تحریر: محمد یونس

باڑہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ میں اس بار عید الاضحیٰ کی رونقیں معمول سے مختلف ہیں۔ یہاں نئے کپڑوں، بازاروں اور قربانی کے جانوروں کی باتیں کم، جبکہ گھر، وادی، یادوں اور واپسی کی امید زیادہ سنائی دیتی ہے۔

یہ تیراہ سے بے دخل ہونے والے ہزاروں خاندانوں کی دوسری اجتماعی عید ہے، جو وہ اپنے گھروں سے دور عارضی پناہ گاہوں، رشتہ داروں کے گھروں اور کراے کے مکانات میں گزارنے پر مجبور ہیں۔

چھ جنوری 2026 کو علاقے میں غیر یقینی صورتحال کے بعد تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہوا۔ شدید سرد موسم، برفباری، بند راستے اور تیراہ سے باڑہ تک صرف ایک مرکزی سڑک ہونے کے باعث لوگوں کو انتہائی دشوار حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی خاندانوں کو سفر مکمل کرنے میں دو سے تین دن اور راتیں لگ گئیں۔

لمبی گاڑیوں کی قطاروں میں خواتین، بچے، بزرگ اور مویشی شدید سردی میں پھنسے رہے۔ اگرچہ مقامی انتظامیہ، سول سوسائٹی، صحافیوں، سماجی کارکنوں اور نوجوان رضاکاروں نے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا، مگر محدود راستے اور خراب موسمی حالات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔

سرکاری حکام کے مطابق 37 ہزار سے زائد خاندان کا رجسٹرٹیشن ہوچکا ہے جبکہ گاڑی کے کے کرایے کے مد پیسے بھی ادا کردیے گءے ہیں۔اب تک 16 ہزار سے زیادہ خاندانوں کی تصدیق کے بعد دو لاکھ چالیس ہزار اور کچھ خاندانوں کو پنتیش ہزار روپے ماہانہ بھی ملنا شرووع ہوچکا ہے۔ بے گھر خاندانوں کی بڑی تعداد نے باڑہ سب ڈویژن، پشاور ویلی اور دیگر علاقوں میں رشتہ داروں کے ہاں عارضی پناہ لی ہوئی ہے۔

احتجاجی کیمپ میں زمین پر بچھی چٹائی پر بیٹھے 63 سالہ کسان گل سلیم، جو تیراہ کے علاقے بھٹی خرکی ملک دین خیل سے تعلق رکھتے ہیں، دھیمی آواز میں اپنی بے بسی بیان کرتے ہیں۔

“یہ بہت بدقسمتی ہے، یا شاید ہم واقعی نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔ میں آج تک وہ لمحہ نہیں بھول پایا جب میں نے اپنا گھر چھوڑا۔ ہم صرف سامان نہیں چھوڑ کر آئے تھے، ہم اپنی زندگی پیچھے چھوڑ آئے تھے۔”

ان کی آنکھوں میں نمی نمایاں ہو جاتی ہے۔
“میری فصلیں، میرے پرندے، میرے اخروٹ کے درخت، وہ حجرہ جہاں ہم روز شام کو بیٹھتے تھے، سب کچھ وہیں رہ گیا۔ میرا ایک پوتا آج بھی اپنے کبوتروں کے بارے میں پوچھتا ہے کہ ان کو دانہ کون دیتا ہوگا۔ وہ ان کے پانی اور سایہ کی فکر کرتا ہے۔ میں اسے صرف دیکھتا رہ جاتا ہوں۔”

گل سلیم اس سال بھی عید کی نماز احتجاجی کیمپ میں ادا کریں گے۔“ہم یہاں اکٹھے ہیں، اس میں ایک اندرونی حوصلہ ضرور ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ ہم خود کو عید کی تیاری کرتے محسوس نہیں کرتے۔ گھر جیسی خوشی کہیں اور نہیں ہوتی۔”

دوسری جانب 38 سالہ رحمت شاہ، جو تیراہ کے علاقے ڈونگہ شلوبَر کے رہائشی اور سماجی کارکن ہیں، اپنے آٹھ افراد پر مشتمل خاندان کے ساتھ باڑہ کے قمبر آباد میں رشتہ داروں کے ہاں مقیم ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ گزشتہ دو برسوں میں وادی کے لوگوں نے خوف، کرفیو، دھماکوں، مارٹر شیلنگ، ڈرون حملوں، جرگوں اور احتجاجوں کے درمیان زندگی گزاری۔

“یہ سب صرف جسمانی نقصان نہیں دیتا بلکہ ذہنی طور پر بھی انسان کو توڑ دیتا ہے۔ ہم وہاں ایک کمیونٹی تنظیم چلاتے تھے، جہاں یتیم بچوں کو مفت تعلیم دیتے اور اسکالرشپس فراہم کرتے تھے، مگر اب بچے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہیں۔”

کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد وہ نظریں جھکا کر کہتے ہیں:“میرے بچے بھی اس بار عید کے لیے ویسے پُرجوش نہیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ گھر، گھر ہوتا ہے۔ دوسرے کے گھر میں عید صرف رسم بن جاتی ہے۔”

احتجاجی کیمپ میں نوجوانوں کے چھوٹے چھوٹے حلقے بھی موجود ہیں۔ کچھ موبائل فون پر تیراہ کی پرانی تصاویر دیکھ رہے ہیں، جبکہ کچھ خاموشی سے اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہیں۔

ان میں شامل نوجوان عمران(فرضی نام)کہتے ہیں “ہم اپنے دوستوں، اپنی گلیوں اور اپنے پہاڑوں سے دور ہو گئے ہیں۔ وہاں ہم اکٹھے کھیلتے تھے، محفلیں لگاتے تھے، خوشیاں بانٹتے تھے۔ یہ سب اچانک ختم ہو جانا آسان نہیں۔”

وہ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ مزید کہتے ہیں “میں نے عید کے کپڑے اور جوتے خرید لیے ہیں، مگر اپنائیت محسوس نہیں ہوتی۔ اسی لیے فیصلہ کیا ہے کہ پوری عید یہاں اپنے بے گھر لوگوں کے ساتھ گزاروں گا، تاکہ کم از کم ہم ایک دوسرے کو گلے لگا کر تھوڑی دیر کے لیے مسکرا سکیں۔”

اسی دوران تحریک متاثرینِ تیراہ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ عید الاضحیٰ کی اجتماعی نماز باڑہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ میں ادا کی جائے گی۔

تنظیم کے ترجمان صبت خان کے مطابق یہ اجتماع صرف مذہبی فریضہ نہیں بلکہ متاثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ان کی پرامن جدوجہد کی علامت بھی ہوگا۔

انہوں نے تمام اہلِ علاقہ، سیاسی و سماجی کارکنان، باڑہ سیاسی اتحاد، 24 رکنی کمیٹی اور دیگر ہمدرد طبقات سے شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا “یہ صرف ایک نماز نہیں بلکہ ان خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا لمحہ ہے جو مسلسل بے یقینی، محرومی اور نقل مکانی کا سامنا کر رہے ہیں۔”

عید کی صبح قریب آ رہی ہے، مگر اس کیمپ میں بہت سے چہرے اب بھی اپنے گھروں، درختوں، کھیتوں، پرندوں اور وادی کی خاموش فضاؤں کو یاد کر رہے ہیں۔

یہاں لوگ صرف عید نہیں منا رہے، بلکہ اپنے وجود، اپنی شناخت اور اپنے گھروں کی واپسی کی امید کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ٹائم لائن اردو ٹیم
ٹائم لائن اردو کے رپورٹرز، صحافی، اور مصنفین پر مشتمل ٹیم

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں