بلقیس ارشد پشاور میں ایک سرکاری ہائیر سکینڈری سکول میں سبجیکٹ سپیشلسٹ(ایس ایس) ہیں۔ اُ ن کی پہلی بچی کی عمر چھ ماہ ہے تاہم نوکری اور اپنے صحت کے فکر کی وجہ سے وہ باقاعدگی کے ساتھ بچے کو اپنی دودھ نہیں پلا رہی ہے لیکن اُن کا بچہ بار بار بیماری کا شکار ہوتاہے۔

"ایک طرف صبح چھ بجے سے دوپہر تین بجے تک ڈیوٹی کرنا ہوتاہے جبکہ ذاتی جسمانی کمزوری کے سبب میں اپنے بچے کو ڈبے والا دودھ پلاتی ہوں جوکہ ایک ڈاکٹر نے تجویز کی ہے۔صبح دودھ کو بوتل میں دودھ تیار کر کے نوکرانی کے حوالے کرکے میں پورا دن بچے سے بے فکر ہو کراپنی نوکری کر لیتی ہوں۔میں نے ڈاکٹر کو کہا کہ مارکیٹ سے آچھے اور مہنگے کمپنی والے دودھ لکھ دیں تاکہ بچے کو بہتر غذا مل سکے ”

لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ماہراطفال اور اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ادریس کاکہنا ہے کہ بچے کے پیدائش کے فورنا بعد ماں کو اپنے دودھ بچے کو پلانا شروع کردینا چاہے جوکہ قدارتی طورپر مختلف بیماریوں سے بچاؤکے ویکسین کے طورپر کام کرتاہے۔ اُن کے بقول ابتدائی تین دنوں میں ماں کے چھاتی میں دودھ کے مقدار کم ہوتاہے لیکن باربار دودھ پلانے سے خود بخود مقدار بڑھ جاتاہے۔

"ماں کو رازنہ آٹھ گلاس پانی پینا چاہیے جبکہ گھر میں تیار ہونے والے تمام کھانے خوراک کے طورپر استعمال کرسکتاہے۔ بعض مائیں چھاتی میں دودھ کی کمی کے شکایت کرتے ہیں تواُن کے رہنمائی اور کونسلینگ کی ضرورت ہے جس سے دودھ آنا اور بچے کو پلانا شروع کردینگے۔ بعض اوقات آگر چھاتی کے حوالے اگر کچھ مسائل ہوتو اُن کا حل ممکن ہے "۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں بچوں کے سب سے بڑے ہسپتال صفت غیور شہید کے اعداد شمار کے مطابق ہسپتال میں ہر روز او پی ڈی میں 900 سے 1100 تک بچے علاج کیلئے لائے جاتے ہیں جس میں اکثریت ان بچوں کی ہوتی ہے جو کہ اپنی ماں کے دودھ کی بجائے فارمولا یا بوتل کا دودھ پیتے ہیں جس کی وجہ سے ان بچوں میں نمونیا، سانس کی تکلیف، جسمانی کمزوری، بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت میں کمی، پیٹ کی بیماریاں اور ذینی کمزوری عام ہوتی ہے۔

ادارے کے حکام کے مطابق جب ماں سے یہ سوال پو چھا جاتا ہے کہ بچے کو اپنا یا فارمولا دودھ پلالیتے ہیں تو اکثر ماؤں کا جواب ہوتا ہے کہ اپنے جسمانی کمزوری اور خوبصورتی متاثر ہونے کے اندیشے کے سبب وہ مارکیٹ سے ڈبے کے دودھ خرید کربچوں کو پلالیتی ہے۔

تاج بی بی جو کہ گھر یلو خاتون ہیں، اُن کاکہنا ہے کہ اپنے بچوں کو دودھ پلا کر کوئی تکلیف محسوس نہیں کی۔ ان کے بقول بغیر کسی وقفے کہ ہر سال ایک بچے پیدا ہوا ہے جس کی وجہ سے پورے دو سال تک دودھ نہیں پلا سکی البتہ پوری کوشش کی کہ زیادہ سے زیادہ دودھ بچوں کو پلاسکوں۔ تاج بی بی نے کہا اب ان کے نواسے ہیں لیکن اُن کے مائیں ان کو اپنا دودھ نہیں پلاتی اور کہتے ہیں ہماری خوبصورتی اور صحت متاثر ہوتی ہے۔
” دوسری طرف ہر دوسرے دن ایک نہ ایک بچہ بیمار ہوتاہے اور تین چار سال کے عمر تک یہ سلسلہ جاری رہتاہے۔ پرانے وقتوں میں اس بات کی بالکل تصویر ہی نہیں تھا کہ ماں اپنے بچے کو دوھ نہیں پلائینگے لیکن اب یہ بات عام ہے "۔

محکمہ صحت خیبر پختونخوا بچے کو ماں کے دودھ پلانے کے حوالے سے کوئی تازہ اعداد شمار موجود نہیں تھا تاہم پاکستان دنیا کے ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں یہاں کو اپنے بچوں کو دودھ پلانے کے رحجان میں مسلسل کمی آرہی ہے۔ خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کی سابق ڈپٹی سپیکر اور ماہر اطفال پروفیسر ڈاکٹر مہر تاج روغانی کا کہنا ہے کہ بچے کی پیدائش کے دو گھنٹوں کے اندر اندر ماں کا دودھ پلالینا شروع کردینا چاہیے جبکہ بعض خواتین یہ سوچتی ہیں کہ ماں کا پہلے دودھ صحیح نہیں ہوتا لیکن یہ بات بالکل غلط ہے اور یہی ابتدائی دودھ بچے کے مختلف بیماریوں سے بچاؤ کے لئے ویکسین کے طورپر کام کرتی اور اس میں ہموگلوبین ہوتاہے جوکہ خون میں اضافے کا سبب بنتاہے۔

” میرے علم کے مطابق خیبرپختونخوا میں جو مائیں بچوں کو اپنا ددوھ نہیں پلاتی وہ مختلف بہانے ڈھونڈ لیتے ہیں جوکہ بالکل حقیقت سے دور ہوتے ہیں۔ یہی رحجا ن ترقیاتی یافتہ ممالک میں بھی تھا لیکن وقت کے ساتھ اُن لوگوں کو احساس ہوا کہ یہ بچے کے صحت کے لئے کافی نقصاندہ ہے۔اکثریتی مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلانے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اگر پھر کوئی خاتون کمزور ی محسوس کررہاہوتاہے تو اُن کو اپنے خوراک پر توجہ دینا چاہیے "۔

صائمہ خان گھریلوں خاتون اور تین بچوں کی ماہ۔۔ ہے آخری بچے کی عمر پندرہ ماہ ہے تاہم اُنہوں نے آٹھ مہینوں تک اپنا دودھ پلایا لیکن اُن کے بقول اُنہوں نے جسمانی کمزوری محسوس کی اور اشتہ داروں کے مشورے پر بچے کو فارمولا دودھ پلانا شروع کردی۔

"پہلے دو دو بچو ں کو ایک سال تک اپنا ددوھ پلایا لیکن آخری بچے کو آٹھ مہینے تک پلایا کیونکہ باپ کے خاندان والوں نے بچے کو مزید دودھ نہ دینے کا کہا اور میں نے بند کرکے ڈبے والا ددودھ پلانا شروع کردیا۔
جو کہ خود تین سالہ بچے کی ماں ہے اور اس نے اپنے بیٹے کو آٹھ ماہ تک دودھہ پلا یا تھا۔ ان کا کہتا ہے کہ اس نے کمزوری محسوس کی تو اسی وجہ سے انھوں نے بچے کو ڈبے کا دودھ تیار کر کے پلا نا شروع کیا۔ اس اقدام کو سسرال کے گھر والوں سے چھپایا تاہم بچے کی باربا ر بیمار ہونا اور کمزور صحت کے بعد سب کو پتہ چلاجس پر کافی شور مچا اور بات مارپیٹ تک پہنچ گئی۔مجھے بھی اس بات کا احساس ہے کہ باقی بچوں کے نسبت اس بچے کے صحت کافی کمزور ہے "۔

اقوام متحد ہ کا ادارہ برائے طفال کے مطابق پاکستان میں صرف 48 فیصد بچوں کو زندگی کے پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پلایا جاتا ہے جو کہ 60 فیصد کے عالمی ہدف سے بہت کم ہے۔
خیبر پختونخوا ملٹی پل انڈیکیٹر کلسٹر سروے (MICS) رپورٹ کے مطابق پیدائش کے فوراً بعد ماں کا دودھ پلانے کی شرح 22.3 فیصد،چھ ماہ سے کم عمر بچوں کو صرف ماں کا دودھ پلانے کی شرح 51.5 فیصد
، ایک سال کی عمر تک ماں کا دودھ جاری رکھنے کی شرح 77.3 فیصداور دو سال کی عمر تک ماں کا دودھ جاری رکھنے کی شرح: 43.2 فیصد ہے۔

چھ ماہ تک بچے کو صرف ماں کا دودھ جبکہ اس کے بعد دودھ کے ساتھ متوازن غذا بھی دیا جاسکتاہے۔محکمہ صحت خیبر پختونخوا نیوٹریشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر ہارون کا کہنا ہے کہ پیدائش سے لیکر دو سال تک بچے کو ماں کا دودھ پلانے کا رحجان شہری اور ترقی یافتہ علاقوں کے نسبت دیہی علاقوں میں زیادہ ہے تاہم وہاں پر ماں بچے کے صحت کے حوالے آگاہی کی کمی ہے۔ اُن کے بقول ہرسال پوری اگست کا مہینہ صوبے بھر میں بچے کو ماں کے دودھ پلانے کے حوالے سے والدین میں آگاہی پیداکرنے کے لئے منایاجاتاہے تاہم دوسرے جانب فارمولا دودھ انٹرسٹری اپنے مصنوعات کے تشہیر کے لئے بھاری رقم خرچ کرتے ہیں۔اُنہو ں نے کہاکہ دو سال تک بچے کو دودھ پلانے سے قدرتی طورپر بچوں کے پیدائش میں مناسب وقفہ بننے کی سبب بنے گا۔

بچوں کے عالمی ادارے کے اگست 2025میں جاری کردہ اعداد شمار کے مطابق پاکستان میں ماں کا دودھ پلانے کی شرح اب بھی تشویشناک حد تک کم ہے۔ عالمی ادارصحت (WHO) کے مطابق، ملک میں چھ ماہ سے کم عمر صرف 48.4 فیصد بچوں کو مکمل طور پر ماں کا دودھ پلایا جاتا ہے، جبکہ 2030 تک اس شرح کو 60 فیصد تک پہنچانے کا عالمی ہدف مقرر ہے۔ نیوٹریشن انٹرنیشنل کے اعداد و شمار کے مطابق بچوں کو ماں کا دودھ کی کم شرحِ کے باعث پاکستان کو ہر سال مختلف شعبوں میں تقریباً 2.8 ارب امریکی ڈالر کا معاشی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

اس کے نتیجے میں سالانہ 33 ہزار 700 سو سے زائد بچوں کی اموات، 66 لاکھ بچوں میں اسہال (ڈائریا) کے کیسزرپورٹ ہوتے ہیں جبکہ فارمولا دودھ پر سالانہ 888 ملین امریکی ڈالر سے زائد خرچ کیے جاتے ہیں۔ عالمی ادارصحت کے مطابق ماں کا دودھ بچے کی پہلی قدرتی ویکسین ہے جو اسے اسہال، نمونیا اور دیگر مہلک بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ بریسٹ فیڈنگ کے فروغ پر خرچ کیا جانے والا ہر ایک ڈالر تقریباً 35 ڈالر کے معاشی فوائد پیدا کرتا ہے۔

حکومتِ پاکستان کے اشتراک سے جنوری 2024 سے اب تک عالمی ادارصحت ملک بھر کے 157 نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹرز میں 1 لاکھ 72 ہزار سے زائد ماؤں کو بریسٹ فیڈنگ سے متعلق مشاورت فراہم کر چکا ہے، جبکہ 700 سے زائد ڈاکٹروں، نرسوں اور لیڈی ہیلتھ وزیٹرز کو تربیت دینے، بریسٹ فیڈنگ سے متعلق قوانین، رہنما اصولوں اور بیبی فرینڈلی ہسپتال اقدامات کے فروغ میں بھی معاونت کی جا رہی ہے۔

صفت غیور میموریل چائلڈ ہسپتال پشاور صوبے میں بچوں کے علاج کے لئے سب سے بڑا ہسپتال ہے جہاں پر روزنہ ایک ہزار زیادہ بچے علاج کے لئے لائے جاتے ہیں جبکہ تین بڑے ہسپتالوں کے اعداد شمار کے مطابق خیبر میڈیکل ہسپتال میں روزانہ نوہزار مریض علاج کے لئے آتے ہیں جن میں تین ہزار بچے ہوتے ہیں۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے او پی ڈی میں روزانہ تین سے چار بچے جبکہ حیات آباد میڈیکل کمپلکس کو ایمرجنسی کے علاوہ روزانہ تقریبا پندرہ سو بچے علاج کے لئے لائے جاتے ہیں۔ ہسپتال حکام کے مطابق اکثریت مریجوں میں خوارک اور خون کے کمی کے شکایت عام ہے جس کے بنیادی وجہ فارمولا دودھ کا استعمال ہے۔

مہر تاج روغانی کا کہنا ہے کہ ماں کا اپنے بچوں کو دودھ نہ پلانے کے رجحان میں اضافے کی کئی وجوہات میں جس میں دواساز کمپنیاں جو کہ ڈبوں والا دودھ تیار کرتی ہیں اور ڈاکٹرز جو کہ ماں کا بچوں کو اپنے دودھ کے بجائے مختلف کمپنیوں کے تیار کردہ دودھ تجویز کرتے ہیں۔ میڈیا بھی اس طرح کے اشتہار شائع کرتا ہے جس میں کسی صحت مند بچے کو دکھایا جاتا ہے جسے بوتل کا دودھ پلا کر شو کیا جاتا ہے اور گورنمنٹ کی سطح پر موثر قانون سازی کا نہ ہوتا بھی شامل ہے۔ انھوں نے کہا 2015 میں صوبائی اسمبلی میں ایک بل پیش کیا گیا جس میں بہت واضح غفلت برتنے پر سزاؤں کا تعین بھی کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس بل میں دواساز کمپنیوں، ڈاکٹرز، میڈ یا ، دوسرے متعلقہ اداروں اور حکومتی ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا جو کہ ایک سخت قانون ہوگا۔

عالمی ادارہ صحت کی جاری کردہ تازہ رپورٹ کے مطابق پانچ سال سے کم عمر بچوں میں چار میں سے ایک بچہ غیر صحت مندانہ ماحول کی وجہ سے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق غیر صحت مند ماحول بلا واسطہ تمباکو نوشی کے استعمال، فضائی آلودگی اور پینے کے لئے گندہ پانی کا استعمال، نکاسی آب کا خراب نظام اور نا کافی صحت کی سہولیات ایسے عوامل ہیں جس کی وجہ سے ہر سال 17 لاکھ بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

ادارے کے مطابق بچے کی صحت کے لئے خطرات ماں کے پیٹ سے ہی شروع ہو سکتے ہیں جس میں بچوں کی قبل از وقت پیدائش اور ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے سانس کی دائی بیماریاں اور نمونیا جیسے خطرناک امراض لاحق ہو سکتے ہیں۔ ایک دوسری رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بچوں کو ماں کا دودھ میسر نہ ہونے کی وجہ سے تین منٹ میں ایک بچہ پیٹ کی ہماری نمونیا اور سانس کی بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔

ڈاکٹر ادریس کے مطابق بچوں کو ماں کے ددوھ پلانے کے رحجان میں تیزی سے کمی آرہی ہے جوکہ مستقبل میں یہ خطرناک صورتحال اختیار کرسکتاہے۔ اُنہوں نے کہ علاج کے لئے جوبچے لائے جاتے ہیں تو ان میں اکثریت ایسے ہیں جن کو ماں کے دودھ کے بجائے فارمولا دودھ پلایاجاتاہے جس کے وجہ سے بچہ کمزور، جلدی اور بار بار بیمار ہوتاہے۔
"اس حوالے سے صرف والدہ کہ نہیں بلکہ والد کی بھی آگاہی کی ضرورت ہے کہ بچے کو ماں کی ددوھ پلانا کتنا ضروری ہے۔ دودھ پلانے والے ماؤں کو کئی فائدے جن میں بچوں میں قدارتی وقفہ، حمل روک تھام اور چھاتی کے کینسر کے خطرات کئی گنا کم ہونا شامل ہیں "۔

اسلام گل
بانی و مدیر اعلٰی ٹائم لائن اردو، اسلام گل افریدی مختلف قومی و بین الاقوامی میڈیا اداروں کےساتھ کام کرنے والے سینئر صحافی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں