
رباب کی مدھم دھنیں اب سید محمد (فرضی نام) کی زندگی کی طرح خاموش اور افسردہ ہے۔خیبر پختونخوا ضلع خیبر کے دروفتادہ سیاحتی علاقہ وادی تیراہ کے اس مقامی رباب نواز کی زندگی کبھی موسیقی کے گرد گھومتی تھی، مگر آج وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ایک بوسیدہ کرائے کے مکان میں شدید سردی گزاری اور اب گرمی کی تپش جھیلنے پر مجبور ہیں۔
رواں سال جنوری کے اوائل میں انہوں نے علاقے میں بدامنی اور ممکنہ فوجی آپریشن کے خدشات کے باعث ہزاروں دیگر خاندانوں کے ساتھ دوسری بار اپنا گھر بار چھوڑا۔نقل مکانی نے نہ صرف ان سے ان کا گھر چھین لیا بلکہ ان کے فن کو بھی خاموش کر دیا۔
علاقے میں شدت پسند گروہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے باعث موسیقی سے وابستہ رہنا ان کے لیے خطرناک بنتا جا رہا تھا۔ رباب کے تار چھیڑنے والا یہ فنکار آج اپنی جان اور خاندان کے مستقبل کے تحفظ کی فکر میں مبتلا ہے۔
"تقریبا دو سال پہلے علاقے میں دوبارہ مسلح گروہوں کے سرگرمیاں شروع ہوئی جس کے وجہ سے حجروں اور سیاحتی مقامات پر نہ صرف موسیقی بند کردی گئی بلکہ موسیقی کے شعبے سے وابستہ افراد کو خبردار کردیا گیا۔ شدید خوف کے باوجود بھی کبھی کبھار دوستوں کے ساتھ رات کو چپکے موسیقی کے پروگرم کرلیتے تھے لیکن یہ آسان کام نہیں تھا۔
ہمارے کمائی کا واحد ذریعہ موسیقی تھی لیکن جوپچھلے ڈھائی سال سے بند ہوچکا ہے جبکہ نقل میں مکانی کے باوجود بھی حکومت کے جانب سے اندارج اور مالی مالی معاونت نہیں دیا گیا "۔
روایتی طوپر پشتون معاشرے میں موسیقار کو قدر کے نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ۔جبکہ 9/11کے بعد شدت پسند گروہوں کے جانب سے موسیقی کو دین اسلام کے خلاف قرار دیکر فنکاروں کو زبردستی تبلغ پر بھیج دئیے گئے۔ اس سلسلہ میں حکومت کے جانب سے پشتون فنکاروں کو گرفتاری اور مقدمات کا سامنا کر نا پڑا۔
شوکت عزیز نے موسیقی کو ایسے حالات میں زندہ رکھا ہے جہاں اس فن سے وابستگی خود ایک خطرہ بن چکی تھی۔ موسیقی سے عشق کی قیمت انہوں نے اپنی آزادی، تحفظ اور سکون کی صورت میں چکائی۔ آج وہ نہ صرف سخت سماجی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں بلکہ قید اور سنگین مقدمات بھی ان کے مقدر کا حصہ بن چکے ہیں۔
شوکت عزیز نے 2006 میں اپنے آبائی علاقے جنوبی وزیرستان میں موسیقی کا سفر اس وقت شروع کیا جب خطے میں انتہا پسندی اپنے عروج پر تھی۔ اس دور میں موسیقی پر غیر اعلانیہ پابندی تھی، فنکار خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے تھے، اور مسلح گروہوں نے لوگوں کو موسیقی ترک کرکے ایک مخصوص مذہبی راستہ اختیار کرنے پر مجبور کر رکھا تھا۔
ایسے ماحول میں ساز چھیڑنا صرف فن کا اظہار نہیں بلکہ مزاحمت کی ایک خاموش شکل تھی۔
"شروع سے موسیقی سے جنون حد تک محبت تھا۔وقت کے ساتھ اندازہ ہوا کہ پشتونوں کو ڈھول یا کونڈل(پیلے) پر اکٹھے ہوسکتے۔یہی وجہ تھی کہ میں نے لوگوں کو متحدہ کرنا اور اپنے حقوق کے لئے منظم کرنے کے لئے موسیقی کا انتخاب کرلیا تاہم موسیقی کے شعبے سے وابستہ افراد کے پوری پختونخوا اور خصوصا قبائلی اضلاع میں شدید مشکلات کے شکار زندگی گزررہے ہیں "۔
علاقے میں سخت مذبہی شدت پسندی کے سبب موسیقی پر پابندی کے سبب شوکت عزیز نے 2016میں اپنا آبائی علاقہ چھوڑ کر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان منتقل ہوا جہاں پر اُنہوں نے رسمی طور پرموسیقی کاآغاز کیا تاہم مسائل میں تب اضافہ ہوا جب پشتون علاقوں میں سیکورٹی اور انتظامی مسائل کے حل کے لئے بنائیے گئے تنظیم کالعدم پشتون تحفظ مومنٹ کے لئے ایک نظم ” زوانان مو قتل کگي، دا سنگہ ازادي دا (ہمارے نوجوا ن قتل ہورہے ہیں،یہ کیسے آزادی ہے) "۔اُن کو 5اکتوبر 2024کو ڈیر ہ اسماعیل سے گرفتار کرلیا اور ایک ماہ بعد 4 نومبر کو ہری پور جیل سے ضمانت پر رہا کر دیاگیا۔اب بھی وہ پابندی کی زندگی گزارنے ہیں اور سیکورٹی اداروں کے جانب سے اُن کے نقل وحرکت کی نگرانی کی جارہی ہے۔
"میرا نام شیڈول فور میں ڈالاگیا اور میرے خلاف دہشت گردی کے دفغات کے تحت مقدمات درج کردئیے گئے۔ آپ اندازہ لگائے کہ ایک بندہ جنہوں نے پوری زندگی موسیقی کے ذریعے امن کے لئے کام کیا ہوں اور اُن کو جیل میں ڈال کر اُن کے خلاف بے بنیاد سنگین مقدمات درج کردیں۔میرے خیال میں اپنے لوگوں کے لئے یہ تکالیف کچھبھی نہیں اور میں خوش ہوں کہ میں نے قوم کو آگاہی کا پیغام پہنچایاہے”۔
سینئر قانون دان اور ہائی کورٹ کے وکیل شافہد انصاری شوکت عزیز کے وکیل ہے۔ اُنہوں نے بتایاکہ شوکت عزیز کے ساتھ رٹ پٹیشن میں بارہ لوگ شامل ہیں اُنہوں نے کہاکہ مقدمہ ڈسٹرک انٹیلی جنس کورڈنیشن کمیٹی کے سفارش پر صوبائی حکومت نے مقدمہ کرکے موقف اپنایاکہ نامزاد افراد ریاست خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہے۔اُنہوں کہاکہ نیکٹا کے جانب سے شوکت عزیز کے حوالے رپورٹ میں کہاگہاکہ اُن کا کالعدم پشتون تحفظ مومنٹ سے اور اُن کے انقلابی گانوں کی وجہ سے نوجوانوں کے ریاست کے خلاف جزبات اُبھر رہاہے۔
اُنہوں نے کہاکہ شوکت عزیز ایک فنکار ہے اور کسی دہشت گرد تنظیم یا سرگرمیوں کے ساتھ وابستہ نہیں ہے جبکہ ایڈشنل چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا و ر محکمہ انسداد دہشت گردی کے جانب سے شوکت عزیر کے کیس پر جو تاثرات سامنے آئے اُس میں کوئی ایسی بات شامل نہیں کہ جس کے بنیاد پر اُن کو کوئی سزا ہوجائے، لیکن ہم عدالت میں کیس کو جلد مقرر کرنے کے لئے درخواست جمع کیا اور اُمید ہے کہ عدالت شوکت عزیز کو بری کردینگے۔
موجودہ وقت میں شوکت عزیر کے شناختی کارڈ بلاک کردیا گیا جبکہ اُن کے نقل وحرکت کو محدود کردیا گیا ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق شیڈول کو اعلی عدالیتں غیر آئینی قرار دیں چکے ہیں لیکن اس کے باجود بھی اس کا استعمال ہورہاہے۔
سال 2018میں قبائلی اضلاع کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام سے پہلے اور بعد میں ابتک محکمہ ثقافت و سیاحت خیبر پختونخوا نے مذکورہ اضلاع کے فنکاروں کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا تاہم صوبے کے دیگر اضلاع میں فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے افرد کو مختلف سطح پر معاونت فراہم کی گی۔ادارے کے سیکرٹری، ڈائریکٹر جنرل اور محکمہ ثقافت کے ڈائریکٹر سے اُن کے موقف جانے ک لئے بار بار کوشش کے باوجود بھی اُن کے طرف سے ضم قبائلی اضلاع کے فنکاروں کے مالی معاونت کے حوالے سے کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔
مقصود محسود نے ایسے علاقے میں آنکھ کھولی جہاں پرموسیقی اور روایتی ڈانس اتنڑ روایات کا اہم جز مانا جاتاتھا۔یہی وہ سب کچھ تھاکہ اُنہوں نے سکول کے زمانے سے ہی موسیقی سے ناطہ قائم کیا لیکن ایک ایسے وقت میں کہ علاقے میں میوز ک سنٹریا کیسٹ کے دوکانوں کو بارود سے نشانہ بناجارہے تھے۔علاقے میں امن کے قیام کے لئے اکتوبر 2009میں فوجی آپریشن شروع ہونے کی وجہ سے دیگر لوگوں کے طرح نقل مکانی کرکے ڈیر ہ اسماعیل منتقل ہوگئے۔
"ڈیر اسماعیل خان میں چھٹی جماعت سے شاعری کی ناکام کوشش کے بعد موسیقی کے آلات سیکھنا شروع کیا۔ بعد میں نیشنل کالج آف آرٹ سے موسیقی میں پڑھائی کی اور 2018کو میں سند راس سکول آف آرٹ کے نام سے اسلام آباد میں ادارہ قائم کیا تاہم چند سال پہلے سیلاب کے وجہ سے اکیڈمی میں تمام آلات کو بری نقصان پہنچا ہے جس کے بحالی کے لئے مالی مسائل کے سبب تاخیرکا شکار ہے "۔
ہنری ٹولنہ ا تنظیم نہ صرف خیبر پختونخوا میں فنون لطیفہ سے وابستہ افراد کے حقوق کے لئے کام کررہاہے بلکہ اگست 2021کے بعد افغانستان سے سینکڑوں کے تعداد میں افغان فنکاروں کے پاکستان آمد اور درپیش مسائل کے حل کے لئے اقداما ت کررہے ہیں۔ تنظیم کے سربراہ اور فنکار ڈاکٹر راشدخان نے بتایاکہ پوری صوبے میں اور خصوصا ضم قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے فنکاروں کے حالت باقی صوبے سے زیادہ ابتر ہے کیونکہ حکومت کے جانب سے اُن کے فنکاروں کے مدد کے لئے کوئی اقدام ابتک نہیں کیا گیا ہے اُن کاکہنا تھا کہ فنکاروں کو اپنے حقوق کے حوالے سے آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے متعلقہ حکام اُن کے حقوق آسانی کے ساتھ عصب کرلیتے ہیں۔
اُنہوں نے الزام لگایاکہ محکمہ سیاحت و ثقافت بغیر کسی منصوبہ بندی کے پوری سال کے بجٹ ایک دو میلوں پر خرچ کرلیتے ہیں۔ اُن کے بقول صوبے کے فنکار سخت مالی مسائل کے شکار ہے لیکن متعلقہ حکام مدد تو دور کی بات ہے ملاقات تک گورانہیں کرتے ہیں۔
مقصود محسود کاکہنا ہے ہم انتہائی مشکل حالت میں موسیقی کررہے ہیں، ایک ایسے معاشرے میں جہاں پر عدم برادشت اور تشدد ایک عام سی بات سمجھا جاتاہے۔اُن کے بقول شاعری اور موسیقی معاشرے میں امن کے قیام اور نوجونوں کے تربیت میں کافی اہم کردار ادا کرتاہے لیکن اس کے لئے حکومت کے سرپرستی کی ضرورت ہے۔

” شاید آپ بات حیران ہونگے لیکن میرا سوال ہے کہ کونسا حکومت اور کونسا مدد۔ انتہائی افسوس کی بات ہے کے اس مشکل وقت میں کسی قبائلی فنکار کا حکومتی سطح پر کوئی مدد کی گئی۔ صوبے کے باقی اضلاع میں بھی مسائل ہے لیکن اتنا جتنا ضم قبائلی اضلاع کے فنکاروں سامنا کررہے ہیں "۔
ڈاکٹر راشدخان نے کہاکہ صوبے کے سطح پر فنکاروں کے حقوق کے لئے قائم پانچ رجسٹرڈ تنظیموں کے اتحاد بن چکاہے اور جلد فنکاروں کے مسائل کے حوالے ایک جرگہ منعقد کیا جائیگا جن میں وزیر اعلی خیبر پختونخوا کو مدعو کیاجائیگا۔
اُن کے بقول اس جرگے میں فنکاروں کے لئے مختص فنڈ کا چند مخصو ص لوگوں کے تقسیم، بیمار فنکاروں کے علاج، ماہانہ وظائف، بچوں کے تعلیم سمیت اکیڈمیوں کا قیام جیسے اہم مطالبات وزیر اعلی کے سامنے رکھے جائینگے۔
ضم اضلاع میں فنکاروں کو درپیش مسائل کے حوالے سے محکمہ سیاحت و ثقافت کے سیکرٹری، ڈریکٹرجنرل اور محکمہ ثقافت کے ڈریکٹر کے ساتھ کئی بار بار رابطوں کی کوشش کی تاہم اُن کے جانب سے کوئی موقف سامنے نہیں آسکا۔
پچھلے دو ہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرجانے کے باوجود بھی ضم قبائلی اضلاع میں امن قائم نہیں ہوسکا اور مقامی لوگوں نے دو یا تین بار نقل مکانی کی بے۔ فنکاروں نے بتایاکہ اپنے علاقے سے دور دوسرے علاقوں میں ہجرت کی زندگی میں موسیقی کے پروگرامات میں جانا ختم ہوچکا ہے کیونکہ ایک وہاں پر لوگوں کے ساتھ جان پہنچان نہیں اور دوسرا یہ کہ دور دراز علاقوں سے بدامنی میدانی علاقوں میں پھیلنے کی وجہ سے لوگ خوف کے شکار ہے اور موسیقی کے پروگرامات نہیں کراتے ۔فنکاروں نے بتایاکہ لوگ کبھی کبھار پروگرام کے لے رابطہ کرلیتا ہے لیکن ڈر کی وجہ سے ہم انکار کردیتے ہیں کیونکہ ایسے علاقوں میں مدعو کردیتے جہاں پر مسلح گروہوں کے سرگرمیاں زیادہ ہوتے ہیں ۔پروگرامات میں شرکت نہ کرنے سے فنکار شدید مالی مساءل کے شکارہے ۔
خیبر پختونخوا ڈیزروِنگ آرٹسٹس ویلفیئر انڈومنٹ فنڈ ایکٹ 2022
خیبر پختونخوا ڈیزروِنگ آرٹسٹس ویلفیئر انڈومنٹ فنڈ ایکٹ 2022 کے تحت قائم کیا گیا یہ فلاحی نظام صرف فوری امداد تک محدود نہیں بلکہ ایک مستقل سماجی تحفظ کے طور پر مرتب کیا گیا ہے۔ اس قانون کے مطابق ایسے فنکار جو کم یا غیر مستحکم آمدنی رکھتے ہوں، یا عمر، بیماری اور معاشی مسائل کے باعث باقاعدہ روزگار جاری نہ رکھ سکتے ہوں، انہیں“مستحق فنکار”قرار دے کر رجسٹر کیا جاتا ہے۔
فنڈ سے نہ صرف ہنگامی مالی امداد اور علاج معالجے کے اخراجات پورے کیے جاتے ہیں بلکہ بعض صورتوں میں ماہانہ مالی معاونت بھی دی جا سکتی ہے تاکہ فنکار اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔
اس کے علاوہ فنکاروں کی رجسٹریشن اور ڈیٹا بیس بنانے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے تاکہ صوبے میں ثقافتی شعبے سے وابستہ افراد کی درست تعداد اور ان کی ضروریات کا تعین کیا جا سکے۔ فنڈ کے انتظامی ڈھانچے میں ایک گورننگ باڈی شامل ہے جس میں محکمہ ثقافت کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ فنکار برادری کے افراد بھی شامل ہوتے ہیں، تاکہ فیصلوں میں شفافیت اور نمائندگی دونوں کو یقینی بنایا جا سکے۔



