
خیبرپختونخوا حکومت کے احکامات کی روشنی میں قبائلی ضلع باجوڑ کے ڈپٹی کمشنر عدنان فرید آفریدی نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس اینڈ پلاننگ سعید اللہ جان کے ہمراہ ان کے دفتر میں مکمل شدہ روف ٹاپ رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے منصوبے کا معائنہ کرتے ہوئے کہا کہ بارش کے پانی کو محفوظ کرنا پانی کے وسائل کے مؤثر استعمال اور زیرِ زمین پانی کی سطح برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم اقدام ہے۔ سول کالونی خار میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے دفتر کی چھت پر بارش کا پانی جمع کرنے کا پہلا ماڈل سسٹم کامیابی سے نصب کیا گیا ہے، جس پر تقریباً 6 لاکھ روپے لاگت آئی ہے۔
یہ منصوبہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈویژن باجوڑ کے زیرِ اہتمام مکمل کیا گیا ہے۔جس کے ذریعے بارش کے پانی کو محفوظ کرکے قدرتی فلٹریشن کے عمل سے زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو ری چارج کرنے میں مدد ملے گی۔
ضلعی انتظامیہ کا پلان ہے کہ مرحلہ وار تمام سرکاری عمارتوں، جیسے ریسکیو 1122 کے دفاتر، تحصیل کمپلیکس اور بعد میں پرائیویٹ سکولوں اور ہسپتالوں میں بھی یہ سسٹمز لازمی کیے جائیں۔
ضلع باجوڑ میں رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم کے حوالے سے لوگوں میں آگاہی کی کمی کے وجہ سے بڑے مقدار میں بارشوں کے پانی ضائع ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے بعض علاقوں میں پینے کے پانی کا بحران بھی پیدا ہوا ہے اور لوگ ہر سال اپنے پانی کے کنووں میں بور کرتے ہیں جو ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ باجوڑ میں ایک طرف آبادی میں اضافے کی وجہ سے تیزی کے ساتھ نئے گھر تعمیر ہورہے تو دوسری طرف پانی کے ذخیرہ کرنے کی طرف کسی کو بھی فکر نہیں ہے۔
باجوڑ کے تحصیل خار کے رہائشی شاہ ولی خان نے ایک کنال سے زیادہ رقبے پر نیا گھر تعمیر کیا ہے لیکن ان کو رین واٹر ہاویسٹنگ کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہے کہ بارش کے پانی کو کس طرح محفوظ طریقے سے ذخیرہ کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کا اس طرف دھان نہیں گیا کہ بارش کے پانی کو ذخیرہ کیا جائے اور بعد میں اس کو استعمال میں لایا جائے اگر چہ یہ ایک بہت ضروری چیز ہے جس کو ہر ایک گھر والے کو کرنا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ پانی زندگی ہے اور ہمیں اس کی قدر کرنی چاہئے لیکن باجوڑ میں ہم نےاس طرف بلکل توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے ہمارے علاقے میں پینے کے پانی کے ضرورت میں ہر سال اضافہ ہورہا ہے ۔ تاہم اس کے محفوظ استعمال اور ذخیرہ کرنے کے لئے ہم نے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی ہے۔
پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہیں جہاں پر بارش کے پانی کے ذخیرہ کرنے کے لئے کو ئی خاص انتظام نہ ہونے کی وجہ سے بارش کا پانی ضائع ہوتا ہے لیکن اب حکومت نے ان کو جمع کرنے کے لئے سرکاری سطح پر کام شروع کیا ہے۔
حکومتِ نے ملک میں رین واٹر ہارویسٹنگ (بارش کا پانی جمع کرنے) کو قانونی طور پر لازمی قرار دینا شروع کر دیا ہے۔ گرتے ہوئے زیرِ زمین پانی کے گراف اور پانی کی شدید قلت کے پیشِ نظر وفاقی اور صوبائی سطح پر اس حوالے سے اہم قوانین اور بائی لاز (Building Bylaws) متعارف کروائے گئے ہیں۔
1. نیشنل بلڈنگ کوڈ میں شمولیت (ملک گیر قانون)
وفاقی کابینہ نے پاکستان انجینئرنگ کونسل (PEC) کے تیار کردہ "رین واٹر ہارویسٹنگ کوڈ” (Rainwater Harvesting Provisions for Building Code of Pakistan) کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ اس قانون کے تحت اب ملک بھر میں نئی تعمیر ہونے والی رہائشی، تجارتی اور صنعتی عمارتوں کے نقشے میں بارش کا پانی جمع کرنے اور اسے فلٹر کر کے زمین میں اتارنے کا نظام شامل کرنا لازمی ہے۔
2. اسلام آباد (CDA) کا سخت فیصلہ
وفاقی دارالحکومت میں کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) نے اسے قانونی طور پر فرض قرار دے دیا ہے۔
پرانے اور نئے گھروں کے لیے لازمی: یہ قانون صرف نئے گھروں کے لیے نہیں بلکہ پرانے مکانات کے لیے بھی لاگو کیا گیا ہے۔ اسلام آباد کے تمام شہریوں کو اپنے گھروں میں چھت کا پانی محفوظ کرنے کا سسٹم یا "ریچارج ویل” (Recharge Well) لگانے کے لیے ستمبر 2026 تک کی حتمی مہلت دی گئی ہے، جس کے بعد بھاری جرمانے کیے جائیں گے۔
3. پنجاب اور خیبر پختونخوا (KP) کے اقدامات
• پنجاب (EPA): پنجاب انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (EPA) نے صوبے کے 23 مختلف صنعتی اور تجارتی شعبوں (جیسے ٹیکسٹائل ملز، ہاؤسنگ اسکیمز، فلور ملز اور پولٹری فارمز) کے لیے رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم لگانا لازمی کر دیا ہے۔
خیبر پختونخوا (KP): کے پی حکومت کی ہدایات کے مطابق صوبے کی تمام سرکاری عمارتوں (اسکولوں، ہسپتالوں اور دفاتر) میں بارش کا پانی جمع کرنے کے نظام کی تنصیب پر سختی سے عملدرآمد کروایا جا رہا ہے تاکہ سرکاری سطح پر مثالی ماڈل قائم کیا جا سکے۔
محمد ارشاد کا گھر پہاڑوں کے دامن میں واقع ہیں ۔ نہ صرف یہ کے ان کے گھر میں موجود پانی کے کنویں میں زیر زمین پانی کا لیول کافی حد تک نیچے چلاگیا ہے بلکہ ان کے گاؤں میں موجود قدرتی چشمے بھی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی وجہ سے خشک ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے ان کو پینے کے پانی کا مستقل مسئلہ درپیش ہے ۔
موجودہ وقت میں ان سمیت پورے گاؤں کے پانی کا دارومدار ان واحد واتر سپلائی سکیم ہے جو سولر پر چلا رہا ہے اگر خدا نخواستہ اس میں کوئی مسئلہ پیدا ہوا تو پھر وہ پینے کے پانی کے بحران سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ ارشاد سمیت ان کے گاؤں میں کسی نے بھی رین واتر ہاروسٹینگ سسٹم گھروں میں نہیں بنایا جو ایک نہایت ضروری چیز ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان گے گاؤں کے پاس کئی ایسے جگہیں موجود ہیں جہاں پر چھوٹے بارانی ڈیم بناسکتے ہیں جس سے نہ صرف زرعی زمینوں کے نقصانات روک سکتے ہیں بلکہ ہم گاؤں میں زیر زمین پانی کے سطح میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے ۔ اور ہمارا پانی کا مسئلہ مستقل بنیادو ں پر حل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ مقامات کا چند سال پہلے کسی پارجیکٹ والوں نے سروے بھی کیا تھا لیکن پھر اس کا کچھ پتہ نہیں چلا۔
رین واٹر ہارویسٹنگ (Rainwater Harvesting) کا مطلب ہے بارش کے پانی کو ضائع ہونے سے بچانا، اسے جمع کرنا اور بعد میں استعمال کے لیے ذخیرہ کرنا۔
عام طور پر جب بارش ہوتی ہے، تو پانی گلیوں، نالیوں اور سڑکوں پر بہتا ہوا ضائع ہو جاتا ہے یا سیلاب کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ رین واٹر ہارویسٹنگ کے نظام میں گھروں کی چھتوں، پہاڑیوں یا کھلے میدانوں سے بارش کا پانی پائپوں کے ذریعے خصوصی ٹینکوں، زیرِ زمین کنوؤں یا تالابوں میں جمع کر لیا جاتا ہے ۔
چونکہ آپ کا علاقہ زرعی ہے اور پانی کی قلت کا سامنا رہتا ہے، اس لیے یہ طریقہ کار وہاں کے لیے انتہائی مفید ہے۔
رین واٹر ہارویسٹنگ کے اہم فوائد
1. پانی کے اخراجات اور قلت میں کمی
• بارش کا پانی جمع کرنے سے روزمرہ کے کاموں (جیسے کپڑے دھونا، صفائی اور واش رومز) کے لیے سرکاری سپلائی یا ٹیوب ویل کے پانی پر انحصار کم ہو جاتا ہے، جس سے بجلی اور پانی کے بلوں میں بچت ہوتی ہے۔
2. زراعت اور باغبانی کے لیے بہترین
• بارش کا پانی قدرتی طور پر نرم (Soft Water) ہوتا ہے اور اس میں کلورین جیسے کیمیکل نہیں ہوتے۔ یہ فصلوں، پودوں اور باغات کی نشوونما کے لیے عام زمینی پانی (جو اکثر کھارا ہوتا ہے) سے کہیں زیادہ فائدہ مند ہے۔
3. زیرِ زمین پانی کی سطح میں اضافہ (Groundwater Recharge)
• اگر بارش کے پانی کو فلٹر کر کے زمین کے اندر اتارا جائے (Recharge Wells کے ذریعے)، تو اس سے زیرِ زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح دوبارہ اوپر آ جاتی ہے، جس سے علاقے کے کنویں اور بورنگ خشک نہیں ہوتے۔
4. سیلاب اور مٹی کے کٹاؤ کا تدارک
• جب بارش کا پانی ایک جگہ جمع کر لیا جائے، تو وہ گلیوں اور ندی نالوں میں تیز بہاؤ پیدا نہیں کرتا۔ اس سے مقامی سطح پر سیلابی صورتحال (Flash Floods) اور زرخیز مٹی کے بہاؤ (Soil Erosion) کو روکنے میں مدد ملتی ہے۔
5. پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے لیے نعمت
ایسے علاقے جہاں نہری پانی دستیاب نہیں ہے یا ٹیوب ویل لگانے کی سہولت نہیں ہے، وہاں بارش کا پانی ذخیرہ کر کے پینے اور مویشیوں کے لیے مہینوں تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ضلع باجوڑ میں رین واٹر ہارویسٹنگ کی صلاحیت (Potential) کتنی اہمیت کی حامل ہے۔
جغرافیائی بناوٹ، بارشوں کے پیٹرن اور زراعت پر انحصار کے لحاظ سے باجوڑ اس ٹیکنالوجی کے لیے ایک آئیڈیل ضلع ہے۔اس کی صلاحیت اور ضرورت کو درج ذیل اہم نکات سے سمجھا جا سکتا ہے۔
1. سالانہ بارشوں کا بہترین ریکارڈ
• باجوڑ کا شمار خیبر پختونخوا کے ان اضلاع میں ہوتا ہے جہاں سالانہ اوسطاً 800 ملی میٹر (تقریباً 38 انچ) تک بارش ہوتی ہے۔
• یہاں بارشوں کے دو بڑے سیزن ہیں: ایک مون سون (جولائی سے ستمبر) اور دوسرا مغربی ہوائیں (دسمبر سے مارچ)۔ اتنی بڑی مقدار میں پانی اگر محفوظ نہ کیا جائے تو وہ ندی نالوں میں بہہ کر ضائع ہو جاتا ہے۔
•
2. زراعت کا بارانی پانی پر انحصار (Rain-fed Agriculture)
• ایک رپورٹ کے مطابق باجوڑ کی صرف 27 فیصد زرعی زمین نہری یا ٹیوب ویل کے پانی پر ہے، جبکہ باقی تمام کاشتکاری کا انحصار براہِ راست بارش پر ہے۔
اگر کسان اپنے کھیتوں کے پاس چھوٹے تالاب (Farm Ponds) بنا کر بارش کا پانی روکیں، تو وہ خشک سالی کے دنوں میں فصلوں کو بچا سکتے ہیں، جس سے باجوڑ کی زرعی پیداوار دگنی ہو سکتی ہے۔ ایک کسان رہنما کے طور پر آپ کسانوں کو "مٹی کے چھوٹے تالاب” (Lined Ponds) بنانے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔
پولی تھین شیٹ (پلاسٹک) کی مدد سے مٹی کا سستا تالاب بنا کر کسان بارش کا ہزاروں لیٹر پانی کئی ہفتوں تک ذخیرہ کر سکتے ہیں، جو کہ پودوں اور زیتون کے باغات کے لیے آبِ حیات ہے۔
3. پہاڑی جغرافیہ اور ہِل ٹورینٹس (Hill Torrents)
• باجوڑ کا خطہ پہاڑی اور ڈھلوان دار ہے۔ جب تیز بارش ہوتی ہے تو پانی پہاڑوں سے انتہائی رفتار سے نیچے آتا ہے جس سے کلاؤڈ برسٹ اور فلیش فلڈز (Flash Floods) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
• ان پہاڑی راستوں پر چھوٹے چیک ڈیم (Check Dams) یا مٹی کے بند باندھ کر پانی کی رفتار کو کم کیا جا سکتا ہے اور لاکھوں گیلن پانی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔
•
4. زیرِ زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح (Groundwater Recharge)
• باجوڑ میں حالیہ برسوں کے دوران ٹیوب ویلز کی بھرمار اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے نیچے گری ہے۔
• یہاں "ریچارج پِٹس” (Recharge Pits/Wells) بنانے کی زبردست گنجائش ہے، تاکہ بارش کا پانی فلٹر ہو کر زمین کے اندر جائے اور کنوؤں کو دوبارہ پانی سے بھر دے۔
شاہ ولی خان نے مزید کہا کہ ان کے اردگرد اور پورے علاقے میں بڑے بڑے گھر لوگوں نے بنائے ہیں لیکن کسی نے رین واتر ہاروسٹینگ پر کام نہیں کیا اور بارش کا پورا پانی ضائع ہوجاتا ہے۔ اس لئے میں اب بارش کے پانی ذخیرہ کرنے پر نہ صرف خود کام کرونگا بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی اس حوالے سے آگاہی دونگا کہ وہ بھی اپنے گھروں میں اس نظام کو بنائے تاکہ نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنے علاقے کے لوگوں کے لئے پانی کو ذخیرہ کیا جاسکیں۔
ارشاد کے مطابق عام لوگوں میں اتنی آگاہی نہیں کہ اس اہم مسئلے کی طرف توجہ کریں اس لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ ہر علاقے کے لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کے لئے خصوصی مہم چلائے اور اس میں یہ اسحاس پیدا کریں کہ یہ ان کے ائندہ نسلوں کے بقا کہ مسئلہ ہیں اس لئے اس طرف خصوصی توجہ دیں اور نہ صرف گھروں میں بلکہ پہاڑوں کے دامن میں چھوٹے چھوٹے ڈہم بنانے میں حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ بارش کے پانی کو مھفوظ کیا جاسکیں۔
محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، ضلع باجوڑ کے ایکسیئن (XEN) شہزاد خان نے بتایا کہ ‘رین واٹر ہارویسٹنگ’ (Rainwater Harvesting) دو طریقوں سے کی جاتی ہے۔ پہلے طریقے میں چھتوں سے بارش کے پانی کو زمین دوز ٹینکوں (Underground Tanks) میں جمع کیا جاتا ہے، جبکہ دوسرے طریقے میں پہاڑوں کے دامن میں بارش کے پانی کو چھوٹے چھوٹے ڈیموں کے ذریعے ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے بتایا کہ شہری علاقوں میں عموماً گھر چھوٹے ہوتے ہیں، اس لیے وہاں بارش کا پانی مختلف سائز کے ڈرمز میں بھی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔
شہزاد خان کے مطابق، اس نظام پر 60 ہزار سے لے کر ایک لاکھ روپے تک کی لاگت آتی ہے، لیکن یہ ایک انتہائی دیرپا نظام ہے جس سے پانی کی کمی کا مسئلہ مستقل طور پر حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر باجوڑ کے عوام کو رین واٹر ہارویسٹنگ کے طریقہ کار کے حوالے سے کسی بھی قسم کی مشکل یا رہنمائی کی ضرورت ہو، تو وہ پبلک ہیلتھ کے دفتر سے رابطہ کر سکتے ہیں، محکمہ ان کی مکمل تکنیکی رہنمائی کرے گا۔



