کرامت خان منگل ضلع کرم پاک افغان بارڈر تری منگل کوہ سفید کے دامن میں اپنے نئے گھر کی مرمت میں مصروف ہے۔ اس کا پرانا گھر پہاڑ کی چوٹی پر تھا جس سے س گز کے فاصلے پر چشموں کے پانی آسانی کے ساتھ زیر استعمال تھے لیکن اب وہ خشک ہونے لگے اور دو کلومیٹر دور پہاڑی کے بالکل نیچے حصے میں چشموں کے قریب نیا گھر تعمیر کررہا رہا ہے۔ کرامت منگل کا کہنا ہے کہ اس کے ابا واجداد کے بنائے گئے پہاڑی پر گھر کے سامنے چشموں کا پانی موجود تھے جس کا پانی آسانی کے ساتھ استعمال کر رہے تھے کیونکہ پہلے وقت میں پورا سال کوہ سفید اور نیچے پہاڑوں پر برف جم ہوتی تھی لیکن برف کم پڑتی ہے اور ایک مہینے تک بھی نہیں جمتی جس کی وجہ سے پہاڑوں کے اوپر حصوں میں موجود چشمے خشک ہونے لگے ہیں۔

اگر ایک طرف پہاڑوں پر برف جم ہونا کم ہوگیا تو دوسری طرف موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے تیز بارشوں اور گلیشیئرز پھٹنے سے نشیبی علاقوں میں بھی لوگ حجرت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ ضلع کرم لوئر کرم دراز رواز کا گاؤں دریا کرم کے کنارے واقع تھا لیکن اب وہ گاؤں مکمل ختم ہوگیا اور لوگوں نے پہاڑی علاقے کے طرف حجرت کرکے آباد ہوگئے ہیں۔ دراز رواز گاؤں کے رہائشی مبارک خان نے بتایا کہ ان سمیت اس کے گاؤں والے پہلے دریا کرم کے قریب آباد تھے کیونکہ وہ سے پانی کی حصول اور کھیتی باڑی کیلئے موضوع جگہ تھا لیکن دریا کرم میں سیلابی ریلے آنے کی وجہ سے ان کا گاؤں مکمل طور پر دریا کرم بہہ کر لے گیا ہے۔ اس لئے لوگوں نے اپنی جان و مال کی حفاظت کے خاطر اب وہاں سے دو کلومیٹر دور ان کا گاؤں آباد ہوگیا ہے۔

حالیہ دنوں میں صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے خیبر پختونخوا کے بالائی اضلاع میں گلیشیئر جھیلیں پھٹنے (Glacial Lake Outburst Floods – GLOF) اور فلیش فلڈ کے خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور متوقع شدید بارشوں کے باعث چترال، دیر، سوات اور کوہستان سمیت کئی حساس علاقوں میں گلاف کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستان: گلیشیئرز کا گھر مگر بڑھتے خطرات

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی، عالمی بینک اور وزارت موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 13,000 سے زائد گلیشیئرز موجود ہیں، جو قطبین سے باہر دنیا میں گلیشیئرز کی سب سے بڑی تعداد سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 3,000 گلیشیئر جھیلیں بن چکی ہیں جبکہ 33 سے زائد جھیلوں کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے۔

گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں درجہ حرارت میں اضافے کے باعث گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے نئی جھیلیں بن رہی ہیں اور موجودہ جھیلوں کے پھٹنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

لوئر کرم کے علاقے ڈاڈکمر کے رہائشی بھی دریا کرم کے طغیانی سے خوف میں مبتلا ہیں۔ ڈاڈکمر کے رہائشی اسد خان کا کہنا ہے کہ اس کے گھر اور دریا کرم میں ایک کلومیٹر کے فاصلے تک زرخیز زمین تھی جس میں مخلتف قسم کی فصل بوئی جاتی تھی۔ لیکن سیلابی ریلے نے زرخیز زمین کو ویران کرکے اب اس کے گھر سے چند گز کے فاصلے دریا کرم کے پانی بہتا ہے جس کی وجہ سے وہ کافی پریشان ہے۔ اسد خان کا کہنا ہے کہ جب بھی بارش ہوتی ہیں تو اس کے دل میں خوف پیدا ہوتا ہے کہ کہی دریا کرم میں طغیانی آنے سے اس کے گھر کو نقصان نہ پہنچے جبکہ یہاں سے کسی اور جگہ منتقل ہونے کیلئے مالی وساطت کے قابل نہیں ہو۔

درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے گلیشیئرز پر اثرات

پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ اور عالمی موسمیاتی ادارے (WMO) کے مطابق گزشتہ چند دہائیوں میں شمالی پاکستان کے پہاڑی علاقوں کا اوسط درجہ حرارت عالمی اوسط سے زیادہ رفتار سے بڑھا ہے۔ زیادہ گرمی کے باعث برف اور گلیشیئرز تیزی سے پگھلتے ہیں اور جھیلوں میں پانی کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔

ضلع ہنگو سے تعلق رکھنے والے عارف خان نے اینورمنٹل سائنس میں ایم فیل کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ماحولیات پر کام کرنے والے مختلف غیرسرکاری اداروں کے ساتھ کام کر رہا ہے، ان کا کہنا ہے کہ پوری دنیا سمیت پاکستان میں پچھلے تیس سالوں میں بڑھتی ہوئی اور انسانی ضرورت زیادہ ہونے کی وجہ سے ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے درجہ حرارت میں اضافہ اور جانداروں کو کوہ ارض پر رہنے میں بڑا سنگین مسلہ بنتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے تیس سالوں میں درجہ حرارت میں ایک ڈگری سے پانچ ڈگری تک اضافہ ہوا ہے۔

عارف خان کے مطابق درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے گلیشیئرز پگھل رہے ہیں جس کی وجہ سے جھیلوں میں پانی کا مقدار زیادہ ہوتا اور سیلابی صورتحال پیدا ہوتا ہے جبکہ گلیشیئرز ختم ہونے کی وجہ سے چشموں کا پانی خشک ہوتا ہے۔

کرامت منگل کے طرح اس علاقے میں دیگر لوگوں کو بھی پانی کا شدید مسلہ درپیش ہے۔ کرامت کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں پہلے لوگ پہاڑوں کے چوٹیوں پر رہنے کیلئے اس لئے ترجیح دیتے کہ ہر جگہ پانی موجود ہوتا لیکن اب پانی صرف پہاڑوں کے دامن میں پایا جاتا ہے جس کو اوپر لے جانا بڑا مشکل کام بن گیا ہے اس لئے لوگ نیچے آگئے اور پانی کے قریب رہتے ہیں۔

ضلع کرم سے تعلق رکھنے والے واجد الرحمن پاکستان اویل اینڈ گیس کمپنی میں جیالوجسٹ ہے ان کا کہنا ہے کہ پاکستان زلزلہ خیز خطے میں واقع ہے، زلزلوں کی وجہ سے گلیشیئرز ٹوٹ جاتے ہیں یا پہاڑی تودوں کے گرنے سے بھی گلیشیئر پر بوجھ بنتا ہے اور ساتھ ہی جھیلوں میں پانی کا مقدار زیادہ ہوتا ہے اور اس کے پھٹنے سے سیلابی صورتحال پیدا ہوتے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں گلاف کا بڑھتا خطرہ

خیبر پختونخوا کے پہاڑی اضلاع خصوصاً اپر اور لوئر چترال، اپر دیر، سوات، شانگلہ اور کوہستان سمیت گلگت بلتستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران متعدد گلاف واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے اعدادوشمار کے مطابق 2015 سے 2025 کے دوران شمالی پاکستان میں درجنوں گلیشیئر جھیل پھٹنے کے واقعات رپورٹ ہوئے جن سے سڑکیں، پل، آبپاشی کے نظام، فصلیں اور مکانات متاثر ہوئے۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے GLOF-II منصوبے کے مطابق خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے 24 اضلاع میں 16 لاکھ سے زائد افراد گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

عارف خان کا کہنا ہے کہ گلاف کے نتیجے میں اچانک آنے والے سیلاب انسانی جانوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہوتے ہیں۔ سال 2022 کے تباہ کن سیلابوں کے دوران شمالی علاقوں میں کالوڈ برسٹ اور گلاف واقعات کے نتیجے میں رونما ہوئے جن سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گلاف سے آنے والے سیلاب انسانی زندگی بری طرح متاثر کرکے بڑے پیمانے پر نقصان کا سبب بنتا ہے۔ سیلاب فصلوں کو تباہ اور مویشیوں کو بہا لے جاتے ہیں، جس سے مقامی معیشت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

عارف خان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی آفات کے بعد بڑے پیمانے پر لوگ متاثر ہوکر غربت، بے روزگاری اور نقل مکانی میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔

ضلع کرم سمیت خیبرپختونخوا کے دیگر علاقوں میں بھی دریاؤں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کی وجہ سے لوگوں نے دریا سے زیادہ فاصلے پر رہنے کو مجبور ہوچکے ہیں۔

حکومت اور اداروں کے اقدامات

پاکستان حکومت نے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام اور گرین کلائمیٹ فنڈ کے تعاون سے "گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈ رسک ریڈکشن پراجیکٹ” شروع کیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت خطرناک گلیشیئر جھیلوں کی نگرانی کی جا رہی ہے جس میں وقت سے پہلے وارننگ سسٹم نصب کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے میں مقامی لوگوں کو تربیت دی جا رہی ہے اور انخلاء کے منصوبے تیار کیے جا رہے ہیں۔ اس منصوبے میں موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے مقامی رضاکاروں کی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ پی ڈی ایم اے اور این ڈی ایم اے نے بھی حساس اضلاع میں ایمرجنسی رسپانس پلان تیار کیے ہیں۔

ماہرین کے مطابق گلیشیئرز کو مکمل طور پر بچانا ممکن نہیں، تاہم ان کے تیزی سے پگھلنے کی رفتار کم کی جا سکتی ہے۔

جیالوجسٹ واجد الرحمن کا کہنا ہے کہ درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور ماحول کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے بلین ٹری سونامی جیسے منصوبوں کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کا عالمی گرین ہاؤس گیسوں میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، تاہم مقامی سطح پر فضائی آلودگی اور فوسل فیول کے استعمال میں کمی ضروری ہے۔ جس سے درجہ حرارت میں غیر یقینی اضافہ روک کر ماحول پر منفی اثرات کم ہونگے۔

واجد الرحمن کے مطابق اگر عالمی درجہ حرارت میں اضافہ موجودہ رفتار سے جاری رہا تو ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کے گلیشیئرز مزید تیزی سے پگھلیں گے۔ اس کے نتیجے میں ابتدائی برسوں میں سیلابوں کا خطرہ بڑھے گا جبکہ طویل مدت میں پانی کی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے۔

خیبر پختونخوا کے بالائی اضلاع میں گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے کا خطرہ صرف ایک موسمی واقعہ نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے گہرے اثرات کی واضح علامت ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر بروقت حفاظتی اقدامات، مؤثر منصوبہ بندی اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف طویل المدتی حکمت عملی اختیار نہ کی گئی تو مستقبل میں گلاف کے واقعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں، جس سے انسانی جانوں، معیشت اور بنیادی ڈھانچے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

 

ریحان محمد
ٹائم لائن اردو سے وابسطہ نوجوان صحافی ریحان محمد خیبرپختونخوا سے ملکی میڈیا کے لئے کام کرتا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں