
ضلع مہمند کی رہائشی بس بی بی کا تعلق ایک کاشتکار گھرانے سے ہے۔ ان کے چار بچے ہیں اور ان کے شوہر کے ساتھ گھر کی تمام ضروریات سبزیوں اور فصلوں کی پیداوار سے حاصل ہونے والی آمدنی سے پوری ہوتی ہیں۔ موجودہ وقت میں انہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ دس مرلہ زمین پر کھیرے کی کاشت کی ہے، جبکہ ایک کنال زمین پر گلداؤدی کے پھولوں اور پیاز کی پنیری کی کاشت کے لیے زمین تیار کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کاشت سے لے کر فصل کی کٹائی تک زیادہ تر کام وہ خود یا اپنے بچوں سے کرواتی ہیں، تاہم فصل سے حاصل ہونے والی آمدنی میں ان کا کوئی باقاعدہ حصہ نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق شوہر اپنی مرضی سے انہیں گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے رقم دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مویشیوں اور مرغیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی شوہر کے پاس ہی جاتی ہے۔
یہ مسئلہ صرف بس بی بی تک محدود نہیں بلکہ زرعی شعبے میں کام کرنے والی بیشتر خواتین کو اسی صورتحال کا سامنا ہے، جہاں خواتین کسانوں کے مقابلے میں مرد کئی گنا زیادہ مالی فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے 2024-25 لیبر فورس سروے کے مطابق پاکستان میں زرعی شعبہ خواتین کے روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ملازمت کرنے والی خواتین میں سے 61.4 فیصد زراعت، جنگلات اور ماہی گیری کے شعبوں سے وابستہ ہیں، جبکہ مردوں میں یہ شرح 24.5 فیصد ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں روزگار رکھنے والی ہر دس خواتین میں تقریباً چھ خواتین زرعی شعبے سے وابستہ ہیں۔ عالمی ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) کے مطابق زرعی شعبے میں 55 فیصد سے زائد خواتین کام کرتی ہیں۔
ضلع خیبر کی سعیدہ بی بی (فرضی نام) دو کنال زمین پر کریلے، توری اور کدو کی کاشت کر رہی ہیں۔ سخت محنت اور طویل جدوجہد کے بعد ان فصلوں کی پیداوار بہتر ہونا شروع ہو گئی ہے، تاہم یہ سب کچھ آسان نہیں تھا۔ ماضی کے مقابلے میں ان کی معاشی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے، جو اس وقت ممکن ہوئی جب کچھ عرصہ قبل علاقے میں عالمی ادارہ خوراک و زراعت اور محکمہ زراعت خیبر پختونخوا کی جانب سے تربیت اور آگاہی فراہم کی گئی۔ ان کے بقول انہیں نہ صرف پیداوار بڑھانے کے جدید طریقے سیکھنے کو ملے بلکہ فصلوں سے حاصل ہونے والی آمدنی میں بھی مناسب حصہ ملنا شروع ہوا، جس سے گھریلو ضروریات پوری کرنا آسان ہو گیا ہے۔
محکمہ زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2000 میں ادارے میں صرف ایک خاتون افسر موجود تھیں، جبکہ 2023 میں یہ تعداد بڑھ کر 40 تک پہنچ گئی۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران اس تعداد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ محکمہ زراعت خیبر پختونخوا میں صائمہ نذیر پلانٹ پروٹیکشن کی ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں اور ساتھ ہی صنفی مسائل کے حل کی ذمہ داریاں بھی نبھا رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ آبادی کا تقریباً 52 فیصد حصہ خواتین پر مشتمل ہے، جبکہ 70 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے جہاں آمدنی کا بڑا ذریعہ زراعت اور مویشی پالنا ہے۔ ان کے مطابق بیج بونے سے لے کر فصل کی دیکھ بھال اور منڈی تک پہنچانے کے لیے پیکنگ کے مراحل تک زیادہ تر کام خواتین انجام دیتی ہیں، تاہم آمدنی میں ان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں ایک فیصد سے بھی کم زرعی زمین خواتین کی ملکیت میں ہے، جو زرعی آمدنی سے محرومی کی ایک بڑی وجہ ہے۔
گل مینہ نے اپنے شوہر کی مدد سے ایک کنال زمین پر پیاز اور ٹماٹر کی اعلیٰ معیار کی پنیری تیار کی، جس سے انہیں ایک لاکھ روپے سے زائد آمدنی حاصل ہوئی، جبکہ ماضی میں یہ آمدنی بمشکل 20 سے 30 ہزار روپے تک محدود تھی۔ اسی وجہ سے اب انہیں آمدنی میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ حصہ ملتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گاؤں کی سطح پر خواتین کاشتکاروں کی تربیت کے لیے فارمر فیلڈ اسکولز (FFS) قائم کیے گئے ہیں، جہاں خواتین عملہ جدید زرعی طریقوں کی تربیت دیتا ہے اور ضروری آلات بھی فراہم کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں فصلیں بیماریوں سے محفوظ رہتی ہیں اور آمدنی میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔
گل مینہ کے مطابق پہلے وہ روایتی طریقوں سے کاشتکاری کرتی تھیں، جس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے بمشکل گھر کے اخراجات پورے ہوتے تھے، تاہم اب پیداوار اور آمدنی میں اضافے کے باعث انہیں شوہر کی جانب سے آمدنی میں بہتر حصہ مل رہا ہے۔
عالمی ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) صوبے میں زرعی شعبے میں خواتین کی معاشی ترقی کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں ادارے کے سربراہ کیال اکماتبیک کے مطابق جاری پروگرام کے تحت ایف اے او ضم شدہ اضلاع میں کام کر رہا ہے، جن کی اپنی مخصوص زمینی، سماجی، معاشی، زرعی اور انتظامی صورتحال ہے جو خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع سے مختلف ہے۔
ان کے بقول ادارہ مرد و خواتین سمیت تمام کاشتکاروں کی ہر ممکن معاونت کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خصوصاً خواتین کسانوں کی تربیت اور رہنمائی کے لیے فارمر فیلڈ اسکولز (FFS) قائم کیے گئے ہیں۔ یہ روایتی اسکول نہیں بلکہ ایسے تربیتی مراکز ہیں جہاں خواتین کو کھیتوں میں عملی اور سائنسی بنیادوں پر تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ یہاں انہیں جدید کاشتکاری، بہتر پیداوار کے حصول، پانی کے مؤثر استعمال، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور فصل کی منڈی تک رسائی اور فروخت کے طریقہ کار سے متعلق آگاہی دی جاتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ فارمر فیلڈ اسکولز میں خواتین کاشتکاروں کو لائیو اسٹاک کے شعبے سے متعلق بھی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ ضم شدہ اضلاع باجوڑ، مہمند، خیبر اور اورکزئی میں 230 فارمر فیلڈ اسکولز قائم کیے جا چکے ہیں۔ ان میں سے 98 خواتین کے لیے مخصوص ہیں، جہاں 21 ہزار سے زائد خواتین کو تربیت دی جا چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال سیلاب کے باعث صوبے کے تین اضلاع بونیر، صوابی اور سوات میں زرعی شعبے کو نقصان پہنچا، جس کے ازالے اور بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے گئے۔
صائمہ نذیر کے مطابق فصل کی 30 سے 40 فیصد پیداوار ضائع ہو جاتی ہے کیونکہ بیشتر کاشتکاروں کے پاس زرعی اجناس کو سائنسی بنیادوں پر محفوظ رکھنے کی سہولیات موجود نہیں ہوتیں۔ وسائل اور آگاہی کی کمی کے باعث انہیں بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے آگاہی، تربیت اور ضروری آلات کی فراہمی کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
محکمہ زراعت خیبر پختونخوا کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں 18 لاکھ 21 ہزار 734 ہیکٹر زمین زیرِ کاشت ہے، جن میں سے 9 لاکھ 69 ہزار 467 ہیکٹر مختلف ذرائع سے سیراب ہوتی ہے۔ ایگریکلچر انفارمیشن ونگ کے مطابق محکمہ کے ساتھ صوبہ بھر میں 8 لاکھ 25 ہزار 250 مرد اور ایک لاکھ ایک ہزار 500 خواتین کاشتکار رجسٹرڈ ہیں۔ محکمہ کے ہیلپ لائن نمبر پر ماہانہ پانچ سے ساڑھے چھ ہزار کالز موصول ہوتی ہیں، تاہم خواتین کالرز کے الگ اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔
خواتین کی زرعی شعبے میں معاشی خودمختاری کی راہ میں رکاوٹیں
کیال اکماتبیک کے مطابق ہمیں اس تاثر اور ذہنیت کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کہ خواتین صرف معیشت میں معاون کردار ادا کرتی ہیں، کیونکہ حقیقت میں وہ زرعی شعبے کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ زمینی حقائق کے مطابق ضم شدہ اضلاع میں مردوں کی بالادستی پر مبنی معاشرتی نظام موجود ہے، جہاں خواتین تک مؤثر رسائی کے لیے پہلے مردوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ خواتین کو تربیت اور دیگر مواقع کے حصول میں تعاون فراہم کریں۔
ان کے مطابق خواتین کی زرعی شعبے میں معاشی خودمختاری اور استحکام کی راہ میں کئی رکاوٹیں موجود ہیں، جن میں سب سے اہم زمین کی ملکیت کا مسئلہ ہے۔ خواتین کے نام پر زمین یا دیگر اثاثے نہ ہونے کی وجہ سے انہیں بینکوں سے قرض اور دیگر مالیاتی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔
اسی طرح بعض اضلاع میں خواتین زرعی توسیعی کارکنوں کی محدود تعداد کے باعث خواتین کسان جدید زرعی طریقوں، سرکاری معاونت اور دستیاب مواقع سے متعلق معلومات حاصل نہیں کر پاتیں۔ ان کے بقول خواتین کی محدود نقل و حرکت بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے، کیونکہ تربیت، منڈیوں اور ویلیو ایڈیشن کے مواقع تک رسائی کے لیے انہیں اکثر خاندان کے کسی مرد فرد کی اجازت یا ہمراہی درکار ہوتی ہے۔
بعض علاقوں میں خواتین کسانوں کے پاس قومی شناختی کارڈ نہ ہونے کے باعث وہ سرکاری اداروں میں رجسٹرڈ نہیں ہو پاتیں، جس کے نتیجے میں مالی معاونت، زرعی سہولیات اور دیگر حکومتی خدمات سے محروم رہ جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ موجودہ مالیاتی مصنوعات بھی اکثر خواتین کی مخصوص ضروریات اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کی جاتیں۔ یہی عوامل خواتین کی زرعی محنت کو مستقل آمدنی، بہتر معاشی مواقع اور حقیقی معاشی خودمختاری میں تبدیل کرنے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔
صائمہ نذیر کے مطابق خواتین کاشتکاروں کی رہنمائی کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک محکمہ زراعت کی ہیلپ لائن فعال رہتی ہے، جہاں خواتین عملہ ان کی رہنمائی کے لیے موجود ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری سطح پر فراہم کی جانے والی سہولیات تک خواتین کاشتکاروں کی رسائی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ ہو بلکہ خواتین کی آمدنی اور معاشی استحکام بھی بہتر ہو سکے۔
محکمہ زراعت کے خواتین کاشتکاروں کے لیے منصوبے
صائمہ نذیر کے مطابق خواتین کاشتکاروں کی محکمہ زراعت کے ساتھ رجسٹریشن کا بنیادی مقصد انہیں زرعی شعبے میں مرد کاشتکاروں کے مقابلے میں زیادہ سہولیات فراہم کرنا ہے۔ ان سہولیات میں تربیت، رعایتی نرخوں پر بیج اور زرعی آلات کی فراہمی، نیز آسان شرائط پر مالی معاونت شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ محکمہ زراعت خیبر پختونخوا نے 2016 میں خواتین کاشتکاروں کے لیے کچن گارڈننگ اور ویلیو ایڈیشن سے متعلق ایک بڑا تربیتی پروگرام شروع کیا، جس پر عملی کام 2017 میں شروع ہوا۔ اس پروگرام کے تحت تقریباً نو ہزار خواتین کو تربیت فراہم کی گئی۔ تاہم بعد ازاں کورونا وبا اور بی آر ٹی منصوبے کے لیے فنڈز کی منتقلی کے باعث یہ منصوبہ جاری نہ رہ سکا۔
ان کے مطابق 2022 کے سیلاب میں صوبے کے آٹھ اضلاع شدید متاثر ہوئے، جس کے بعد حکومت نے رجسٹرڈ کاشتکاروں کو کھاد، بیج اور زرعی آلات رعایتی نرخوں پر فراہم کرنے کا منصوبہ شروع کیا۔ اس منصوبے کے تحت خواتین کو نہ صرف یہ سہولیات رعایتی قیمتوں پر فراہم کی جاتی ہیں بلکہ اضافی مالی معاونت بھی دی جاتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 2025-26 میں ورلڈ بینک کی 8.9 ملین ڈالر مالی معاونت سے ’’کے پی رورل انویسٹمنٹ پروگرام‘‘ کے تحت 112 تربیتی پروگراموں کے ذریعے 28 ہزار خواتین کو تربیت فراہم کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت ضم شدہ قبائلی اضلاع باجوڑ، خیبر، اورکزئی، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کی خواتین کاشتکاروں کو تربیت دی جائے گی۔ تمام انتظامات مکمل کیے جا چکے ہیں اور فنڈز جاری ہوتے ہی منصوبے پر عملی کام شروع کر دیا جائے گا۔
محکمہ زراعت کے مطابق فصلوں اور باغات کو نقصان دہ کیڑوں سے محفوظ رکھنے اور کیمیائی کھادوں کے بجائے نامیاتی کھاد کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے فوڈ سکیورٹی کے سلسلے میں بائیولوجیکل ٹیکنالوجی کا ایک منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت صوبے کے ہر ضلع میں لڑکیوں کے بیس اسکولوں میں آٹھویں، نویں اور دسویں جماعت کی طالبات کو عملی تربیت فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ محکمہ نے اپنے سالانہ بجٹ میں آگاہی سے متعلق بڑی تقریبات کے دس فیصد وسائل خواتین کے لیے مختص کر دیے ہیں۔
خواتین کی معاشی خودمختاری کے لیے ایف اے او کی ترجیحات
ایف اے او مستقبل میں خواتین کاشتکاروں کو زرعی اور معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے کئی اہم شعبوں پر توجہ دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان میں ’’خواتین اور پانی‘‘ ایک اہم شعبہ ہے، کیونکہ خواتین کھیتی باڑی، مویشی پالنے، فصلوں کی کٹائی اور زرعی پیداوار کی تیاری میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، جبکہ پانی کی کمی ان کی سرگرمیوں اور پیداوار کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔
اسی لیے خواتین کو پانی کے مؤثر استعمال، پانی کے تحفظ اور بہتر زرعی پیداوار کے طریقوں سے آگاہ کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اسی طرح ماہی پروری اور آبی زراعت میں بھی خواتین کے لیے معاشی مواقع پیدا کرنے، خصوصاً مچھلی اور دیگر آبی مصنوعات کی تیاری اور پراسیسنگ میں ان کی شمولیت بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔
مویشی پالنے کے شعبے میں خواتین کے کردار کو مزید مضبوط بنانا بھی ترجیحات میں شامل ہے، کیونکہ وہ مویشیوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ ان سے حاصل ہونے والی خوراک کے معیار اور حفاظت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
اس کے علاوہ غذائیت کے شعبے پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی، کیونکہ خاندان میں خوراک کے انتخاب، تیاری اور استعمال سے متعلق فیصلوں میں خواتین کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ خواتین کی معلومات، مہارتوں اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کو مضبوط بنا کر نہ صرف ان کے لیے آمدنی کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں بلکہ خاندانوں اور پوری برادری کی غذائی صورتحال، خصوصاً بچوں میں غذائی قلت، کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
مجموعی طور پر ایف اے او خواتین کو صرف زرعی پیداوار تک محدود رکھنے کے بجائے پانی، ماہی پروری، مویشی پالنے، غذائیت، زرعی مصنوعات کی تیاری اور منڈی تک رسائی کے مختلف شعبوں سے جوڑ کر ان کی معاشی خودمختاری اور کردار کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔
خواتین کاشتکار اور ڈیجیٹل لٹریسی
زرعی شعبے میں خواتین کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور جدید آلات کے استعمال سے متعلق تربیت فراہم کرنے کے لیے یو این ویمن پاکستان اور ایف اے او نے مشترکہ طور پر ضم شدہ قبائلی اضلاع باجوڑ، مہمند اور خیبر کی 800 سے زائد خواتین کاشتکاروں کو تربیت فراہم کی، جبکہ انہیں موبائل فون اور پاور بینک بھی مہیا کیے گئے۔
یو این ویمن کے مطابق اس تربیت کا مقصد خواتین کی زرعی پیداوار میں بہتری، منڈیوں تک رسائی میں توسیع اور معاشی و ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا تھا۔
دور دراز اور حساس اضلاع میں اس منصوبے سے ایسی خواتین کاشتکاروں نے فائدہ اٹھایا جن کی رسمی تعلیم بہت کم یا بالکل نہیں تھی۔ خواتین کی تربیت میں درپیش رکاوٹوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع اور خصوصی طریقہ کار اختیار کیا گیا۔ انہیں اینڈرائیڈ موبائل فونز کے عملی استعمال کی تربیت دی گئی، جبکہ آسان معلوماتی پیکیجز بھی فراہم کیے گئے جن میں کیو آر کوڈز کے ذریعے تربیتی یوٹیوب ویڈیوز تک رسائی ممکن تھی۔
اس کے علاوہ روزمرہ استعمال کے لیے ایک تصویری رہنما کتابچہ بھی تیار کیا گیا۔ ان طریقوں کے ذریعے کم خواندگی رکھنے والی خواتین کے لیے تربیت میں مؤثر شرکت اور حاصل کردہ ڈیجیٹل مہارتوں کو اپنی روزمرہ زرعی سرگرمیوں میں استعمال کرنا آسان بنایا گیا۔
موسمیاتی تبدیلی اور خواتین کاشتکار
موسمیاتی تبدیلی خواتین کاشتکاروں کے لیے ایک اضافی اور سنگین چیلنج بن رہی ہے، کیونکہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، پانی کی قلت اور موسم میں غیر معمولی تبدیلیاں زرعی پیداوار اور مویشی پالنے دونوں کو متاثر کر رہی ہیں۔
ایف اے او خواتین کاشتکاروں کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے موسمیاتی موافق اور جدید زرعی طریقوں سے آگاہ کر رہا ہے۔ کسانوں کو فصلوں کے لیے موزوں موسمی حالات، پانی کے مؤثر استعمال، جدید آبپاشی، فصلوں کی بیماریوں کے تدارک اور مٹی کے بہتر انتظام کی تربیت دی جا رہی ہے۔
مویشی پالنے کے شعبے میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث جانوروں کی صحت اور پیداواری صلاحیت متاثر ہوتی ہے، جس سے دودھ اور گوشت کی مقدار اور معیار میں کمی آ سکتی ہے۔ اس کے تدارک کے لیے خواتین کو بہتر خوراک، بیماریوں کے انتظام اور جانوروں کے لیے چارہ محفوظ کرنے کے جدید طریقوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔
اسی طرح ڈرپ آبپاشی اور کھاد کو آبپاشی کے پانی کے ساتھ مؤثر انداز میں استعمال کرنے جیسے جدید طریقوں کے ذریعے پانی اور کھاد کے استعمال میں کمی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایف اے او کے مطابق خواتین کو موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زرعی طریقوں کی تربیت دینا نہ صرف پیداوار اور آمدنی میں اضافے کا ذریعہ بن سکتا ہے بلکہ بدلتے ہوئے موسمی حالات میں خواتین کاشتکاروں اور ان کے خاندانوں کی معاشی لچک اور تحفظ کو بھی مضبوط بنا سکتا ہے۔



