قبائلی ضلع باجوڑ میں محکمہ زراعت(توسیع) کے اعداد و شمار کے مطابق ایک کروڑ دس لاکھ جنگلی زیتون کے پودہ جات ضلع کے آٹھ تحصیلوں  خار، واڑہ ماموند، لوئی ماموند، سلارزئی ، ناواگئی ، ارنگ ، برنگ، اتمانخیل اور چمرکنڈ کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں۔ جس کے قلم کاری کا عمل 2005 سے جاری ہے لیکن پچھلے چار سالوں سے اس میں تیزی آئی ہے ۔ جس کی دو بنیادی وجوہات ہے جس میں ایک زیتون  کی تیل کی پیدوار کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور دوسری وجہ موسمیاتی تبدیلی کی اثرات کی کمی میں ان کا کردار ہے۔

صوبائی سیکرٹری زراعت  ولائیو سٹاک  بختیار خان کے مطابق باجوڑ کو جلد وادی زیتون بنانے میں کردار ادا کرینگے۔ کیونکہ باجوڑ کے زمین کافی زرخیز اور زمیندار بہت محنتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ باجوڑ زیتون کے مصنوعات، تیل، اچار اور قہوہ پوری ملک میں مشہور ہے ۔

ڈائریکٹر جنرل محکمہ زراعت توسیع  قبائلی اضلاع (مرجڈ ایریا)  مراد علی خان کے مطابق رواں سال قلم کاری  کے اس منصوبے کے تحت ضلع باجوڑ میں  تقریباً ایک لاکھ  چالیس ہزار جنگلی زیتون کے پودوں میں قلم کاری کی جائیگی۔ اس سے باجوڑ کی معیشت، لوگوں کو روزگار اور پیداوار میں بہتری آئیگی۔ انہوں نے  کہا کہ صوبائی حکومت کے ہدایات کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے محکمہ زراعت باجوڑ نے صوبائی سیکرٹری زراعت زراعت ولائیو سٹاک  بختیار خان کے کاوشوں سے زیتون قلم کاری منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے۔ جوکہ باجوڑ کے ترقی میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگی۔

محکمہ زراعت توسیع ضلع باجوڑ کے ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر اسلام الحق  نے جنگلی زیتون کے پودے میں قلم لگا کر قلم کاری کے منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کردیا۔ رواں سیزن میں ایک لاکھ چالیس ہزار جنگلی زیتون کی قلم کاری کی جائیگی۔

اسلام الحق  کے مطابق رواں سال قلم کاری  کے اس منصوبے کے تحت ضلع باجوڑ میں تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار جنگلی زیتون کے پودوں میں قلم کاری کی جائیگی۔ اس سے باجوڑ کی معیشت، لوگوں کو روزگار اور پیداوار میں بہتری آئیگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈائریکٹر جنرل محکمہ زراعت  قبائلی اضلاع (مرجد ایریا ) مراد علی خان کے خصوصی دلچسپی اور احکامات  کے مطابق زیتون کے قلم کاری کا عمل  جاری ہے اور یہی وجہ ہے کہ انشاء اللہ  عنقریب باجوڑ زیتون کی وادی تصور ہوگی۔

قلم کاری کے اس فتتاحی تقریب کے موقع پر زراعت آفیسرخار ڈاکٹر سبحان الدین ، زراعت آفیسر سلارزئی  امداد اللہ ، فیلڈ اسسٹنٹ نورلامین اور سرکل انچارج نواز خان ب کے علاوہ علاقے کے زمیدار  بھی موجود تھے ۔

ڈاکٹر سبحان الدین  نے کہا کہ باجوڑ کے ایک کروڑ دس لاکھ جنگلی زیتون میں سے  محکمہ زراعت باجوڑ  کئی  سالوں  قلم کاری کررہا ہے۔ اور اب تک تقریباً چھ لاکھ جنگلی زیتون میں قلم کاری مکمل ہوچکی ہے جوکہ باجوڑ اور خطے کیلئے نیک شگون ہے ۔ جن پودوں میں قلمکاری ہوچکی ہے ان میں سے زیادہ تر نے پیداوار شروع کی ہے جس سے اچھی معیار کی تیل حاصل ہورہی ہے جو تین ہزار لیٹر سالانہ ہے جبکہ اس میں ہر سال اضافہ ہورہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ محکمہ زراعت باجوڑ  وقتا فواقتا اپنے سٹاف اور زمینداروں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کے لئے  زیتون کی اہمیت ، قلم کاری ، دیکھ بھال اور دیگر اہم امور پر تربیت  اور آگاہی سشنز  کراتے ہیں جس کے وجہ سے علاقے میں زیتون کے آفادیت سے اب لوگ واقف ہو چکے ہیں اور قلمکاری کی عمل میں دلچسپی کے ساتھ حصہ لے رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ڈائریکٹر جنرل محکمہ زراعت  قبائلی اضلاع (مرجد ایریا ) مراد علی خان کے خصوصی دلچسپی اور احکامات کے مطابق  زیتون کے قلم کاری کا عمل آگے  بڑھایا  جارہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ انشاء اللہ عنقریب باجوڑ کو زیتون کی وادی تصور ہوگی ۔ پیوندکاری کی اس منصوبے سے زیتون کی کاشت، روزگار، معیشت، ترقی ،پیداوار، اور مارکیٹنگ میں ممکنہ اضافہ ہوگا اور باجوڑ کو ایک نئی پہچان وادی زیتون کی شکل میں مل بھی جائیگی ۔

زیتون کی اہمیت:  زیتون تو مسلمانوں کے لئے اس وجہ سے بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ زیتون کی اہمیت و افادیت قرآن مجید کے سورہ التین کے ابتدائی آیت مبارکہ سے صاف واضح ہے جس میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ  ’ ’قسم ہے انجیر اور زیتون کی“ مفسرین کے مطابق جس چیزپر اللہ تعالی نے قرآن مجید میں قسم کیا ہے تو وہ بہت بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔

 مو سمیاتی تبدیلی کی منفی اثرات روکنے میں زیتون کا کردار: آج کل پوری دنیا مین موسمیاتی تبدیلی کے وجہ سے کئی تبدیلی رونما ہوئے ہیں جس کے وجہ سے پاکستان پر بھی اس کے منفی اثرات ہوئے ہے جو بے وقت کے بارشوں، سیلابوں اور خشکی کے شکل میں ظاہر ہونا شروع ہوئے ہیں تو اسی وجہ سے زیتون کی اہمیت اور بھی زیادہ محسوس کی گئی ہے کیونکہ زیتون ایک ماحول دوست پودہ ہے جو ہمیشہ سرسبز رہتا ہے اور اپنے اردگرد ماحول کو صاف ستھرا رکھتا ہے۔

زیتون پودے کی موسمی خواص :  پلانٹ پتھالوجی کے ماہرین کے مطابق زیتون کاپودہ دنیا کی قدیم ترین پودہ ہے جس کی عمردوسرے پودوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔ اگردیکھا جائے تو پچھلے کئی سالوں سے ماحولیاتی تبدیلی کے وجہ سے باجوڑ میں پانی کا سطح نیچے چلا گیا ہے اور بارشیں بھی اسی مقدار میں نہیں ہوتی جو پہلے ہوتے تھے اور جب ہوتی ہے تو وقت پر نہیں ہوتی۔ دوسرے پودوں کے مقابلے میں زیتون کے پودوں کو پانی کی ضرورت کم ہوتی ہے اورزیتون کے پودے کے لئے سالانہ5.5mm پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس لئے زیتون ایک ماحول دوست پودہ ہے اور سدا بہار بھی ہے جس سے ماحول خوشگوار رہتا ہے۔ یہ دوسرے پودوں کے مقابلے میں ہر طرح کے موسم کا مقابلہ رکھنے کے صلاحیت رکھتی ہے۔

زیتون کی طبعی فوائد:  زیتون کے طبعی فوائد کے غیرمسلم بھی معترف ہے سپین کی ایک کہاوت آج بھی ضرب المثل ہے کہ زیتون کی تیل تمام امراض کا علاج ہے۔ زمانہ قدیم سے لیکراب تک تمام آطباء و حکماء اور ڈاکٹروں نے زیتوں کے روغن (تیل) کو انسانی صحت کے لئے بہت سے فوائد کے ذکر کئے ہیں جن سے موجودہ وقت میں زیادہ تر لوگ ناواقف ہیں۔ زیتون کے تیل جن بیماریوں میں مفید ہے اس میں سے چند مندرجہ زیل ہیں۔

1)  تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ اگر ہڈیوں میں درد رہتا ہو تو روغن زیتوں کی مالش مفید ہے۔ روغن زیتون سے نہ صرف پٹھے مظبوط ہوتے ہیں بلکہ اعضاء کوبھی تقویت ملتی ہے

2 )  جدید تحقیق سے یہ ثابت ہوئی ہے کہ زیتون کی روغن سے جسم میں چربی پیدا نہیں ہوتی اس لئے یہ امراض قلب اور مو ٹاپے سے بچنے کے لئے مفید ہے۔ اس کے استعمال سے امراض قلب، شریانوں کی تنگی اور ہائی بلڈ پریشر کے مسائل کم ہی ہوتے ہیں۔ زیتون کے تیل کے خاص اجزاء کو اولین(Olein) کہتے ہیں یہ طویل عرصے تاک خشک نہیں ہوتا اور اس سے بدبو پیدا نہیں ہوتی۔

 3) زیتون کا پھل عام طور پر 67فیصد پانی،33فیصدتیل،5فیصدپروٹین اور 1فیصد نمکیات پر مشتمل ہوتا ہیں۔ زیتون کو پکا کر مختلف عوارض میں بطور دوا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسے کے بگڑے ہوئے  السر(زخم)  اور مختلف قسم کے پھوڑوں کے لئے مرہم تیار کئے جاتے ہیں۔

3) روغن زیتون کو دانتوں پر ملنے سے نہ صرف دانٹ بلکہ مسوڑے بھی مظبوط ہوتے ہیں۔

( 5) روغن زیتون جسم میں طاقت فراہم کرتا ہے اور یہ توانائی کا سرچشمہ ہے۔

6)  آنتوں کی سوزش، نظام انہضام کی خرابی،بواسیر کے مسوں کے درد اور قبض میں روغن زیتون کا استعمال بہت مفید ہے۔

7) زیتوں کے روغن خونی کی روانی کو تیز کرتا ہے  اور چکنائی کو رگوں میں جمنے نہیں دیتا جس کے وجہ سے ہارٹ اٹیک کا خطرہ کم رہتا ہے۔

8) زیتون کا تیل ناخنوں کے لئے مفید ہے  اور جلد کے لئے بہترین موسچرائیزز ہے  یہ جلد کو اس کی مطلوبہ نمی فراہم کرتا ہے۔

 زیتون کے اقسام:  محکمہ زراعت(توسیع) باجوڑخارکے آفیسر ڈاکتر سبحان الدین کے مطابق زیتون کے تقریباپانچ کے قریب اقسام ہے جس میں تین اقسام ایک جگہ پر میکس لگانا ضروری ہے کیونکہ اس میں کچھ کراس پولینیشن ہے اور کچھ سیلف ہے۔ زیتون کے مشہور اقسام میں اربیکوینا،  لیسینا،  اربوسیبا،  پینڈولینا اور پرینشو شامل ہے۔ اس میں اربیکوینا کے پیداوار اچھی ہے اس لئے ضلع باجوڑ میں اس کے باغات زیادہ لگا ئے جا رہے ہے۔

باجوڑ کی آب وہوا:   اگر دیکھا جائے تو پوری قبائلی اضلاع زیتون کے لئے موزوں ہے لیکن  باجوڑ کی آب و ہوا اور زمینی خواص زیتون کے لئے انتہائی موزوں ہے۔ یہاں کی آب و ہوا اور اٹلی اور سپین کے آب و ہوا میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ سب ٹراپیکل زون میں آتا ہے جس کے وجہ سے یہاں پر زیتون کے پودے اچھی پیداوار دیتی ہے۔

محکمہ زراعت توسیع باجوڑ کے طرف سے لگائے گئے باغات:  باجوڑ کے موزوں آب وہوا کے پیش نظر یہاں پر 450کنال اراضی پر محکمہ زراعت توسیع نے باجوڑ کے مختلف علاقوں میں زمینداروں کو زیتون کے 40000پودہ جات لگائے ہیں جو اٹلی سے برآمد(امپورٹ) کئے گئے تھے اور زمینداروں کو مفت دئے گئے تھے۔اور آئندہ مزید باغات بھی لگائے جائینگے۔

باجوڑ میں زیتون کے پھل سے تیل نکالنے کے لئے جدید مشین موجود ہے اورباجوڑ میں رواں سال 10000ہزار کلوگرام زیتون کی پھل پیدا ہوئی ہے جس سے 3000ہزار لیٹر تک زیتون کے تیل حاصل ہونے کی توقع ہے۔

زیتون کے باغات لگانے کا طریقہ: زیتون کے ماہرین کے مطابق   ایک ایکڑ رقبے پر کم از کم زیتون کے 110پودہ جات لگانا چائیے اور اس کو سالانہ گھریلوں ڈھیرانی کھاد اور دیگر کھاد کلشیئم، پوٹاش، سونا یوریا مناسب اور زرعی ماہرین کے مشورے سے ڈالنا چائیے۔

معاشی ترقی میں زیتون کی اہمیت: محکمہ زراعت(توسیع)  باجوڑ کے ڈسٹرکت ڈائر یکٹر  اسلام الحق نے  کہا کہ باجوڑ کے زمینداروں میں زیتون کے باغات لگانے کے لئے اعلیٰ  قسم کی زیتون کے پودہ جات   محکمہ زراعت  مفت تقسیم کریگی۔ انہوں نے باجوڑ کے زمینداروں کو  یہ خوشخبری بھی  دی کہ عمومی طور پر زیتون کے پھل میں 10فیصد تیل کی صلاحیت موجود ہوتی ہے لیکن باجوڑ کے زیتون کے پھل میں یہ 20فیصد ہے جو خوش قسمتی کے بات ہے۔

انہوں نے کہا کے زیتونسے 4قسم کے تیل حاصل کیا جاتا ہے جس کی  فی لیٹرقیمت مارکیٹ میں 2500سے لیکر3000  تک ہے اور ایک زیتون کی درخت سے 20لیٹر سے لیکر 200لیٹر تک با آسانی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ زیتون سے نہ صر ف تیل (روغن)حاصل کیا جاتا بلکہ اس کے پتے بھی کئی بیماریوں کے لئے اکسیر ہے۔ تو اس سے اندازہ لگائے کہ زیتون کے باغات سے چند سالوں میں باجوڑ کی عوام کی تقدیر بدل سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ للہ نے با جوڑ پر خصوصی احسان کیا ہے کہ باجوڑ کی آب و ہوا اس کے لئے بہت موزوں بنایا ہے اور باجوڑ میں ایک کروڑ گیارہ لاکھ صرف جنگلی زیتون موجود ہے جس کے پیوند کاری کا کا م محکمہ زراعت(توسیع) کے طرف سے ترجیحی بنیادوں پر پچھلے 17سالوں سے جاری ہے۔ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ محکمہ زراعت (توسیع) بھی باجوڑ کے لوگوں کو ہر سال زیتون کے باغات لگا رہے ہیں اور رواں سال بھی 70 ایکڑ رقبے پر زیتون کے باغات لگائینگے.

اسلام الحق زمینداروں پر زور دیا کہ ان پودہ جات کے اسی طرح خیال رکھیں جس طرح وہ اپنے بچوں کا رکھتے ہیں کیونکہ اس سے باجور کے عوام کا معیشت وابستہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ زیتون کے تیل (روعن) نکالنے کے لئے محکمہ زراعت باجوڑ کے پاس جدید مشنری موجود ہیں۔ جو نہ صرف باجوڑ کے عوام کے لئے صوبائی حکومت کا شاندار تحفہ ہے بلکہ دیر،سوات اور ضلع مہمند سمیت دیگر علاقوں کے زمیندار بھی زیتون کے پھل یہاں تیل نکالنے کے لئے لاتے ہیں اور انشاء اللہ بہت جلد باجوڑ کو وادی زیتون قرار دیا جائے گا۔

شاہ خالد شاہ جی
شاہ خالد شاہ جی کا تعلق قبائلی ضلع باجوڑ سے ہے۔ اور پچھلے 15 سالوں سے صحافت سے وابستہ ہے۔ وہ ایک ایوارڈ ہافتہ تحقیقاتی جرنلسٹ ہے اور مختلف نیوز ویب سائٹس، اخبارات، جرائد اور ریڈیوز کے لئے رپورٹینگ کا تجربہ رکھتا ہے۔ شاہ جی زراعت، تعلیم، کاروبار۔ ثقافت سمیت سماجی مسائل پر رپورٹنگ کررہا ہے لیکن اس کا موسمیاتی تبدیلی ( کلائیمیٹ چینج ) رپورٹنگ میں وسیع تجربہ ہے۔ جس کے زریعے وہ لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی کوششوں میں مصرف ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں