
عالم آفریدی
ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں واقع ڈوگرہ ہسپتال موجودہ دور میں بنیادی سہولیات سے محروم ہو کر مشکلات کا شکار ہے جن کی بڑی وجہ ہسپتال کی اپ گریڈیشن ہے۔
ڈوگرہ واحد سرکاری اہسپتال ہے جونہ صرف مقامی 6 لاکھ آبادی بلکہ ضلع اورکزئی اور پشاور سے بھی بڑی تعداد کے لوگ یہاں علاج معالجے کے لئے آتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور ضروریات میں اضافے کی سبب موجودہ وقت میں ہسپتال کی آپ گریڈیشن انتہائی ضروری ہے۔۔ڈوگرہ ہستپال 1964 میں تحصیل باڑہ کے عوام کے لئے پہلا سرکاری ہسپتال قائم کیا گیا اور وقت کے ساتھ مختلف شعبے متعارف کرائے گئے تاہم 2003 میں باقاعدہ طورپر اپ گریڈ کرکے ہسپتال کو ٹائپ ڈی کا درجہ دیا گیا تھا۔ مزکورہ منصوبے پر ابتک کوئی کام نہیں کیاگیا ہے۔ سابق وزیر عمران خان سمیت دیگرصوبائی وزراء نے بھی چند سال پہلے ہسپتال کے اپ گریڈیشن کے اعلانات کیں تھے۔2009کو علاقے میں آپریشن کے سبب ہسپتال بندکردیاگیا جن کو سال 2015مین دوبارہ فغال کردیاگیا۔
ہسپتال میڈیکل سپرڈینڈ عالمگیر خان کے مطابق موجودہ وقت میں ہسپتال چھ لاکھ سے زیادہ آبادی کو طبی سہولت فراہم کررہی ہے تاہم اس کے علاوہ تیراہ سے بے گھر ہزاروں خاندانوں سمیت ضلع اورگزئی اور ضلع پشاور کے شیخان،سربند، اچینی اورپشتخرہ تک لوگ علاج کے لئے آتے ہیں۔اُنہوں نے کہاکہ او پی ڈی کے دس روپے پرچی پر روزانہ پندرہ سے دوہزار مریضوں کو مختلف طبی سہولیات مہیا کی جاتی ہیں۔
اُنہوں نے کہاکہ مریضوں کے زیادہ تعداد کو محدود وسائل میں سہولت مہیاکرنا ہسپتال کے تمام عملے کے محنت اور اپنے کام لگن کے نتیجے میں ممکن بنایاجارہاہے تاہم ہسپتال کے اپ گریڈیشن موجودہ وقت کی ضرورت ہے تاکہ لوگو بہتر علاج کے سہولت میسر ہوسکے۔
ہسپتال کے منجمنیٹ کمیٹی کے ممبر اور سیاسی کارکن زہداللہ آفریدی نے کہاکہ کمیٹی کے ہرمہینے باقاعدگی سے اجلاس منعقد ہوتی اور اُن میں تمام اُمور کا جائزہ لیا جاتاہے تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ ڈوگرہ ہسپتال کے اپ گریڈیشن انتہائی ضروری ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ اس اقدام سے ہسپتال میں چار مزید شعبے قائم ہونے سے مقامی لوگوں کے علاج میں کافی زیادہ مسائل حل ہوجائینگے جبکہ موجودہ میں نہ صر ف ہزارو ں کے تعداد میں وادی تیراہ سے گھر لوگوں کی وجہ سے ہسپتال میں رش بڑھ جاچکا ہے بلکہ قریب دیگر اضلاع سے بھی لوگ یہاں پر علاج کے لئے آتے ہیں۔ اُنہو ں کہاکہ موجودہ وقت میں سہولیات ضرورت سے کئی گنا کم ہے جس کے وجہ سے عام لوگوں کو علاج کے حصول میں مسائل کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ اُن کے بقول ہسپتال کے اپ گریڈیشن کے حوالے سے منتخب نمائندوں سمیت وزیر اعلی خیبر کے ساتھ بات چیت ہوئی اور اُمید ہے کہ آنے والے بجٹ میں ان کو شامل کردے جائی گی۔
باڑہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، ممبر صوبائی اسمبلی ویڈک چیئرمین عبد الغنی آفریدی، ممبرقومی اسمبلی اقبال آفریدی، خواتین مخصوص نشست پر منتخب مدینہ گل، اقلیتی ممبر گوپال سنگھ اور سینٹر مرزا محمد آفریدی کے آبائی علاقے باوجود بھی مقامی لوگو ں کو صحت کے بنیادی سہولیات کے حصول میں مسائل کا سامنا ہیں۔



