خیبر یونین آف جرنلسٹس کی کال پر آج پشاور سمیت خیبر پختونخوا بھر میں کارکن صحافیوں،اور دیگر میڈیا ورکرز کے حقوق کے تحفظ، جبری برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور میڈیا ورکرز کے معاشی استحصال کے خلاف بھرپور احتجاجی مظاہرے کیے گئے،اس سلسلے میں مرکزی احتجاج پشاور پریس کلب کے سامنے منعقد ہوا جبکہ صوبے کے تمام اضلاع میں بھی صحافی برادری نے احتجاجی مظاہروں، ریلیوں اور احتجاجی اجتماعات میں بھرپور شرکت کی،پشاور پریس کلب کے سامنے ہونے والے مرکزی احتجاج میں خیبر یونین آف جرنلسٹس اور پشاور پریس کلب کے عہدیداروں سمیت مردو خواتین صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی،مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر میڈیا ورکرز کے حقوق، تنخواہوں کی ادائیگی، جبری برطرفیوں کے خاتمے، جرنلسٹس پروٹیکشن بل کے نفاذ اور آزادیٔ صحافت کے حق میں نعرے درج تھے،احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے مختلف میڈیا اداروں کی جانب سے کارکن صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی مسلسل برطرفیوں، کئی کئی ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی، جبری استعفوں، ہراسانی اور میڈیا ورکرز کے معاشی استحصال کے خلاف شدید نعرے بازی کی،مقررین نے کہا کہ میڈیا مالکان کی جانب سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے ساتھ غیر انسانی رویہ اختیار کیا جا رہا ہے جبکہ حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے،مقررین نے کہا کہ صحافی برادری کو معاشی دباؤ کے ذریعے خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو آزادی صحافت پر براہِ راست حملہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر صحافیوں کی آواز دبانے کی کوشش کی گئی تو صحافی برادری ہر فورم پر بھرپور مزاحمت کرے گی۔

حتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے صدر خیبر یونین آف جرنلسٹس کاشف الدین سید،پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ورکرز کے صدر شمیم شاہد،پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض سمیت دیگر مقررین نے کہا کہ میڈیا ورکرز کے ساتھ جاری ناانصافیاں اب ناقابلِ برداشت ہو چکی ہیں،انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو کئی کئی ماہ سے تنخواہوں سے محروم رکھا جا رہا ہے جبکہ متعدد میڈیا اداروں میں کارکنوں کو جبری طور پر فارغ کیا جا رہا ہے،مقررین نے حکومت خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا کہ محکمہ اطلاعات کے سرکاری اشتہارات کو میڈیا اداروں کی جانب سے کارکن صحافیوں کے بقایا جات کی ادائیگی، جبری برطرفیوں کے خاتمے اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ سے مشروط کیا جائے،انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے میڈیا اداروں کو سرکاری اشتہارات نہ دیے جائیں جو صحافیوں اور میڈیا ورکرز کا استحصال کر رہے ہیں، مقررین نے جرنلسٹس پروٹیکشن بل کے فوری نفاذ اور خیبر پختونخوا میں صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا،انہوں نے پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں کے خلاف مقدمات اور نوٹسز کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کالے قوانین کے ذریعے صحافیوں کو ہراساں کرنا آزادیٔ اظہار پر حملہ ہے،احتجاجی مظاہروں میں وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ آئی ٹی این ای جج کو دو دن کے لئے خیبر پختونخوا میں تعینات کیا جائے تاکہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو درپیش قانونی مسائل کے حل میں آسانی پیدا ہوسکے۔خیبر یونین آف جرنلسٹس نے پورے صوبہ کے تمام پریس کلبز اور صحافتی تنظیموں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج خیبر یونین آف جرنلسٹس کی کال پر پورے صوبہ میں جس طرح صحافیوں نے اتفاق اور اتحاد کا مظاہرہ کیا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحافی برادری اتحاد و اتفاق کے ساتھ اپنے حقوق کے حصول کی جدوجہد جاری رکھے گی، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر میڈیا ورکرز کے مسائل فوری طور پر حل نہ کیے گئے، بقایا جات ادا نہ کیے گئے اور جبری برطرفیوں کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو احتجاجی تحریک کا دائرہ پورے ملک تک وسیع کیا جائے گا،مقررین نے واضح کیا کہ صحافی برادری اپنے حقوق کے حصول، بقایا جات کی ادائیگی، جبری برطرفیوں کے خاتمے اور میڈیا ورکرز کے تحفظ کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاجی تحریک مسلسل جاری رہے گی اور اس کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ صحافیوں کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا اور متحد ہو کر ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھی جائےگی،دوسری جانب خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع میں بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے،مختلف اضلاع میں منعقد مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحافی برادری اتحاد و اتفاق کے ساتھ اپنے حقوق کے حصول کی جدوجہد ہر سطح پر جاری رکھے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر میڈیا ورکرز کے مسائل فوری طور پر حل نہ کیے گئے، بقایا جات ادا نہ کیے گئے اور جبری برطرفیوں کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو احتجاجی تحریک کا دائرہ پورے ملک تک وسیع کیا جائے گا۔مقررین نے واضح کیا کہ صحافی برادری اپنے حقوق کے تحفظ، بقایا جات کی فوری ادائیگی، جبری برطرفیوں کے خاتمے اور میڈیا ورکرز کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاجی تحریک بلا تعطل جاری رہے گی اور اسے مزید منظم اور مؤثر بنایا جائے گا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ صحافیوں کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا اور متحد و منظم ہو کر ہر فورم پر بھرپور جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

ریحان محمد
ٹائم لائن اردو سے وابسطہ نوجوان صحافی ریحان محمد خیبرپختونخوا سے ملکی میڈیا کے لئے کام کرتا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں