تحریر: محمد یونس

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کی قبائلی ضلع خیبر میں واقع وادی تیراہ کے بلند پہاڑوں میں چلنے والی ہوا صرف سردی نہیں لاتی۔ یہ جدائی کی یادیں بھی ساتھ لاتی ہے۔ وہ یادیں جو خالی صحنوں، منجمد راستوں اور ان گھروں میں بکھری پڑی ہیں جہاں کبھی زندگی آباد تھی۔ پاکستان کے ان سرحدی علاقوں میں اب گھر محض ایک نازک تصور بن چکا ہے، جو بار بار سمیٹا اور کھولا گیا، یہاں تک کہ اس کی پہچان ہی مٹنے لگی۔

اس سال سردیوں نے غیر معمولی برفباری کے ساتھ آمد کی۔ مختلف علاقوں اور گزرگاہوں میں، جن میں تختکئی، دربار، ملک دین خیل، پیر ملا، داؤتئی، میر درہ اور برقمبر خیل شامل ہیں، زندگی سفید خاموشی کے نیچے دب گئی۔ بالائی علاقوں بر باغ اور مومند غز میں تین فٹ تک برف جم گئی، دروازے بند ہو گئے اور روزمرہ زندگی تھم گئی۔ میدان باغ بازار بند ہو گیا، سڑکیں غائب ہو گئیں۔ تیراہ کی خواتین کے لیے یہ خاموشی سکون نہیں بلکہ ایک بوجھ بن کر آئی۔

ایک خاتون نے آہستہ آواز میں کہا، جس پر پہاڑی ہوا اور مسلسل نقل مکانی کی تھکن صاف جھلک رہی تھی۔ مرد ٹرانسپورٹ، سامان، ریلیف ٹوکن، رجسٹریشن فارم، تصدیق اور سم کارڈز کی فکر کرتے ہیں۔ لیکن ہم ان سب چیزوں کی فکر کرتے ہیں جن کا کوئی ذکر نہیں کرتا۔”

نقل مکانی: ایک تلخ معمول

وادی تیراہ سے بے گھر ہونے والے خاندانوں کی رجسٹریشن کا عمل اب چھٹے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق اب تک 19 ہزار سے زیادہ خاندان رجسٹر ہو چکے ہیں، جو ابتدائی طور پر شناخت کیے گئے خاندانوں سے زیادہ ہیں۔ اسی دوران سینکڑوں خاندان اب بھی وادی کے اندر پھنسے ہوئے ہیں، جو شدید برفباری اور بند راستوں کے باعث رجسٹریشن مراکز تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔

ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ مختلف مقررہ مقامات پر رجسٹریشن کی گئی، تاہم مجموعی اعداد و شمار اب پہلے سے لگائے گئے اندازوں سے تجاوز کر چکے ہیں، جو پولیو اور آبادی کے ڈیٹا کی بنیاد پر مرتب کیے گئے تھے۔ اس فرق نے اس خدشے کو جنم دیا ہے کہ ممکنہ طور پر غیر مستحق افراد بھی شامل ہو گئے ہیں، جبکہ حقیقی طور پر متاثرہ کئی خاندان اب بھی رجسٹریشن کے لیے لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے نظر آتے ہیں ۔

یہ صورتحال رجسٹریشن کے عمل کی شفافیت اور درستگی پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب رسائی کی رکاوٹیں سب سے زیادہ کمزور خاندانوں کو گنتی سے باہر رکھے ہوئے ہیں۔ امدادی اداروں کے لیے یہ ایک انسانی ہنگامی صورتحال ہے۔ مگر جن خواتین پر یہ گزر رہی ہے، ان کے لیے یہ ایک معمول بن چکا ہے۔ بہت سی خواتین دوسری یا تیسری بار نقل مکانی کر رہی ہیں۔ وہ اس سے پہلے بھی اپنی زندگیاں اپنے کندھوں پر اٹھا چکی ہیں۔

سفر جو دنوں پر پھیل گیا

تیراہ سے نکلنے کا سفر کبھی چند گھنٹوں میں طے ہو جاتا تھا۔ اب یہ دنوں پر محیط ہو چکا ہے۔ خاندان ٹرکوں کے کیبن میں سوتے ہیں، ایندھن بچانے کے لیے انجن بند رکھے جاتے ہیں۔ مشترکہ کمبلوں کے نیچے سمٹ کر، ایک دوسرے کے جسم کی حرارت سے سردی کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔

ایک سڑک کنارے پڑاؤ پر ایک ماں اپنے بچے کو گود میں لیے بیٹھی تھی۔ اس کے اردگرد اس کی باقی ماندہ زندگی سمٹی ہوئی تھی۔ چند بکریاں، کچھ مرغیاں اور اناج کی گٹھڑیاں، جو کبھی ایک گھر کی بنیاد تھیں۔ اس کے دو بڑے بچے اناج کی بوریوں پر سو رہے تھے۔ اس نے آہستگی سے بچے کو جھلولتے ہوئے کہا، اس بار سب کچھ مختلف لگا۔ دروازے کا ہینڈل پکڑنے سے پہلے ہی دل تیز دھڑکنے لگا۔ جسم کو راستہ یاد تھا، دماغ کو ابھی خبر نہیں ہوئی تھی کہ ہم جا رہے ہیں۔

اعداد و شمار سے آگے کا صدمہ

تیراہ کے قبائلی پشتون معاشرے میں نقل مکانی صرف اعداد و شمار میں درج نہیں ہوتی۔ یہ جسم میں محسوس کی جاتی ہے۔ خواتین خوف یا نقصان کے بارے میں بات کرنے سے پہلے ہی بے چین نیند، ہڈیوں میں اترتی سردی اور ہر آواز کو خطرہ سمجھنے لگتی ہیں۔

جب خاندان گھر چھوڑتے ہیں تو خواتین صرف چھت نہیں کھوتیں۔ وہ پرائیویسی، روزمرہ کی ترتیب اور وقار بھی کھو دیتی ہیں، جو گھریلو زندگی کے معمولات سے جڑا ہوتا ہے۔ سڑک کنارے پڑاؤ اور عارضی سہولت مراکز میں بنیادی معلومات اور ضروریات اکثر نظر انداز ہو جاتی ہیں۔ حمل سفر کے دوران بھی جاری رہتا ہے۔ حیض ایک خاموش جدوجہد بن جاتا ہے، جہاں پرائیویسی ناپید اور پردہ ایک گہری سماجی قدر ہے۔

علاقے میں بے گھر افراد کے ساتھ کام کرنے والی کلینیکل ماہر نفسیات نجمہ گلاب اس کیفیت کو ایک خاموش بحران قرار دیتی ہیں۔

ان کے مطابق، جب سردیوں میں نقل مکانی ہوتی ہے تو خواتین کی جسمانی ضروریات جذباتی دباؤ سے ٹکرا جاتی ہیں۔ دودھ پلانے والی مائیں ہر لمحہ اس فکر میں رہتی ہیں کہ آیا ان کے بچے سردی برداشت کر پائیں گے یا نہیں۔ یہ خوف جسم میں بس جاتا ہے۔

پشتون معاشرے میں جہاں پردہ خواتین کی نقل و حرکت اور زندگی کا حصہ ہے، الگ جگہوں کی عدم موجودگی معمول کے کاموں کو بھی اذیت بنا دیتی ہے۔ بہت سی خواتین خاموشی اختیار کر لیتی ہیں، کم بولتی ہیں اور کم مانگتی ہیں۔ وہ اپنے تجربے کو صدمہ نہیں کہتیں، بس یہ جانتی ہیں کہ وہ اس طرح تھک چکی ہیں جسے آرام بھی ٹھیک نہیں کر سکتا۔

وہ غیر یقینی جو توڑ دیتی ہے

اس علاقے میں برسوں سے کام کرنے والے صحافی اصغر جان نے تیراہ میں نقل مکانی کے بار بار دہراتے چکر دیکھے ہیں۔ خاندان جاتے ہیں، لوٹتے ہیں، مرمت کرتے ہیں اور پھر دوبارہ بھاگتے ہیں۔ ان کے مطابق یہاں لوگوں کو اصل میں خوف نہیں توڑتا۔

وہ کہتے ہیں، لوگ نقل و حرکت کے عادی ہیں۔ جو چیز انہیں توڑ دیتی ہے وہ غیر یقینی ہے۔ یہ نہ جاننا کہ کب واپسی ممکن ہو گی۔ یہ نہ جاننا کہ جو گھر ابھی بنایا ہے، وہ اگلی بے چینی کی لہر تک قائم رہے گا یا نہیں۔

خواتین کے لیے یہ غیر یقینی اور بھی گہرا زخم بن جاتی ہے۔ پچھلی بے دخلیوں کے بعد مرمت کیے گئے گھر کبھی مکمل بحال نہیں ہو سکے۔ دوبارہ شروع کیے گئے روزگار کبھی مستحکم نہ ہو سکے۔ ہر واپسی کے ساتھ ایک سوال جڑا رہا، ہم کب تک رہ پائیں گے؟

جو اب بھی پھنسے ہوئے ہیں

جہاں برف نے راستے مکمل طور پر بند کر دیے ہیں، وہاں خاندان اب بھی محصور ہیں۔ خوراک کے ذخائر دن بدن کم ہو رہے ہیں۔ امدادی تنظیمیں راستے کھولنے اور راشن پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں، مگر پیش رفت سست ہے۔ ان گھروں میں خواتین خاموشی سے کم کھا رہی ہیں، تاکہ بچوں کے لیے کچھ بچا رہے۔

وادی کے رہائشی ساجد ظہیر نے بتایا کہ جو سفر عام حالات میں تین گھنٹوں کا ہوتا ہے، وہ اس بار تین دن میں مکمل ہوا۔ برف اور بند راستوں کے باعث خاندان نے دو راتیں کھلے آسمان تلے گزاریں، ایک داؤتئی کے قریب اور دوسری ٹوٹ درہ میں۔

سخت حالات کے باوجود، ان کے بڑے بیٹے حسین احمد نے پورے سفر میں ہوش اور بات چیت برقرار رکھی، جو اس غیر یقینی میں ایک چھوٹی سی مضبوطی کی علامت تھی۔ چھوٹا بیٹا محسن سردی کے باعث بیمار ہو گیا، جسے بعد میں ڈاکٹر نے دیکھا۔ خاندان کو امید ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہو جائے گا۔

خاموش حوصلہ

خواتین میں مزاحمت اکثر بلند آواز میں نظر نہیں آتی۔ یہ خاموش ثابت قدمی کی صورت میں ہوتی ہے، جو ہر نئی نقل مکانی کے ساتھ مزید کمزور ہو جاتی ہے۔ بالائی باڑہ کے ایک سہولت مرکز کے قریب، ایک معمر خاتون اپنی گاڑی میں بیٹھی لوگوں کو آتے جاتے دیکھ رہی تھی۔ جب اس نے بات کی تو آواز نرم مگر پختہ تھی۔

ہم بار بار نئے سرے سے شروع کرنے سے تھک چکے ہیں، اس نے کہا۔ لیکن پھر بھی کرتے ہیں، کیونکہ ہمارے بچوں کو جینا ہے۔

وہاں موجود ایک امدادی کارکن کے مطابق، اس بحران میں خواتین اور بچے سب سے زیادہ بوجھ اٹھا رہے ہیں، جہاں بار بار کی نقل مکانی اور شدید سردی نے سب سے بھاری قیمت وصول کی ہے۔

ہنگامی ردعمل سے آگے

وادی تیراہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ کوئی اچانک آفت نہیں۔ یہ ایک طویل المدت حالت ہے جو بار بار دہراتی ہے۔ رجسٹریشن کے عمل جاری ہیں۔ سڑکیں کھولی جا رہی ہیں۔ مگر اہم خدمات نایاب ہیں۔ ذہنی صحت، تولیدی صحت اور خواتین کی ضروریات پر مبنی تحفظ کے پروگرام یا تو محدود ہیں یا موجود ہی نہیں۔

جب تک انسانی ردعمل ہر بے دخلی کو عارضی ہنگامی صورتحال سمجھنے کے بجائے ایک مستقل حقیقت کے طور پر نہیں دیکھے گا، خواتین ایسی زندگیاں دوبارہ بناتی رہیں گی جنہیں کبھی ٹھہرنے نہیں دیا جاتا۔ ان سے مضبوط رہنے، خاموشی سے ڈھلنے اور ٹوٹے بغیر برداشت کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔

خواتین بار بار کی نقل مکانی اور جبری ہجرت کا بوجھ خاموشی سے اٹھاتی ہیں، جبکہ پیچھے رہ جانے والے گھر ویران کھڑے رہتے ہیں، جیسے اپنے بچھڑنے والوں کی کہانیاں سنبھالے ہوئے ہوں۔ یہ خاموشی محض صبر نہیں بلکہ ایک طویل اور تھکا دینے والی جدوجہد کی علامت ہے، جہاں ہر دن غیر یقینی، خوف اور بقا کے درمیان گزرتا ہے۔ تیراہ کے برف سے ڈھکے راستے، بند گزرگاہیں اور عارضی رجسٹریشن مراکز اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ یہاں زندگی صرف آگے بڑھانے کا نام نہیں، بلکہ سخت حالات میں اسے بچا کر رکھنے کی مسلسل کوشش ہے۔

ٹائم لائن اردو ٹیم
ٹائم لائن اردو کے رپورٹرز، صحافی، اور مصنفین پر مشتمل ٹیم

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں