
تحریر: محمد یونس
ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کے علاقے اکاخیل میں ایک بار پھر صورتحال غیر یقینی ہوتی جا رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں سیکیورٹی فورسز اور مسلح عناصر کے درمیان پیش آنے والی جھڑپوں اور سرچ آپریشنز کے بعد علاقے میں خوف، افواہوں اور اضطراب کی فضا گہری ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق میران تلاب اور مداخیل کے نواحی علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں تین مبینہ مسلح افراد کی ہلاکت اور ایک کی گرفتاری کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ تاہم ان تفصیلات کی سرکاری سطح پر مکمل تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
اسی دوران جاری سرچ آپریشنز نے میران تلاب، مداخیل، دارو اڈہ، ایکسچینج ایریا، سلطان خیل اور ملحقہ علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ مقامی آبادی کے مطابق آمد و رفت محدود ہے اور کئی مقامات پر خوف کی وجہ سے معمولات زندگی سست روی کا شکار ہیں۔
بدقسمتی سے اسی کشیدہ صورتحال میں ایک افسوسناک واقعہ بھی رپورٹ ہوا ہے، جس میں مقامی ذرائع کے مطابق ایک 10 سالہ بچہ کراس فائرنگ کی زد میں آ کر جان کی بازی ہار گیا۔ اس واقعے نے علاقے میں غم و غصے اور اضطراب کو مزید بڑھا دیا ہے۔
مقامی عمائدین اور مشران اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور بتایا کہ یہ خطہ پہلے ہی کئی برسوں سے بدامنی، نقل مکانی اور عدم استحکام کے بھاری بوجھ سے گزرتا رہا ہے، اور اب ایک بار پھر وہی زخم تازہ ہو رہے ہیں۔
خوف اور بار بار کی نقل مکانی کی یادیں
اکاخیل، مداخیل اور ملورڈ کے رہائشیوں کے لیے یہ صورتحال نئی نہیں۔ مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ گزشتہ ایک دہائی میں وہ کم از کم دو مرتبہ بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا سامنا کر چکے ہیں۔ گھروں کو چھوڑنا، کیمپوں میں زندگی گزارنا، روزگار کا ختم ہونا اور بچوں کی تعلیم کا متاثر ہونا ان کے لیے ایک تلخ حقیقت بن چکا ہے۔
ایک مقامی رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا “ہم نے بڑی مشکل سے اپنے گھروں کو دوبارہ بسایا تھا، لیکن اب وہی خوف لوٹ آیا ہے۔ بچے اسکول نہیں جا پا رہے اور ہر طرف غیر یقینی ہے۔”
تعلیم اور روزمرہ زندگی پر اثرات
مقامی زرائع کے رپورٹس کے مطابق سیکیورٹی صورتحال کے باعث تعلیمی اداروں میں حاضری متاثر ہو رہی ہے، جبکہ کئی علاقوں میں بچوں کا اسکول جانا مشکل ہو گیا ہے۔ خواتین اور بزرگ بھی نقل و حرکت میں محدودیت اور ذہنی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے حالات میں سب سے زیادہ اثر بچوں کی تعلیم اور ذہنی صحت پر پڑتا ہے، جبکہ گھریلو سطح پر خواتین پر بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے۔
انتظامیہ کی اپیل اور زمینی حقیقت
انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کو احتیاط برتنے اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔ تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ زمینی صورتحال میں خوف اور غیر یقینی پہلے ہی ان کی روزمرہ زندگی کو محدود کر چکی ہے۔
ایک پرانا خطہ، نئے چیلنجز
باڑہ اور اکاخیل کا علاقہ گزشتہ کئی دہائیوں سے مختلف سیکیورٹی اور سماجی چیلنجز کا سامنا کرتا آ رہا ہے۔ مقامی تجزیہ کاروں کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ یہ مسائل مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں، جہاں سیکیورٹی صورتحال کے ساتھ ساتھ انسانی پہلو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔
سب سے بڑا سوال
اس پوری صورتحال میں سب سے زیادہ اثر عام شہریوں، خصوصاً بچوں اور خواتین پر پڑ رہا ہے۔وہ لوگ جو کسی بھی تنازع کا حصہ نہیں ہوتے، مگر اس کے نتائج سب سے پہلے انہی تک پہنچتے ہیں۔اب اصل سوال یہی ہے کہ کیا اس خطے کے لوگ بار بار اسی غیر یقینی دائرے میں رہیں گے، یا ایسا راستہ تلاش کیا جا سکے گا جو دیرپا امن، تحفظ اور انسانی زندگی کے استحکام کی ضمانت دے سکے؟
محمد یونس
صحافی اور ترقیاتی شعبے سے وابستہ پیشہ ور۔ وہ پندرہ برس سے زائد عرصے سے قبائلی اضلاع میں انسانی مسائل، سماجی تبدیلی اور عوامی بیانیے پر لکھتے اور کام کرتے رہے ہیں۔



