
محمد یونس
صبح کا سورج جب خیبر ضلع کی وادیوں پر اپنی پہلی کرنیں بکھیرتا ہے تو قبیلہ اکاخیل ، میری خیل کے کھیت پہلے سے آباد ہوتے ہیں۔ کہیں کسان گھٹنوں کے بل بیٹھ کر پیاز کی جڑیں اکھاڑ رہے ہوتے ہیں، کہیں مزدور سرخ بوریاں اٹھا کر ٹرکوں کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں، اور کہیں بوڑھے ہاتھ چھانٹی کرتے ہوئے ہر پیاز کو ایسے دیکھتے ہیں جیسے برسوں کی محنت کا حساب کر رہے ہوں۔ یہ محض ایک فصل کی برداشت کا منظر نہیں، یہ ان خاندانوں کی امیدوں اور خوابوں کی تصویر ہے جن کا سارا سال اسی ایک فصل کے گرد گھومتا ہے۔
تحصیل باڑہ کے یہ میری خیل، حالیہ برسوں میں سرخ پیاز کی کاشت کے حوالے سے اپنی ایک الگ شناخت بناتے جا رہے ہیں۔ یہاں کی مٹی، یہاں کا موسم اور نسل در نسل منتقل ہوتا زرعی تجربہ مل کر ایسا پیاز پیدا کرتے ہیں جو اپنے گہرے رنگ، مضبوط ساخت اور دیر تک تازہ رہنے کی خصوصیت کے باعث پشاور سمیت خیبر پختونخوا کی کئی تھوک منڈیوں میں پسند کیا جاتا ہے۔ مقامی آبادی کے لیے یہ فصل محض سبزی نہیں، یہ روزگار ہے، گھر کا چراغ ہے، بچوں کی تعلیم کا خرچ ہے۔
زمین سے رشتہ، نسلوں کا حساب
میری خیل کے کسان سیال خان کئی دہائیوں سے اس زمین پر کاشت کر رہے ہیں۔ انہوں نے ٹائم لائن اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کا سرخ پیاز منڈیوں میں اپنے ذائقے اور معیار کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔
"ہم گزشتہ کئی دہائیوں سے یہاں سرخ پیاز اگا رہے ہیں۔ یہ ہماری نقد آور فصل ہے، اس سے بہت سے گھرانوں کا چولہا جلتا ہے۔ پہلے پیداوار اچھی تھی، لیکن اب پانی کم ہوتا جا رہا ہے، موسم بے ڈھنگا ہو گیا ہے، بیماریاں بڑھ رہی ہیں اور لاگت بھی ہر سال اوپر جا رہی ہے۔ حکومت اگر بیج، پانی اور رہنمائی دے تو یہاں کا پیاز پورے ملک میں اپنی جگہ بنا سکتا ہے۔”
سیال خان کی بات میں شکایت نہیں، تجربے کی گواہی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ زمین دے سکتی ہے، بشرطیکہ اسے وقت پر پانی ملے اور فصل کو وقت پر منڈی ملے۔
بیس سال کی تجارت، بدلتے حالات
میری خیل کے ہی سعید عالم گزشتہ بیس برس سے سرخ پیاز اگاتے اور بیچتے آئے ہیں۔ وہ ان دنوں کو یاد کرتے ہیں جب پیداوار اتنی اچھی تھی کہ پنجاب کے شہروں، خاص طور پر فیصل آباد تک، پیاز بھیجی جاتی تھی۔ آج وہ دن کہیں پیچھے رہ گئے ہیں۔
"اس وقت پیاز کی قیمت ڈھائی سے تین ہزار روپے فی من کے آس پاس ہے۔ لیکن پیداوار کم ہو گئی ہے اور اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ جب تک فصل تیار ہوتی ہے، قرض بھی چڑھ جاتا ہے۔ پھر اگر منڈی میں بھاؤ گر جائے تو سال بھر کی محنت پر پانی پھر جاتا ہے۔”
سعید عالم کی یہ بات صرف ان کی نہیں، اکاخیل اور میری خیل کے درجنوں کسانوں کی مشترکہ آواز ہے۔ فصل تیار ہو اور منڈی ساتھ نہ دے، یہ وہ بے بسی ہے جو زبان سے نہیں، چہرے سے پڑھی جاتی ہے۔
محکمے کا موقف اور حقیقت کا سامنا
باڑہ زرعی سرکل آفیسر شرافت خان نے ٹائم لائن اردو کو بتایا کہ مناسب زرعی انتظام کے تحت اس علاقے میں سرخ پیاز کی اوسط پیداوار ایک سو اسی سے دو سو من فی ایکڑ تک ہو سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ حالیہ برسوں میں بیماریوں، کیڑوں، پانی کی قلت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بعض علاقوں میں پیداوار میں تیس فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔
شرافت خان کے مطابق محکمہ زراعت کسانوں کے لیے "سیڈ ٹو سیڈ” پروگرام کے تحت زمین کی تیاری سے لے کر معیاری بیج اور فصل کی برداشت تک جامع تربیت دینے پر کام کر رہا ہے۔ ساتھ ہی کسانوں کو بہتر پیکنگ، گریڈنگ اور قریبی منڈیوں سے رابطے میں مدد دینے کی کوشش بھی جاری ہے۔
یہ وعدے امید دلاتے ہیں، مگر کسانوں کے چہروں پر ابھی بھی ایک سوال موجود ہے: یہ سہولتیں کب تک زمین تک پہنچیں گی؟
خاموش محنت، نظر نہ آنے والے ہاتھ
کھیتوں کی تصویر مکمل نہیں ہوتی اگر گھروں کے اندر کا منظر نہ دیکھا جائے۔ فصل کی چھانٹی، صفائی، بوریوں میں بھرائی اور ذخیرہ کاری میں خواتین کا حصہ کسی اعداد و شمار میں درج نہیں ہوتا، مگر اس کے بغیر کوئی فصل منڈی تک نہیں پہنچتی۔ یہ ہاتھ جو صبح سے شام تک پیاز چھیلتے اور ترتیب دیتے ہیں، دیہی معیشت کی اصل ریڑھ کی ہڈی ہیں، مگر ان کی گنتی کسی رپورٹ میں نہیں ہوتی۔
فصل اچھی ہے، نظام ابھی ادھورا
ماہرین زراعت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پیاز آلو کے بعد دوسری بڑی سبزیاتی فصل ہے اور اس کی پیداوار میں قومی سطح پر اضافہ ہو رہا ہے۔ خیبر ضلع کے علاقے جمرود، لنڈی کوتل اور باڑہ سمیت کئی مقامات پر کاشت میں توسیع دیکھی گئی ہے اور کچھ کسانوں نے ریکارڈ پیداوار کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
لیکن ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ کسی فصل کی اصل کامیابی صرف کھیت میں نہیں ناپی جاتی۔ اگر کولڈ سٹوریج نہ ہو تو پیاز سڑ جاتی ہے۔ اگر سڑک خراب ہو تو گاڑی بروقت نہیں پہنچتی۔ اگر منڈی میں ثالث زیادہ طاقتور ہو تو کسان کمزور رہتا ہے۔ پیداوار اور منافع کے درمیان جو فاصلہ ہے، وہ بیج یا مٹی نے نہیں، نظام کی کمزوری نے پیدا کیا ہے۔
اگر مقامی سطح پر کولڈ سٹوریج، زرعی سروس مراکز اور بہتر سڑکیں فراہم کی جائیں تو اکاخیل اور میری خیل کا سرخ پیاز ضم شدہ اضلاع کا ایک قابل فخر زرعی برانڈ بن سکتا ہے۔
امید ابھی زندہ ہے
جب شام کو کسان کھیت سے لوٹتا ہے تو اس کے ہاتھوں پر مٹی ہوتی ہے اور چہرے پر تھکاوٹ، مگر آنکھوں میں ابھی بھی اگلے موسم کا حساب چلتا رہتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ شاید اس بار پانی وقت پر آ جائے، شاید اس بار منڈی ساتھ دے، شاید اس بار حکومت سن لے۔
اکاخیل، میری خیل کے یہ سرخ کھیت محض پیاز نہیں اگاتے، یہ ایک پوری نسل کی ہمت، صبر اور زندہ رہنے کی خواہش کا استعارہ ہیں۔ ان کسانوں کی کامیابی کا راستہ زمین سے نہیں گزرتا بلکہ اس نظام سے گزرتا ہے جو انہیں منصفانہ منڈی، بروقت سہولت اور انسانی وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع دے سکے۔



