
تحریر: محمد یونس
پشتون معاشروں میں خبر اور معلومات کا سفر ہمیشہ اخبارات اور ٹیلی وژن سے شروع نہیں ہوا۔ اس سے بہت پہلے گاؤں کے حجروں، جرگوں اور مقامی نشستوں میں لوگ جمع ہوتے، حالات پر گفتگو کرتے اور اپنے اپنے انداز میں خبریں اور تجربات ایک دوسرے تک پہنچاتے تھے۔
یہ روایتی جگہیں جدید صحافت نہیں تھیں، لیکن انہوں نے معاشرتی شعور اور اجتماعی ذمہ داری کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہی وہ ماحول تھا جہاں لوگوں نے اختلاف کے باوجود بات سننے اور سمجھنے کی روایت سیکھی۔
آج جب جدید صحافت ان علاقوں تک پہنچی ہے تو وہ ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہی ہے جہاں روایت اور جدیدیت ایک دوسرے کے ساتھ چل رہی ہیں۔ یہی امتزاج صحافت کے لیے نئے امکانات بھی پیدا کرتا ہے اور کچھ پیچیدہ سوالات بھی۔
سماجی رشتے اور صحافی کی آزمائش
پشتون معاشرے کی بنیاد مضبوط خاندانی اور قبائلی رشتوں پر قائم ہے۔ اس ماحول میں صحافی کسی دور بیٹھے مبصر کی طرح نہیں ہوتے بلکہ اکثر وہ انہی بستیوں، انہی گلیوں اور انہی خاندانوں کا حصہ ہوتے ہیں جن کے بارے میں وہ لکھ رہے ہوتے ہیں۔
ایسے میں جب کسی تنازع، مقامی مسئلے یا حکومتی کمزوری پر رپورٹنگ کی جاتی ہے تو اس کا اثر صرف ایک خبر تک محدود نہیں رہتا بلکہ بعض اوقات وہ انہی لوگوں کو متاثر کرتی ہے جن سے صحافی کے ذاتی یا سماجی تعلقات ہوتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں صحافت ایک پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ایک اخلاقی امتحان بھی بن جاتی ہے۔
صحافی کو سچ لکھنا ہوتا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ اس کی تحریر انصاف، توازن اور انسانی احترام سے خالی نہ ہو۔
جرگہ کی روایت اور سننے کا ہنر
پشتون معاشرے میں جرگہ صرف ایک فیصلہ ساز ادارہ نہیں بلکہ ایک ثقافتی طرزِ فکر بھی ہے۔ جرگہ میں کوئی فیصلہ اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک تمام فریقوں کو سنا نہ جائے۔
یہی اصول صحافت کے لیے بھی ایک اہم سبق رکھتا ہے۔
ایک ذمہ دار صحافی جلد بازی میں فیصلہ نہیں سناتا۔ وہ پہلے سنتا ہے، مختلف زاویوں کو سمجھتا ہے، اور پھر حقیقت کو ایک متوازن انداز میں پیش کرتا ہے۔
جب صحافی اپنے معاشرے کے ساتھ احترام اور تحمل کے ساتھ گفتگو کرتا ہے تو اس کی تحریر محض خبر نہیں رہتی بلکہ لوگوں کے درمیان اعتماد کا پل بن جاتی ہے۔
تنازعات کے درمیان رپورٹنگ
گزشتہ دو دہائیوں میں کئی پشتون علاقے تنازعات، نقل مکانی اور عدم استحکام سے گزرے ہیں۔ ان حالات میں مقامی صحافیوں نے انہی بستیوں میں رہتے ہوئے انہی واقعات کو دنیا تک پہنچایا۔
انہوں نے بے گھر ہونے والے خاندانوں کی کہانیاں لکھیں، تباہ حال گھروں کی تصویریں دکھائیں اور ان لوگوں کی آواز بننے کی کوشش کی جن کی بات اکثر دور تک نہیں پہنچ پاتی۔
اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس دکھ اور تکلیف کو صحافی رپورٹ کر رہا ہوتا ہے، اس کی جھلک اس کی اپنی زندگی میں بھی کہیں نہ کہیں موجود ہوتی ہے۔
اسی لیے اس خطے میں صحافت صرف معلومات اکٹھی کرنے کا عمل نہیں بلکہ ایک طرح سے اپنے معاشرے کی گواہی دینے کا عمل بھی ہے۔
سوشل میڈیا اور معلومات کا نیا دور
گزشتہ چند برسوں میں سمارٹ فون اور سوشل میڈیا نے اطلاعات کے پھیلاؤ کو یکسر بدل دیا ہے۔ اب خبریں صرف روایتی میڈیا تک محدود نہیں رہیں بلکہ فیس بک، واٹس ایپ اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے لمحوں میں پھیل جاتی ہیں۔
یہ تبدیلی ایک طرف معلومات تک رسائی کو آسان بناتی ہے، لیکن دوسری طرف غیر مصدقہ خبروں کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھا دیتی ہے۔
ایسے معاشروں میں جہاں عزت اور شہرت کو بڑی اہمیت حاصل ہے، غلط یا ادھوری معلومات لوگوں کے درمیان بداعتمادی پیدا کر سکتی ہیں۔
اسی لیے آج ذمہ دار صحافت کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
تنازع سے آگے کی کہانی
بین الاقوامی میڈیا میں اکثر پشتون علاقوں کا ذکر صرف تنازعات، شدت پسندی یا سکیورٹی مسائل کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔
لیکن اس خطے کی اصل شناخت اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
یہ وہ معاشرہ ہے جہاں مہمان نوازی روایت ہے، شاعری روزمرہ زندگی کا حصہ ہے، موسیقی اور ثقافت لوگوں کی شناخت کا حصہ ہیں اور مشکل حالات میں بھی اجتماعی تعاون زندہ رہتا ہے۔
صحافت کا اصل مقصد یہی ہونا چاہیے کہ وہ اس معاشرے کی مکمل تصویر پیش کرے، نہ کہ صرف اس کا ایک پہلو۔
اعتماد کی بنیاد پر صحافت
آخرکار صحافت کا اصل سرمایہ اعتماد ہوتا ہے۔
قبائلی معاشروں میں یہ اعتماد اور بھی قیمتی ہو جاتا ہے کیونکہ یہاں تعلقات اور ساکھ کا دائرہ بہت گہرا ہوتا ہے۔
صحافی کے لیے ضروری ہے کہ وہ سچائی کے ساتھ کھڑا رہے، مگر اس انداز میں کہ اس کی تحریر انصاف اور انسانیت سے خالی نہ ہو۔
جب صحافت دیانت، توازن اور انسانی احساس کے ساتھ کی جائے تو وہ صرف خبر نہیں رہتی بلکہ معاشرے کے لیے سمجھ بوجھ اور مکالمے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
محمد یونس
صحافی اور ترقیاتی شعبے سے وابستہ پیشہ ور ہیں۔ وہ پندرہ برس سے زیادہ عرصے سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں صحافت، انسانی مسائل اور سماجی تبدیلی سے متعلق موضوعات پر لکھتے اور کام کرتے رہے ہیں۔



