ضلع باجوڑ کے ستائیس سالہ میاں محمد عرفان نے باجوڑ میں موسمیاتی تبدیلی کے منفی  اثرات کو کم کرنے کے لئے  ضلع کے سطح پر  شین  باجوڑ ( سرسبز باجوڑ)  کے نام سے     باجوڑ کے  پہاڑوں میں شجر کاری  اور سیڈ بالز مہم کا  آغاز کیا ہے۔ اس مہم میں ان کے ساتھ علاقے کے دوسرے نوجوان بھی حصہ لے رہے ہیں ۔  اگر چہ  شین باجوڑ  مہم  ابتدائی مراحل میں ہے لیکن پھر بھی ان میں رضاکاروں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔

عرفان سے جب شین باجوڑ مہم کے  حوالے سے معلوم کیا کہ  وہ کس وجہ سے  اس  شین باجوڑ مہم کے طرف  متوجہ ہوئے  تو انہوں نے بتایا کہ  شین باجوڑ  کا خیال میرے ذہین میں پچھلے پانچ سالوں سے موجودہ تھا لیکن  پچھلے دو سالوں سے اس کی شدت میں نے کچھ زیادہ محسوس کی کیونکہ ہمارے علاقے  میں آگاہی  کی کمی   کیوجہ سے اگر ایک طرف  جنگلات کی کٹائی  تیزی کے ساتھ ہورہی ہے تو دوسری  طرف اسی رفتار کے ساتھ  شجرکاری نہیں ہوتی  جس سے ماحولیات پر برے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔  یہاں باجوڑ میں چند سال پہلے درجہ حرارت  زیادہ سے زیادہ 33 سینٹی گریڈ تک پہنچتا تھا لیکن اب پارہ 40 ڈگری  سینٹی گریڈ سے اوپر جاتا ہے  جس کا ہم  نے تصور بھی نہیں کیا تھا اور اس میں ہر سال اضافہ ہورہا ہے۔

تو اسی لئے میں چاہتا تھا کہ میں ماحولیات کے تحفظ کے لیے علاقے کے نوجوانوں پر مشتمل ایک ایسا رضا کاروں کا گروپ بناؤ جو باجوڑ کے پہاڑوں، بنجر زمینوں اور عوامی راستوں میں میرے ساتھ  شجرکاری  اور مختلف پودہ جات کی تخم ریزی کرسکیں  اور شین باجوڑ کے اس اہم کام میں ساتھ دیں سکیں۔ اب اللّٰہ تعالیٰ کے فضل سے میں اس میں کامیاب ہوا ہوں اور میرے ساتھ رضاکار نوجوان کا ایک گروپ تیار ہوگیا ہے۔

ہم نے پہلے مرحلے میں باجوڑ کے چٹیل پہاڑوں پر مختلف قسم کے پودوں کی سجرکاری کی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سیڈ بالز کے زریعے باجوڑ کے علاقائی پودہ جات کی تخم ریزی بھی کی گئی  ہے۔ ہمارے تمام سرگرمیوں کی لمحہ بہ لمحہ تفصیل ہم اپنی سوشل میڈیا پیج شین باجوڑ پر  لوگوں کے ساتھ شیئر  کرتے ہیں۔  ہمارا اہم مقصد یہ ہے کہ نہ صرف ہمارے رضاکار بلکہ باجوڑ کا  ہر فرد  دس  پودے لگائے اور اس کی دیکھ بھال بھی کریں۔

عرفان کے بقول "مون سون اور بہار کے شجر کاری  سیزن کے  بعد  ہم مختلف علاقوں میں مقامی کمیونٹی کے ساتھ جنگلات کے تحفظ اور پودوں کے مناسب دیکھ بھال کے بارے میں آگاہی سیشنز کا بھی انعقاد کراتے ہیں تاکہ ہر پہلو سے  ماحول کا تحفظ ہو سکیں”۔

محکمہ جنگلات کی فراہم کردہ معلومات کی مطابق ضلع باجوڑ کا کل رقبہ 1,290 مربع کلومیٹرہے جس میں باجوڑ کے محکمہ جنگلات نے 470,000 ایکڑ پر جنگلات لگائے ہیں جس میں ہر سال اضافہ ہورہا ہے ۔ اسی طرح 40 ہزار ایکڑ پر پہاڑ اور قدرتی جنگلات ہیں۔ باجوڑ کے سب سے اونچی اور تاریخی پہاڑ کیمور ، برنگ ،ارنگ، علیزو بتائی، سالارزو باٹوار، ماموند کے بالائی علاقوں اور چارمنگ کے پہاڑی علاقوں میں قدرتی جنگلات موجود ہیں۔ لیکن مقامی آبادی  وقتی مالی فوائد کے حصول کے لئے ان کو کاٹ رہے ہیں جو ماحولیاتی تباہی کا سبب بن رہا ہے۔

باجوڑ کے دورافتادہ تحصیل ناواگئی کے رہائشی محمد یونس المعروف خان بھی شین باجوڑ مہم کا ایک سرگرم رضاکار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ شین باجوڑ مہم کا اس لیے حصہ بن گئے کہ ان کے علاقہ ناواگئی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں کے فہرست میں شامل ہے ۔

خان کے مطابق "یہاں پر پینے کے پانی کا زیر زمین سطح  ہر سال تیزی سے نیچے جارہاہے جس کے باعث صدیوں پرانے کنویں خشک ہوئے چکے ہیں  جو ایک تشویشناک  بات ہے۔ان کا علاقہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے ستر فیصد متاثر ہوچکا ہے۔ یہاں پر جنگلات کا رقبہ انتہائی کم ہے جس کی وجہ سے درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوا ہے اور پچھلے سالوں کے نسبت گرمی کی شدت زیادہ محسوس کی جاتی ہے”۔

بقول خان کے  ان تمام وجوہات کے وجہ سے ان کو ایک ایسی مہم کی ضرورت تھی جو  ان کے علاقہ سمیت پورے باجوڑ میں بڑے پیمانے پر شجر کاری مہم شروع کریں اور موجودہ جنگلات کی حفاظت کریں تو اس بناء پر جب مجھے سوشل میڈیا کے ذریعے پتہ چلا کہ باجوڑ میں شین باجوڑ کے نام سے ایک مہم شروع کیا گیا  ہےتو میں نے فوراً  اس میں شمولیت اختیار کی اور اس رضاکار مہم کا حصہ بن گیا۔ اب میرے علاقے کے دوسرے نوجوان بھی ہمارے ساتھ شامل ہو رہے ہیں اور ہم نے باقاعدہ اس مہم کے تحت باجوڑ میں شجر کاری مہم کا آغاز کیا ہے۔

شین باجوڑ مہم میں شامل ہونے والے نوجوانوں کی اب ایک لمبی  فہرست بن چکی ہے ۔ نوجوان ابوبکر خان کا تعلق باجوڑ کے مرکزی شہر خار سے ہےاور  وہ بھی شین باجوڑ  مہم  کے رضا کار گروپ کا حصہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ  وہ اس مہم کا حصہ اس لئے ہے کہ آج کل باجوڑ موسمیاتی تبدیلی کے زد میں ہے جس کے وجہ سے انسانوں کے ساتھ ساتھ دوسرے جاندار وں  پر بھی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ہم نے اپنی مدد آپ کی تحت اپنے علاقے میں شین باجوڑ مہم کے زریعے ایک سو پچاس سے زیادہ مختلف قسم کے پودے  لگائیں جبکہ دو ہزار تک سیڈ بالز کے زریعے باجوڑ کے مشہور تفریحی مقام تخت چینارانوں میں مقامی پودہ جات کے تخم کی تخم ریزی کی ہے۔

ابوبکر کا کہنا تھا "کہ شین باجوڑ مہم میں ان کے ساتھ صرف نوجوان شامل نہیں ہے بلکہ ان میں بچے بھی ان کے ساتھ بھرپور حصہ لےرہے ہیں اور سیڈ بالز کے تیاری میں ان کے ساتھ اپنے خاندان کے علاوہ   گاؤ ں کے بچوں کی تعاون بھی  شامل رہا۔ اس لئے میں بہت پر امید ہوں کہ شین باجوڑ مہم  چند سالوں میں کامیابی سے ہمکنار ہوگی  اور یہ دوسرے علاقوں کے لئے ایک مثال بن جائیگی”۔

شین باجوڑ مہم نے نہ صرف سو شل میڈیا پر  بلکہ باجوڑ میں بھی عوامی سطح پر لوگوں کی توجہ حاصل کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ باجوڑ کے حلقہ پی کے 19سے تحریک انصاف کے  ممبر صوبائی اسمبلی و ڈیدیک کمیٹی کے چیئر مین  ڈاکٹر حمید الرحمان نے اپنی سوشل میڈیا پیج  پر شین باجوڑ  کے رضاکاروں کے کوششوں کو سراہا  اور کہا کہ "میں باجوڑ کے تمام عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ شین باجوڑ کے اس مثبت مہم میں ان نوجوانوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کریں اور اپنے علاقے کی خوبصورتی اور سرسبزی کے لیے کم از کم ایک پودا ضرور لگائیں”۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں شین باجوڑ مہم کے  نوجوانوں کو یقین دلاتا ہوں کہ باجوڑ ایگریکلچر ،فارسٹ ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ محکمہ جات  ان کو  ہر ممکن تعاون فراہم کریں گی تاکہ یہ مہم کامیابی سے جاری رہے۔ کیونکہ شجرکاری ہمارے قائد عمران خان کا وژن ہے۔ انہوں نے بلین ٹری سونامی پروگرام کا آغاز کیا تھا، جس کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آئے ہیں  اور اس منصوبے کو دنیا بھر میں سراہا گیا۔ان شاء اللہ، باجوڑ، خصوصاً ماموند میں زیرِ تعمیر اور نئے بننے والے سڑکوں کے کناروں پر بھرپور شجرکاری کی جائے گی، جس سے نہ صرف سڑکوں اور علاقے کی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا بلکہ قدرتی ماحول کے تحفظ اور بہتری میں بھی اہم کردار ادا ہوگا۔

ابو بکر کے مطابق ان کے ساتھ رضاکار بڑی تعداد میں شامل ہورہے ہیں لیکن ان کو  مالی مشکلات  کا سامناہیں جس کی وجہ سے وہ زیادہ تعداد میں پودہ جات نہیں خرید سکتے اس لئے میں باجوڑ کے اندر اور باہر تمام مخیر حضرات سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہمارے ساتھ مختلف پودہ جات کے خریداری  کی مد میں دل کھول کر مدد کریں  تاکہ ہم  زیادہ سے زیادہ رقبے پر شجرکاری کا  ہدف کا حاصل کریں۔

شین باجوڑ کے رضاکارخان نے مزید کہا کہ اب ان کے ساتھ بیرونی ممالک میں مقیم ان کے علاقے کے  نوجوان بھی رابطے میں ہے اور وہ اس مہم میں شامل ہونے کے لئے ان کو مختلف قسم کے پودہ جات عطیہ کررہے ہیں ۔ تو ہمیں امید ہے کہ انشاء اللّٰہ ہم چند سالوں میں باجوڑ کو حقیقی معنوں میں شین باجوڑ بنائیں گے ۔

عرفان کے مطابق  شین باجوڑ کے رضاکار  مہم میں ان کے ساتھ باجوڑ کے ماموند، ناواگئی، خار ، سلارزئی اور اتمان خیل سمیت  تما م  تحصیلوں کے نوجوان شامل ہوچکے ہیں اور انہوں نے اپنے اپنے علاقون میں شجرکاری اور سیڈ بالز کے زریعے تخم ریزی کا آٖغاز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  میرا باجور کے تمام مکتبہ فکر کے لوگوں سے اپیل ہے کہ وہ  اس عوامی مہم میں بھر پور حصہ لیں ہر فرد کم ازکم دس پودے لگائے  تاکہ ہم  باجوڑ کو  ماحولیا ت کے لحاظ سے ایک مثالی ضلع بنائیں۔

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پورے خیبر صوبہ خیبر پختون خوا میں شدت کے ساتھ محسوس ہورہے ہیں اس لئے  صوبے کے  زیادہ تر اضلاع  میں موسمیاتی تبدیلی کے امنفی اثرات کم کرنے کے لئے اور  جنگلات کا رقبہ بڑھانے کے لئے نوجوان سرگرم ہوچکے ہیں ۔ ان اضلاع میں صوابی ، سوات، ملاکنڈ، مردان، چارسدہ ، دیر لوئیر، مہمند  اور دیگر اضلاع  شامل ہیں  جس میں  نوجوانوں نے رضاکارانہ طور پر  شجرکاری  اور سیڈ بالز کے زریعے  پودہ جات کے تخم ریزی کا  آغاز کیا ہے جس کی سوشل میڈ پر بھر پور کوریج کی جارہی ہے جس  کی وجہ سے یہ مہمات کامیابی کے طرف گامزن ہیں اور لوگوں سے بھر پور داد حاصل کررہے ہیں۔

عرفان نے شین باجوڑ مہم کے رضاکار بننے کے حوالے سے  بتایا کہ "شین باجوڑ مہم  کے رضاکاروں کے  مہم میں شامل ہونے کے لیے کسی تعلیم ،عمر اور علاقے کی کوئی شرط نہیں ہے کوئی بھی اس میں کسی بھی وقت شامل ہو سکتا ہے اور ماحولیات سے متعلق ہمارے ماحول دوست  سرگرمیوں میں حصہ لے سکتا ہے۔ موجودگی وقت میں ان کے ساتھ سات سو سے زائد رضاکار رجسٹر ہو چکے ہیں جو اب ہمارے شین باجوڑ واٹس ایپ گروپ کا حصہ ہے اور مختلف سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں”۔

 

 

 

 

شاہ خالد شاہ جی
شاہ خالد شاہ جی کا تعلق قبائلی ضلع باجوڑ سے ہے۔ اور پچھلے 15 سالوں سے صحافت سے وابستہ ہے۔ وہ ایک ایوارڈ ہافتہ تحقیقاتی جرنلسٹ ہے اور مختلف نیوز ویب سائٹس، اخبارات، جرائد اور ریڈیوز کے لئے رپورٹینگ کا تجربہ رکھتا ہے۔ شاہ جی زراعت، تعلیم، کاروبار۔ ثقافت سمیت سماجی مسائل پر رپورٹنگ کررہا ہے لیکن اس کا موسمیاتی تبدیلی ( کلائیمیٹ چینج ) رپورٹنگ میں وسیع تجربہ ہے۔ جس کے زریعے وہ لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی کوششوں میں مصرف ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں