
ضلع باجوڑ کے تحصیل خار کے رہائشی حبیب الرحمن نے اپنے برادری کے ساتھ مشترکہ پہاڑ پر بیس سال پہلے محکمہ جنگلات کی مدد سے یوکلپٹس ( لاچی) کے پودوں کا ایک بڑا جنگل جو تقریبا سینکروں ہیکٹئرز رقبے پر مشتمل تھا لگایا تھا جس کو چار سال پہلے ٹمبر مرچنٹ ( لکڑیوںکا کاروبار کرنے والے) پر لاکھوں روپے میں فروخت کردیا تھا ۔ جبکہ اب دوبارہ ٹمبر مرچنٹ فروخت کے لئے ان کے ساتھ رابطے میں ہے۔
حبیب نے اس بڑے گھنے جنگل کے فروخت کے بارے میں بتایا "کہ مالی مشکلات کی وجہ سے ہمارے برادری نے فیصلہ کیا تھا۔کہ اس مشترکہ جنگل کو فروخت کر کے اس کے پیسے آپس میں بانٹ لیں گے تاکہ اس سے اپنی ضروریات پوری کرسکیں کیونکہ ہمارے علاقے میں پسماندہ گی اور عربت کی وجہ سے جنگلات کے فروخت کا رواج عام ہے اور ہمارے سمیت دیگر لوگ اس سے اپنی مالی مشکلات حل کرتے ہیں کیونکہ جنگلات ہمارے لئے ایمر جنسی کے وقت نقد روپوں کے آمدنی کا واحد زریعہ ہے”۔
باجوڑ میں صرف پہاڑوں اور دیگر بنجر زمینوں پر موجود جنگلات کو مالی مشکلات کے حل کرنے کے لئے لوگ فروخت نہیں کرتے بلکہ گھر وں کے آس پاس اور اندر موجود پرانے درختوں کو بھی کاٹ دیتے ہیں جس سے اپنی گھریلوں ضروریات پوراکرنے کے علاوہ فروخت بھی کرتے ہیں ۔ جس سے نہ صرف ماحول پر بہت منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں بلکہ اس سے علاقے کے خوبصورتی بھی ماند پڑجاتی ہے۔
موجودہ وقت میں اگر دیکھا جائے توزیادہ تر ترقی پذیر ممالک میں جنگلات کی کٹائی ہورہی ہے لیکن ہمارے ملک میں عمومی طور پر اور صوبہ خیبر پختون خوا اور قبائلی اضلاع میں خصوصی طور پر جنگلات کی کٹائی کا تناسب زیادہ ہے۔ ماحولیات کے ماہرین کے مطابق فضاء میں 17فیصد سے 29فیصد گرین ہاوس گیسوں کے اضافہ کا سبب جنگلات کی کٹائی ہے کیونکہ جنگلات فضاء یعنی ماحول کو صاف رکھنے میں اہم کردار اداکر تے ہیں۔ جنگلات کی کٹائی کو روکنے اور بڑھوتری کے لئےعالمی سطح پر ایک طریقہ کار رائج ہے جس کو ریڈ پلس + REDD کہا جاتا ہے۔
ریڈ پلس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ فضا میں 17فیصد سے 29فیصد گرین ہاوس گیسوں کے اضافے کو روکا جائے اور کس طرح جنگلات کا رقبہ بڑھایا جائے اور جو موجودہ جنگلات ہے اس کی بڑھوتری کی جائے۔ لیکن اب سوال یہ ہے کہ ریڈ پلس پروگرام پر کب اور کس طرح صوبہ خیبر پختون خوا میں عمل کیا جارہا ہے۔ تاکہ جنگلات کی کٹائی کے ساتھ ساتھ اس کے دیگر فطری یا ماحولیاتی فوائد سے کس طرح فائدہ اٹھا یا جاسکتا ہے ۔
پاکستان میں پہلی بار سال 2013 کو صوبہ سندھ میں ریڈ پلس پروگرام کا آغازہواتھا۔ اس کے بعد صوبہ خیبر پختون خوا اور پنجاب میں ریڈ پلس پروگرام شروع ہوا۔ تاہم صوبہ خیبر پختون خوا میں ریڈ پلس پروگرام کے نفاذ کے طریقہ کار اور اس کے موجودہ وقت میں پیشرفت کے بارے میں خیبر پختونخوا کے محکمہ جنگلات،موسمیاتی تبدیلی، ماحولیات اور جنگلی حیات کےترجمان لطیف الرحمان سے جب دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ اس کے تیار ی اور نفاذ کے کئی مراحل ہے جس پر کام جاری ہے۔ انہوں نے اس کے مختلف پہلو کو تفصیل سے بیان کیا۔
تیاری کا پہلا مرحلہ
لطیف الرحمان کےمطابق صوبہ خیبر پختون خوا میں سال 2014میں تیاری کامرحلہ یا ریڈی نس فیز شروع ہوا جن میں عالمی معیارکے مطابق کچھ قانونی اور محکمہ جاتی ڈاکومینٹیش کرنا ہوتے ہیں ۔جس کو ریڈی نس فیز کہتے ہے۔ اس میں ایکشن پلان، قوانین میں ترامیم ، ریڈ پلس سٹریٹجی اور ایکشن پلان یہ سب چیزیں شامل ہیں۔ ان سب چیزوں پر کام شروع ہوا اورجب یہ تیار ہوئیں تو اس کی باضابطہ طور پر توثیق کی گئی۔
منسٹری آف کلائمیٹ چینج اسلام آباد کو عالمی قوانین کے مطابق مختلف فریم ورکس بنانا بے حد ضروری تھا تاکہ ریڈ پلس کے مروجہ طریقہ کار سے فائدہ اٹھا یا جا سکے ۔ان عالمی قوانین کے مختلف پراسس کے بارے میں گائیڈ لائنز بنانا اشد ضروری تھا جو کہ وقتا فوقتا یو این کے مختلف مٹینگز اور گائیڈ لائنز کے عین مطابق ہوں۔
اُن کے بقول مختلف اداروں اور صوبوں میں ادارجاتی تیاریاں ضروری تھیں ۔ اس کے لئے کاربن پالیسی یا کاربن فریم ورک جس کی اشد ضرورت تھی جو سال 2024 میں تیار ہوئی۔ یوں پاکستان میں ریڈ پلس سے فوائد حاصل کرنے کے لیے ادارجاتی اصلاحات اور قانونی ڈاکومینٹیشن ہوئیں۔
علاوہ ازیں معاشی فوائد خیبر پختون خوا حکومت کی اولیں ترجیح ہے۔ جو کہ حکومت، پرائیویٹ انویسٹرز اور مقامی لوگوں کے درمیان تقسیم ہوگی جس کے لئے بینیفٹس شئیرنگ میکنزم فریم ورک بھی شامل ہیں جو ریڈی نیس فیز میں تیار ہوئے ہیں۔ا سی طرح سوشل اینڈ اینوائرمنٹل سیف گارڈ بھی تیار ہوئے ہیں۔
اس کے ساتھ پاکستان فارسٹ انسٹیٹیوٹ پشاور( پی ایف آئی) نے بھی اپنے لیے پراجیکٹس منظور کئے جس میں جنگلات کے کاربن کے عداد وشمار کے طریقہ کار شامل ہیں جو کہ اب بیس لائن فراہم کرتے ہیں ۔
ریڈ پلس تیاری کا دوسرا مرحلہ
صوبائی فنڈڈ پراجیکٹ جو کہ سال 2022 اور 2023 میں اس کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا جن میں مختلف پراجیکٹس کی تیاری،ٹریننگ اور دیگر چیزیں شامل ہیں۔ لیکن اب ہم عالمی قوانین کے پیش نظر پراجیکٹ کے ریویژن کی طرف جا رہے ہیں ۔
خیبر پختون خوا میں مزید پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ جنگلات میں کاربن سٹاک کے فیزیبیلٹی جو ایک بین القوامی فنڈ کی تحت کی گئی ہے ۔جس کے تحت ہمارے صوبے میں کاربن سٹاک کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
اب اس فیزیبیلٹی کے تحت پائلیٹنگ ہوگی ۔ اس کے لئے چندسائٹس کے نشاندہی کرنے ہوتے ہیں جن سے ہمیں خاطر خوا مالی فوائد حاصل کرنے کی امید ہو اور کاربن کریڈٹ آنے کے اچھے مواقع ہوں۔ تو اس کے لیے ہزار ،ملاکنڈ اور سدرن ریجنز میں ہمارے جو سرکاری جنگلات ہے اس کی نشاندہی کی ہے اور وہاں پر مختلف پراجیکٹس بنائیں جائینگے۔
مقامی کمیونٹی کو ریڈ پلس سے کیا فوائد ہونگے
کاربن کریڈٹ سے آنے والی آمدن سے مقامی جنگلات مالکان کو صوبائی قوانین کے تحت ایک خاص تناسب سے حصہ دیا جائے گا ۔عالمی قوانین کے مطابق جس پراجیکٹ میں کمیونٹی کی شراکت کم ہوں یا نہ ہو تو وہ پراجکٹس قابل قبول نہیں ہوتے۔ تو اس میں کمیونٹی کی شراکت ایک اہم جز ہے۔
اس میں کمیونٹی کو بہت فوائد ہونگے کیونکہ اس میں ریڈ پلس طریقہ کار کے تحت نہ صرف کاربن کریڈٹ کے پیسے ملینگے بلکہ جو انویسٹرز آتے ہیں تو وہ کمیونٹی کے فلاح و بہبود کے لیے مختلف قسم کےسرگرمیاںکرینگے جس میں پودہ جات کے نرسریاں قائم کرنا، سولر پلانٹ لگانا، ہائیڈر پاور پلانٹ لگانا، مشروم کلٹیویشن اور مگس بانی کے لئے مکھیوں کی بکس دینا یعنی اسی متعلقہ علاقے میں ماحولیات دوست جتنی بھی سرگرمیاں ہے وہ سب اس کے ساتھ ساتھ ہوگی ورنہ یہ پراجکٹس کامیاب نہیں ہونگے ۔
پرائیویٹ کنسلٹنٹ کو ہائیر کرنا
لطیف نے بتایا کہ کاربن مارکیٹ پراجیکٹ کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق آگے بڑھانے کے لیے خیبر پختون خوا ایک کنسلٹنٹ ہائر کرینگے ۔پھر وہ ایک تجربہ کار پرائیویٹ انویسٹر کا ہائرینگ کرینگے ۔ پھر صوبے میں مختلف سائٹس کی نشاندہی کی جائے گی اور اس میں مزید کاربن سٹاک کی اسیسمنٹ کرینگے اور مختلف پراجیکٹس بنائینگے۔
پرائیویٹ انویسٹرز درختوں کے تنے میں موجود کاربن کی مقدار کا تخمینہ لگائینگےاور اسی حساب سے یہ اپنے پراجیکٹ بنائینگے ۔ اس کے بعد بین الاقوامی ادارے ہیں جس کو VERRA کہتے ہیں پھر یہ اس کے ساتھ رجسٹرڈ کریگی۔رجسٹریشن کے بعد پھر اس پراجیکٹس کی انٹرنیشنل باڈی پراجیکٹس سائیٹس کی مانیٹرنگ ،ویرفیکیشن یعنی ویلیڈیشن کریگی۔
اس کے بعد کاربن کریڈٹس جو جنگلوں میں موجود ہیں وہ عالمی مارکیٹ میں فروخت ہوگی۔ اس کا پھر ایک الگ طریقہ کار ہے ۔لیکن یہ ایک پچیدہ اور لمبا پراسس ہے جس کے بڑے بڑے فیسیں ہیں جو ہماری حکومتیں برداشت نہیں کرسکتے۔ اس لئے کاربن مارکیٹنگ کے عمل کو پرائیویٹ انویسٹرز کے زریعے کیا جاتا ہے۔
سیڈ فیزیبیلٹی سروے ستمبر 2025 میں ہوا تھا اور ڈیپارٹمنٹ کو جمع ہوا تھا۔ اس کے بعد خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے اس کی باقاعدہ منظوری بھی دی ہے اور صوبے میں کاربن مارکیٹنگ کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔
ریڈ پلس پروگرام کے لئے جنگلات کا رقبہ کتنا ہوگا
عالمی قوانین کے تحت سرکاری یا انفرادی جنگل دونوں کے لئے کم از کم دس ہزار ہیکٹرز رقبہ ضروری ہے کیونکہ اس کے لئے جو انویسٹرز آتے ہیں اُنکی فوقیت زیادہ مالی فائدہ لینا ہوتا ہے۔ جو فیزیبیلٹی ہے یہ پوری صوبے کے لئے ہے اور اس میں تمام جنگلات شامل ہیں۔ دوسری بات جو اہم ہے وہ یہ ہے کہ اس میں بین الاقوامی قوانین کے تحت جنگلات میں کٹائی کرنا ممنوع نہیں ہے۔
کیونکہ اس سے کاربن سٹاک کم نہیں ہوگی بلکہ اس کو فارسٹ منیجمنٹ کہتے ہیں اور جنگلات کے انتظام کا ایک اہم جز ہے۔ لہذا جنگلات سے کٹائی بھی کرینگے اس سے گرے ہوئے درختوں کو ہٹانا اس میں صفائی کرنا یہ سب چیزیں سائنسی طریقوں اور عالمی قوانین کےمطابق وقت کے ساتھ ساتھ ہوگی۔
کاربن کریڈٹ کیا ہے اور یہ کس طرح ملی گی
لطیف نے بتایا کہ میٹرک ٹن کاربن کو ون کاربن کریڈٹ کہتے ہیں ۔ اس حساب سے پھر عالمی مارکیٹ میں اس کی قیمت مقرر ہوتی ہے۔ جو تین ڈالر سے شروع ہوکر تیس ڈالر تک ہوتی ہے۔ کاربن کریڈٹ تین طرح کی جنگلات سے ملتے ہیں ۔ ایک اگر چٹیل میدان ہے اور ہم اس پر شجرکاری کرتے ہیں تو رقبہ کے لحاظ سے کاربن کریڈٹ ملتے ہیں۔
دوسری اگر ایک جنگل ہے اور اس کے کٹائی کا خطرہ ہے تو اس کی حفاظت پر رقبہ کے لحاظ سے کریڈٹ ملتے ہیں۔ اسی طرح اگر ایک کٹاہوا جنگل ہے تو اس کی حفاظت اور بڑھوتری کو یقنی بنانے سے بھی رقبہ کے لحاظ سے کاربن کریڈٹ ملتے ہیں ۔
اسی طرح کے اور مختلف سائنسی طریقہ کار ہیں ۔ جو سب ایک پیچیدہ اور لمبے عر صے کے پراجیکٹس ہیں ۔ اس لئے جب یہاں انویسٹرز اور باہر کے ماہرین آئینگے تو ریڈپلس +Redd کے طریقہ کار سے مالی فوائد آنے کے قوی امکانات ہونگیں۔
ریڈ پلس پروگرام کا تاریخی پس منظر:
ریڈ پلس +Redd پروگرام پہلی بار 2005ء کو کوسٹاریکا اور پواپو نیوگنی نے COP 11 میں پیش کیا تھا۔ جب کے COP13 میں اس نے دنیاکی توجہ حاصل کی اور اس کے ساتھ پلس+کے لفظ کا اضافہ کیا۔ اس کے بعد ہر COP کا یہ پروگرام حصہ رہا لیکن پیرس کانفرنس میں اس کے نفاذ پر خاص زور دیا گیا کہ اس پروگرام کو عملی طور پر اب نافذ ہو نا چاہئے۔
اسی مقصد کے حصول کے لئے 2015ء کودنیا کے تمام ممالک کا فرانس کے دارلحکومت پیرس میں 21واں سربراہی کانفرنس (Conference Of Parties) COP 21 کا انعقاد30نومبرسے 10دسمبرتک ہوا۔ اس کانفرنس کا بنیادی نقطہ یہ تھا کہ کس طرح گرین ہاوس گیسوں کا اخراج کم کیا جائے خصوصی طور پر کاربن کی مقدار کو فضاء میں کیسے کم سے کم کیا جائے جو درجہ حرارت کے بڑھنے کا اہم وجہ ہے۔
اس سربراہی کانفرنس میں تمام ممالک نے ایک معاہدے پر دستخط کئے اور اس معاہدے کو پیرس معاہدے کا نام دیا گیا۔ اس معاہدے میں ماحولیات کے تحفظ کے دوسرے منصوبوں کے ساتھ ایک پروگرام ریڈ پلس (Reducing Emission of Deforestation and Degradation) +Reddپروگرام بھی تھا۔ اس پروگرام کے تحت ترقی پذیر ممالک کو گرین ہاوس گیسسز اور خاص طور پر کاربن کے اخراج میں کمی کرنے کے لئے ان کے معاونت کرنا تھا۔
ریڈ پلس پروگرام میں تاخیر کی وجوہات:
لطیف کے مطابق”اس میں دس سال کا عرصہ اس وجہ سے گزر گیا کہ سب سے پہلے عالمی قوانین کے تحت اس کے لئے صوبائی قوانین کو بنانا اور اس پر عملد در آمد کرنا اولین ترجیح ہے۔ اس میں بشمول لینڈ سیٹلمنٹ، بندوبست ، اور دیگر ریوینو کے نظام کو بھی مد نظر رکھنا ہوتا ہے ۔ کیونکہ جب وہ اتنے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرتے ہیں تو وہ ان سب چیزوں کو دیکھتے ہیں۔ اس لئےسال 2022 اور سال 2024 میں محکمہ جنگلات کے قانون میں جو ترامیم ہوئے ہیں تاکہ ان سب چیزوں کا احاطہ کیا جائے اور ان قوانین میں تمام چھوٹے چھوٹے چیزوں کا خیال رکھا گیا ہے۔ تو اس وجہ سے اس میں وقت لگا "۔
ریڈ پلس سے کب تک عملی طور پر فوائد انا شروع ہونگے:
اس حوالے سے لطیف کا کہنا تھا کہ انشاء اللّٰہ امید ہے کہ یہ ٹیکنیکل چیزیں اسی طرح اچھے طریقے سے مکمل ہوئے تو اس سے پانچ سالوں میں فوائد حاصل ہونا شروع ہونگے اور اگر اس میں کوئی دوسرے مسائل پیدا ہوئے تو پھر اس میں مزید چند سال لگیں گے ۔ لیکن اس کے نفاذ سے نہ صرف حکومت کو بلکہ مقامی کمیونٹیز کو دیر پا فوائد ملے گے۔



