وادی تیراہ سے بے گھر خان سید اپنے بچوں کے مسلسل بیماریوں کے سبب کافی پریشان ہے۔ اُن کے چھ سالہ بچی کے طبی معائنہ اور تشحص کے بعدڈاکٹر نے اُن کو بتایاکہ بچی کو ملیریا ہوچکا ہے۔ اُن کو کچھ ادویات مفت فراہم کردئی گئی جبکہ ایک سیرپ بازار سے خریدنے کے لئے لکھا گیاہے۔ اُنہوں نے کہاکہ بچی کو پچھلے چار دنوں سے بخار تھا تو علاج کے لئے باڑہ تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال لایا۔

اُنہوں نے بتایا کہ بچوں کو ہرقسم کے بیماریوں سا منا ہے جن میں سکین، خسرہ، ڈائریا، اور اب ملیریا کے بھی شکایت سامنے آیا ہے۔اُن کے بقول تیراہ میں اتنے بیماریاں نہیں تھی جبکہ یہاں پر آئے روز گھر میں ایک نہ ایک بچہ بیمار رہتا ہے۔ اُنہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ حکومت سے کچھ نہیں مانگتے بس ہمیں فوری طور اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت دیں۔

ایک عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے شرط پر بتایاکہ حخسرے سے ابتک دو بچوں کے موت واقع ہوئی تاہم حکام نے اس بات کی ترید کی۔

وادی تیراہ سے رواں سال جنوری کے اوئل میں ممکنہ فوجی آپریشن کے سبب 40 ہزار سے زائد خاندانوں نے دوسری بار نقل مکانی کی۔ یہ خاندان ضلع خیبر، پشاور اور نوشہرہ میں کرائے کے مکانات، خیموں اور دیگر عارضی رہائش گاہوں میں محدود وسائل کے ساتھ مشکلات بھری زندگی گزار رہے ہیں۔

نقل مکانی کے بعد تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال باڑہ میں ماہانہ او پی ڈی کی تعداد 9 ہزار سے بڑھ کر 18 ہزار تک پہنچ گئی ہے، جن میں 24 فیصد بچے شامل ہیں۔ ایمرجنسی میں مریضوں کے تعداد پہلے ماہانہ آٹھ تھی جبکہ اب پندرہ سوسے بڑھ چکا ہے۔

محکمہ صحت کے مطابق رواں سال اگست کے وسط تک بچوں میں خسرے کے 128مشتبہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں میں 105تک تصدیق شدہ ہے۔گزشتہ ایک سال میں 120کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ طبی عملے نے ان بڑھتے ہوئے کیسز کی بنیاد ی وجہ تیراہ سے بے گھر ہونے والے بچوں کی بروقت ویکسی نیشن نہ ہونا ہے۔

تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال باڑہ کے ماہرِ اطفال ڈاکٹر محمد رفیق کا کہنا ہے کہ تیراہ سے نقل مکانی کے بعد بچوں کو علاج کے لئے ہسپتال میں لانے کی تعداد کافی کافی زیادہ ہوگئی ہے۔ اُنہو ں نے بے گھر بچوں میں چمڑے، پیٹ، ڈیفائیفٹ،ملیریا اور حسرے کے بیماریاں عام ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ تیراہ اور یہاں کے موسم میں کافی فرق ہے کیونکہ یہاں پر درجہ حرارت زیادہ ہونے کے وجہ سے مزکورہ بیماریا ں آسانی کے ساتھ بچوں کو متاثر کرتی ہے۔

اُن کے بقول بے گھر خاندان کے افراد محدود مسائل کے ساتھ کرائے کے مکانات، راشتہ داروں،خمیوں یا غاروں میں رہائش پزیر جہاں پر بنیادی سہولیات کا فقدان کے سبب خفظان صحت کے مسائل کے وجہ سے بچے بیماریوں کے شکار ہوجاتے ہیں۔

سماجی کارکن اور بچوں کے حقوق کے لئے کرنے سرگرم کارکن عمران ٹکر کاکہنا ہے تنازعات اور ممکنہ فوجی آپریشن کے باعث نقل مکانی کے دوران بچے اپنے بنیادی حقوق سے محرومی کے متعدد خطرات کا سامنا کرتے ہیں۔ اُ ن کے بقول جان اور جسمانی تحفظ کو براہِ راست خطرہ لاحق ہوتا ہے، جبکہ نقل مکانی کے دوران والدین یا سرپرستوں سے جدائی، تشدد، استحصال، اغوا اور اسمگلنگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اُنہوں نے بتایا کہ بے گھر ہونے کے نتیجے میں تعلیم کا سلسلہ منقطع، صحت اور غذائیت کی سہولیات تک رسائی محدود اور ویکسینیشن و علاج متاثر ہو سکتے ہیں جبکہ گھر، اسکول اور محفوظ ماحول سے محرومی بچوں کی ذہنی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے اور خوف، اضطراب اور نفسیاتی صدمے کا باعث بن سکتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہاکہ غربت اور خاندان کی آمدنی متاثر ہونے کی صورت میں بچوں سے کم عمری میں مزدوری کروانے یا لڑکیوں کی کم عمری کی شادی کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے بچوں کے حقوق کے نقط نظر سے بنیادی سوال یہ ہے کہ تنازع یا فوجی آپریشن کے دوران نقل مکانی پر مجبور ہونے والے بچوں کے حقِ زندگی، تحفظ، تعلیم، صحت، خاندان کے ساتھ رہنے اور تشدد و استحصال سے آزادی کو ریاست اور متعلقہ ادارے کس حد تک یقینی بنا رہے ہیں۔

سید محمد دس کی ماہ کی بچی حسرے کے شکار ہوکر اُن کو حیات آباد میڈیکل کمپکس میں چند دن لئے زیر علاج رہا۔ وہ رواں سال جنوری کے آوئل میں اپنے آبائی کے علاقے سے نقل مکانی کرنے ضلع کے تحصیل باڑہ کے علاقے شنکو میں رشتہ دارو ں کے ہاں قیام پزیر ہے۔

اُنہوں نے بتایا کہ دو ہفتے پہلے بچی کی دانت نکلنے کے اثار ظاہر ہونا شروع ہوئے تو ساتھ بحار، زکام اور پیٹ خراب ہونے شکایت پیدا ہوئے۔اُن کے بقول علاج کے لئے گاؤں میں ڈاکٹر کے پاس لے گئے اور کچھ ادویات دینے باوجود بھی مسلسل تیز بحار کے ساتھ آنکھوں سے مسلسل پانی کا شروع ہوا تو دو سرے دن خیال آباد میڈیکل کمپلیکس کو علاج لے گیا تو وہا ں اُن کے طبعیت کا فی زیادہ خراب تھی اور اُن کو کئی دن زیر علاج رہنے کے بعد اُن کے طبعیت بہتر ی کے بعدگھر آئے۔

سید محمد کے بچی کے علاج کے دروان محکمہ صحت کے عملے نہ صرف اُن کے گھر میں موجود بلکہ ارد گرد قریب بچوں کو حسرے سے بچاؤ کے ویکسین لگائی تاکہ بیماری مزید نہ پھیل سکے۔

ماہر امرض انسواں ڈاکٹر ثریا جاوید باڑہ میں ایک نجی کلینک چلا رہی ہے۔ اُنہوں نے بتایاکہ تیراہ سے بے گھر ہونے والی بچیوں اور خواتین کو نقل مکانی کے بعد صحت کے حوالے سے کئی اضافی مشکلات کا سامنا ہے۔

ان کے مطابق محدود وسائل، مناسب رہائش، صاف پانی اور صفائی کی سہولیات کی کمی کے باعث بچیوں میں جلدی بیماریوں، پیٹ کے امراض، انفیکشن اور دیگر صحت کے مسائل کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جبکہ بیماری کی صورت میں بروقت طبی امداد تک رسائی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ خاص طور پر نوعمر لڑکیوں کے لیے ماہواری کے دوران صفائی کا مناسب انتظام، صاف پانی اور ضروری اشیا کی دستیابی مشکل ہوجاتی ہے۔ عارضی رہائش گاہوں یا مشترکہ گھروں میں پرائیویسی نہ ہونے کی وجہ سے بعض بچیاں اپنی صحت سے متعلق مسائل کے بارے میں والدین یا طبی عملے سے بات کرنے میں بھی جھجھک محسوس کرتی ہیں۔

رحیم شاہ نے بھی رواں سا ل جنوری میں اپنے آبائی علاقے تیراہ سے نقل مکانی کی۔ وہ پیشے کے لحاظ سے ڈرائیور ہے اور شمالی وزیر ستان میں ایک تعمیراتی کمپنی میں ٹرک چلا رہاہے۔ تین بھائیوں کے خاندان کرائے کے ایک چھوٹے گھر میں باڑہ بازار کے قریب رہائش پزیر ہے۔ اُن کے سالہ بیٹی صفہ آنکھوں اور باقی دوبھائیوں کے بچے چار بچے چمڑے بیماری میں مبتلاہے۔

اُنہوں نے بتایاکہ نقل مکانی کے صفہ کے آنکھوں میں تکلیف پیدا ہوئی اور معائنات کے بعد ڈاکٹروں نے ڈیڑھ لاکھ روپے سے سرجری کروانے کا کہا تاہم میرے ساتھ پیسے نہیں اور اُن کو کچھ دکھائی نہیں دیں رہاہے۔ اُنہوں نے بتایاکہ باقی بچوں کے علاج کے لوگوں سے پیسے قرض لی تاہم کئی مہینوں سے مسلسل علاج کررہے ہیں۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر رفیق حیات کے مطابق رواں ماہ دس سے پندرہ اگست تک تحصیل باڑہ، جمرود اور لنڈی کوتل کے اُن علاقوں میں جہاں پر تیراہ سے بے گھر خاندان رہائش پزیر ہے وہاں پر خسرے سمیت بارہ دیگر بیماریوں کے روک تھام کے لئے خصوصی ویکسینیشن مہم جاری ہے۔

اُن کے بقول ایک تو خسرے سے بچوں کے بچاؤ میں مدد ملے گا اور دوسرا یہ جو بچے اپنے علاقے سے نقل مکانی کے دوران باقاعدہ ویکسینیشن سے رہ جانے والے بچوں کو معمول کے بیماریوں سے بچاؤ کے ویکسین مل جائیگا۔

اُنہوں نے کہاکہ جاری مہم میں 2976بچوں تک رسائی کا ہدف مقرر کیاگیا جن کے لئے 190ویکسیٹرز تعینات کردئیے گئے ہیں،کوشش ہوگی کہ ان تک سوفیصد رسائی حاصل کی جاسکے۔اُنہوں نے کہاکہ د یگر اضلاع میں تیراہ کے بے گھر بچوں تک رسائی کے لئے متعلقہ حکام کے ساتھ کام جاری ہے۔

محکمہ صحت کے مطابق خسرے سے بچاؤ کے خصوصی مہم میں جو دس سے پندرہ اگست تک جاری رہا تیراہ کے 1746بچوں کو ویکسین دینے کا ہدف مقرر کیاگیا ہے تاہم ابتک بیس سے زیادہ ایسے خاندان ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کو ویکسین دینے سے انکار کیا ہے۔ محکمہ صحت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ بے گھر خاندانوں کے انکار کی وجہ اندراج اور حکومت کے جانب سے مالی معاونت کے عدم حصول ہے تاہم ادارے کے جانب سے کوشش کی جارہی ہے کہ ان لوگوں کو اس پر قائل کرسکے کہ وہ اپنے بچوں کو بیماری سے بچاؤ کے لئے ویکسین لگائے۔

ضلعی حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 34ہزارخاندانوں کے اندارج ہوئی جبکہ بعد میں سیکورٹی اور ضلعی حکام کے ہدایت پر مقامی عمائدین کے تصدیق کے بعد دوسرے مرحلے میں بارہ ہزار خاندانوں کے دستاویزات ضلعی حکام کو موصول ہوچکے ہیں۔حکام کے مطابق پہلے مرحلے اُنیس ہزار خاندان کے تصدیق عمل کرلیاگیا اور گاڑی کرایہ، دو لاکھ چالیس ہزار اور دو ماہانہ معاونت کے سلسلے میں دو مہینوں کے ستر ہزار روپے ادا کردئیے گئے ہیں۔

حکام کاکہنا ہے کہ دوسرے مرحلے میں چار ہزارخاندانوں کے لسٹ جاری کردی گئی جن کے تصدیق کاعمل جاری ہے۔بے گھر خاندانوں میں بچوں کے حوالے سے اعداد شمار موجود نہیں۔

پچاس سالہ سعداللہ خان بھی وادی تیرا ہ سے بے گھر خاندانوں میں سے ایک ہے۔ اُن کے گیا رہ کی نواسی کو پہلے چمڑے اور بعد میں خسرے کے بیماری ہوئی تاہم پہلے سے اُن کو خسرے سے بچاؤ کے ویکسین لگائی گئے جس کے وجہ سے چوبیس سے تیس گھنٹے تک شدید بخار اور منہ میں چالیاں پڑنے کے بعد معمولی ادویات کے استعمال سے اُن کے صحت میں بہتری آنا شروع ہوئی۔ اُنہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کے ٹیم آئی اور قریب پندرہ  بچوں کو خسرے سے بچاؤ کے ویکسین لگائی گئی۔

تحریک متاثرین وادی تیراہ کے ترجمان صحبت خان آفریدی نے کہا کہنا ہے کہ نقل مکانی سے پہلے تقریبا تین سال تک بدامنی اور پر تشدد واقعات کے سبب وادی تیراہ میں باقاعدہ طور پر بچوں کو پولیو اور دیگر بیماریوں سے بچاؤ کے لئے ویکسین مہیا نہیں کیں گئے جبکہ علاقے میں کوئی ہسپتال نہیں اور چھوٹے صحت کے مراکز بدامنی کے سبب بند کردئیے گئے تھے۔

اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک فیصد بچوں کو ویکسین لگائی گئی ہے اور نقل مکانی کے بعد بے گھر خاندان کم سہولیات، شدید گرمی اور کھانے پینے کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے بے گھر بچے شدید مسائل کے شکار ہیں۔ اُنہوں نے کہاکہ تیراہ کے بے گھر خاندان بڑی تعداد میں ضلع خیبر، پشاور اور نوشہرہ میں ایسے علاقوں میں رہائش پزیر ہیں۔ آفریدی قبائل کے بڑی آبادی کے وجہ سے جانے جاتے ہیں اس وجہ سے محکمہ صحت سمیت دیگر اداروں کو چاہیے کہ بے گھر بچوں کے صحت سمیت دیگر سہولیات کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے۔

تحصیل ہیڈکواٹر ہسپتال کے اعداد شمار کے مطابق نقل مکانی سے پہلے او پی ڈی میں علاج کے لئے ماہانہ دس سے گیارہ ہزار مریض آتے تھے تاہم اب یہ تعداد آٹھارہ ہزار تک پہنچ گیا ہے۔ مذکورہ ہسپتال پر پہلے سے مقامی چھ لاکھ آبادی کے ساتھ ضلع اورکرئی اور ضلع پشاور کے مضافاتی علاقوں کے مریض بھی علاج کے لئے آتے ہیں جبکہ تیراہ سے نقل مکانی کے بعد مریضوں کے تعداد میں کافی اضافہ ہوچکا ہے۔

اس کٹیگری ڈی  ہسپتال میں محکمہ صحت کے جانب سے بچوں، گائنی، میڈیکل اور جنرل سرجری کے سہولت کے عملہ تعینات کردیا گیا ہے تاہم انتطامیہ کے جانب سے اضافی سہولیات کے لئے محدود وسائل میں سکن، دل کے امرض، ناک، کان گلہ، سینہ اور الٹرا ساونڈ کے سہولیات مہیا کی جارہی ہے۔ معلومات کے مطابق نقل کے بعد مریضوں کو بہتر صحت کے سہولیات مہیاکرنے کے لئے ہسپتال کو ئی اضافی عملہ اور فنڈ مہیانہیں کی گئی ہے۔

ویکسین سے انکاری تیراہ کے متاثرہ خاندانوں کے بارے میں صحبت خان آفریدی نے کہاکہ اس کی بنیاد وجہ یہ بھی ہے کہ ایک طرف حکومت لوگوں کو اندارج کے لئے پولیو میں ڈیٹا ہونالازمی قرار دیاگیا جبکہ دوسرے جانب ایک بڑی تعداد خاندانوں کے اندراج اس وجہ سے نہیں ہوسکا کہ اُن کا مذکورہ ریکاڈ دستیاب نہیں تھا۔

تو اس وجہ سے متاثرین کا یہی موقف ہے کہ طرف مرعات کو پولیو کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں اور ہمیں نہیں دیا جاتا جبکہ دوسرے جانب ویکسین کے لئے ٹیمیں بھیج دیئے جاتے ہیں۔ اُنہوں نے کہاکہ ہم اپنے بچوں کے بیماریوں سے تحفظ چاہتے ہیں اور انکاری خاندانوں کے تعداد بہت کم، اس کے باوجود بھی آگر کہی پر ایسا  کوئی مسئلہ ہو تو تحریک متاثرین محکمہ صحت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کے لئے تیار ہے۔

ڈاکٹر محمد رفیق کا کہنا ہے کہ بچوں کو بیماریوں سے بچاؤ کے لئے گھروں میں صفائی اور غذا کا خاص خیال رکھنا چاہیے تاکہ ان کے قوت مدافعت مضبوط رہے۔ اُنہوں کہا پینے سے پہلے پانی کو اُبال کر پینا چاہیے، گھروں کے اندر اور باہر کھڑے پانی کو ختم کریں تاکہ ملیریا کے سبب بنے والے مچھروں کے افزائش رو کاجاسکے۔ اُنہوں نے بچوں کو موسم کے شدت سے بچنے کے لئے اقدامات کرنے چاہیے۔

رفیق حیات کاکہنا ہے کہ خسرہ اُن کو بچوں کو زیادہ متاثر کرتی ہے جن کو نومہینے کے عمر میں پہلی بار اور پندرہ مہینے میں دوسری بار خسرے سے بچاؤ کے ویکسین نہیں لگائی گئے ہوں۔ اُنہوں نے متاثرہ بچے کو شدید بخار، زکام، آنکھوں کا سرخ ہونا اور پانی آنے کے ساتھ منہ میں چالے پڑا اس کے بنیادی علامات ہے جبکہ علاج کے مد میں عام ادویات سے اُ ن کے درجہ خرارت قابو کرنا ہوتا ہے۔

اُنہوں نے یک متاثر ہ بچہ ایک سے لیکر اکیس دن کا وقت صحتیابی میں لگ جاتاہے۔اُنہوں نے والدین پر زرو دیا کہ بچوں کو بروقت مختلف بیماریوں سے بچاؤ کے ویکسین لگائیں، آگر کوئی مسئلہ پیدا ہوتاہے تو جلد قریب صحت کے مرکز میں متعلقہ عملے سے رجوع کرنا چاہئے۔

پاکستان میں خسرے کے کیسز میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ عالمی ادار صحت(ڈبلیو ایچ او)کے مطابق رواں سا ل جون تک پاکستان میں 20 ہزار سے زائد مشتبہ خسرہ کیسز رپورٹ ہوچکے تھے، جن میں 96 بچوں کی اموات واقع ہوئے۔ ان اموات میں سندھ کے 53، خیبر پختونخوا کے 24، پنجاب کے 15 اور بلوچستان کے 4 بچے شامل ہیں۔ عالمی سطح پر بھی خسرہ بنیادی طور پر کم عمر بچوں کے لیے خطرناک بیماری ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق سال 2023میں پاکستان میں 17ہزار 722 خسرہ کے کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ 2024 میں یہ تعداد بڑھ کر 24ہزار،709تک پہنچ گئی۔ 2025 میں دستیاب سرویلنس اعداد و شمار کے مطابق 18 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔ڈبلیوایچ او کے مطابق متاثرہ اکثریت غیر ویکسین شدہ یا نامکمل ویکسینیشن والے پانچ سال سے کم عمر بچوں کی تھی۔

محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے مطابق ضلع خیبر میں خسرہ سیمت دیگر امرض کے 43ہزار724بچوں کو ویکسین لگائی گئی اور ٹوٹل بچوں میں 81 فیصدتک رسائی حاصل کی گئی تھی۔ ادارے کے مطابق ضلع خیبر میں خسرے کے واقعات میں اضافے کے سبب خیبر میں اور پشاور کے کچھ علاقوں میں خسرے روک تھام کے لئے خصوصی مہم جاری ہے۔

اعداد شمار کے مطابق پشاور میں چھ لاکھ پچاس ہزاروں بچے موجود ہیں جن میں ویکسینیشن کے لئے محکمہ صحت کے ساتھ دو لاکھ 17ہزار 637بچے رجسٹرڈ ہیں۔ معلومات کے مطابق پشاور میں آخری مہم کے دوران 8ہزار 798بچوں کو ویکسین نہیں لگائی گئی جبکہ ایک لاکھ آٹھ ہزاربچوں کے ویکسین لگوانے کے مدت پورا ہونے کے باجود اُن کو ویکسین نہیں لگائی گئی۔

تحریک متاثرین تیراہ کے مطابق بدامنی، پرتشدد واقعات اور نقل مکانی کے عمل میں 2023 سے جنوری 2026 تک 170 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 200 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کے ہیں۔

صحبت خان آفریدی نے بتایاکہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا فوری طور پر اپنے اعلان کے مطابق تمام جاں بحق افراد کے لواحقین اور زخمیوں کو فوری طور پر مالی معاونت فراہم کریں۔اُنہوں نے کہ شہید کو ایک کروڑ جبکہ زخمی کے لئے پچیس لاکھ روپے پیکچ مختص کردیاگیا ہے تاہم ضلعی حکام کے جانب سے شہید کے لوحقین کو دس لاکھ اور زخمی کو تیس سے پچاس ہزار روپے پیکچ دیں رہاہے جوکہ کسی صورت قبول نہیں۔

تیراہ سے بے گھر لوگوں کے مدد کے لئے غیر سرکاری امدادی ادارو ں کو حکومت کے جانب سے کام کی اجازت نہیں دیا گیا ہے جس کے سبب بچوں اور خواتین کے مسائل میں کمی کے سبب اضافہ ہورہاہے۔عمران ٹکر کے مطابق تیراہ سے بے گھر بچوں کے لیے فوری طور پر محفوظ رہائش، صاف پانی، مناسب خوراک، علاج، ویکسینیشن اور ذہنی و نفسیاتی مدد یقینی بنائی جائے۔

اُنہوں نے بتایا کہ بچوں کو والدین سے بچھڑنے، تشدد، کم عمری کی مزدوری، شادی، استحصال اور اغوا سے بچانے کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے جبکہ تعلیم بحال رکھنے کے لیے عارضی تعلیمی مراکز قائم کیے جائیں اور بیماری یا غذائی قلت کے شکار بچوں کی فوری نشاندہی کی جائے۔

اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کو صرف بے گھر خاندانوں کا حصہ نہیں بلکہ الگ حقوق رکھنے والے متاثرہ افراد سمجھتے ہوئے ان کے تحفظ، صحت، تعلیم اور بحالی کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔

رواں سال جنوری کے اوئل میں تیراہ سے نقل مکانی کا عمل شروع ہوا جوکہ فروری کے وائل میں مکمل ہونا تھا تاہم ابتک بے گھر خاندانوں کے اندارج اور مالی معاونت کے حصول کا عمل مکمل نہیں کیا گیا ہے۔

حکومت کے جانب سے بے گھر لوگوں کو دس اپریل تک اپنے گھروں کو واپس بھیجنے کا وعدہ کیا تاہم بار بار مذکرات کے بعد دس اکتوبر واپسی کے تاریخ مقرر کیا گیا ہے تاہم لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ایسا وقت ہے کہ وادی تیراہ میں شدید موسم ہوتا ہے اور گھروں کے مرمت اور بحالی کے ساتھ سردی سے بچاؤ کے لئے لوگوں کے پاس وسائل موجود نہ ہونے کے وجہ سے دوسرا انسانی بحران پیدا ہونے کے اندیشہ ہے۔

اسلام گل
بانی و مدیر اعلٰی ٹائم لائن اردو، اسلام گل افریدی مختلف قومی و بین الاقوامی میڈیا اداروں کےساتھ کام کرنے والے سینئر صحافی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں