خیبر پختونخوا میں متعدد خواتین شوہروں سے وائرس منتقل ہونے کے باوجود بدنامی، تنہائی اور امتیازی سلوک کا سامنا کر رہی ہیں، جبکہ بروقت علاج سے بیماری پر قابو پانا ممکن ہے۔

سید محمد آغا (فرضی نام) اپنی اہلیہ ثمینہ بی بی (فرضی نام) کے ہمراہ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور میں معمول کے طبی معائنے کے لیے موجود ہیں۔ یہ ایسی جگہ ہے جہاں نہ صرف مریضوں کی تعداد نسبتاً کم ہے بلکہ اکثر لوگ اپنی بیماری کے بارے میں بات کرنے سے بھی کتراتے ہیں۔

دونوں میاں بیوی ایک کمرے میں ماہرِ نفسیات کے ساتھ گفتگو میں مصروف ہیں۔ وہ صرف ادویات کے ذریعے بیماری کا مقابلہ نہیں کر رہے بلکہ گھر اور معاشرے میں موجود منفی سماجی رویوں کے خلاف بھی جدوجہد کر رہے ہیں، جو کسی بھی صورت آسان نہیں۔

آٹھ سال قبل سید محمد آغا مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ ویزے کے لیے لازمی طبی معائنے کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ وہ ایچ آئی وی/ایڈز کا شکار ہیں۔ ڈاکٹروں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اپنی اہلیہ اور دونوں بچوں کا بھی حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں معائنہ کروائیں۔

سید محمد آغا کہتے ہیں کہ "میں معمول کی زندگی گزار رہا تھا اور مجھے کسی قسم کی تکلیف محسوس نہیں ہو رہی تھی۔”

وہ مزید بتاتے ہیں کہ "جب میں نے گھر والوں کو معائنے کے بارے میں بتایا تو سب حیران رہ گئے۔ نہ صرف میری بیوی بلکہ والدین، بھائی اور بھابھیاں بھی مختلف سوالات کرنے لگے۔ بعد ازاں معائنے سے معلوم ہوا کہ دونوں بچے بیماری سے محفوظ ہیں، تاہم میری بیوی اس بیماری سے متاثر ہو چکی ہے۔”

ثمینہ بی بی کو اس بیماری کے بارے میں تقریباً کوئی معلومات نہیں تھیں۔ جب انہیں اپنی بیماری کا علم ہوا تو یہ ان کی زندگی کا انتہائی کٹھن لمحہ تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ "میرے لیے وہ دن کسی قیامت سے کم نہیں تھا جب مجھے بیماری کے بارے میں معلوم ہوا، لیکن اس بات پر خوشی ہوئی کہ میرے دونوں بچے اس خطرناک مرض سے محفوظ ہیں۔ میں آج بھی یقین سے نہیں کہہ سکتی کہ یہ بیماری میرے شوہر کو کیسے لاحق ہوئی اور پھر مجھ تک کیسے پہنچی۔”

سید محمد آغا چند لمحوں کے لیے خاموش ہو جاتے ہیں۔ بیماری کی وجہ کے بارے میں وہ صرف اتنا کہتے ہیں کہ "انسان سے زندگی میں غلطیاں ہو جاتی ہیں، لیکن مجھے اس بات کا شدید افسوس ہے کہ میری وجہ سے میری بیوی بھی اس بیماری کا شکار ہوئی۔”

خیبر پختونخوا میں ایچ آئی وی/ایڈز کی صورتحال

خیبر پختونخوا کے 38 اضلاع میں سے 13 اضلاع میں انٹیگریٹڈ ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس اور تھیلیسیمیا کنٹرول پروگرام کے تحت مراکز قائم ہیں۔ ان مراکز میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور، حیات آباد میڈیکل کمپلیکس، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کوہاٹ، خلیفہ گل نواز ہسپتال بنوں، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال بٹ خیلہ، مفتی محمود میموریل ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان، ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد، سیدو ٹیچنگ ہسپتال سوات، باچا خان میڈیکل کمپلیکس صوابی اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال مردان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ضم شدہ قبائلی اضلاع باجوڑ، کرم اور شمالی وزیرستان میں بھی مراکز قائم ہیں جہاں مریضوں کو مفت ٹیسٹ، آگاہی اور ادویات فراہم کی جاتی ہیں۔

پروگرام کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2005 سے جون 2026 تک مجموعی طور پر 10 ہزار 566 مریض رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ ان میں 7 ہزار 414 مرد، 2 ہزار 477 خواتین، 251 خواجہ سرا، 299 بچے اور 214 بچیاں شامل ہیں۔

محکمہ صحت کے ریکارڈ کے مطابق گزشتہ سال 1,383 جبکہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران 714 نئے مریض رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔

ادارے کے مطابق صوبے میں غیر رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 40 ہزار سے زائد ہو سکتی ہے۔ ان افراد کو تشخیص اور باقاعدہ علاج کے نظام میں لانا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ غیر تشخیص شدہ مریض نہ صرف اپنی صحت کے لیے خطرے کا باعث بنتے ہیں بلکہ بیماری کے مزید پھیلاؤ کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر طارق حیات کے مطابق اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبے میں ایچ آئی وی/ایڈز کے مریضوں میں تقریباً 70 فیصد مرد ہیں۔ ان کے بقول اس کی مختلف وجوہات ہیں، جن میں طویل عرصے تک گھر سے دور رہنا، حادثات کے دوران متاثر ہونا، آلودہ طبی آلات کے ذریعے سرجری، متاثرہ خون کی منتقلی، نشہ آور ادویات کے استعمال کے دوران ایک ہی سرنج کا بار بار استعمال، اور غیر محفوظ جنسی تعلقات شامل ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ "صوبے میں بیرونِ ملک سے ڈی پورٹ ہونے والے بعض افراد بیماری کو چھپا کر اپنی بیویوں کو منتقل کر دیتے ہیں، جو ایک بڑی وجہ ہے۔ تاہم وفاقی وزارتِ صحت نے گزشتہ چند ماہ کے دوران سرحدی گزرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر آنے والے مسافروں کی آگاہی اور خون کے ٹیسٹ کے لیے عملہ تعینات کیا ہے، لیکن اس نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ صوبائی حکومت بھی اس پروگرام کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہی ہے تاکہ ایچ آئی وی/ایڈز سمیت دیگر بیماریوں کے نئے مریضوں کی بروقت تشخیص، رجسٹریشن اور علاج ممکن بنایا جا سکے۔”

نیئر مجیب تقریباً تیس سال قبل بغیر ٹیسٹ کیے گئے خون کی منتقلی کے نتیجے میں ایچ آئی وی/ایڈز کا شکار ہوئیں۔ گزشتہ بیس سال سے باقاعدگی سے ادویات استعمال کرنے کی بدولت نہ صرف انہوں نے تین صحت مند اور ایچ آئی وی سے محفوظ بچوں کو جنم دیا بلکہ ان کے شوہر بھی اس بیماری سے محفوظ رہے۔

علاج اور رہنمائی حاصل کرنے کے بعد وہ اب دیگر مریضوں کی معاونت، ادویات کی فراہمی اور متاثرہ خاندانوں میں آگاہی پھیلانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ "متاثرہ خواتین کی محفوظ زچگی کے لیے لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں سہولت موجود ہے، تاہم ایچ آئی وی کے مریضوں کے لیے عمومی سرجری کی سہولت بیشتر سرکاری ہسپتالوں میں دستیاب نہیں۔”

