افغان مہاجرین کی افغانستان واپس جانے کیلئے لنڈی کوتل میں دستاوزی کاروائی پوری کرنے کیلئے اپنی خاندانوں کے ساتھ ہفتوں سے انتظار کر رہے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں سے افغان شہری لنڈی کوتل پہنچ چکے ہیں اور عارضی کیمپ یا مقامی لوگوں کے حجروں میں قیام پزیر ہیں اور حمزہ بابا قبرستان کے قریب ہولڈنگ کیمپ میں ٹوکن لینے کیلئے صبح سے شام تک قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں۔ افغان شہری ہولڈنگ کیمپ سے اپنی خاندان کی ٹوکن لیکر تورخم کے طرف جاتے ہیں اور وہاں پر سرحد پار کرنے کی اجازت مل جاتی ہیں۔ تاہم ابتک معلوم نہیں کہ اُن کی افغانستان واپس جانے کیلئے دستاویزی کاروائی کب مکمل ہوگی۔

محمد راوف ایبٹ آباد سے آیا ہے اور اپنی خاندان کی رجسٹریشن کیلئے انتطار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکام اور افغان طالبان کے نمائندوں کے وعدوں کے باوجود بھی واپس جانے والے افغان مہاجرین کے مسائل کم نہ ہوسکے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہاں پر ہزاروں کے افراد واپسی کے انتظار کر رہے ہیں، طبی وسائل اور دیگر سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے بچیں مر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام کی جانب سے اپنے گھروں کو جلد خالی کرنے کی احکامات مل رہے تھے اور اب یہاں پر بارڈر پار کرنے نہیں دیتے، یہاں پر کھانے پینے کیلئے کچھ نہیں ہے اور رات گزارنے کیلئے بچوں اور خواتین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

افغان مہاجرین واپسی کیلئے صوبہ بھر میں رجسٹریشن کے پانچ مراکز قائم کی گئی ہیں جن میں ایک اہم مرکز لنڈی کوتل میں واقع ہے تاہم مہاجرین اپنے باری کے انتظار کے لئے لنڈی کوتل ڈگری کالج اور اردگرد علاقوں میں قائم خیموں میں بڑی تعداد میں اپنے خاندان کے ساتھ قیام پزیر ہے۔

زاہد اللہ اپنے خاندان والوں کے ساتھ بڈھ بیر سے آیا ہے ان کا کہنا ہے کہ وہ جس گھر میں رہتا تھا وہاں سے مالک مکان نے نکالا اب یہاں پر پانچ دنوں سے رجسٹریشن اور دیگر دستاویزات کو پورا کرنے کی بھاگ دوڑ میں لگا ہو لیکن ان کی کلیرنس نہیں ہوتی جو انتہائی تکلیف دہ ہے۔

بلال خان کوہاٹ گھمکول شریف مہاجرین کیمپ سے آیا ہے اور لنڈی کوتل ڈگری کالج میں قیام پذیر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پانچ دنوں سے اپنے خاندان کے ساتھ بارڈر کے قریب پر عارضی پناہ گاہ میں سرحد پار کرنے کا انتظار کر رہا ہے، لیکن اس عارضی پناہ گاہ میں پینے کا پانی اور واش روم نہ ہونے کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے اور خاص طور پر خواتین مسائل کی وجہ سے ذہنی بیمار ہوچکے ہیں، یہاں پر زندگی گزارنا ناممکن ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارے کلیرنس جلد کی جائی تاکہ ہم اپنے ملک چلے جائے۔

چھ مہینوں سے زیادہ عرصے سے پاک افغان تجارت بند ہے جبکہ دونوں جانب کشیدگی کے سبب افغان مہاجرین کے لئے بھی سرحد بند کردی گئی تھی تاہم یکم اپریل سے دوبارہ افغان مہاجرین کا انخلاء شروع ہوچکا ہے۔ موجودہ وقت نو سو پاکستانی مال برادر گاڑیاں اور بارہ سے زیادہ ٹرک ڈرائیور، تاجر اور دیگر شعبوں سے وابستہ افرا سرحد پار افغانستان میں پچھلے چھ مہنیوں پھنس چکے ہیں۔

اسسٹنٹ کمشنر لنڈی کوتل انعام وزیر کا کہنا ہے کہ پہلے ایک دن میں دو ہزار تک افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کا عمل کیا جاتا تھا لیکن وزیر اعلی خیبرپختونخوا کے ہدایت کے بعد رجسٹریشن کاونٹر میں اصافہ کیا گیا اور اب چار ہزار تک افغان مہاجرین کی کلیرنس کا عمل کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کا بھی موقوف ہے کہ اس سے زیادہ مہاجرین کی واپسی کی وجہ سے وہاں پر ان کی آباد کاری میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، کیونکہ پاکستان میں پانچ دیگر جگہوں پر رجسٹریشن کا عمل ہوتا ہے جو سات سے آٹھ ہزار تک روزانہ کے بنیاد پر مہاجرین کی واپسی کے بعد آباد کاری کا بندوبست کیا جارہا ہے اور ان کو سنبھالنا مشکل کام ہے۔

ان کہنا ہے کہ پاکستان سے مہاجرین کی واپسی کیلئے زیادہ خاندانوں کی رجسٹریشن ممکن ہے لیکن افغان طالبان کے جانب سے کم مہاجرین بھیجنے کی اطلاع ملتی ہے جس کی وجہ سے یہاں پر موجود خاندانوں کو واپسی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق لنڈی کوتل میں ابھی تک 17 سو افغان مہاجرین کو ٹوکن جاری کی گئی ہے اور ایک ٹوکن میں پچاس سے سو تک افراد کا کلیرنس ہوتا ہے۔ جس میں ابھی تک گیارہ سو ٹوکن حاصل کرنے والے اپنے وطن چاچکے ہیں۔

انٹرنشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن(آئی او ایم) کے مطابق سال 2023 سے ابھی تک بیس لاکھ کے قریب افغان مہاجرین اپنے وطن واپس جاچکے ہیں۔

ریحان محمد
ٹائم لائن اردو سے وابسطہ نوجوان صحافی ریحان محمد خیبرپختونخوا سے ملکی میڈیا کے لئے کام کرتا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں