں بگڑتی صورتحال کو نظر انداز نہ کیا جائے اور امن کی بحالی کیلئے عملی اقدامات کیا جائے۔
جنہوں نے جنگلات کی کٹائی کی ہے ان کو کھڑی سزا دی جائے۔
شہداء پیکج دس لاکھ بہت کم ہے اس کو بڑھایا جائے۔
ایپکس کمیٹی میں تیراہ آپریشن کے حوالے سے جو بات ہوگئی تھی وہ تمام میٹنگ منٹس کو عوام کے سامنے لایا جایا۔
وادی تیراہ میں جن افراد کا روزگار تباہ ہوگیا ہے ان کو معاوضہ دیا جائے۔
سابقہ قبائلی اضلاع میں آج روز بروز بڑھتی ہوئی واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہاں حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے۔ کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت فوری طور پر ان علاقوں میں اپنی رٹ بحال کرے اور امن قائم کرنے کے لیے فوری عملی اقدامات کرے۔
2018 کے انضمام کے بعد سے تاحال ضلع خیبر بالخصوص وادی تیراہ میں حقیقی ترقیاتی کام نہیں ہوئے ہیں، ان کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔ کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ وفاقی سطح پر نیب یا متعلقہ تحقیقاتی اداروں کے ذریعے تمام فنڈز کے استعمال کا فوری، جامع اور غیر جانبدار آڈٹ کرایا جائے۔
ترقیاتی منصوبوں کے نام پر تیراہ متاثرین کی جیبوں سے ہونے والی لوٹ مار ایک ناکام کوشش ہے۔ اصل ترقی متاثرین کی محفوظ، باعزت اور بروقت واپسی میں ہے تاکہ متاثرین تیراہ بروقت اپنی فصلوں سے مستفید ہو سکیں۔
اگر ان آئینی، قانونی اور عوامی مطالبات پر فوری عملدرآمد نہ کیا گیا تو ضلع خیبر کی تمام سیاسی جماعتیں اپنی صفوں میں اتحاد کے ساتھ احتجاج کا راستہ اختیار کریں گی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
متاثرین کا صورتحال
ضلعی حکام کے مطابق وادی تیراہ کے اب تک 37 ہزار متاثرین کو ٹوکن جاری کئے گئے ہیں، 34 ہزار کو کرائے کے مد میں پیسے جاری کئے گئے۔
ضلعی حکام کے مطابق تمام رجسٹرڈ خاندانوں کی تصدیق کے لیے ستر رکنی ٹیم کام کر رہی ہےجن میں چوبیس رکنی کمیٹی کے ممبران، پولیو عملہ اور ضلعی حکام شامل ہیں ۔ پہلے مرحلے میں ان لوگوں کو معاہدے کے مطابق تمام مراعات دی جائیں گی جن کی تصدیق پولیو ڈیٹا سے مکمل کر لی جائے گی۔
جس میں اب تک 14 ہزار کی تصدیق مکمل ہوچکا ہے اور 12 ہزار متاثرہ خاندانوں کو گاڑی کے کرایہ کے ساتھ معاہدے کے تحت دو لاکھ پچاس ہزار کے بجائے دو لاکھ چالیس ہزار روپے سم کے ذریعے بھیجنے کے لئے دستاویزات ضلعی حکام نے پی ڈی ایم اے کو بھیج دیا گیا