وہ مزید کہتی ہیں کہ "ہم مریضوں کو ہمیشہ مشورہ دیتے ہیں کہ علاج یا سرجری کے وقت طبی عملے کو اپنی بیماری کے بارے میں ضرور آگاہ کریں، لیکن سرکاری ہسپتالوں میں اکثر معمولی سرجری کی سہولت بھی دستیاب نہیں ہوتی۔ دوسری جانب نجی ہسپتال اس مقصد کے لیے بہت زیادہ اخراجات طلب کرتے ہیں، جو اکثر مریضوں کی استطاعت سے باہر ہوتے ہیں۔ مجبوری کے باعث بعض لوگ بیماری چھپا کر کسی صحت مند رشتہ دار کے ٹیسٹ کی بنیاد پر علاج یا سرجری کروا لیتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی خطرناک عمل ہے کیونکہ آلودہ آلات بیماری کے پھیلاؤ کا بڑا ذریعہ بن سکتے ہیں۔”

ڈاکٹر بینا کلثوم، انٹیگریٹڈ ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس اور تھیلیسیمیا کنٹرول پروگرام میں متاثرہ مریضوں کے ہاں ایچ آئی وی سے محفوظ بچوں کی پیدائش کے عمل کی نگرانی کر رہی ہیں۔

ان کے مطابق مرد مریضوں کے مقابلے میں خواتین مریضوں کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ بیماری کے علاج کے ساتھ ساتھ حمل اور زچگی کا مرحلہ بھی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ "ہمارے مشاہدے کے مطابق خواتین میں ایچ آئی وی کے 70 سے 80 فیصد کیسز ایسے ہیں جن میں بیماری شوہروں سے منتقل ہوئی۔ بعض مرد اپنی بیماری چھپا کر ازدواجی تعلقات قائم رکھتے ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف بیوی بلکہ آنے والے بچے بھی خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔”

ڈاکٹر بینا کلثوم کے مطابق صوبے میں صرف چند مراکز ایسے ہیں جہاں متاثرہ ماؤں کے لیے خصوصی زچگی اور ہنگامی صورتِ حال میں سیزیرین آپریشن کی سہولت دستیاب ہے، جبکہ دیگر مراکز میں گائناکالوجسٹ اور متعلقہ طبی عملے کو خصوصی تربیت فراہم کی گئی ہے۔

وہ مزید بتاتی ہیں کہ "عام مریضوں کا ہر تین ماہ بعد جبکہ حاملہ خواتین کا ہر ماہ معائنہ ضروری ہوتا ہے، لیکن صرف 40 فیصد خواتین ہی اس ہدایت پر باقاعدگی سے عمل کرتی ہیں۔ باقی خواتین زچگی کے قریب آ کر معائنے کے لیے رجوع کرتی ہیں۔ اکثر مرد تو باقاعدگی سے معائنے کے لیے آتے ہیں، مگر اپنی بیویوں کے لیے صرف ادویات لے جاتے ہیں۔ خواتین کو عموماً اس وقت مرکز لایا جاتا ہے جب ان کی صحت کافی متاثر ہو چکی ہوتی ہے۔”

ڈاکٹر طارق حیات کے مطابق محکمہ صحت نے صوبے کے تمام ہسپتالوں کو ہدایت جاری کر رکھی ہے کہ ایچ آئی وی کے مریضوں کے لیے جنرل سرجری کی سہولت یقینی بنائی جائے، تاہم بعض ہسپتالوں میں طبی آلات کو جراثیم سے پاک (سٹرلائز) کرنے کی مناسب مشینری نہ ہونے کے باعث اس پر مکمل عمل درآمد ممکن نہیں ہو سکا۔

ان کا کہنا ہے کہ "اگر کوئی مریض طبی عملے کو اپنی بیماری سے آگاہ کیے بغیر یا معلومات چھپا کر سرجری کرواتا ہے تو یہ قانونی اور اخلاقی طور پر ایک سنگین معاملہ ہے۔”

شاہدہ گل (فرضی نام) اپنے والد کے ساتھ گاؤں سے تین گھنٹے کا سفر طے کر کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور میں قائم ایچ آئی وی مرکز پہنچی ہیں، جہاں وہ باقاعدہ ٹیسٹ اور ادویات حاصل کرتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ "پانچ سال قبل میری پہلی بیٹی کی پیدائش کے دوران ایک نجی مرکزِ صحت میں خون کی ضرورت پیش آئی۔ اس موقع پر باہر سے خریدا گیا خون بغیر مناسب ٹیسٹ کے مجھے منتقل کیا گیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ خون ایچ آئی وی سے متاثرہ شخص کا تھا، جس کے باعث میں اس بیماری کا شکار ہو گئی۔”

ان کے مطابق بروقت علاج اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی وجہ سے ان کے شوہر اور دونوں بچے بیماری سے محفوظ ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ "جب گھر والوں کو بیماری کے بارے میں معلوم ہوا تو انہیں یقین ہو گیا کہ یہ بیماری خون کی منتقلی کے ذریعے منتقل ہوئی ہے، لیکن گھر سے باہر لوگوں کا رویہ مختلف تھا۔ ابتدا میں بعض گھر والوں نے میرے ساتھ کھانا پینا ترک کر دیا اور مجھے کھانا بنانے سے بھی منع کیا۔ رشتہ داروں نے آنا جانا کم کر دیا۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں میرے شوہر دوسری شادی نہ کر لیں، لیکن میرے والد اور شوہر نے ہر قدم پر میرا حوصلہ بڑھایا، جس سے مجھے اس مشکل صورتحال کا مقابلہ کرنے کی ہمت ملی۔”

خیبر پختونخوا حکومت نے مالی سال 2025-26 میں صحت کے شعبے کے لیے 276 ارب روپے مختص کیے تھے، جبکہ مالی سال 2026-27 میں یہ رقم بڑھا کر تقریباً 334 ارب روپے کر دی گئی ہے۔ یوں ایک سال کے دوران صحت کے بجٹ میں تقریباً 58 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا، جس کا مقصد ہسپتالوں، ادویات، طبی سہولیات، صحت کارڈ اور دیگر منصوبوں کو مزید بہتر بنانا ہے۔

محکمہ صحت نے مالی سال 2025-26 کے دوران انٹیگریٹڈ ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس اور تھیلیسیمیا کنٹرول پروگرام کے لیے 500 ملین روپے جاری کیے تھے، جبکہ نئے مالی سال میں 2.6 ارب روپے کی منظوری کے لیے پی سی ون ارسال کیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت سہولیات میں اضافے اور مراکز کی تعداد 20 تک بڑھانے کی تجویز شامل ہے۔

دوسری جانب گلوبل فنڈ بتدریج ادویات، عملے کی تنخواہوں اور دیگر شعبوں میں اپنی مالی معاونت کم کر رہا ہے اور تمام صوبوں کو 2030 تک پروگرام کے اخراجات خود برداشت کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

پروگرام حکام کے مطابق ایچ آئی وی کی بیشتر ادویات بیرونِ ملک سے درآمد کی جاتی ہیں۔ بھارت کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے باعث بعض ادویات کی ترسیل اور فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے، جس سے مستقبل میں سپلائی کے حوالے سے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت اس بات کے لیے کوششیں کر رہا ہے کہ پاکستان میں ادویات سازی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی جائے اور مقامی سطح پر ایسی کمپنیاں متعارف کرائی جائیں جو ایچ آئی وی سمیت دیگر بیماریوں کی ادویات تیار کر سکیں۔

نیئر مجیب کا کہنا ہے کہ زیادہ تر خواتین مالی مشکلات، خصوصاً سفری اخراجات برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے باقاعدگی سے طبی مراکز میں معائنے اور ادویات کے حصول کے لیے نہیں آ پاتیں۔

وہ کہتی ہیں کہ "ہم نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ کراچی اور لاہور سمیت دیگر شہروں میں بھی مریضوں تک ادویات پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پشاور کے حاجی کیمپ اڈے سے مسافر گاڑیوں کے ذریعے ادویات بھیجی جاتی ہیں۔ بعض اوقات ہم ادویات کو اشیائے خورونوش میں چھپا کر کسی دکان کے پتے پر بھیجتے ہیں تاکہ مریض کی شناخت اور رازداری برقرار رہے۔”

ان کے مطابق متاثرہ خواتین کو صرف بیماری ہی نہیں بلکہ گھریلو اور سماجی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

"کئی متاثرہ خواتین کے شوہر دوسری شادی کر لیتے ہیں یا ان کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرتے ہیں، جس کے باعث مریضہ کو جسمانی علاج کے ساتھ ساتھ ذہنی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالانکہ بروقت اور باقاعدہ علاج سے مریض عام لوگوں کی طرح معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں، محفوظ ازدواجی زندگی اختیار کر سکتے ہیں اور ایچ آئی وی سے محفوظ بچوں کو جنم دے سکتے ہیں۔”

ڈاکٹر بینا کلثوم کے مطابق 2021 سے اب تک تقریباً 800 متاثرہ خواتین میں سے صرف چار نے ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کو جنم دیا، جبکہ بیماری سے محفوظ بچوں کی پیدائش کی شرح 98 فیصد رہی ہے۔

ان کے بقول کہ "وہ دو فیصد کیسز عموماً ان خواتین کے ہوتے ہیں جو باقاعدگی سے ادویات استعمال نہیں کرتیں یا مقررہ معائنوں کے لیے مراکز سے رجوع نہیں کرتیں، جس کے نتیجے میں نومولود بچے بھی وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔”

وہ مزید کہتی ہیں کہ "سب سے اہم بات یہ ہے کہ جیسے ہی بیماری کی تشخیص ہو، مریض اپنے قریبی مرکز میں رجسٹریشن کروائے اور باقاعدگی سے ادویات استعمال کرے۔ بروقت علاج سے مریض عام لوگوں کی طرح زندگی گزار سکتا ہے۔ مردوں میں بھی آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بیماری چھپانے کے بجائے علاج کو یقینی بنائیں اور اپنی بیویوں اور آنے والی نسلوں کو محفوظ رکھ سکیں۔”

ان کے مطابق عام مریض کا ہر تین ماہ بعد جبکہ حاملہ خاتون کا ہر ماہ معائنہ ضروری ہوتا ہے۔ معائنے کے دوران وائرس کے جسم میں پھیلاؤ یا "وائرل لوڈ” کی سطح کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف طبی ٹیسٹ بھی کیے جاتے ہیں اور ضرورت کے مطابق اضافی ادویات تجویز کی جاتی ہیں۔

ماضی میں وائرل لوڈ ٹیسٹ گلوبل فنڈ کی معاونت سے آغا خان لیبارٹری میں کیا جاتا تھا، تاہم گزشتہ چند ماہ سے یہ سلسلہ عارضی طور پر معطل ہے۔ صوبائی ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق اس ٹیسٹ کے لیے ضروری مشینری فراہم کر دی گئی ہے، جبکہ ٹیسٹنگ کٹس کی فراہمی اور معیارِ نتائج کو بہتر بنانے پر کام جاری ہے اور جلد یہ سہولت دوبارہ شروع کر دی جائے گی۔

بیرونِ ملک سے ڈی پورٹ ہونے والے افراد اور بیماری کی منتقلی

پشاور کے 30 سالہ ساجد خان (فرضی نام) چھ سال تک دبئی میں ایک ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی میں ملازمت کرتے رہے۔ دو سال قبل ویزے کی تجدید کے لیے طبی معائنے کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ وہ ایچ آئی وی/ایڈز کا شکار ہیں، جس کے بعد انہیں ملازمت جاری رکھنے کی اجازت نہ ملی۔

ساجد خان کہتے ہیں کہ "جب میں پاکستان واپس آیا تو شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھا۔ ایک طرف ملازمت ختم ہو گئی تھی اور دوسری طرف اس خطرناک بیماری کا سامنا تھا۔”

وہ مزید بتاتے ہیں کہ "شاید یہ سب میری ایک غلطی اور غفلت کا نتیجہ تھا۔ میں نے پیسوں کے عوض غیر محفوظ جنسی تعلقات قائم کیے تھے۔ دبئی میں مجھے ڈی پورٹیشن سے متعلق تمام دستاویزات فراہم کی گئیں، لیکن پشاور ایئرپورٹ پر کسی سرکاری اہلکار نے مجھ سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی اور میں سیدھا گھر چلا گیا۔” ان کے مطابق وہ شادی شدہ ہیں اور تین بچوں کے والد ہیں۔

"ابتدا میں میں نے بیماری گھر والوں سے چھپائی، لیکن بعد میں ایڈز کنٹرول پروگرام کے عملے کی رہنمائی سے میں نے اپنی بیوی اور خاندان کو حقیقت سے آگاہ کیا۔ اب میں پہلے سے بہتر محسوس کرتا ہوں اور پشاور میں موبائل فون کی مرمت کا کاروبار کر رہا ہوں۔”

نیئر مجیب کے مطابق پشتون علاقوں میں ایچ آئی وی سے متاثر ہونے والی متعدد خواتین کے کیسز ایسے ہیں جن میں بیماری شوہروں سے منتقل ہوئی۔ ان میں بعض مرد بیرونِ ملک سے ڈی پورٹ ہو کر واپس آئے تھے یا طویل عرصے تک روزگار کے سلسلے میں گھر سے دور رہتے تھے۔

وہ کہتی ہیں کہ "ایچ آئی وی کی وجہ سے بیرونِ ملک سے واپس آنے والے افراد کے لیے ایئرپورٹس پر مناسب رہنمائی اور طبی مشاورت کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ نتیجتاً بعض افراد علاج شروع کیے بغیر یا احتیاطی تدابیر اختیار کیے بغیر ازدواجی تعلقات برقرار رکھتے ہیں، جس سے بیماری بیوی اور بعض اوقات بچوں تک بھی منتقل ہو جاتی ہے۔” ان کے مطابق حکومت کو ایسے افراد کے لیے باقاعدہ طریقہ کار وضع کرنا چاہیے تاکہ ان کی بروقت رجسٹریشن، رہنمائی اور علاج ممکن بنایا جا سکے۔

ڈاکٹر طارق حیات بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ "بیرونِ ملک سے ڈی پورٹ ہونے والے افراد کی مناسب طبی جانچ ضروری ہے۔ اگر کسی شخص میں ایچ آئی وی یا کسی اور متعدی بیماری کی تشخیص ہو جائے تو اسے فوری طور پر متعلقہ علاج مراکز سے منسلک کیا جانا چاہیے تاکہ خاندان کے دیگر افراد کو محفوظ رکھا جا سکے۔”

مردوں کے مقابلے میں خواتین کو زیادہ سماجی مشکلات کا سامنا

نیئر مجیب کے مطابق متاثرہ خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کا آغاز اکثر گھر سے ہوتا ہے اور پھر یہ رویہ پورے معاشرے میں پھیل جاتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ "اکثر صورتوں میں بیماری شوہر سے منتقل ہوتی ہے، لیکن الزام عورت پر عائد کیا جاتا ہے۔ بعض واقعات میں شوہر دوسری شادی بھی کر لیتا ہے اور بیماری نئی بیوی تک بھی منتقل ہو جاتی ہے۔”

ان کے مطابق متاثرہ خواتین کو گھر میں الگ تھلگ کر دیا جاتا ہے، ان سے گھریلو کام محدود کر دیے جاتے ہیں اور بعض اوقات انہیں اپنے بچوں سے بھی دور رکھا جاتا ہے۔

"گھروں میں جھگڑے اس بنیاد پر ہوتے ہیں کہ گویا عورت نے بیماری مرد کو منتقل کی ہو، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اپنے ہی بچے متاثرہ ماں سے دور ہو جاتے ہیں، جبکہ بوسہ لینے، گلے ملنے یا ایک ساتھ کھانا کھانے سے ایچ آئی وی منتقل نہیں ہوتی۔”

ایچ آئی وی سے بچاؤ اور آگاہی

ڈاکٹر طارق حیات کے مطابق ایچ آئی وی صرف جنسی تعلقات کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماری نہیں بلکہ اس کے پھیلاؤ کے کئی دیگر ذرائع بھی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ”متاثرہ خون کی منتقلی، آلودہ طبی آلات کا استعمال، ایک ہی سرنج کا متعدد افراد کے لیے استعمال، غیر محفوظ جنسی تعلقات، ناک یا کان چھیدنے کے دوران غیر جراثیم کش آلات کا استعمال اور دیگر طبی بے احتیاطیاں وائرس کی منتقلی کا سبب بن سکتی ہیں۔”

سماجی تنظیم "دَ حوالور” خیبر پختونخوا میں ایچ آئی وی ایڈز سے متعلق آگاہی کے لیے کام کر رہی ہے۔ تنظیم کے سربراہ شانوانہ شاہ کے مطابق دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں خواتین میں اس بیماری کے بارے میں آگاہی کا فقدان پایا جاتا ہے۔

ان کے بقول بعض شوہر اپنی بیماری چھپا کر غیر ارادی طور پر اپنی بیویوں کو وائرس منتقل کر دیتے ہیں، جبکہ غیر تربیت یافتہ دائیوں کی جانب سے غیر جراثیم کش آلات کا استعمال اور بیوٹی پارلرز میں صفائی کے ناقص انتظامات بھی بیماری کے پھیلاؤ کے ممکنہ عوامل میں شامل ہیں۔

شانوانہ شاہ کہتے ہیں کہ”خواتین کے لیے تشخیص اور علاج کی بہتر سہولیات، طبی عملے کی خصوصی تربیت اور متاثرہ خواتین کی ذہنی و سماجی بحالی کے لیے مؤثر حکومتی اقدامات ناگزیر ہیں۔”

ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی ایک تنظیم کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پشتون معاشرے میں شوہر اور بیوی کے درمیان صحت اور جنسی مسائل پر کھل کر بات چیت کا رجحان کم ہے، جس کے باعث ایچ آئی وی سے متعلق آگاہی اور معلومات کا تبادلہ بھی محدود رہتا ہے۔

ان کے مطابق مرد باقاعدگی سے معائنے کے لیے مراکز آتے ہیں، لیکن اکثر خواتین کو صرف ادویات بھجوا دی جاتی ہیں، جس سے ان کی صحت اور علاج کی نگرانی متاثر ہوتی ہے۔

نیئر مجیب کا کہنا ہے کہ "ہم متاثرہ خواتین اور مردوں کو اپنی مثال دیتے ہیں۔ میں نے بیس سال سے باقاعدگی سے ادویات استعمال کیں، تین صحت مند بچوں کو جنم دیا اور میرے شوہر بھی بیماری سے محفوظ رہے۔ یہی پیغام ہم دوسروں تک پہنچاتے ہیں کہ بروقت علاج، احتیاط اور آگاہی سے ایچ آئی وی کے ساتھ بھی ایک صحت مند اور باوقار زندگی گزاری جا سکتی ہے۔”

 

اسلام گل
بانی و مدیر اعلٰی ٹائم لائن اردو، اسلام گل افریدی مختلف قومی و بین الاقوامی میڈیا اداروں کےساتھ کام کرنے والے سینئر صحافی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں