تحریر: محمد یونس

صبح کی پہلی روشنی ابھی پوری طرح پھیلی بھی نہیں ہوتی کہ خیبر، باجوڑ، کرم، وزیرستان اور دیگر قبائلی اضلاع کے متعدد دیہاتوں میں کچھ بچے سکول کی تیاری کے بجائے روزگار کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ کوئی ورکشاپ میں استاد کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، کوئی بازار میں سامان ڈھوتا ہے، کوئی کھیتوں میں کام کرتا ہے، جبکہ کچھ بچے گھریلو مزدوری یا غیر رسمی شعبوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔

یہ منظر صرف خیبر پختونخوا یا نئے ضم شدہ اضلاع تک محدود نہیں بلکہ پاکستان بھر میں لاکھوں بچوں کی روزمرہ حقیقت ہے۔

حال ہی میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (UNICEF) اور قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (NCHR) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ "Pakistan: Child Labour Surveys, Evidence for Action” نے ملک میں بچوں سے مشقت کی ایک تشویشناک تصویر پیش کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 86 لاکھ بچے کسی نہ کسی شکل میں چائلڈ لیبر کا حصہ ہیں، جبکہ ان میں سے 66 لاکھ بچے ایسے خطرناک کاموں میں مصروف ہیں جو ان کی صحت، تعلیم، جسمانی نشوونما اور مستقبل کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں۔( UNICEF)

رپورٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ بچوں سے مشقت صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ تعلیم، صحت، تحفظ اور بنیادی انسانی حقوق سے جڑا ہوا ایک پیچیدہ سماجی مسئلہ ہے۔

خیبر پختونخوا اور ضم شدہ اضلاع کی صورتحال

اگرچہ نئے سرویز صوبائی سطح پر مختلف مراحل میں مکمل ہوئے ہیں، تاہم خیبر پختونخوا خصوصاً ضم شدہ اضلاع میں غربت، بے روزگاری، محدود تعلیمی مواقع، نقل مکانی، سکیورٹی چیلنجز اور قدرتی آفات کے اثرات بچوں کو مزدوری کی طرف دھکیلنے والے اہم عوامل سمجھے جاتے ہیں۔

گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ان علاقوں نے عسکریت پسندی، بڑے پیمانے پر داخلی نقل مکانی، اور قدرتی آفات کا سامنا کیا۔ ان بحرانوں کے اثرات صرف انفراسٹرکچر تک محدود نہیں رہے بلکہ بچوں کی تعلیم اور تحفظ پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوئے۔

سماجی کارکنوں کے مطابق جب خاندان معاشی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں تو اکثر بچوں کی تعلیم سب سے پہلے متاثر ہوتی ہے، اور وہ کم عمری میں ہی محنت مزدوری یا غیر رسمی روزگار کا حصہ بن جاتے ہیں۔

سکول یا روزگار؟

بچوں سے مشقت کا سب سے بڑا نقصان تعلیم کا متاثر ہونا ہے۔ماہرین اطفال اور تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ایک بچہ سکول چھوڑ کر کام پر جاتا ہے تو وہ صرف اپنی موجودہ تعلیم سے محروم نہیں ہوتا بلکہ اس کے مستقبل کے معاشی اور سماجی امکانات بھی محدود ہو جاتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال کے مطابق بچوں کو محفوظ بچپن، تعلیم اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنا ریاست اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

خطرناک مشقت کے پوشیدہ زخم

بچوں سے لی جانے والی ہر مشقت ایک جیسی نہیں ہوتی، لیکن خطرناک مشقت بچوں کے جسمانی اور ذہنی صحت پر دیرپا اثرات چھوڑ سکتی ہے۔

ورکشاپوں میں بھاری مشینری، تعمیراتی مقامات، کان کنی، کیمیکلز سے وابستہ کام، یا طویل اوقات کار بچوں کو ایسے خطرات سے دوچار کرتے ہیں جن کے اثرات زندگی بھر باقی رہ سکتے ہیں۔

ماہرین نفسیات کے مطابق کم عمری میں مسلسل جسمانی مشقت، عدم تحفظ اور معاشی دباؤ بچوں کی ذہنی صحت، خود اعتمادی اور سماجی نشوونما پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

غربت، مہنگائی اور بچوں کی مزدوری

ماہرین کا خیال ہے کہ چائلڈ لیبر کے مسئلے کو صرف قانون سازی کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔

غربت، بڑھتی ہوئی مہنگائی، غیر رسمی معیشت، کمزور سماجی تحفظ کے نظام اور تعلیم تک محدود رسائی ایسے عوامل ہیں جو خاندانوں کو بچوں کی آمدن پر انحصار کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

اسی لیے UNICEF اور دیگر ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بچوں سے مشقت کے خاتمے کے لیے سماجی تحفظ، معیاری تعلیم، روزگار کے بہتر مواقع اور کمزور خاندانوں کی معاشی معاونت کو ایک ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔

"ہر بچے کو خواب دیکھنے کا حق ہے”

رپورٹ کی تقریب رونمائی کے موقع پر UNICEF کی چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے نامزد چیمپیئن، امیراں، نے اس بات پر زور دیا کہ ہر بچے کو سیکھنے، خواب دیکھنے اور بہتر مستقبل بنانے کا حق حاصل ہے۔

انہوں نے حکومت، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور مقامی برادریوں پر زور دیا کہ وہ بچوں سے مشقت کی بنیادی وجوہات کے خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات کریں تاکہ ہر بچے کو استحصال سے پاک بچپن میسر آ سکے۔

ایک اجتماعی ذمہ داری

چائلڈ لیبر صرف اعدادوشمار کا معاملہ نہیں۔ ان 86 لاکھ بچوں میں ہر ایک کا اپنا نام، خواب، صلاحیت اور مستقبل ہے۔

خیبر پختونخوا اور نئے ضم شدہ اضلاع کے تناظر میں یہ سوال پہلے سے زیادہ اہم ہو چکا ہے کہ کیا ہم آنے والی نسل کو سکول، تحفظ اور مواقع فراہم کر سکیں گے یا وہ بھی غربت اور مجبوری کے اس چکر میں پھنس جائیں گے جس سے نکلنا آسان نہیں؟

بچوں کا مستقبل صرف ان کے خاندانوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ امانت ہے۔ جب ایک بچہ سکول کے بجائے مزدوری پر مجبور ہوتا ہے تو درحقیقت معاشرہ اپنے ہی مستقبل کا ایک حصہ کھو دیتا ہے۔

ٹائم لائن اردو ٹیم
ٹائم لائن اردو کے رپورٹرز، صحافی، اور مصنفین پر مشتمل ٹیم

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں