
تحریر: محمد یونس
خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع اس وقت ایک ایسے نازک مرحلے سے گزر رہاہے جہاں ماضی کی یادیں، حال کی الجھنیں اور مستقبل کی غیر یقینی ایک ساتھ موجود ہیں۔ یہ وہ خطہ ہے جس نے صرف انتظامی تبدیلیاں نہیں دیکھیں بلکہ انسانی زندگی کے گہرے زخم بھی سہے ہیں بدامنی، نقل مکانی، بے گھری، اور پھر ایک نئے نظام میں اچانک شمولیت۔
یہ سب کچھ کاغذی فیصلوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے لوگوں کے سوچنے، جینے اور فیصلے کرنے کے انداز کو بھی بدل دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اگر سب سے اہم سوال کسی کے گرد گھومتا ہے، تو وہ یہاں کا نوجوان ہے۔ وہ نوجوان جو دو زمانوں کے بیچ کھڑا ہے، مگر کسی ایک کو مکمل طور پر اپنا نہیں پایا۔
شناخت، روایت اور ایک محدود دائرہ
ہمیں بطور معاشرہ ایک سچائی کو ماننا ہوگا۔ ہم نے اپنی شناختوں کو ضرورت سے زیادہ بوجھل بنا دیا ہے۔ قبیلہ، خیل، تپہ، خاندان یا ٹبر یہ سب ہماری تاریخ اور سماجی ساخت کا حصہ ہیں، اور ان سے انکار ممکن بھی نہیں اور ضروری بھی نہیں۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب یہی شناختیں سوچ کو محدود کر دیتی ہیں۔ جب فیصلے میرٹ، دلیل اور وسیع مفاد کے بجائے تعلق، وابستگی یا جذبات کی بنیاد پر ہونے لگیں، تو یہی طاقت کمزوری میں بدل جاتی ہے۔
یہاں ایک اور پہلو بھی اہم ہے۔ کچھ شخصیات، نعرے یا وقتی تحریکیں نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ بظاہر یہ وابستگیاں طاقت دیتی ہیں، مگر اکثر یہ نوجوان کو حقیقت سے دور لے جاتی ہیں۔ وہ اپنے گرد ایک ایسا دائرہ بنا لیتے ہیں جہاں سوال کی گنجائش کم اور جذبات کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔
نوجوان کو اپنی پہچان تو سکھائی جاتی ہے، مگر یہ کم سکھایا جاتا ہے کہ اس پہچان کے ساتھ بدلتی ہوئی دنیا میں کیسے جینا ہے، کیسے مکالمہ کرنا ہے، اور کیسے اختلاف کو برداشت کرنا ہے۔
غیر یقینی اور اس کا نفسیاتی اثر
یہ خطہ صرف نقشے پر نہیں بدلا، بلکہ لوگوں کے اندر بھی بہت کچھ بدل گیا ہے۔نقل مکانی کے وہ دن، عارضی کیمپوں کی زندگی، اپنے گھروں سے دوری، اور مسلسل خوف یہ سب محض واقعات نہیں بلکہ ایسے تجربات ہیں جو انسان کے اندر ایک مستقل بے یقینی پیدا کرتے ہیں۔ ایک ایسا احساس کہ کچھ بھی کبھی بھی بدل سکتا ہے۔
ایسے ماحول میں پلنے والا نوجوان استحکام کو ایک حقیقت کے بجائے ایک خواہش سمجھتا ہے۔ وہ طویل منصوبہ بندی کے بجائے فوری فیصلوں کا عادی ہو جاتا ہے، کیونکہ اس نے تسلسل کم اور اچانک تبدیلیاں زیادہ دیکھی ہوتی ہیں۔یہی نفسیاتی پس منظر اسے جلد متاثر ہونے والا بھی بنا دیتا ہے۔ وہ مضبوط دلیل کے بجائے مضبوط آواز کی طرف مائل ہو جاتا ہے، اور گہرائی کے بجائے فوری تسکین کو ترجیح دیتا ہے۔
سیاست، جذبات اور غیر پختہ شرکت
ضم شدہ اضلاع میں سیاسی عمل ایک مثبت پیش رفت ضرور ہے، مگر اس کے ساتھ ایک خاموش مسئلہ بھی موجود ہے۔ نوجوان سیاست میں شامل ہو رہے ہیں، لیکن اکثر یہ شمولیت شعوری کے بجائے جذباتی ہوتی ہے۔ نظریات کی جگہ شخصیات لے لیتی ہیں، اور دلیل کی جگہ وابستگی۔ اختلاف کو اختلاف کے طور پر نہیں بلکہ مخالفت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
ایسی فضا میں سیاست ایک سنجیدہ مکالمہ نہیں رہتی بلکہ ردعمل بن جاتی ہے—تیز، وقتی اور اکثر غیر متوازن۔یہ صرف سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی رویہ ہے، جو آہستہ آہستہ نوجوانوں کی سوچ، برداشت اور فیصلوں کو متاثر کر رہا ہے۔
سوشل میڈیا اور تیز رفتار رائے سازی
ڈیجیٹل دنیا نے یہاں کے نوجوان کو ایک آواز دی ہے اور یہ ایک مثبت تبدیلی ہے۔ مگر ہر آواز کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے، اور یہی وہ جگہ ہے جہاں خلا محسوس ہوتا ہے۔آج معلومات تک رسائی آسان ہے، مگر سچ تک پہنچنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بغیر تحقیق کے بات کو مان لینا، فوری ردعمل دینا، اور جذباتی مواد سے متاثر ہونا ایک عام رویہ بنتا جا رہا ہے۔
یہ ماحول نہ صرف غلط فہمیوں کو جنم دیتا ہے بلکہ سنجیدہ مکالمے کو بھی کمزور کرتا ہے۔ ہر چیز فوری رائے کا شکار ہو جاتی ہے، جبکہ گہرے مسائل کو وقت، تحمل اور تحقیق درکار ہوتی ہے۔یہاں مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ اس کے استعمال کا شعور ہے۔ یہی سوشل میڈیا علم کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے اور گمراہی کا راستہ بھی یہ فیصلہ استعمال کرنے والے کے ہاتھ میں ہے۔
تعلیم کا خلا اور ایک بنیادی سوال
ضم شدہ اضلاع میں تعلیم تک رسائی میں بہتری آئی ہے، مگر اصل سوال اب بھی وہیں کھڑا ہے:
کیا یہ تعلیم نوجوان کو سوچنے، سمجھنے اور بہتر فیصلے کرنے کے قابل بنا رہی ہے؟ اگر تعلیم صرف ڈگری تک محدود رہے، تو وہ شعور پیدا نہیں کر سکتی۔ اصل تعلیم وہ ہے جو انسان کو سوال کرنا سکھائے، دلیل کو سمجھنا سکھائے، اور اپنے ماحول کو تنقیدی نظر سے دیکھنے کی صلاحیت دے۔جب یہ عناصر موجود نہ ہوں، تو نوجوان آسانی سے افواہوں، پروپیگنڈا اور جذباتی بیانیوں کا حصہ بن جاتا ہے بغیر یہ سمجھے کہ وہ کس سمت جا رہا ہے۔
یک نیا راستہ: علم، برداشت اور عملی تربیت
تمام چیلنجز کے باوجود امید موجود ہے اور اس امید کا مرکز یہی نوجوان ہیں۔مگر اس کے لیے ایک تبدیلی ضروری ہے۔ علم کو صرف کتاب تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے زندگی سے جوڑا جائے۔ نوجوان کو یہ سکھایا جائے کہ سوال کرنا کمزوری نہیں، بلکہ فکری پختگی کی علامت ہے۔ اختلاف کو دشمنی نہیں بلکہ سیکھنے کا موقع سمجھا جائے۔
سب سے اہم بات یہ کہ اپنی شناخت کے ساتھ ساتھ ایک وسیع انسانی تناظر کو بھی اپنایا جائے—جہاں انسانیت، برداشت اور مشترکہ مفاد کو اہمیت حاصل ہو۔اگر یہ تبدیلی آتی ہے، تو یہی نوجوان اس خطے کو ایک نئے راستے پر لے جا سکتے ہیں۔
آخری بات: ایک فیصلہ جو ابھی باقی ہے
ضم شدہ اضلاع آج ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں فیصلے صرف پالیسی نہیں بلکہ مستقبل کی سمت طے کریں گے۔یہ فیصلہ اداروں کو بھی کرنا ہے، مگر اس سے بڑھ کر نوجوانوں کو کرنا ہے—کہ وہ ماضی کے بوجھ کے ساتھ جینا چاہتے ہیں یا ایک نیا راستہ خود بنانا چاہتے ہیں۔
کیونکہ حقیقت سادہ ہے:
اگر سوچ نہیں بدلے گی، تو حالات بھی زیادہ دیر نہیں بدلیں گے۔اور اگر سوچ بدل جائے۔تو یہی خطہ، جو کبھی غیر یقینی کی علامت سمجھا جاتا تھا، ایک نئی امید، ایک نئے شعور اور ایک متوازن مستقبل کی مثال بھی بن سکتا ہے۔
محمد یونس
صحافی اور ترقیاتی شعبے سے وابستہ پیشہ ور۔ پندرہ برس سے زائد عرصے سے قبائلی اضلاع میں انسانی مسائل، سماجی تبدیلی اور عوامی بیانیے پر لکھتے اور کام کرتے رہے ہیں۔



