ضلع باجوڑ کے تحصیل وڑ مامونڈ کے دور افتادہ پہاڑی علاقے سپرے منڈوگوں جو افغانستان کے ساتھ سرحد پر واقع  ہے میں مذکورہ گاؤں کے لوگوں نے گزشتہ روز ایک معدومی کے شکار نایاب نسل کے کامن تیندوے کو ہلاک کیا ہے۔  گاؤں کے لوگوں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کیا ہے جس میں ہلاک شدہ کامن تیندوے کو بھی دیکھایا گیا ہے ۔ اس ویڈیو میں مذکورہ گاؤں کے لوگوں نے موقف اپنایا ہے کے کئی ہفتوں سے تیندوے نے ان کے مویشیوں پر جان لیوا حملے کئے اور ان کے متعدد مویشیوں کو ہلاک کیا ہے۔

جس کی وجہ سے ان کو لاکھوں روپے کا مالی نقصان پہنچا ہے۔ گاؤں کے لوگوں کا  یہ بھی کہنا تھا کہ پہاڑی علاقوں میں ان کا کل سرمایہ ان کے مال مویشی ہوتے ہیں اور ان کے معاش کا زیادہ تر دارو مدار ان مویشیوں پر ہے ۔ لیکن تیندوے نے ان کے کئی قیمتی مویشیوں کو ہلاک کیا ہیں جس کی وجہ سے ان کو کافی مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے مزید مالی و جانی نقصان سے بچنے کے لئے اور اپنے تحفظ کے لئے یہ انتہائی اقدام اٹھایا ہے۔

محکمہ وائلڈ لائف باجوڑ  ضلع بھر میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے کام کررہی ہے۔ محکمہ وائلڈ لائف باجوڑ  کے ڈویژنل فارسٹ اینڈ وائلڈ لائف آفیسر ( ڈی ایف او ) نوید علی نے مقامی لوگوں کے طرف سے کامن تیندوے کی ہلاکت کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے اس افسوسناک واقعہ پر فوری کاروائی کی ہے اور اپنے محکمے کے ٹیم کو  ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے وہاں پر متعلقہ علاقے میں بھیج دیا تھا۔ وہاں پر Law and Order  کی صورتحال کی وجہ سے  ہماری ٹیم  سے ضلعی انتظامیہ کے ایڈوائس پر ٹیم کے چند ارکان علاقائی مشران کے ہمراہ مذکورہ گاؤں میں گئے۔

وہاں پر ٹیم کے ارکان نے مشران کے ہمراہ گاؤں کے لوگوں سے کامن تیندوے کے کھال برآمد کی کیونکہ مقامی لوگوں نے کامن تیندوے کے باڈی سے کھال اتروا کر اسکو الگ کیا تھا۔ ٹیم نے کامن تیندوے کی کھال  کو مزید کاروائی کے لئے خار میں ہمارے دفتر پہنچائی ہے۔ نوید علی نے کہا کہ یہ ایک افسوسناک واقعہ ہوا ہے کہ ایک نایاب نسل کے کامن تیندوے کو اس طرح بےدردی سے مارا گیا ہے۔

نوید کے مطابق اس سلسلے میں وہ چیف کنزرویٹر وائلڈ لائف ملاکنڈ ریجن کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ ان کے ہدایت کے مطابق ہم نے واقعہ کے مکمل چھان بین کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے ۔ اور اس واقعہ کے حوالے سے جتنی بھی پیش رفت ہوگی تو وہ میڈیا کے ساتھ ہم وقتا فوقتا شریک کرینگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے وہ وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ کے تحت مزید کاروائی کررہے ہیں اور واقعی میں ملوث افراد کے خلاف قانون کی مطابق کاروائی ہوگی۔

کیا مقامی کمیونٹی کو اس کے مویشوں کی نقصانات کا معاوضہ دینے کا کوئی طریقہ کار موجود ہے؟

محکمہ وائلڈ لائف باجوڑ کے سوشل  آرگنائزر محمد طیب نے  بتایا کہ وائلڈ لائف کے قانون میں کمیونٹی کے جنگلی حیات کے وجہ سے پہنچنے والے نقصانات کے لئے ایک واضح اور مکمل طریقہ کار موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دفتر میں ایک فارم ہوتا ہے جس میں کمیونٹی کے نقصانات کے حوالے سے تفصیل درج ہوتی ہے ۔

جب کسی کمیونٹی کا جنگلی حیات مثلا شیر، تیندوے، ریچھ یاکسی دوسرے خطرناک جانور سے ان کا  کسی طرح کا نقصان ہوا ہوں تو وہ ہمارے دفتر اکر اس فارم کو پر کرکے  ہمارے حوالے کرتے ہیں۔ پھر اس فارم پر چند دنوں میں ضروری کاروائی کرکے متعلقہ شخص یا کمیونٹی کو اس کے نقصانات کا ازالہ کیا جاتا ہے۔ تو کمیونٹی کے نقصانات کے ازالے کے لئے محکمہ وائلڈ لائف میں ایک مکمل طریقہ کار موجود ہے۔

کیا مقامی کمیونٹی کے لئے آگاہی سیشنز منعقد ہوتے ہیں؟

سوشل میڈیا پر محکمہ وائلڈ لائف باجوڑ کو لوگوں نے اس وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ لوگوں کے آگاہی کے لئے اقدامات نہیں کررہے ۔ اور یہی وجہ ہے کہ باجوڑ میں جنگلی حیات کے مارنے کے افسوسناک واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں ۔

لوگوں کے تنقید اور یہی سوال کہ ضلع باجوڑ میں جنگلی حیات کی تحفظ کے حوالے سے مقامی لوگوں کے لئے آگاہی سیشنز کا انعقاد  ہوتا ہے کہ نہیں تو اس کے بارے میں وائلڈ لائف باجوڑ کے سوشل آرگنائزر  اور زوالوجسٹ محمد طیب نے  کہا کہ ہم پورے باجوڑ میں کیمونٹی کے آگاہی کے لئے آگاہی سیشنز منعقد کراتے ہیں۔ ان سیشنز میں ان کو جنگلی حیات کے تحفظ حوالے سے آگاہی دیتے  ہیں ۔

مقامی کمیونٹی  کو یہ بھی بتا تے ہیں کہ کس طرح اس سے  اپنے مال مویشیوں کو محفوظ بنانا اور اگر اس طرح کہی پر جنگلی حیات کی وجہ سے ان کے مال مویشیوں یا املاک کو کوئی نقصان پہنچا ہو یا پہنچنے کا اندیشہ ہوں تو اس کے بارے میں محکمہ وائلڈ لائف باجوڑ کو کس طرح اطلاع دینا ہے ۔

تو ان سب باتوں سے آگاہی سیشنز میں ہم مقامی کمیونٹی کو آگاہی دیتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف علاقوں میں ہم نے جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے مقامی سطح پر کمیٹیاں بھی بنائی ہیں تاکہ ان کا ہمارے ساتھ  ہر وقت مرطوب رابطہ قائم ہو۔

کیا ہلاک شدہ کامن تیندوے کا نسل معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں؟

کامن لیپرڈ (عام تیندوے) کو بین الاقوامی یونین برائے تحفظِ قدرت یا فطرت  (IUCN) کی سرخ فہرست (Red List) میں "حساس” (Vulnerable) زمرے میں رکھا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ نسل جنگلات اور قدرتی ماحول میں معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔

​     معدومی کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں: 

جنگلات کا خاتمہ اور تقسیم: انسانی آبادیوں میں پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی اور سڑکوں کی تعمیر کی وجہ سے ان کا مسکن تیزی سے سکڑ رہا ہے اور وہ چھوٹے چھوٹے حصوں میں بٹ کر رہ گئے ہیں۔ 

شکار اور غیر قانونی تجارت: ان کی کھال، ہڈیوں اور دیگر اعضا کی غیر قانونی بین الاقوامی تجارت کے لیے ان کا بڑے پیمانے پر شکار کیا جاتا ہے۔

خوراک کی کمی: جنگلات میں ان کا قدرتی شکار (ہرن اور دیگر جانور) کم ہونے کی وجہ سے انہیں خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔ 

انسان اور تیندوا تنازع: خوراک کی تلاش میں جب تیندوے دیہات یا مویشیوں کے قریب آتے ہیں، تو کسان اور چرواہے جوابی کارروائی میں یا اپنے بچاؤ کے لیے انہیں مار دیتے ہیں۔ 

اگرچہ مجموعی طور پر پوری دنیا کی سطح پر یہ "Vulnerable” (حساس) ہیں، لیکن ان کی کچھ ذیلی اقسام (Subspecies) مثلاً آمور لیپرڈ (Amur Leopard) انتہائی شدید خطرے سے دوچار یا ناپیدگی کے دہانے پر ہیں۔

 باجوڑ میں کامن تیندوے کی ہلاک کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ردعمل

سوشل میڈیا پر نہ صرف باجوڑ بلکہ پورے پاکستان اور بیرونی ممالک میں مقیم مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے تیندوے کی ہلاکت پر ملا جلا ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کسی نے ان کو افسوسناک قرار دیا ہے اور ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے اور محکمہ وائلڈ لائف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ وہ جنگلی حیات کے تحفظ اور لوگوں کے آگاہی میں ناکام رہے ہیں۔

جب دوسری طرف کچھ لوگوں نے تیندوے کو ہلاک کر نے کے اقدام کی حمایت کی اور کہا ہے کہ مویشیوں اور انسانی جانوں کا تحفظ بہت ضروری ہے نہ کہ خونخوار تیندوے کی ۔ انہوں نے اس حوالےسے محکمہ وائلڈ لائف کے چالان یا ایف آئی آر کے باتوں کو بلاجواز قرار دیا ہے۔

باجوڑ کے حلقہ پی کے 19 علاقہ ماموند سے پاکستان تحریک انصاف کے منتخب ممبر صوبائی اسمبلی ڈاکٹر حمید الرحمن نے بھی محکمہ وائلڈ لائف کو اپنے سوشل میڈیا پیج پر ایک پوسٹ کے زریعے خبردار کیا ہے کہ سپرے منڈوگوں کے لوگوں کے خلاف ایف آئی آر یا چلان سے باز رہے ۔

پاکستان میں کامن تیندوے کی تعداد کتنی ہے؟

پاکستان میں کامن لیپرڈ (Common Leopard یا تیندوا) کی حتمی اور سرکاری طور پر تصدیق شدہ مجموعی قومی تعداد (National Population Census) کا کوئی باضابطہ اور مکمل ڈیٹا موجود نہیں ہے۔

کیونکہ ان کا رہائشی علاقہ بہت وسیع، پہاڑی اور دشوار گزار ہے۔ تاہم، ماہرینِ حیوانات اور وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے تخمینے کے مطابق ان کی تعداد انتہائی محدود اور خطرے سے دوچار ہے۔

کامن تیندوے سے متعلق اہم حقائق درج ذیل ہیں:

آئی یو سی این (IUCN) کی درجہ بندی: عالمی سطح پر کامن لیپرڈ کو "حساس” (Vulnerable) زمرے میں رکھا گیا ہے، لیکن پاکستان میں جنگلات کی کٹائی، شکاریوں اور انسانوں کے ساتھ تنازعات کی وجہ سے اسے قومی سطح پر شدید خطرے سے دوچار (Critically Endangered) مانا جاتا ہے۔

علاقائی آبادی: یہ بنیادی طور پر خیبر پختونخوا (خصوصاً گلیات، ایوبیہ نیشنل پارک، مانگلوٹ وائلڈ لائف پارک اور سوات)، آزاد جموں و کشمیر، پنجاب کے میدانی و پہاڑی جنگلات اور بلوچستان کے کچھ حصوں میں پائے جاتے ہیں۔

مثال کے طور پر، ماضی کے جینیاتی اور کیمرہ ٹریپ سرویز کے مطابق صرف ایوبیہ نیشنل پارک اور گلیات کے محدود جنگلات میں چند درجن (تقریباً 15 سے 20 کے قریب) کامن لیپرڈز کی موجودگی کی تصدیق کی گئی تھی۔  جبکہ باجوڑ میں یہ  افغانستان کے ساتھ  سرھد پر واقع پۃاڑی علاقوں میں ان کی موجودگی کی تصدیق وقتا فوقتا ہوتی رہتی ہے۔

بڑے خطرات: جنگلات کا سکڑنا، خوراک (شکاری جانوروں) میں کمی، اور مویشیوں کے دفاع میں مقامی لوگوں کی طرف سے بدلہ کی کارروائیوں میں ان کا مارا جانا ان کی بقا کے لیے سب سے بڑے خطرات ہیں۔

محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبرپختونخوا کے ترجمان لطیف الرحمن نے کہا ہے کہ جنگلی حیات قدرت کا انمول سرمایہ اور ہماری حیاتیاتی تنوع کی بنیاد ہے۔ خیبرپختونخوا وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نایاب اور محفوظ جنگلی جانوروں کے تحفظ کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

کسی بھی جنگلی جانور کے غیر قانونی شکار، اسمگلنگ یا قدرتی مسکن کو نقصان پہنچانے والوں کے ساتھ قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا۔ ہم عوام، مقامی مشران اور تمام متعلقہ اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ جنگلی حیات کے تحفظ کو قومی زمہ داری سمجھتے ہوئے محکمہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے خیبرپختونخوا کی قدرتی وراثت محفوظ رہ سکے۔

محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبرپختونخوا عوام سے بھی اپیل کرتا ہے کہ کسی بھی غیر قانونی شکار یا جنگلی حیات سے متعلق مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر قریبی وائلڈ لائف دفتر یا متعلقہ حکام کو دیں تاکہ قدرتی وسائل اور نایاب حیات کے تحفظ کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

 

شاہ خالد شاہ جی
شاہ خالد شاہ جی کا تعلق قبائلی ضلع باجوڑ سے ہے۔ اور پچھلے 15 سالوں سے صحافت سے وابستہ ہے۔ وہ ایک ایوارڈ ہافتہ تحقیقاتی جرنلسٹ ہے اور مختلف نیوز ویب سائٹس، اخبارات، جرائد اور ریڈیوز کے لئے رپورٹینگ کا تجربہ رکھتا ہے۔ شاہ جی زراعت، تعلیم، کاروبار۔ ثقافت سمیت سماجی مسائل پر رپورٹنگ کررہا ہے لیکن اس کا موسمیاتی تبدیلی ( کلائیمیٹ چینج ) رپورٹنگ میں وسیع تجربہ ہے۔ جس کے زریعے وہ لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی کوششوں میں مصرف ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں