تحریر: محمد یونس

دریائے باڑہ آج بھی انہی وادیوں کے درمیان بہتا ہے جن کے کنارے نسلوں نے زندگی گزاری تھی۔ سُر گھر اور تور گھر کی ڈھلوانوں سے اترنے والی ہوا آج بھی جنگلی پودوں اور مٹی کی خوشبو اپنے ساتھ لاتی ہے۔ بظاہر سب کچھ ویسا ہی دکھائی دیتا ہے جیسا برسوں پہلے تھا۔

لیکن ان ہزاروں خاندانوں کے لیے جنہوں نے بالائی باڑہ کے دور افتادہ دیہات میں آنکھ کھولی، وہاں بچپن گزارا اور اپنے بزرگوں کو اسی سرزمین میں دفن ہوتے دیکھا، یہ منظر اب حقیقت نہیں بلکہ یاد بن چکا ہے۔

ان کے لیے گھر اب صرف ایک جغرافیائی مقام نہیں رہا۔ گھر اب ان کہانیوں، رشتوں اور یادوں کا نام ہے جو وقت کے ساتھ بکھر گئیں۔

کلنگہ، آکاخیل میں اپنے سادہ سے گھر کے باہر بیٹھے سینتالیس سالہ جمشید آفریدی کی نظریں دور پہاڑوں پر جمی ہیں۔ انہی پہاڑوں کے پار ان کی زندگی کا وہ باب دفن ہے جسے وہ آج بھی بھلا نہیں سکے۔

وہ آہستہ آواز میں کہتے ہیں:”ہمارے بزرگ تقریباً ساٹھ برس پہلے تیراہ سے یہاں آئے تھے۔ انہوں نے یہاں گھر بنائے، زمین آباد کی اور نئی زندگی شروع کی۔ ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ایک دن ہمیں بھی سب کچھ چھوڑ کر جانا پڑے گا۔”

جمشید آفریدی آکاخیل قبیلے کی معروف خیل شاخ سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ان ہزاروں افراد میں شامل ہیں جنہوں نے خیبر ضلع میں کئی برس جاری رہنے والے تنازع، عسکریت پسندی اور عدم تحفظ کے باعث بار بار نقل مکانی کا درد سہا۔

جب بالائی باڑہ میں حالات بگڑنے لگے تو ان کا خاندان پہلے قریبی رشتہ داروں کے پاس منتقل ہوا۔ کئی خاندان ایک ہی حجرے اور چند کمروں میں سمٹ گئے۔ لوگ امید لگائے بیٹھے تھے کہ شاید حالات جلد معمول پر آ جائیں۔

مگر حالات مزید خراب ہوتے گئے

دھماکوں کی آوازیں روزمرہ زندگی کا حصہ بن گئیں۔ فائرنگ اور مارٹر گولوں نے خوف کو گھروں کے اندر تک پہنچا دیا۔

جمشید یاد کرتے ہیں:”ہم ہر روز یہی سوچتے تھے کہ شاید کل حالات بہتر ہو جائیں گے، لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ غیر یقینی بڑھتی جا رہی تھی۔”

آخرکار ان کا خاندان پشاور کے علاقے ہزار خوانی منتقل ہو گیا جہاں انہوں نے تقریباً دو سال گزارے۔

وہ کہتے ہیں:”ہماری زندگی جیسے انتظار میں معلق ہو گئی تھی۔ ہمیں صرف ایک خبر کا انتظار تھا کہ کیا ہم کبھی واپس جا سکیں گے یا نہیں۔”

سنہ 2016 میں وہ دوبارہ کلنگہ اکاخیل واپس آئے اور اپنے ہاتھوں سے گھر تعمیر کیا۔ لیکن ان کے مطابق واپسی اور بحالی دو الگ چیزیں ہیں۔

"ہم نے صرف گھر نہیں کھوئے تھے۔ ہماری زمینیں، مویشی، روزگار اور برسوں کی محنت بھی ہم سے چھن گئی۔ سب سے بڑا نقصان وہ تعلق تھا جو نسلوں سے اس سرزمین کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔ بچے اب بہتر اسکولوں میں جا رہے ہیں اور کچھ مواقع بھی میسر ہیں، لیکن دل میں ایک خلا باقی ہے۔ کچھ چیزیں دوبارہ تعمیر نہیں ہوتیں۔”

وہ وادی جہاں سادگی ہی زندگی تھی

کچھ فاصلے پر پینتالیس سالہ محمد اسحاق اپنی یادوں کے دریچے کھولتے ہیں۔

ان کے والد ریشم گل پولیس فاؤنڈیشن اسپتال سے ریٹائرمنٹ کے بعد ستر کی دہائی میں بالائی باڑہ کے اپنے آبائی گاؤں واپس آئے تھے۔ اس وسیع علاقے میں وہ واحد طبی معالج کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔

محمد اسحاق کہتے ہیں:”میرے والد ان لوگوں کا علاج کرتے تھے جن کے پاس صحت کی سہولت حاصل کرنے کا اور کوئی راستہ نہیں تھا۔”

اس زمانے میں زندگی کا مرکز فطرت تھی

لوگ کھیتی باڑی کرتے، مویشی پالتے اور اپنی ضروریات بڑی حد تک مقامی وسائل سے پوری کرتے تھے۔ دریائے باڑہ کے کنارے آباد دیہات میں زندگی سہل نہیں تھی، مگر اس میں ایک اجتماعی پن موجود تھا۔

"ہمارا گاؤں پہاڑوں اور دریا کے درمیان واقع تھا۔ لوگوں کے پاس دولت نہیں تھی لیکن زندگی کا توازن موجود تھا۔”

بچے سبز ڈھلوانوں پر مویشی چراتے تھے۔ فصلوں کی کٹائی اجتماعی محنت سے ہوتی تھی۔ شادیوں اور مذہبی تہواروں میں پورا گاؤں شریک ہوتا تھا۔

محمد اسحاق کہتے ہیں:”ہمارے پاس جدید سہولتیں کم تھیں، لیکن ہمارے پاس ایک دوسرے کا ساتھ تھا۔ یہی ہماری اصل دولت تھی۔”

سنہ 2012 میں جب تنازع اپنے عروج پر پہنچا تو ان کے خاندان کو بھی علاقہ چھوڑنا پڑا۔

وہ تسلیم کرتے ہیں کہ آج تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع پہلے سے بہتر ہیں، مگر اس ترقی کی ایک انسانی قیمت بھی ادا کی گئی ہے۔

"پہاڑوں کی زندگی نے لوگوں میں برداشت، سادگی اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی عادت پیدا کی تھی۔ آج سہولتیں زیادہ ہیں لیکن لوگوں کے درمیان فاصلے بھی بڑھ گئے ہیں۔”

ایک گاؤں جو اب صرف یادوں میں آباد ہے

اٹھاسٹھ سالہ آشنا گل( فرضی نام ) کے لیے ماضی اب یادوں کا دوسرا نام ہے۔انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ مرجان خیل نامی ایک چھوٹے گاؤں میں گزارا جہاں صرف بارہ گھر تھے۔

وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں:”ہم بارہ گھر ضرور تھے، لیکن حقیقت میں ایک ہی خاندان تھے۔”

مرجان خیل اور اس کے آس پاس کے دیہات میں لوگ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے تھے۔ عید ہو یا شادی، فصلوں کی کٹائی ہو یا کسی گھر کا غم، پورا گاؤں ایک اکائی کی طرح ساتھ کھڑا رہتا تھا۔

مرجان خیل دریائے باڑہ کے کنارے آباد تھا۔ مکئی، سرخ لوبیا اور دیگر مقامی فصلیں یہاں کی معیشت کا حصہ تھیں۔ پہاڑوں سے بہنے والے چشمے زندگی کا بنیادی ذریعہ تھے۔

آشنا گل کہتے ہیں:”ہم قدرت کے ساتھ جیتے تھے۔ ہماری خوراک، ہماری معیشت اور ہماری خوشیاں اسی زمین سے وابستہ تھیں۔”

پھر نقل مکانی نے اس سماجی نقشے کو بدل دیا

آج اس گاؤں کے سابق رہائشی مختلف علاقوں میں آباد ہیں۔ جو لوگ کبھی روزانہ ایک دوسرے سے ملتے تھے، اب مہینوں اور برسوں بعد ملاقات کر پاتے ہیں۔

آشنا گل چند لمحوں کے لیے خاموش ہو جاتے ہیں۔”جب وہ دن یاد آتے ہیں تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ کبھی کبھی لگتا ہے جیسے وہ سب کسی خواب کا حصہ تھا۔”

تنازع نے خیبر کو کیسے بدل دیا

ان خاندانوں کی کہانیاں دراصل خیبر ضلع کی اجتماعی تاریخ کا حصہ ہیں۔

11 ستمبر 2001 کے بعد سابق قبائلی اضلاع میں سلامتی کی صورتحال تیزی سے متاثر ہوئی۔ خیبر ان علاقوں میں شامل تھا جہاں مقامی مسلح گروہوں، عسکریت پسند تنظیموں اور بعد ازاں ریاستی کارروائیوں کے اثرات سب سے زیادہ محسوس کیے گئے۔

سنہ 2009 کے بعد شدت پسند سرگرمیوں میں اضافے اور مختلف فوجی آپریشنز نے ہزاروں خاندانوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا۔ کئی دیہات مکمل طور پر خالی ہو گئے۔ زراعت، مویشی پروری اور مقامی معیشت کو شدید نقصان پہنچا۔

بہت سے خاندانوں کے لیے نقل مکانی ایک عارضی مرحلہ نہیں بلکہ زندگی کا مستقل تجربہ بن گئی۔

معاوضہ اور بحالی کا نامکمل سفر

ضلع خیبر کے ریلیف حکام کے مطابق 2016 سے 2022 کے دوران ہونے والے سرویز میں 27,708 مکانات مکمل یا جزوی طور پر متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 14,319 متاثرہ خاندانوں کو اب تک معاوضے کی ادائیگی کی جا چکی ہے۔ موجودہ پالیسی کے تحت مکمل طور پر تباہ شدہ گھر کے لیے چار لاکھ روپے جبکہ جزوی نقصان پر ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے مقرر کیے گئے ہیں۔

تاہم سینکڑوں خاندان اب بھی ادائیگی کے منتظر ہیں۔

متاثرین اور مقامی عمائدین کے مطابق معاوضہ صرف مالی امداد نہیں بلکہ اس نقصان کے سرکاری اعتراف کی علامت بھی ہے جو لوگوں نے برسوں کے تنازع میں برداشت کیا۔

بحالی صرف اینٹوں اور سیمنٹ کا نام نہیں

آج باڑہ، آکاخیل اور دیگر آبادکاری والے علاقوں میں نئے گھر تعمیر ہو چکے ہیں۔ بازار دوبارہ آباد ہیں۔ بچے اسکول جا رہے ہیں اور زندگی بظاہر معمول پر لوٹتی دکھائی دیتی ہے۔

لیکن بحالی کی اس تصویر کے پیچھے ایک خاموش خلا بھی موجود ہے۔یہ خلا ان رشتوں کا ہے جو بکھر گئے۔ان بستیوں کا ہے جو نقشوں پر تو موجود ہیں مگر اپنے پرانے باشندوں کے بغیر ادھوری محسوس ہوتی ہیں۔

تنازع کے اثرات صرف تباہ شدہ عمارتوں یا مالی نقصانات تک محدود نہیں رہے۔ اس نے ایک پورے سماجی ڈھانچے کو متاثر کیا، ایسے تعلقات کو کمزور کیا جو نسلوں سے قائم تھے، اور ایسے اجتماعی تجربات کو توڑ دیا جو کسی بھی برادری کی شناخت ہوتے ہیں۔

بالائی باڑہ اور تیراہ کے ہزاروں خاندانوں نے گھروں کی دوبارہ تعمیر تو کر لی، لیکن وہ سماجی اور جذباتی دنیا ابھی تک مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی جسے وہ پیچھے چھوڑ آئے تھے۔

دریائے باڑہ آج بھی بہہ رہا ہے۔پہاڑ آج بھی اپنی جگہ قائم ہیں۔

مگر ان ہزاروں خاندانوں کے لیے جنہوں نے نقل مکانی کا درد جھیلا، ان کی پرانی دنیا اب زیادہ تر یادوں، قصوں اور نسل در نسل سنائی جانے والی کہانیوں میں زندہ ہے۔اور شاید اسی لیے دریا اب بھی یاد رکھتا ہے۔

ٹائم لائن اردو ٹیم
ٹائم لائن اردو کے رپورٹرز، صحافی، اور مصنفین پر مشتمل ٹیم

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں