
جولائی کی جھلسا دینے والی دوپہر ہے۔ درجہ حرارت 42 سے بڑھ کر 46 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے۔ تیز دھوپ میں محمد شفیق خان خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر باڑہ میں اپنے گائیوں فارم میں دو ملازمین کے ساتھ مسلسل کام میں مصروف ہیں۔ کوئی مویشیوں پر پانی کے فوارے چلا رہا ہے، کوئی تازہ پانی سے بھرے ٹب تبدیل کر رہا ہے، جبکہ کوئی سبز چارہ اور گلوکوز تیار کر رہا ہے۔ فارم میں یہ سرگرمیاں معمول کی دیکھ بھال کا حصہ نہیں بلکہ شدید گرمی کے خلاف ایک مسلسل جدوجہد ہیں۔شفیق نے دس کے قریب گائے فارم میں رکھیں جن میں ایک قیمت چھ سے آٹھ لاکھ روپے تک ہے۔
محمد شفیق خان کی یہ دوڑ صرف اپنے مویشیوں کو زندہ رکھنے کے لیے نہیں، بلکہ دودھ کی پیداوار کو برقرار رکھنے اور آنے والے بچھڑوں کو موسمیاتی شدت کے اثرات سے محفوظ رکھنے کی کوشش بھی ہے۔ تاہم، اس تحفظ کی قیمت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ اضافی پانی، بجلی، چارہ، ادویات، گلوکوز اور ٹھنڈک کے انتظامات نے اخراجات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ ہر نئی گرمی کی لہر ان کی ذہنی پریشانی میں بھی اضافہ کر دیتی ہے۔
”اس وقت درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے، جو مویشیوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے،۔ہم پانی کے فواروں، سبز چارے، ہر وقت تازہ پینے کے پانی اور گلوکوز کے استعمال کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ جانور گرمی کا مقابلہ کر سکیں۔ لیکن جیسے جیسے درجہ حرارت بڑھتا ہے، ہمارے لیے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ زیادہ دودھ کی پیداوار حاصل کرنے کے لیے ہمیں مقامی نسلوں کے بجائے بیرونِ ملک یا پاکستان کے دوسرے علاقوں سے لائی گئی اعلیٰ نسل کی گائیں پالنا پڑتی ہیں، مگر یہ شدید گرمی کو مقامی نسلوں کی نسبت کم برداشت کرتی ہیں۔ ہر ہیٹ ویو ہمیں اس خوف میں مبتلا کر دیتی ہے کہ کہیں کوئی جانور ہلاک نہ ہو جائے، دودھ کی پیداوار کم نہ ہو جائے یا حاملہ گائیں اور ان کے بچھڑے متاثر نہ ہوں۔”
موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی گرمی اب صرف انسانوں کے لیے نہیں بلکہ مویشوں کے شعبے کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ خیبر پختونخوا سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں مویشی پالنے والے کسان اب اپنے جانوروں کو زندہ اور صحت مند رکھنے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ وسائل، محنت اور اخراجات برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔
پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی مویشیوں کے شعبے کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ ادارہ برائے خوارک وزارعت( ایف اے او) کے مطابق کے مطابق بڑھتا ہوا درجہ حرارت، شدید گرمی، خشک سالی، غیر متوقع بارشیں اور بار بار آنے والے سیلاب دودھ دینے والے جانوروں کی صحت، افزائش نسل اور پیداوار کو براہ راست متاثر کر رہے ہیں۔ شدید گرمی کی وجہ سے گائے اور بھینس کی خوراک کھانے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے، جس سے دودھ کی پیداوار، جسمانی وزن اور تولیدی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ ایف اے او کے مطابق پاکستان میں موسمیاتی لحاظ سے بہتر (ClimateõSmart) مویشی پالنے کے نظام کو اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ مستقبل میں خوراک کے تحفظ اور دیہی معیشت کو محفوظ بنایا جا سکے۔
پاکستان اکنامک سروے 2025õ26 کے مطابق لائیوسٹاک ملک کے زرعی شعبے کا سب سے بڑا ذیلی شعبہ ہے، جس کی شرح نمو 3.75 فیصد رہی، تاہم اسی رپورٹ میں سبز چارے کی دستیابی میں 4.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ چارے کی یہ کمی بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، پانی کی قلت اور بارشوں کے غیر متوازن نظام سے منسلک ہے، جس کے باعث دودھ دینے والے جانوروں کی غذائی ضروریات پوری کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔اکنامک سروے 2025-26کے مطابق پاکستان کے 80 لاکھ سے زائد دیہی خاندان مال مویشی پالنے سے وابستہ ہیںجن کے کل آمدن میں تقریباً 35 سے 40 فیصد مال مویشی سے حاصل ہوتے ہیں۔
زرعی شعبے کی 62.4 فیصد ویلیو ایڈیشن کا حامل ہے۔یعنی پاکستان کی زراعت صرف گندم، چاول، مکئی یا گنا تک محدود نہیں، بلکہ گائے، بھینس، بکری، بھیڑ اور پولٹری سے حاصل ہونے والا دودھ، گوشت، انڈے، چمڑا اور دیگر مصنوعات زراعت کی مجموعی معیشت میں 62.4 فیصد حصہ ڈالتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، زراعت میں فصلوں کے مقابلے میں مال مویشی کا کردار زیادہ بڑا ہے۔ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں 14.6 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ اس شعبے کی شرح نمو 3.75 فیصد رہی جبکہ مجموعی زرعی شعبے کی شرح نمو 2.89 فیصد رہی۔
تیس سالہ عاطف خان نے تین سال پہلے وفاقی حکومت کے ایک سیکم کے تحت اسٹریلیاں نسل کے پانچ گائے حاصل کی جن کے لئے اُنہوں نے اپنے حصے کے ساڑھے تین لاکھ روپے جمع کیں جبکہ شیڈاور دیگر ضروری تعمیرات پر پندرہ لاکھ روپے خرچ کیں تاہم چھ میں ایک گائے زندہ بچا جبکہ باقی بیماریوں کے شکار ہوکر موت کے منہ میں چلے گئے ۔اُنہوں نے کہاکہ تمام گائے حاملہ تھے اور بچھٹروں کے پیدائش سے چند ہفتے پہلے تین گائے شدید بیمار ہوئے ۔ اُن کے بقول کافی علاج کے باوجود بھی جانبر ثابت نہیں ہوئی اور مرگئے۔
"باقی دو گائے اور بچھڑے بھی شدید بیماری کے نظر ہوگئے ۔ ہمارا پورا سرمایہ اور محنت ضائع ہوئی ۔ ابھی ہم نے ستر لاکھ کے لاگت سے نیا فام تعمیر کرلیا ہے اور وفاقی حکومت کے سیکم کے تحت بیس گائے مل چکے ہیں ۔ ہم نے اپنے حصے کے دس لاکھ روپے جمع کردئیے ہیں ۔ سردی میں اتنے بیماریاں نہیں ہوتے جتنے گرمیوں ۔ یہ بیرونی ممالک کے نسلیں جن کے لئے یہاں کے آب ہوا مناسب نہیں ۔ جب گرمی کے شدت میں اضافہ ہوتاہے تو روزانہ کے حساب سے بیس کلو خوارک کے بجائے دس کلو پر آجاتے ہیں جبکہ دودھ کے مقدار نصف رہ جاتے ہیں اور جسمانی طور پر بھی کمزور ہوجاتے ہیں "۔
خیبر پختونخوا میں مال مویشی کا شعبہ دیہی معیشت کی بنیاد سمجھا جاتا ہے، جہاں تقریباً 70 فیصد دیہی آبادی اپنی آمدنی، خوراک اور روزگار کے لیے کسی نہ کسی صورت میں مویشی پالنے سے وابستہ ہے۔ صوبے میں زرعی شعبے کی مجموعی آمدنی کا تقریباً 58 سے 60 فیصد حصہ مال مویشی سے حاصل ہوتا ہے، جبکہ صوبائی مجموعی پیداوار (GDP) میں اس شعبے کا حصہ تقریباً 12 فیصد ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات (PBS) اور محکمہ لائیو اسٹاک خیبر پختونخوا کے مطابق صوبے میں تقریباً 58 لاکھ گائے، 18 لاکھ بھینسیں، ایک کروڑ 18 لاکھ بھیڑیں، ایک کروڑ 15 لاکھ بکریاں، 80 ہزار اونٹ، ساڑھے سات لاکھ گدھے، 95 ہزار گھوڑے اور 45 ہزار خچر موجود ہیں، جن سے سالانہ تقریباً 55 سے 60 لاکھ ٹن دودھ اور ایک لاکھ 20 ہزار ٹن سے زائد گوشت حاصل کیا جاتا ہے۔
تاہم موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی ہیٹ ویوز نے اس شعبے کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ پشاور، نوشہرہ، مردان، صوابی، خیبر، بنوں، لکی مروت، کرک، کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان جیسے اضلاع میں درجہ? حرارت میں مسلسل اضافے کے باعث مویشی ہیٹ اسٹریس کا شکار ہو رہے ہیں، جس سے دودھ کی پیداوار میں 10 سے 30 فیصد تک کمی، چارے کی کھپت میں کمی، پانی کی ضرورت میں نمایاں اضافہ، افزائشِ نسل میں رکاوٹ، حمل ضائع ہونے، بچھڑوں کی شرحِ اموات میں اضافے اور دودھ کے معیار میں کمی جیسے مسائل سامنے آ رہے ہیں، جبکہ گل گھوٹو (Hemorrhagic Septicemia)، لمپی اسکن اور ٹِک سے پھیلنے والی بیماریوں کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔
ویٹرنری ماہرین کے مطابق مقامی نسلیں، جیسے اچائی، ساہیوال اور ریڈ سندھی، نسبتاً زیادہ گرمی برداشت کر لیتی ہیں، جبکہ ہولسٹین فریزین اور جرسی جیسی غیر ملکی یا کراس بریڈ نسلیں شدید گرمی سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں اور ان کی دودھ دینے کی صلاحیت تیزی سے کم ہو جاتی ہے۔ اسی لیے محکمہ? لائیو اسٹاک کسانوں کو شیڈ اور سایہ فراہم کرنے، پنکھوں اور پانی کے فواروں کا استعمال، ہر وقت صاف اور ٹھنڈا پانی، الیکٹرولائٹس اور گلوکوز کی فراہمی، صبح و شام چارہ ڈالنے اور بروقت ویکسینیشن و بیماریوں کی نگرانی کی ہدایت دیتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی سے مویشوں کوکن بیماریوں کے خطرات کا سامنا ہے
پچاس سالہ شیر علی خان کا خیبر پختونخو کے قبائلی ضلع تعلق اورکزئی سے ہے ۔ اپنے خاندان کے کفالت بارہ افراد کے کفالت کا بڑا ذریعہ زراعت اور مویشوں سے حاصل ہونےوالے آمدن ہے تاہم دو ہفتے پہلے اُن کی گائے بیماری کے وجہ سے مرگئی ۔ اُنہوں نے کہاکہ دو سال پہلے چھ لاکھ روپے پر مقامی منڈی میں خریدہ تھا اور روزانہ بیس کلو دودھ دیں رہاتھا۔
” ڈاکٹروں نے کہاکہ ان کا جگر ختم ہوچکا ہے اور علاج پر اسی ہزار سے زیادہ روپے خرچ کیں تاہم کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ گائے نے خوارک بند کردی اور دودھ کے پیداور بہت کم ہوئی ۔ تو ہم سمجھ رہے تھے کہ شاید شدید گرمی کی وجہ ہوں چند دنو ں میں اُن کے وزن میں کمی محسوس کی۔ جب ڈاکٹر بولایا گیا تو اُنہوں نے اودیات دی اور کہاکہ ان کے جگر ختم ہوچکا ہے ۔اس کے بعد بھی کئی بار ڈاکٹر بولایا اور ادیات دی تاہم کچھ فائدہ نہیں ۔ یہاں پر قریب گائوں میں ڈاکٹر یا ہسپتال کی سہولت موجود نہیں۔
محکمہ لائیوسٹاک خیبر پختونخوا کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور درجہ حرارت میں مسلسل اضافے نے مال مویشیوں میں متعدد بیماریوں کے خطرات بڑھا دیے ہیں۔ شدید گرمی جانوروں کو ہیٹ اسٹریس کا شکار بنا دیتی ہے، جس سے ان کی قوتِ مدافعت کمزور ہو جاتی ہے اور وہ مختلف متعدی اور طفیلی بیماریوں کا آسانی سے شکار بن جاتے ہیں۔ ان بیماریوں میں گل گھوٹو ، لمپی اسکن بیماری، منہ کھر ، بلیک کوارٹر ، ٹِک سے منتقل ہونے والی بیماریاں جیسے تھیلیریوسس، بیبیزیوسس (Babesiosis) اور ایناپلازموسس، نیز جگر کے فلوک شامل ہیں۔ جگر کے فلوک ایک طفیلی کیڑے کے ذریعے جگر کو متاثر کرتے ہیں، جس سے جانور کمزور ہو جاتا ہے، خون کی کمی، وزن میں کمی اور دودھ کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے، جبکہ بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ بیماری جانور کی ہلاکت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
ڈاکٹر حمیداللہ محکمہ لائیوسٹاک میں ریسرچ آفسر کے طور پر کام کررہاہے ۔ اُنہوں نے گرمیوں میں مویشیوں کے بیماریاں بڑھ جاتے ہیں اور صوبے میںقائم پانچ تحقیقی مراکز کو روزانہ اسی تک کیسز آتے جبکہ سردویوں میں یہ تعداد بمشکل بیس تک پہنچ جاتے ہیں ۔ اُنہوں نے کہاکہ شدید گرمی اور نمی مکھیوں، مچھروں، ٹِکس اور دیگر حشرات کی افزائش کے مناسب آب ہوا میسر ہونے کی وجہ سے ان کے آبادی میں اضافہ ہوتاہے جو مختلف بیماریوں کو ایک جانور سے دوسرے جانور تک منتقل کرتے ہیں۔اُن کے بقول ہیٹ ویوز، بے ترتیب بارشیں، سیلاب اور طویل خشک سالی نہ صرف ان بیماریوں کے پھیلاؤ میں اضافہ کر رہے ہیں بلکہ مویشی پالنے والوں کے معاشی نقصانات میں بھی مسلسل اضافہ کر رہے ہیں، کیونکہ ان حالات میں جانوروں کی افزائشِ نسل، دودھ اور گوشت کی پیداوار اور مجموعی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
گل آغا ایک اٖفغان خانہ بدوش ہے او ر اُن کے کمائی کا واحد سہار ا بھیڑ بکریاں پالتا ہے ۔ موجود ہ وقت میں اُن کے ایک سو پچاس میں پندرہ تک چھوٹے بڑے مویشی یرقان بیماری کے شکارہے ۔ اُنہوں نے کہاکہ درجہ خرات میں اضافے کے سبب اور سبز چارے کے مقدار میں کمی کی وجہ سے مسائل بڑھ چکے ہیں ۔ اُنہوں نے کہاکہ پہلے کے نسبت نہ صرف بیماریاں بڑھ چکے ہیں بلکہ علاج بھی کافی مہنگا ہوچکا ہے۔ اُن کا کہناتھا کہ ماضی میں ہم پنساری کے دکان سے جری بوٹی لاکر مویشوں کے علاج کرتاتھا لیکن اب بیماریوں کے نوعیت میں تبدیلی کے وجہ سے اُن کا اثر بالکل ختم ہوچکا ہے ۔
ڈاکٹر حمیداللہ کاکہنا ہے کہ گائےوں میں مقامی رواپتی نسل چئی نسل موسیماتی تبدیلی کے اثرات اور بیماریوں کے خلاف قوت مدافغت رکھتا ہے تاہم اُن کے روزانہ پیدوار چار سے پانچ کلو ہوتاہے اس وجہ سے کاروباری مقصد کے لئے بیرونی نسلوں کو متعارف کیاجاتاہے جن میں بیماریوں اور موات کے شکایت بہت زیادہ ہوتاہے اور شدید درجہ خرارت میں اضافے کے سبب شدید دبائو کے شکار رہتے ہیں ۔ اُنہوں نے بتایاکہ ہمارے روایات نسل ختم ہونے خطرے سے دوچار ہے جن کو محفوظ بنانے کے لئے محکمہ لائیوسٹاک ایک منصوبے پر کام کررہاہے ۔
پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق ملک میں چھ کروڑ، اُنیس لاکھ ساٹھ ہزار ، بھینس چار کروڑ91لاکھ ، بکری 9کروڑ18لاکھ ،بھیڑ3کروڑ35لاکھ ، اونٹ 12لاکھ ، گھوڑے4لاکھ گدھے 62لاکھ ہیں ۔دودھ کی سالانہ کل پیداوار7 کروڑ 46 لاکھ 89 ہزار ٹن ہے جبکہ انسانی ضروریات کے لئے 6 کروڑ 1 لاکھ 85 ہزار ٹن دودھ دستیاب ہے ۔گوشت کی پیداوار63 لاکھ 14 ہزار ٹن سالانہ ہےلائیوسٹا کے دیگر پیداوارمیںانڈوں کے سالانہ پیدوار 28.27 ارب،اوراون50.8 ہزار ٹن، بال 34.5 ہزار ٹن اور تقریبا نو کروڑ چمڑے پیدا ہوتے ہیں ۔
ایف اے او کے مطابق کے مطابق شدید گرمی کے دوران دودھ دینے والی گائیں اور بھینسیں اپنی جسمانی توانائی کا بڑا حصہ جسم کا درجہ حرارت برقرار رکھنے پر صرف کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں دودھ کی پیداوار میں عموماً 10 سے 25 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے، جبکہ انتہائی شدید گرمی کی لہروں میں یہ کمی 30 فیصد تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ یہ اعداد و شمار جنوبی ایشیا میں کیے گئے متعدد سائنسی مطالعات پر مبنی ہیں اور پاکستان جیسے موسمی حالات والے علاقوں پر بھی لاگو سمجھے جاتے ہیں۔
اسی طرح تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ گرمی کے دباؤ کے باعث مویشیوں میں افزائش نسل کی کارکردگی 20 سے 30 فیصد تک متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ حاملہ ہونے کی شرح میں 15 سے 35 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں دودھ دینے والے جانوروں کی پیداواری عمر اور مجموعی فارم کی آمدنی متاثر ہوتی ہے۔
مویشوں پر موسمیاتی کے اثرات کے کیسے کم کیاجاسکتاہے
چالیس سالہ واجد خان مویشی پالنے کے شعبے سے وابستہ ہے ۔ اُنہوں نے کہاکہ مقامی نسل کے گائے پیداور اتنی نہیں کہ اُن سے معاشی فائدہ حاصل کیا جائے اس وجہ سے مجبوری بیرونی نسل کے گائے پلانا پڑتاہے ۔ اُنہوں نے کہاکہ کوشش کرتے ہیں ان کو گرمیوں میں سبز چارے ، تازہ پانی میں کلوکوز استعمال ، پانی کے فوارے اور دیگر اقدامات سے یہی کوشش ہوتی ہے کہ مویشوں کو مناسب ماحول دیں سکے تاکہ درجہ خرارت کے مقدار کم ہوسکے۔
ڈاکٹر حمیداللہ نے کہاکہ خوارک کے ساتھ مویشوںکو پالنے کے لئے ایسے عمارت یا شیڈ کی تعمیر ضروری ہے جو ہوادار اور مختلف ذرائع سے مویشوں کے لئے درجہ حرارت کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکے ۔اُنہوں نے کہاکہ اگر ممکن ہوں تو روایتی نسل کے مویشوں کو پالنا چاہیے جوکہ بیماریوں اور موسمیاتتی تبدیلی کے خلاف قوت معدافعت رکھتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO)، عالمی ادارہ برائے حیوانی صحت (WOAH) اور دیگر تحقیقی اداروں کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے مویشیوں پر پڑنے والے اثرات کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں، تاہم سائنسی بنیادوں پر اختیار کیے گئے حفاظتی اقدامات سے ان کی شدت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق فارموں میں سایہ دار اور اچھی ہوادار شیڈز کی تعمیر، پنکھوں، پانی کے فواروں اور دیگر ٹھنڈک فراہم کرنے والے نظاموں کا استعمال، ہر وقت صاف اور ٹھنڈے پانی کی دستیابی، شدید گرمی کے دوران الیکٹرولائٹس، معدنی نمکیات اور متوازن خوراک کی فراہمی، صبح اور شام کے ٹھنڈے اوقات میں چارہ ڈالنا، گرمی برداشت کرنے والی مقامی نسلوں کی افزائش اور غیر ملکی نسلوں کے ساتھ مقامی حالات سے ہم آہنگ کراس بریڈنگ کو فروغ دینا نہایت مؤثر حکمتِ عملیاں ہیں۔
اسی طرح بروقت ویکسینیشن، بیماریوں کی مسلسل نگرانی، ٹِکس، مکھیوں اور دیگر طفیلی کیڑوں پر مؤثر کنٹرول، چراگاہوں اور پانی کے وسائل کا پائیدار انتظام، اور موسم کی پیشگی وارننگ سے فائدہ اٹھانا مویشیوں کو ہیٹ اسٹریس اور متعدی بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایف اے او کے مطابق ان اقدامات سے نہ صرف مویشیوں کی اموات اور بیماریوں کی شرح کم ہوتی ہے بلکہ دودھ اور گوشت کی پیداوار، افزائشِ نسل، جانوروں کی فلاح و بہبود اور مویشی پالنے والے کسانوں کی آمدنی کو بھی موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے باوجود زیادہ مستحکم رکھا جا سکتا ہے۔



