عثمان خان

پاکستان کی موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ مہنگائی روز بروز بڑھ رہی ہے، بے روزگاری نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے اور عام آدمی کی زندگی مسلسل مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں ایک بنیادی سوال ہر پاکستانی کے ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا سیاست واقعی عوام کی خدمت کے لیے ہے یا یہ محض ایک منافع بخش کاروبار بن چکی ہے؟

حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف ہیں، مگر عوام کی تکالیف پر سنجیدگی سے غور کرنے والا کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ موجودہ حکمران سابقہ حکومت، بالخصوص تحریک انصاف کے دور کو ناکام قرار دیتے ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ آج جو فیصلے کیے جا رہے ہیں، کیا وہ عوام کے حق میں ہیں؟ کیا مہنگائی میں کمی آئی ہے؟ کیا روزگار کے مواقع بڑھے ہیں؟ بدقسمتی سے ان تمام سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔

پاکستان میں بننے والے بیشتر قوانین کا بوجھ ہمیشہ غریب اور متوسط طبقے پر ہی کیوں ڈالا جاتا ہے؟ ہر نیا قانون عوام کے لیے ایک نئی آزمائش بن جاتا ہے۔ وفاقی حکومت سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو ختم کرنے کی سیاست میں الجھی ہوئی ہے، مگر اس بات پر کوئی واضح حکمتِ عملی نظر نہیں آتی کہ مہنگائی کیسے کم ہوگی اور معیشت کو کس سمت میں لے جایا جائے گا۔ پاکستان کو ایک تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے جہاں ہر نئی حکومت عوام پر نئے تجربات کرتی ہے اور نقصان ہمیشہ عوام ہی کا ہوتا ہے۔

حکمران خود روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں، لیکن جو لوگ اپنی مدد آپ کے تحت چھوٹے موٹے کاروبار شروع کرتے ہیں، ان سے وہ سہولت بھی چھینی جا رہی ہے۔ ایک غریب جو بمشکل اپنے بچوں کے لیے ایک وقت کی روٹی کماتا ہے، اس کے ذرائع معاش پر قدغن لگائی جا رہی ہے۔ اقتدار سے پہلے بڑے بڑے وعدے، جذباتی تقاریر اور عوامی ہمدردی کے دعوے کیے جاتے ہیں، مگر اقتدار میں آتے ہی وہی عوام نظرانداز کر دیے جاتے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کے باوجود عوام شدید نالاں ہیں۔ مہنگائی یہاں بھی قابو سے باہر ہے اور لوگوں سے زبردستی روزگار چھیننے کی شکایات عام ہو چکی ہیں۔ ریاست کو ماں کا درجہ دیا جاتا ہے، مگر یہاں غریب عوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔

سوات جیسے علاقوں میں لوگ اپنا سونا اور زمین بیچ کر رکشہ یا چھوٹا کاروبار شروع کرتے ہیں تاکہ اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں، مگر افسوس کہ حکومت ایسے محنت کش لوگوں کو سہولت دینے کے بجائے ان پر سختی کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا غریب کو جینے کا حق حاصل نہیں؟

یہ کہا جاتا ہے کہ بازاروں میں رش کم کرنے کے لیے یہ اقدامات ضروری ہیں، مگر کیا غریب کا روزگار ختم کرنے سے واقعی رش کم ہو جائے گا؟ کیا تنگ سڑکوں کو کشادہ کرنا، بہتر ٹریفک نظام بنانا یا سوات موٹروے جیسے منصوبوں کو بروقت مکمل کرنا زیادہ مؤثر اور دیرپا حل نہیں؟

سوشل میڈیا پر حکمران طبقہ اپنی جائیدادوں، اثاثوں اور ماضی کے شاہی خاندانوں سے موازنوں میں مصروف نظر آتا ہے، مگر غریب کی ایک وقت کی روٹی چھننے پر خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔ صوبائی حکومتیں وفاق کو اور وفاق صوبوں کو موردِ الزام ٹھہرا کر اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کی کوشش کرتی ہیں، مگر غریب کے روزگار کے خاتمے کا جواب کسی کے پاس نہیں۔

عوام ہر بار ایک نئی امید کے ساتھ ووٹ دیتے ہیں کہ شاید اس بار کوئی مخلص قیادت آئے گی، مگر نتیجہ ہمیشہ وہی نکلتا ہے۔ خدارا! اب عوام اور پاکستان کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا جائے۔

سیاست کا اصل مقصد عوام کی خدمت ہونا چاہیے، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں سیاست ایک کاروبار بن چکی ہے۔ نقصان نہ حکومت کو ہوتا ہے، نہ اپوزیشن کو—نقصان صرف عوام کا ہو رہا ہے۔ پاکستان کو اس وقت نئی سوچ، نئے کردار اور حقیقی قیادت کی اشد ضرورت ہے۔ عوام کو بھی اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہوگی، کیونکہ اقتدار نہیں، عوام کی خدمت ہی اصل سیاست ہے۔

ٹائم لائن اردو ٹیم
ٹائم لائن اردو کے رپورٹرز، صحافی، اور مصنفین پر مشتمل ٹیم

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں