
چودہ سالہ خابیل خان نہ ہوٹل واپس لوٹا اور نہ ہی گھر کے لیے روزانہ کی کمائی لے کر پہنچا۔ وہ ایسے سفر پر روانہ ہو چکا تھا جس کی منزل بہت دور تھی۔ 13 اکتوبر کو وہ معمول کے مطابق وہ ضلع خیبر باڑہ بازار کے ایک ہوٹل میں کام کر رہا تھا کہ سہ پہر کے وقت گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف مین باڑہ بازار میں احتجاجی مظاہرہ شروع ہو گیا۔ اس دوران وہ قریبی مارکیٹوں سے خالی برتن اور پیسے جمع کرنے کے لیے نکلا، لیکن نہ ہوٹل واپس پہنچا اور نہ ہی گھر لوٹا۔ شام کو معلوم ہوا کہ وہ شدید زخمی حالت میں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں زیرِ علاج ہے۔ دو دن تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد وہ جانبر نہ ہو سکا۔
اس کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں، لیکن وہ اپنے خاندان کے ساتھ ساتھ پورے علاقے کو بھی غم اور پریشانی میں مبتلا کر گیا۔ خابیل خان کے والد عبدالغفور خان چلنے پھرنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 13 اکتوبر کو شام سے پہلے ان کے موبائل فون پر کال آئی۔
عبدالغفور خان کے بقول، ’’جب میں نے فون اٹھایا اور ہیلو کہا تو مجھ سے پوچھا گیا کہ خابیل آپ کا کیا لگتا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ وہ میرا بیٹا ہے۔ اس پر مجھے بتایا گیا کہ وہ زخمی ہے اور ہم باڑہ بازار کے قریب قمبر آباد مارکیٹ کے ساتھ سڑک پر موجود ہیں۔ ہم اسے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس لے جا رہے ہیں، آپ وہاں پہنچ جائیں۔‘‘ اس کے بعد کال منقطع ہو گئی۔
عبدالغفور خان اپنے بھتیجے کے ہمراہ اسپتال پہنچے، تاہم ان سے پہلے خابیل کے چچا وہاں پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں خابیل کی حالت بہتر دکھائی دے رہی تھی اور مختصر بات چیت کے بعد اسے فوری طور پر آپریشن تھیٹر منتقل کر دیا گیا۔ چند گھنٹے بعد اسے بے ہوشی کی حالت میں آپریشن تھیٹر سے نکال کر دوسرے وارڈ میں منتقل کیا گیا، جہاں اسے مختلف طبی آلات سے منسلک کر دیا گیا۔ تاہم، اس کی حالت تشویش ناک تھی اور اسے انتہائی نگہداشت کی ضرورت تھی۔ کوششوں کے باوجود اگلے دن اسے آئی سی یو منتقل کیا گیا، لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ زندگی کی بازی ہار گیا۔
والد کے ذہن میں بیٹے کی جدائی کا درد اس قدر گہرا ہے کہ بات کرتے ہوئے الفاظ کے بجائے ان کی زبان سے سسکیاں نکلنے لگتی ہیں۔ گفتگو کے دوران وہ کئی بار رک جاتے ہیں اور تعزیت کے لیے جمع لوگوں کے درمیان خاموشی چھا جاتی ہے۔
خابیل خان اپنے والدین، دو چھوٹے بھائیوں اور ایک بہن کا واحد کفیل تھا۔ اس کے والد عبدالغفور خان جنوری 2022 میں محنت مزدوری کے دوران ایک حادثے کا شکار ہوئے تھے۔ ان کے دو آپریشن ہوئے، جس کے بعد وہ مشکل سے چل پھر سکتے ہیں۔ وہ باقاعدگی سے ادویات استعمال کرتے ہیں، لیکن ان کے لیے محنت مزدوری کرنا ممکن نہیں رہا۔ یہی وجہ تھی کہ خابیل نے تیسری جماعت میں تعلیم ادھوری چھوڑ دی اور گھر کا خرچ چلانے کے لیے محنت مزدوری شروع کر دی۔
عبدالغفور خان کے مطابق، خابیل نے ابتدا میں گھر کے قریب عزیز مارکیٹ میں چند ماہ کام کیا، جس کے بعد باڑہ بازار میں اپنے قریبی دوست زیارت گل کے ہوٹل پر ملازمت اختیار کر لی۔ انہوں نے بتایا کہ گھر کا کرایہ، روزمرہ کے اخراجات اور ان کی ادویات کی خریداری کے لیے خابیل ہی واحد سہارا تھا۔
زیارت گل اس ہوٹل کے مالک ہیں جہاں خابیل خان کام کرتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ 13 اکتوبر کو انہوں نے معمول کے مطابق ہوٹل کھولا تھا، تاہم دوپہر کے بعد بازار میں احتجاجی مظاہرہ شروع ہو گیا۔ اس پر انہوں نے اپنے پانچ دیگر ملازمین کو کہا کہ وہ فوری طور پر باہر سے سامان اور پیسے جمع کریں، ہوٹل بند کریں اور اپنے گھروں کو چلے جائیں۔
ان کے بقول، خابیل خان قریب واقع گل پلازہ گیا ہوا تھا کہ اسی دوران قریبی چوک میں شدید آنسو گیس کی شیلنگ اور فائرنگ شروع ہو گئی۔ ہوٹل میں کام کرنے والے تمام مزدور اپنی جان بچانے کے لیے وہاں سے نکل گئے۔ انہوں نے سمجھا کہ خابیل بھی اس افراتفری کے دوران کسی راستے سے گھر کی طرف روانہ ہو گیا ہو گا، لیکن علاقے میں موبائل سگنلز اور انٹرنیٹ کی بندش کے باعث اس کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل رہی تھی۔
زیارت گل نے بتایا کہ خابیل کا بھائی اس وقت کسی دوسری جگہ موجود تھا۔ ایک شخص نے اسے اطلاع دی کہ ہوٹل میں اس کے ساتھ کام کرنے والا خابیل خان گولی لگنے سے زخمی ہو گیا ہے۔
زیارت گل کے مطابق، ’’ہم ایسی جگہ گئے جہاں موبائل سگنلز کام کر رہے تھے۔ وہاں سے عبدالغفور خان سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ خابیل آپریشن تھیٹر میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ آنے کی زحمت نہ کریں، کیونکہ کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔‘‘
انجمن تاجران باڑہ کے صدر سید ایاز وزیر نے بتایا کہ باڑہ میں دس سے پندرہ ہزار کے قریب چھوٹے بڑے تجارتی مراکز ہیں، جہاں ہزاروں افراد روزگار سے وابستہ ہیں۔ تاہم، احتجاجی مظاہروں کے دوران تاجروں کو جانی اور مالی نقصان پہنچنے کا خدشہ بھی رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ پُرتشدد مظاہروں کے دوران کئی تاجر زخمی ہوئے، جبکہ ایک ہوٹل میں کام کرنے والا خابیل خان بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ ان کے مطابق، موبائل سگنلز اور انٹرنیٹ کی بندش کے باعث متاثرہ تاجروں کے بارے میں بروقت معلومات حاصل نہیں ہو سکیں، تاہم تاجر یونین متاثرہ افراد کے اعداد و شمار جمع کر رہی ہے۔
سید ایاز وزیر نے کہا، ’’تاجر برادری کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی مظاہرے میں شریک تھی، تاہم حکومت کی جانب سے مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث تاجروں کو جانی اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت باڑہ بازار میں کاروباری سرگرمیاں اور گاہکوں کی آمدورفت شدید دباؤ کا شکار ہیں، جس کی بنیادی وجہ تیراہ سے ہزاروں خاندانوں کی نقل مکانی ہے۔‘‘
11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور بارہ اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ اور صوبے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد کئی اضلاع میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ تاہم، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے آبائی ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں احتجاج کے دوران پُرتشدد واقعات پیش آئے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق، مظاہروں کے دوران تین شدید زخمیوں سمیت 25 سے زائد افراد کو موقع پر طبی امداد فراہم کی گئی۔ دوسری جانب، مظاہرین نے نادرا کے دفتر کو آگ لگا دی، جبکہ ریسکیو کے دفتر اور متعدد دکانوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ امن و امان کی صورتِ حال برقرار رکھنے کے لیے پولیس نے 14 اور 15 اکتوبر کو باڑہ بازار بند رکھا، تاہم 16 اکتوبر کو باڑہ تاجر یونین، ضلعی حکام اور پولیس کے درمیان مذاکرات کے بعد بازار دوبارہ کھول دیا گیا۔
پولیس کے مطابق احتجاج میں اشتعال انگریزی کے جرم میں 54 افراد گرفتار کرچکے ہیں جن کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے مظاہروں کے دوران فائرنگ کے واقعات میں زخمی ہونے والے افراد اور ایک بچے کی ہلاکت کے حوالے سے پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ فی الحال یہ کہنا ممکن نہیں کہ یہ افراد کس طرح نشانہ بنے، کیونکہ مظاہرین کی جانب سے شدید پتھراؤ کیا گیا اور املاک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
ممبر قومی اسمبلی اور تحریک انصاف کے رہنما اقبال آفریدی نے کہا کہ مظاہرے میں شریک چند شرپسند عناصر کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں تھا اور انہی افراد نے بازار میں توڑ پھوڑ کی اور املاک کو نقصان پہنچایا۔ پی ٹی آئی کے ایک دوسرے رہنما نے بتایا کہ ان کی جماعت کے تین کارکن شدید، جبکہ تقریباً 25 کارکن معمولی زخمی ہوئے تھے۔
زیارت گل نے بتایا کہ خابیل خان کبھی کبھار اپنے والد کی بیماری اور گھر کے اخراجات پورے کرنے کے حوالے سے بات کرتا تھا۔ اس کی گفتگو سے اندازہ ہوتا تھا کہ اس کے کم عمر اور کمزور کندھوں پر کتنی بھاری ذمہ داریوں کا بوجھ ہے۔ اس کے باوجود وہ ہمت کے ساتھ محنت کرتا رہا۔ زیارت گل کے مطابق، خابیل کو ماہانہ 18 ہزار روپے تنخواہ دی جاتی تھی، تاہم اسے ہفتے میں ایک دن کی چھٹی بھی نہیں ملتی تھی۔
گھر میں خابیل خان کی والدہ اور دادی غم سے نڈھال ہیں۔ ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں۔ وہ سارا دن خابیل کے زیرِ استعمال کپڑوں اور دیگر اشیا کو دیکھتی رہتی ہیں، شاید اس طرح اپنے غم کو کچھ ہلکا کر سکیں۔ لیکن جس بچے کے کندھوں پر پورے گھر کی ذمہ داری تھی، اس کی جدائی نے خاندان کو ایک ایسے خلا میں دھکیل دیا ہے جسے پُر کرنا آسان نہیں۔



