وادی تیراہ میں ممکنہ فوجی آپریشن کے سبب متاثرین ضلع خیبر سمیت صوبے مختلف جگہوں پر پناہ گزین ہے، معاہدے کے تحت بے گھر لوگوں کی واپسی مدت پوری ہوچکی ہے۔

وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے عبدالباقی اور اُن کے خاندان کے آٹھ افراد باڑہ کے قریب حصارہ کے علاقے میں برساتی نالے کے کنارے غاروں میں رہائش پذیر ہے عبدالباقی اور دیگر بے گھر خاندان شدید مسائل کے شکار زندگی گزار رہے ہیں اور چاہتے ہیں وہ واپس اپنے گھر چلے جائے۔اُنہوں نے بتایاکہ وادی میں اُن کا اپنا گھر تھا جہاں تمام بنیادی سہولیات میسر تھے اور زرعی زمینوں سے حاصل ہونے والے آمدن سے بہتر زندگی گزررہی تھی تاہم یہاں پر کافی زیادہ مشکلات ہیں۔اُنہوں نے بتایاکہ جگہ کسی آور کاہے اور وہ ہمیں کسی بھی وقت یہاں سے بددخل کرسکتاہے۔

وادی تیرا سے نقل کے حوالے سے پچھلے سال دسمبر کے آخر میں مقامی عمائدین کے نمائندہ چوبیس رکنی کمیٹی، ضلعی اور سیکورٹی حکام کے درمیان 37نکات پر ایک معاہدہ طے پایا گیا جن میں پانچ جسے سے پچیس جنوری تک انخلاء مکمل کرنا اور دس اپریل کو واپسی کا عمل شروع کیاجائیگا۔ مقرر ہ مدت ایسے وقت میں پورا ہوچکا ہے کہ ابتک اندراج، تصدیق اور مالی معاونت میں حائل روکاٹوں کو دور نہیں کیاگیا ہے۔ تحریک متاثرین نے پچھلے دو مہینوں سے باڑہ پریس کب کے سامنے احتجاجی کیمپ قائم ہے اور وہ بے گھر خاندانوں کو درپیش مسائل کے حل کے مطالبات کررہے ہیں۔

تحریک متاثرین کے ترجمان صحبت خان آفریدی نے بتایاکہ واپسی کے حوالے چوبیس رکنی کمیٹی علط بیانی کررہی ہے کیونکہ برف باری کی وجہ سے پانچ دن راستے بندتھے جس کے وجہ سے انخلاء کا عمل تاخیر کی شکار ہوئی، اسطرح واپسی کے تاریخ دس کے بجائے پندرہ اپریل مقرر کیاگیا ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ بے گھر لوگوں کے ساتھ کیں گئے وعدے ابھی پوری نہیں کی گئی ہے جس کے وجہ سے لوگ شدید مسائل کے شکارہے۔ اُنہوں نے کہاکہ تحریک متاثرین کا پہلا مطالبہ یہی ہے کہ بے گھر لوگوں کو واپس اپنے گھر کو بھیج دیا جائے کیونکہ وہاں ہمارے گھر، بازار،جنگلات اور زرعی زمین تباہ ہورہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہاکہ وزیر اعلی خیبر کے بھائی کے دعوت پر وزیر اعلی ہاؤس میں اپنے مطالبات پیش کی اور جلد وزیر علی کے ساتھ ملاقات کی یقین دہانی کرئی گئی ہے۔

ضلعی حکام کے مطابق وادی میں بدامنی کی وجہ سے پچھلے سال دس نومبر سے نقل مکانی کا عمل شروع ہوا تھا جبکہ بے گھر خاندانوں کے اندراج اور مالی معاونت پانچ جنوری سے شروع کیا گیا۔چوبیس رکنی کمیٹی، ضلعی اور سیکورٹی حکام کے ساتھ 37نکات پر مشتمل معاہدے میں واپسی تاریخ دس اپریل مقرر کی گئی تھی۔ چوبیس رکنی کمیٹی ممبران کے مطابق اندراج اور مالی معاونت میں حائل روکاٹوں کے ساتھ واپسی کے لئے لائحہ طے کرنے کے لئے متعلقہ حکام کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔کمیٹی کے سرگرم رکن اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنماء مولونا عزت اللہ ہمحیال نے کہاکہ واپسی کے حوالے سے ختمی تاریخ بتانا قبل ازوقت ہوگا البتہ عنقریب ہم چیف سیکرٹری کے ساتھ ملاقات میں دیگر مسائل کے ساتھ واپسی پر بھی بات کرینگے اور جو فیصلہ ہوگا تو عوام کے سامنے رکھے ئینگے۔ اُنہوں نے کہاکہ بے گھر لوگوں کے جانب سے شکاتیں سامنے آرہے ہیں جن کے حل کے لئے عمائدین دن رات کوششیں کررہے ہیں۔ اُنہون بتایاکہ متاثرین کی بات اپنے جگہ درست ہے اور توجہ طلب کے مستحق ہے، کیونکہ یہ لوگ مشکل اور تکلیف میں ہے۔اُنہوں مطمین کا اظہارکیا اور کہاکہ حکومت کے جانب سے معاہدے پر عمل درآمد جاری ہے اور معاملات درست سمیت میں جارہے ہیں تاہم ہمیں بھی اس بات کا احساس ہے کہ چند ایسے اقدامات ہیں جن پر عمل درآمد تاخیر کا شکار ہورہاہے، اگرہمیں محسوس ہوا کہ اس عمل نہیں ہورہاہے تو ہمارے پاس لائحہ عمل موجود ہے۔

پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشن، محمد فواد کے مطابق اب تک بر تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے مجموعی طور پر 33 ہزار 833 خاندان رجسٹرڈ کیے جا چکے ہیں۔ محمد فواد نے بتایا کہ تقریباً 15 ہزار خاندانوں کے لیے فی خاندان 2 لاکھ 40 ہزار روپے جاری کیے جا چکے ہیں، جو مجموعی طور پر ساڑھے تین ارب روپے سے زائد بنتے ہیں، جبکہ 10 ہزار روپے کٹوتی کی اطلاعات درست نہیں بلکہ یہ رقم پہلے سے طے شدہ طریقہ کار کا حصہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ متاثرین کو دو ماہ تک ماہانہ 35 ہزار روپے جبکہ واپسی کے وقت 25 ہزار روپے دیے جائیں گے۔

صحبت خان آفریدی نے کہاکہ حالیہ شدید بارشوں میں وادی تیراہ میں دو سے زیادہ گھروں کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا ہے جبکہ علاقے میں جاری ترقیاقی منصوبوں میں ٹھیکداروں کے جانب غریب عوام کے گھر اور ملاک کو نہ صرف نقصٓان پہنچایاجارہے بلکہ اُن کے تعمیرات مواد چوری کی جارہے ہیں۔ اُنہوں نے کہاکہ تحریک متاثرین کے موثر حکمت عملی کے سبب جنگلات کے کٹائی میں کافی حد تک کمی ہے تاہم تجارت مراکز کو تھوڑنے اور موجود سامان کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات کافی تشویش ناک ہے۔

دو مہینے گزرجانے کے باجود بھی کسی گھر خاندان کو ابتک کسی کو بھی ماہانہ رقم نہیں ملی ہے جبکہ ایک بڑی تعداد میں متاثرین خاندان دو لاکھ چالیس ہزار روپے کے عدم حصول کی شکاتیں کررہے ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق اندارج ٹوکن کے اجرا، ٹرانسپورٹ کے پیسے اور خوراک کی فراہمی کی ذمہ داری ضلعی حکام کے پاس تھی، جبکہ گزشتہ اگست میں طریقہ نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے اندارج کے طریقہ کار میں میں کار تبدیل کرتے ہوئے رجسٹریشن اور فوری تصدیق کی ذمہ داری نادرا کے ذریعے انجام دی جا رہی ہے، جس کے بعد ڈیٹا پی ڈی ایم اے کے ذریعے ضلعی حکام کو بھجوایا جاتا ہے جہاں حتمی تصدیق کے بعد مستحقین کی فہرست مرتب کی جاتی ہے۔

تیراہ آکاخیل قبیلے کے رجسٹریشن کے حوالے سے حکام نے بتایا کہ قبیلہ آکاخیل کے رجسٹریشن کا عمل شروع کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے اور اس کی بحالی ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز کی ہدایات سے مشروط ہے۔ دیگر اضلاع میں ممکنہ فوجی آپریشن سے قبل دیہاتوں کی نشاندہی کرکے ڈیٹا نادرا سسٹم میں شامل کیا جاتا ہے، تاہم دوہری رہائش (دو پتوں) کے حامل افراد کا اندراج نہیں کیا جاتا، جو تیراہ میں ایک بڑا مسئلہ رہا جہاں میدانی علاقوں سے بھی بڑی تعداد میں لوگ رجسٹریشن کے لیے آئے اور ان کے شناختی کارڈ میں پتے لنڈی کوتل، باڑہ، پشاور یا دیگر علاقوں کے تھے۔حکام کے تیراہ کو سب تحصیل کا درجہ ملنے کے باوجود نادرا سسٹم اور انتظامی ڈھانچہ بدستور پرانا ہے، جبکہ تصدیق کے لیے پولیو ڈیٹا اور 24 رکنی کمیٹی سے بھی مدد لی جارہی ہے، تاہم مسائل تاحال برقرار ہیں۔

ضلعی حکام کے ساتھ بے گھر خاندانوں کو درپیش مسائل اور واپسی کے عمل شروع کرنے کے حوالے سے موقف جانے کے لئے بار بار کوششیں کی گئی تاہم اُن کے جانب کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔

ریحان محمد
ٹائم لائن اردو سے وابسطہ نوجوان صحافی ریحان محمد خیبرپختونخوا سے ملکی میڈیا کے لئے کام کرتا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں