
ضلع خیبر کی وادی تیراہ سے مقامی آبادی کے انخلا کو چھ ماہ پورے ہونے والے ہیں۔ متاثرین کے ساتھ حکومتی معاہدے کے تحت واپسی کا عمل 10 اپریل مقرر کیا گیا تھا، تاہم ابھی تک اندراج، مالی معاونت اور واپسی کے لیے کوئی لائحہ عمل طے نہیں کیا جا سکا۔ یہی وجہ ہے کہ بے گھر خاندانوں کے معاشی، تعلیمی اور رہائش کے مسائل دن بہ دن بڑھ رہے ہیں۔
’ٹائم لائن’ کو معلومات تک رسائی کے قانون (RTI) کے تحت دی گئی درخواست پر ضلعی انتظامیہ نے نامکمل معلومات فراہم کی ہیں۔ ان معلومات کے مطابق، وادیٔ تیراہ میں شدید بدامنی کی وجہ سے نقل مکانی کا سلسلہ گزشتہ سال نومبر کے آخر میں شروع ہوا تھا، جبکہ بے گھر خاندانوں کے باقاعدہ اندراج کا عمل رواں سال 10 جنوری کے بجائے 6 جنوری سے اپر باڑہ کے علاقے ‘پائیندہ چینہ’ کے سرکاری ہائیر سیکنڈری سکول میں شروع کیا گیا۔ بعد میں مختلف مسائل کے باعث باڑہ بازار کے قریب برقمبر خیل، شلوبر قمبر خیل، ملک دین خیل، اکاخیل، آدم خیل اور کمر خیل قبیلوں کے اندراج کے لیے مزید پانچ مراکز قائم کر دیے گئے۔
حکام کے مطابق، ان مراکز میں 34 ہزار خاندانوں کا اندراج کیا گیا، جنہیں گاڑی کا کرایہ، بینک اکاؤنٹ اور موبائل سم فراہم کی گئی۔ ان میں سے اب تک 19 ہزار خاندانوں کی تصدیق کا عمل مکمل ہو چکا ہے، جنہیں گاڑی کے کرائے کے علاوہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کی جانب سے سم کے ذریعے دو لاکھ چالیس ہزار روپے (بشمول 35 ہزار روپے ماہانہ کی دو قسطیں) جاری کر دیے گئے ہیں۔ 34 ہزار خاندانوں کے اندراج کے بعد مقامی آبادی کی طرف سے عدم اندراج کی شکایات بڑھنے پر ایک 24 رکنی کمیٹی نے مزید 16 ہزار سے زائد خاندانوں کے دستاویزات جمع کیے۔ رش کی وجہ سے تصدیق کے لیے ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جس میں حکام اور عمائدین شامل ہیں۔
حکومت کی جانب سے پہلے مرحلے میں رجسٹرڈ خاندانوں کی تصدیق کا عمل جاری ہے، جبکہ باقی خاندانوں کی تصدیق کا عمل (عارضی طور پر) روک دیا گیا ہے۔ عید الفطر سے قبل سیکیورٹی حکام اور مقامی عمائدین کے درمیان قلعہ بالا حصار میں ہونے والی ملاقات میں بے گھر خاندانوں کی تصدیق کا طریقہ کار طے کیا گیا، جس کے تحت قائم کردہ کمیٹی میں 24 رکنی کمیٹی کے ارکان، تحصیلدار، اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر سرکاری اداروں کے عہدیداران شامل ہیں۔
حکام نے اس بات کی تردید کی ہے کہ نقل مکانی سے قبل ضلعی انتظامیہ نے تیراہ میں موجود خاندانوں کی تعداد کے حوالے سے غلط تخمینے لگائے تھے۔ حکام کے مطابق، وادی میں 19 ہزار خاندان یعنی ایک لاکھ سے زائد افراد موجود تھے۔ اس عمل میں پیدا ہونے والے مسائل کا ذمہ دار میدانی علاقوں میں مقیم آفریدی قبیلے کے ان لوگوں کو قرار دیا گیا ہے جنہوں نے مالی فائدے کے حصول کے لیے بڑی تعداد میں اندراج کروایا۔ ضلعی حکام نے صوبائی حکومت کی جانب سے اب تک جاری کردہ فنڈز کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا، تاہم پی ڈی ایم اے (PDMA) کے مطابق اب تک 6 ارب روپے سے زائد کے فنڈز جاری کیے جا چکے ہیں اور مزید کئی ارب روپے کے فنڈز کی ضرورت ہے۔
ضلعی حکام نے نقل مکانی کے دوران مختلف حادثات میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کے اعداد و شمار فراہم نہیں کیے۔ حکام نے گاڑیوں کے کرایوں کی مد میں ناقص انتظامات کے باعث رقم کی تقسیم میں بے ضابطگیوں کا اعتراف تو کیا، تاہم مؤقف اپنایا کہ چونکہ اندراج کا عمل مینوئل (دستی) تھا اور منتخب نمائندوں کی طرف سے فوری ادائیگی کے لیے شدید دباؤ تھا، اس لیے یہ مسائل پیدا ہوئے۔
ایک سرکاری عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ مختلف سرکاری اداروں کے اہلکاروں اور صحافیوں نے بھی مالی معاونت کے لیے اندراج کروا کر نہ صرف کرائے کی مد میں پیسے حاصل کیے، بلکہ بعض کو سم کے ذریعے دو لاکھ چالیس ہزار روپے بھی جاری ہو چکے ہیں۔ جعلی دستاویزات اور بار بار کرایہ وصول کرنے والوں کا تمام ڈیٹا ضلعی حکام کے پاس موجود ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک ان سے رقم واپس لینے کے لیے کوئی لائحہ عمل طے نہیں کیا گیا۔
ادھر قبیلہ اکاخیل کے وادیٔ تیراہ اور میدانی علاقوں سے بے گھر ہونے والے خاندانوں کے اندراج کا عمل تاحال مکمل نہیں ہو سکا ہے۔ متاثرینِ تیراہ کو درپیش مسائل کے حل کے لیے صوبائی و قومی اسمبلی کے ارکان، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، باڑہ سیاسی اتحاد، تیراہ سیاسی اتحاد، تحریکِ متاثرین اور عمائدین کے مختلف دھڑے بھاگ دوڑ تو کر رہے ہیں، لیکن بے گھر لوگوں کے مسائل کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہے ہیں۔



