
تحریر اصغر خان
وزیرِ اعظم سے ملاقات کے بعد ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں سول اور اعلیٰ عسکری قیادت کا ایک میز پر بیٹھنا نیک شگون ہے۔ مذاکرات کے کھلتے دروازے صوبے اور خاص طور پر ضلع خیبر میں جاری کشمکش اور غیر یقینی صورتحال کی الجھی ہوئی گتھی کو سلجھانے میں مددگار ثابت ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے، کیونکہ مرکز اور صوبے کی جانب سے تیراہ آپریشن سے انکار کے بعد وادیٔ تیراہ کے متاثرین کی قسمت تاریک ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے تھے، جبکہ وفاق اور صوبے کی آپسی لڑائی میں اصل نقصان آئی ڈی پیز کا ہوا۔
وفاق اور صوبے کے مابین جاری کشمکش کی وجہ سے ضلع خیبر کے عوام اپنے اور اپنے علاقے کے مستقبل کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہونا ایک قدرتی امر تھا، کیونکہ وادیٔ تیراہ کے عوام اس امید پر اتنی بڑی قربانی کے لیے تیار ہو گئے تھے کہ علاقے میں مستقل امن قائم ہو سکے، بلکہ بار بار اپنے ہنستے بستے گھروں کو چھوڑ کر نقل مکانی جیسے اذیت ناک مراحل سے نہ گزرنا پڑے۔
اپنے گھر بار امن کے قیام کے نام پر چھوڑنا، اور پھر امن کے راستے میں وفاق اور صوبے کی آپسی لڑائی کی وجہ سے امن کی امید کا معدوم ہو جانا، اور بھی زیادہ اذیت ناک ہوتا ہے۔
ایپکس کمیٹی کے اجلاس کو اس لیے بھی خوش آئند قرار دیا جا سکتا ہے کہ اس میں اپوزیشن اور حکمران جماعت، دونوں کے لیے اپنا اپنا بیانیہ بنانے کی گنجائش موجود ہے۔ اپوزیشن کے ہاتھ یوٹرن لینے اور بند کمرہ مذاکرات جیسے بیانیے آ گئے ہیں، جن پر وہ اپنی سیاست کر سکتی ہے، جبکہ حکمران جماعت کے پاس عوامی دباؤ کے ذریعے مقتدرہ کو مذاکرات پر مجبور کرنے کا بیانیہ آ گیا ہے، جس پر وہ اپنی سیاست اور کارکنوں کو تسلی دینے کی پوزیشن میں آ گئی ہے۔
رہی بات عام آدمی کی، تو جب تک عام آدمی میں سیاسی بیان بازی اور عملی اقدامات کے درمیان فرق کرنے کا شعور پیدا نہیں ہوتا، تب تک اس کی زندگی میں تبدیلی ناممکن ہے۔ ہماری شعور کی سطح اس قدر گر چکی ہے کہ ہم دھیمے لہجے میں بولے گئے سچ کے مقابلے میں جذباتی انداز میں پیش کیے گئے جھوٹ کو ترجیح دیتے ہیں، اور اگر وہ جھوٹ میرے پارٹی لیڈر کے منہ سے نکلے تو پھر وہ پتھر پر لکیر بن جاتا ہے۔
جب اپنے آبائی علاقے کے مفادات پر پارٹی مفادات کو مقدم سمجھا جائے تو یہ شعور نہیں بلکہ جہالت ہے، کیونکہ علاقہ ہوگا تو آپ سیاست کر سکیں گے، بصورتِ دیگر آپ صفر ہیں۔
ایپکس کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ حوصلہ افزا ہے۔ اس 13 نکات پر مشتمل اعلامیے میں تمام حل طلب مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے۔ بس ایک شرط ہے کہ اس پر من و عن عمل کیا جائے اور اسے سیاست کی نذر نہ کیا جائے، تو علاقے میں امن کا قیام ممکن ہو سکتا ہے۔
تیراہ متاثرین کی مسلسل رپورٹنگ کرتے ہوئے میں اپنے علاقے کی تمام سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین سے مایوس ہو چکا ہوں۔ ہم نے تیراہ متاثرین کو بطورِ قوم ڈیل نہیں کیا، بلکہ تمام جماعتوں نے اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر تیراہ متاثرین کو بھائی سمجھنے کے بجائے ووٹر سمجھ کر ڈیل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسی لیے اجتماعیت کے بجائے انفرادیت کو ترجیح دی گئی، جس کے نتیجے میں وادیٔ تیراہ کے متاثرین کی تکالیف میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا۔



